
لاہور میں مقیم اردو کی پروفیسر اور محقق زرین حبیب مرزا کو مرثیہ نگار ڈاکٹر صفدر حسین مرحوم پر کیئے جانے والے تحقیقی وعلمی کام پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
زرین حبیب کاتعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے ہے۔وہ متعدد شعری مجموعوں کے خالق مرحوم سید حسن عباس کی بیٹی اور حبیب بنک کے سابق افسر اعلیٰ حبیب مرزا کی اہلیہ ہیں۔
انکی بہنوں میں لاہور وحدت روڈ کالج کی سابق صدر شعبہ اردو طلعت  |
| والدہ سیدہ شمس الزہرازیدی |
نایاب اور شاعرہ و براڈکاسٹر مار پارہ صفدر بھی شامل ہیں جبکہ انکی والدہ سیدہ شمس الزہرا کا تعلق اردو نوحے کے خدائے سخن ‘‘میر متین‘‘ کے خاندان سے ہے۔ڈاکٹر زرین حبیب نے اپنی ابتدائی تعلیم سرگودھا میں مکمل کی اور گورنمنٹ کالج گجرات سے گریجوایشن کے بعد اورینٹئل کالج پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے بعد گجرات،سرگودھا،جہلم،راولپنڈی میں تدریس سے منسلک رہیں اور پھر ایک طویل عرصے تک لاہور کالج فار ویمن میں اردو کی پروفیسر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔

ڈاکٹر زرین حبیب کے مقالے کا موضوع ہے‘‘ ڈاکٹر سید صفدر حسین کی مرثیہ نگاری اور تحقیقی نظر‘‘ اس مقالے میں انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے فطری رُخ اور اس فطری اُپج میں انکی مرثیہ نگاری ہر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
یہ مقالہ کتابی شکل میں اشاعت کے بعد بلاشبہ رثائی ادب میں ایک گرانقدر اضافہ ہو گا۔
کراچی کی بزم فروغ مرثیہ کے ناظم زیدی، لکھنؤ میں فروغ عزاداری کے داعی حسین افسر، یورپ میں اردو مرثیے کے مداحین کے علاوہ جرمنی فرنکفرٹ کے مرثیہ نگار سید اقبال حیدر اور لندن میں مقیم جدید مرثیہ نگار شاعر آلِ عباء صفدر ھمٰدانی نے ڈاکٹر زرین حبیب کو انکی اس مساعی پر مبارکباد دی ہے۔
ادارہ عالمی اخبار کی انتظامیہ اور قارئین کو زرین حبیب صاحبہ کو ڈاکٹریٹ کرنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔