|
مغربی ذرائع ابلاغ میں ایرانی انتخابات کی کوریج کا تنقیدی جائزہ
30.06.2009, 10:00am , منگل (GMT+1)
سارہ خورشید۔قاہرہ
مجھے یہ جاننے اور سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے کہ ایران میں درحقیقت کیا ہو رہا ہے۔ جب بھی میں انٹرنیٹ پر لاگ آن ہو کر مقبول نیوز سایٹس کھولتی ہوں تو ہر جگہ شہ سرخیوں میں ایران ہی نظر آتا ہے۔
لیکن میں پھر بھی گومگو کے عالم میں ہوں اور یہ جان نہیں پا رہی کہ انتخابات کے نتائج برحق ہیں یا نہیں، اور کیا ایرانیوں کی اکثریت قدامت پسند صدر محمود احمدی نجاد کے خلاف ہے، یا کیا جو لوگ مظاہرے کر رہے ہیں وہ سات کروڑ کی آبادی میں اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اگرچہ ایران کی موجود صورتحال کے بارے میں ہر طرف سے دھڑا دھڑ خبریں آرہی ہیں لیکن مغربی میڈیا میں جو تصویر پیش کی جارہی ہے وہ عمومی طور پر جانبدار ہے اور خیر وشر کی جنگ کے طور پر پیش کئے جانے والے اس ڈرامے میں وہ اپوزیشن کی طرف داری کرتے ہیں۔
میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتی کہ میرا مغربی ذرائع ابلاغ میں اسلامی انقلاب کے خلاف بغاوت نظر آنے والے واقعات کے بارے میں کیا خیال ہے۔ میری فہمِ عامہ مجھے بتاتی ہے کہ شکست خوردہ اپوزیشن کی طرف سے انتخابی نتائج پر اعتراض کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں اور جمہوری اور غیر جمہوری دونوں طرح کے ممالک میں اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایران کے انتخابات "منصفانہ" ہونے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں حصّہ لینے کے حوالے سے نظام میں عائد کی گئی بعض پابندیوں کے باوجود عام طور پر ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ جو لوگ باضابطہ امیدوار بننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ منصفانہ انتخاب میں ہی شرکت کرتے ہیں۔
ہاں یہ ممکن ہے کہ بڑے پیمانے پر فراڈ یا غلطیاں سرزد ہو جائیں لیکن ابھی تک ایسا ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے اور یہ ہارنے والے امیدوار میر حسین موسوی کو سازش کا شکار قرار دے کر مغرب کی طرف سے اس کی ستائش کرنے کا جواز نہیں ہے۔
موسوی کی حمایت میں جلوس نکلنے کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ایران کے سب سے مقبول رہنما ہیں یا یہ کہ ان کے حقوق صدر محمود احمدی نجاد اور قدامت پرستوں نے غصب کر لئے ہیں۔ مختلف مواقع پر لاکھوں افراد احمدی نجاد کے حق میں بھی مظاہرے کر چکے ہیں۔
یہی بات مغرب کے لئے غیر دوستانہ رویّہ رکھنے والے دیگر رہنماؤں مثلاً حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ پر بھی صادق آتی ہے جن کی حمایت میں لاکھوں لبنانیوں نے جلوس نکالے۔
اب مغربی میڈیا ایرانی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں پر غضبناک ہے۔ لیکن ایسا ہونا شاید پہلے سے متوقع تھا جب ایرانی حکام نے انتخابی نتائج پر احتجاج کرنے سے خبردار کیا تھا۔
تشدد کی شدّت مختلف ہو سکتی ہے لیکن مظاہرے کرنے والوں کے ساتھ پولیس کا تصادم دنیا میں ہر جگہ ہوتا ہے جس میں جنوبی کوریا، پاکستان اور برطانیہ میں امریکہ کے خلاف ہونے والے بے شمار احتجاجی مظاہرے بھی شامل ہیں۔ تاہم جب ایران میں ایسا ہوتا ہے تو دنیا یکدم غضبناک ہو جاتی ہے۔
میرے اپنے شہر قاہرہ میں سٹیٹ سیکورٹی پولیس کی تعداد عام طور پر مظاہرین سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور وہ آسانی سے ان پر قابو پا لیتی ہے۔ یہ پولیس احتجاج کرنے والوں کو جنسی طور پر بھی ہراساں کرتی ہے۔ جب میری دوست خواتین ان مظاہروں میں شرکت کرتی ہیں تو اپنے اسکرٹ کے نیچے پتلون ضرور پہنتی ہیں تاکہ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والوں کی بدتمیزی سے بجا جاسکے۔
لیکن عالمی ذرائع ابلاغ میں مصر کے احتجاجی مظاہروں پر ہونے والے بد ترین کریک ڈاؤن کی جو رپورٹس پیش کی جاتی ہیں وہ بہت نرم ہوتی ہیں اور سی این این ڈاٹ کام یا بی بی سی نیوز کے مشرقِ وسطٰی سیکشن میں معمولی خبروں کی حیثیت رکھتی ہیں۔
جس دن صدر براک اوبامہ نے قاہرہ میں تقریر کی تھی اس روز پولیس نے تمام گلیاں اور سڑکیں خالی کرا دیں تھی اور جن معصوم راہگیروں نے پیدل یا گاڑی پر ان سڑکوں سے گزرنے کی کوشش کی جو عام طور پر بہت مصروف ہوتی ہیں، ان کے ساتھ سختی کی گئی۔
میری ایک دوست کے والد کو بالکونی میں کھڑے ہونے سے منع کر دیا گیا کیونکہ ان کا گھر قاہرہ یونیورسٹی کے نزدیک ہے۔ تاہم مغربی ذرائع ابلاغ کے لئے یہ کوئی اہم خبر نہیں تھی۔
مصر ایک بار اس انداز پر پورا اترا تھا جو مغربی میڈیا کو پسند ہے۔ یہ مصر میں 2005 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی بات ہے جو سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کی فروغِ جمہوریت کی پالیسیوں کے مطابق منعقد ہوئے تھے۔ ہمیں یاد ہے اس وقت ذرائع ابلاغ جسے "تبدیلی کی ہوا" کہتے ہوئے ہمیں پڑھنے یا دیکھنے کے لئے دیتے تھے وہ " مصر کی آندھیاں" تھیں۔
لیکن جب چند ماہ بعد نسبتاً زیادہ آزادی اور منصفانہ انداز میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے جن میں اخوان المسلمون کے 88 اہم رہنما پارلیمنٹ کے ارکان بن گئے تب کہیں جا کر یہ "تبدیلی کی ہوا" چلنا بند ہوئی۔ میڈیا نے مصر کو اہمیت دینا بند کردیا جہاں اپوزیشن کے خلاف شدید اور غیر قانونی کریک ڈاؤن جاری تھا۔ مصر کے پارلیمانی انتخابات نے مغرب میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں اور سیاست زدہ اسلام ابھرنے کے خوف کو ہوا دی۔
لہٰذا ہمیں ابھی اتنا خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایرانی مظاہرین شاید واقعی حکومت کا تختہ نہیں الٹ رہے۔ اس کی بجائے میڈیا کو حقائق کی مزید درستی اور غیر جانبداری کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد بے شک قابلِ قبول نہیں ہے لیکن ایران کی طرف سے مغربی ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کرنا اپوزیشن کی طرف داری کرنے کا جواز نہیں ہے۔
سارہ خورشیدایک مصری صحافی ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس نے العربیہ نیوز چینل کی اجازت سے تقسیم کیا ہے
|