
خطرہ تو اس سرسبز وادی کو عرصے سے لاحق ہے؛ جنوری2007 کو تبدیل ہونے والے پولیٹیکل ایجنٹ نے کہا تھا کہ پاراچنار کا نقشہ 2007 کو تبدیل ہوکر رہے گا. مارچ میں سیلاب آیا تو اس وقت کے گورنر سرحد علی محمدجان اورکزئی نے علاقے میں آکر لوگوں کو تسلی دینے کی بجائے انہیں خوشخبری دی کہ "جو سیلاب اس کے بعد آنے والا ہے وہ بہت زیادہ تباہ کن ہوگا". اور پھر اپریل میں وہ سیلاب آہی گیا؛ القاعدہ اور طالبان کا سیلاب؛ اور یہ سیلاب گذشتہ ڈھائی برسوں سے علاقے کے پرامن عوام کو تباہی سے دوچار کررہا ہے؛ انسانی المیوں کا یہاں دور دورہ ہے؛ تیسری مرتبہ علاقے کی ناکہ بندی گذشتہ چار مہینوں سے جاری ہے. اس عرصے میں 650 شیعہ نوجوان، بوڑھے، بچے اور مرد اور عورتوں نے موت کو گلے لگایا ہے یا یوں کہئے کہ موت نے انہیں گلے لگایا ہے. شہیدوں کی یہ تعداد ان بچوں اور مریضوں کے علاوہ ہے جو خوراک اور دوائیاں نہ ہونے کی وجہ سے جام شہادت نوش کرگئے ہیں.
گذشتہ 15 دن سے اس علاقے پر سوات اور مالاکنڈ سے زندہ بچ کر آنے والے دہشت گردوں کی یلغار کا آغاز ہوا ہے جس میں اب تک 20 افراد شہید اور دسیوں زخمی ہوئے ہیں.
مگر آمنے سامنے آکر لڑنے والے دشمن کا خطرہ اتنا اہم نہیں جتنا کہ پاراچنار کے مرکز میں رہنے والے مولوی صاحب شیخ محمدنواز عرفانی صاحب اور ان کی ہدایت کے تحت چلنے والی بظاہر شیعہ تنظیم «انجمن حسینی» کا خطرہ اہم ہے جن کا علاقے کا امن تباہ کرنے والی پاکستان کی مشکوک ایجنسیوں سمیت افغانستان میں اور نیٹو اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں.

مسئلہ یہ ہے کہ بالش خیل اور اپر اور لوئر کرم پر طالبان کے حملے جاری ہیں اور ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں میں طالبان دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی پاک فوج پاراچنار میں طالبان کے ساتھ پورا پورا تعاون کررہی ہے اور شیعہ مدافعین کو نشانہ بنا رہی ہے اور اب تو پاراچنار کے شہر کو بھی میزائلوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے مگر عرفانی صاحب اور انجمن کے سیکریٹری صوبیدار میجر (ریٹائرڈ) علی اکبر طوری عوام کو لڑنے اور اپنا دفاع نہیں کرنے دیتے اور ان کو دھمکیان دے کر دفاعی مورچے چھورنے کی ہدایات دیتے ہیں؛ اور شیعہ مدافعین کو جارح دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لئے وسائل فراہم نہیں کرتے اور دفاعی مورچوں میں رہ کر دفاع کرنے والے نوجوانوں کی فہرستیں تیار کرکے حکومت کے حوالے کرتے ہیں تا کہ حکومت پاکستان، بیرونی اور اندرونی دہشت گرد تنظیمیں اور بیرونی طاقتیں - پاراچنار کا نقشہ بدلنے کے حوالے سے - جو کام گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران نہیں کرسکیں اب ان بظاہر ہمدرد راہنماؤں کے تعاون سے انجام پاسکے.
یہ ایک داستان یا افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے حکومت پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرکے اس علاقے میں امن قائم کرنے کی بجائے یہاں فوجی کاروائی کرنے کے لئے تمہیدات فراہم کررہی ہے جس کے لئے مولوی عرفانی اور صوبیدارطوری کا تعاون درکار تھا.
یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل مولوی عرفانی پاراچنار والوں پر بلا منازع حکمرانی کرنے اور قومی دولت سمیٹنے کے بعد اپنے آبائی گاؤں چلے گئے تھے اور وہاں انہوں نے 30 کروڑ روپے کا ایک بنگلہ بھی تعمیر کیا مگر صوبیدار اور ان کے ساتھی حکومت کی ایماء پر شمالی علاقہ جات میں ان کے گاؤں چلے گئے اور وہاں مولوی صاحب کے گھر کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور اس وقت تک نہیں اٹھے جب تک مولوی صاحب دوبارہ آنے پر رضامند نہیں ہوئے. اور یہ امر باعث حیرت نہیں ہونا چاہئے کہ مولوی عرفانی کے آنے کے ساتھ ہی دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کے بنکر پر حملہ کرکے دو شیعہ سپاہیوں کو بے دردی سے ذیح کیا اور لاشوں کی بی حرمتی کی جیسا کہ اسلام کے دعویدار دہشت گردوں کی رسم ابدی ہے.
یادرہے کہ عرفانی صاحب نے اس سے قبل کئی مرتبہ شیعہ قبائل کے درمیان اختلاف ڈال کر خون خرابہ کرانے کی بھی کوششیں کی ہیں.
بہرحال مولوی عرفانی کے آتے ہی علاقے کو ایک بار پھر دہشت گردوں کے حملوں اور سرکاری فورسز کی مشکوک سرگرمیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس وقت خدشہ یہ ہے کہ اپر کرم میں پاک فوج کہیں پرامن اور مظلوم و جنگزدہ عوام کے خلاف لڑائی کا آغاز نہ کردے

یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پاراچنار قبائلی علاقے «کرم ایجنسی» کا صدر مقام ہے؛ یہ ایسا علاقہ ہے جہاں سرکاری افسر اور فوجی اہلکار محافظوں اور ہتھیاروں کے بغیر سڑکوں پر چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری قبائلی ایجنسیوں میں سرکاری اہلکار صرف دسیوں مسلح فوجیوں کی حفاظت میں – اور وہ بھی دن کے وقت – سڑکوں پر آمد و رفت کرسکتے ہیں.
بالفاظ دیگر اس وقت تمام قبائلی ایجنسیوں نے مرکزی سرکار کے خلاف بغاوت کررکھی ہے سوائے کرم ایجنسی کے جہاں کے راہنماؤں نے فوجی افسروں سے کہہ رکھا ہے کہ وہ ان کی بحفاظت زندگی کو بہرصورت ممکن بناتے رہیں گے اور ان کو ہرگز فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے گو کہ ان مخلص اور وفادار راہنماؤں اور عوام کی زندگی کو ہر وقت خطرات لاحق رہتے ہیں.