|
کیا یہ ررست ہے کہ پاکستان میں وقت بدل رہا ہے
01.07.2009, 08:57am , بدھ (GMT+1)
عائدہ نقوی۔لاہور
پاکستان: یہ اتوار بہت ہی اچھا تھا۔ اس کا آغاز صبح اخبار پر نظر دوڑانے سے ہوا۔ عام طور پر اخبار پڑھنا ایک مایوس کن تجربہ ہوتا ہے لیکن اس روز ویک اینڈ سیکشن میں مجھے دو مختلف مواقع پر بنائی گئی تصاویر نظر آئیں جن میں لوگوں نے سبز پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ پٹیاں میں نے اپنی فوج اور اپنی قوم کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ڈیزائن کی تھیں۔
یہ وہ لوگ تھے جو عام طور پر اخبارات و رسائل کی رنگین تصویروں والے سیکشن میں اعلٰی طبقے کے مصروف مقامات پر ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس اتوار کو وہ مختلف نظر آرہے تھے بلکہ پہلی بار ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ نہ صرف پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ انہیں پاکستان کا بہت خیال بھی رہتا ہے۔
قتل وغارت اور بے گھر لوگوں سے متعلق مضطرب کرنے والی تمام تر خبروں کے بیچ میں مجھے ایک اور اخبار نظر آیا۔ وہاں "ہم پاکستانی" کا ذکر تھا جو مالی منفعت کے لالچ کے بغیر چلنے والی بیس سے زائد تنظیموں پر مشتمل ایک بڑی تنظیم ہے جو سوات میں جاری جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی مدد کے لئے کام کر رہی ہے۔ میں بھی اسی سے منسلک ہوں۔
ان تنظیموں کی طرف سے اب تک آٹھ ملین روپے ( تقریباً ایک لاکھ ڈالر) مالیت کی امدادی اشیا مردان اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھیجی اور تقسیم کی جا چکی ہیں۔ جلد ہی ہم مزید چار ملین کی امداد بھیجیں گے جو ہم نے حال ہی میں اکٹھی کی ہے۔
اخبار میں ایک گاؤں کا بھی ذکر تھا جس کے سبھی لوگوں نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تھے اور انہیں علاقے سے باہر نکالنے میں فوج کی مدد کی۔ ایک خبر مذہبی تنظیم سُنّی تحریک کے بارے میں تھی جو لاہور میں طالبان کے خلاف مظاہرہ کر رہی تھی۔ یہ بہت خوشی کی بات تھی کیونکہ ایک روز پہلے میں نے اس گروپ کو لاہور کی مصروف ترین مال روڈ پر طالبان کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا تھا۔ وقت بدل رہا ہے، میں نے سوچا۔
یہاں لاہور میں اتوار کے روز دوپہر کا کھانا ایک ایسا وقت ہوتا جب ہم خوب کھاتے ہیں اور پھر سارا دن پیٹ کھجاتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ لیکن اس روز میں نے " کرٹِکل ماس موومنٹ" یعنی انتہائی اہم عوامی تحریک شروع کرنے والے اپنے دوستوں کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ تحریک عالمی گرین موومنٹ کا حصّہ ہے اور اس کی لاہور شاخ ماحول دوست سائیکل سواروں پر مشتمل ہے جو گیس نگلنے اور دھواں اگلنے والی گاڑیوں پر انحصار کو ختم کرانے کی خواہش مند ہے۔
ہم صرف 25 لوگ تھے جنہوں نے اپنی سائیکلوں پر لاہور کے گرد گشت کا آغاز کیا تھا اور تب ہی مجھے یہ احساس ہوا کہ ماحول دوستی کے پہلو کے علاوہ یہ اپنے شہر اور اس کے لوگوں کے ساتھ رابطہ جوڑنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جو کار کے ذریعے کسی بھی طرح ممکن نہیں۔
یہ ایک ایسے شہر کی آوازوں، خوشبوؤں اور بدبوؤں کا تجربہ کرنے کا طریقہ ہے جس سے ہم محبّت کرتے ہیں لیکن اسے ایک بلبلے کے اندر رہتے ہوئے ہی دیکھتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ کم از کم میرے لئے یہ ایسے کسی بھی خوف پر قابو پانے کا راستہ تھا کہ شائد لاہور ایک غیر محفوظ جگہ ہے۔
شہر میں سائیکل چلاتے ہوئے سماجی شعور رکھنے والے ایک اور گروپ "ذمہ دار شہری" کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی جو ایک سٹور کے باہر سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر رہا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے ایک رپورٹر نے لکھا تھا " ایسا کرنا ایک عجیب کام ہے، خاص طور پر ایسے طلبا کے لئے جو اعلٰی طبقے کے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں، اور جو عام طور پر اتوار کی سہ پہر ائر کنڈیشنڈ گھروں میں آرام کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔"
لیکن اس کے باوجود بیلچوں اور کوڑا ڈالنے والے تھیلوں کے ساتھ لیس ہو کر جون کی شدید گرمی میں، جب سائے میں بھی درجہ حرارت 38 درجے سینٹی گریڈ ہوتا ہے، یہ نوجوان پاکستانی جب لاہور کی سڑکوں کی صفائی کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
درحقیقت وہ جو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ لوگوں کے اندر کمیونٹی کے جذبے کی آبیاری ہے۔ یہ جذبہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کرنے سے پیدا ہوتا ہے، چاہے وہ کسی بازار میں سال بھر سے پڑے کوڑے کی صفائی ہو یا طلبا کو کتابیں خرید کر دینا۔
انہیں اس بات پر یقین ہے کہ پاکستان کے شہریوں کے اندر شہریت کا احساس پیدا کرنا اشد ضروری ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کو اکٹھا کرنا اور انہیں اپنی دھرتی سے اس طرح پیار کرنا سکھانا چاہتے ہیں جیسے وہ اپنے گھر سے کرتے ہیں۔
ہاں ان خوش لباس لوگوں کو لاہور کی سڑکیں صاف کرتے دیکھنا بہت سے لوگوں کے لئے ایک عجیب نظارہ ہے لیکن آج کل پاکستان میں بہت سی عجیب وغریب باتیں ہو رہی ہیں۔ لاہور کی سڑکوں پر سائیکل سواری کرتے ہوئے ہم پچیس افراد بہت عجیب لگتے ہوں گے۔ اور مجھے پتہ ہے کہ اپنے فوجی دستوں اور اپنی قوم کی حمایت کی علامت کے طور پر شروع کی گئی سبز پٹی مہم جیسی کسی انتہائی سادہ سی سرگرمی کی کامیابی بھی بہت سے لوگوں کے لئے ایک نئی بات ہے۔
مال روڈ پر مولویوں کے ایک گروپ کو طالبان کے خلاف نعرے لگاتے دیکھنا کم از کم میرے لئے ایک نیا منظر تھا۔ گزشتہ ہفتے لاہور کے مصروف ترین تجارتی مرکز لبرٹی مارکیٹ میں ایک نو عمر لڑکی کو ایک ایسی ٹی شرٹ پہنے دیکھنا جس پر " کوئی گھر نہیں چھوڑ رہا۔ مجھے پاکستان سے محبّت ہے" لکھا تھا، ایک ایسی چیز تھی جو پہلے کبھی میری نظر سے نہیں گزری تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ فخر اور ملکیت کا یہ احساس جو ساری قوم پر طاری ہوتا نظرآرہا ہے، ایک بالکل نئی چیز ہے۔
ہاں، پاکستان میں آج کل بہت عجیب باتیں ہو رہی ہیں۔ شائد یہی وقت ہے۔
عائدہ نقوی صحافی ہیں جو لاہور میں رہتی اور کام کرتی ہیں۔
|