
یکم جو لائی ۔ ہمارا کینڈا کا قومی دن ہے آج سے ایک سو بیالیس پہلے ملکہ بر طانیہ نے اس دن اس ملک کو ڈومینین کا درجہ دیا تھا اس دن سے لیکر آج تک یہ دن منا یا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے جیسے ہی یہ دن شروع ہوتا ہے ۔
پارلیمنٹ ہل اوٹوا میں قومی پر چم بلند کیا جاتا ہے وہ پر چم جس نے انیس سو پینسٹھ میں قومی پر چم کا مقام پایا ، جس پر یہاں کے قومی در خت میپل کاپتا بنا ہوا ہے۔اس سے پہلے یہاں بھی یو نین جیک ہی لہراتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دن تو پوں کی سلامی سے شروع ہو تا ہے۔ پھر عوام پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ یہاں شخصیتوں کی پو جا نہیں ہو تی پارلمنٹ کو با لا دستی حا حل ہے۔
پھر وزیر ِ اعظم ، مرکزی وزراء اور معزز ین ،ایک ایک کر کے آنا شروع ہو تے ہیں ، آخر میں گرر نر جنرل تشریف فر ما ہوتی ہیں جوکہ کئی سال سے ایک خاتون ہیں ۔ اس کے بعد تقریبات کا آغاز قومی ترانے سے شروع ہو جا تا ہے سب لوگ اس کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں اس میں ندرت یہ ہے کہ کنیڈا چونکہ ایک امن پسند ملک ہےلہذا فو جی طاقت کا کوئی مظا ہرہ نہیں ہو تا ۔ بلکہ صرف کلچر کا مظا ہرہ ہو تا ہے اس لیئے کہ کنیڈا کو اس بات پر فخر ہے کہ یہ ایک ملٹی کلچرل اور ملٹی لینگو ئل ملک ہے ۔
لہذا مختلف ثقافت سے تعلق رکھنے والے فنکار اس مو قعہ پر اپنے شو پیش کرتے ہیں اور مصنف اور شاعر بھی پیش ہو تے ہیں۔ ان کے علاوہ وہ سا ئنسدان بھی جنہوں نے کسی بھی فیلڈ میں کوئی کا رنامہ انجام دیا ہو کیونکہ کنیڈا ریسرچ میں دنیا میں سب آگے ہے۔ اس سال قومی دن کی اہپمیت یو ں بھی بڑھ گئی ہے کہ اگلے سال کنیڈا عالمی اولیمپک کا میزبان بننے کا شر ف حا صل کر رہاہے۔ جس کی گزشتہ آٹھ دس سال سے تیاریاں جاری ہیں ۔
اس کے علاوہ پو رے ملک میں آزادی کی پر یڈ ہو تی ہے ۔ جہاں شہروں میں مئیر سلامی لیتے ہیں ۔ اور صو بائی دا ر الحکومتوں میں وہا ں کے گورنر ، وزارائے اعلیٰ جنکو یہاں پر پریمیر کہا جاتا ہے ،کابینہ اور معززین اس دن اپنی ،اپنی پارلیمنٹ ( ہمارے صوبے میں اسمبلی کے بجا ئے ہم پا رلیمنٹ کہتے ہیں ) یا اسمبلی کے سامنے جمع ہوکر تقریبات منعقد کرتے ہیں۔
وینکور چونکہ دار الحکومت اوٹوا سے تین گھنٹے پیچھے ہے لہذا ہمارے یہاں اب دن شروع ہو ا ہے ۔اور رچمنڈ کے میر جناب مالکم بروڈی اس وقت سلامی لے رہے ہیں اور پریڈ سامنے سےگزر رہی ہے۔ سب سے پہلے کنیڈا کے اصل باشندے جو کہ نیٹو ( ریڈ اندین) کہلاتے ہیں ۔ ان کا ایک گروپ گزرا جس نے پروں کا تاج اور لباس پہنا ہوا ہے ۔ اور اس نے اپنے مخصوص انداز اور زبان میں کنیڈا کی ترقی کے لیئے دعا کی ۔
یہ یہاں کی رسم ہے کہ ہر تقریب ان کی دعا ء سے شروع ہو تی ہے ۔اور رات کو، چونکہ یہ گرینڈ وینکور ہے لہذا سب وینکور کے سا حلی علاقے میں جمع ہو نگے جہاں نصف شب کے بعد آتش بازی کے مظاہرے ہو تے ہیں ۔اور اس طرح یہ تقریب رات گئے اختتا م پذیر ہو گی۔