|
جان کمیشن کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا بھی یا نہیں؟
07.07.2009, 01:34am , منگل (GMT+1)
اشرف حماد۔عالمی اخبار،سرینگر
شوپیان المیہ کو اب قریب ایک مہینہ ہوا اور یہ سانحہ پانچویں ہفتہ میں داخل ہو گیا ہے۔ ابھی تک عوامی حلقوں کے مطابق اس معاملے میں کوئی تسلی بخش پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ سانحہ کے تناظر میں قائم ہونے والی مجلس مشاورت کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایک مہینہ ہوگیا (جس میں اب دو روز باقی ہیں) لیکن جان کمیشن نے اب تک صرف عبوری رپورٹ پیش کی ہے ، اس کی چند شقوں پر ہی حکومت نے عملی اقدامات کئے اور جو اقدامات کئے ان سے نہ مجلس مطمئن ہے اور نہ علاقہ کے عوام۔ اس بات کا بر ملا اظہار مجلس کے عہدے داروں نے اپنی حالیہ اخباری کانفرنس میں کیا۔ مجلس کے ترجمان اور نائب سربراہ محمد شفیع خان نے کہا کہ حکومت کا کئی پولیس افسروں کو معطل کرنا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ کمیشن نے ایس پی جاوید اور دیگر اہل کاروں کو قانون کے دائرے (Procecute)میں لانے کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے ان کو صرف معطل کیا ۔ واضح رہے مجلس نے کمیشن کو پہلے ہی مسترد کیا تھا اور اخباری کانفرنس میں انہوں نے اس کا اعادہ کیا۔
دریں اثنا ء کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ مقررہ اوقات میںہی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیشن نے تقریباً تمام گواہیاں قلم بند کی ہیں اور ذرائع کے مطابق وہ ایک دو روز میںمجرموں کی نشاندہی کرے گی اور اس کیس کا کچا چٹھا عوام کے سامنے لائے گی ۔ کمیشن ذرائع کے مطابق اس سانحے میںجو افراد ملوث ہیں ان کا تعلق زیادہ تر پولیس یا مزاحمت مخالف فورس(SOG)سے ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق کچھ سی آر پی ایف اہلکار بھی اس معاملے میں ملوث قرار دئے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ کمیشن نے بٹہ پورہ سی آر پی ایف کیمپ کے کچھ اہلکاروں کے بھی بیانات لئے۔ ادھر SITنے بھی کئی اہلکاروں کو ذرائع کے مطابق تفتیش کے دائرے میں لایا۔
رہبر کو با خبر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ شوپیان ریپ ، مرڈر معاملے میں کئی مقامی شہری بھی ملوث جتلائے گئے ہیں جو ذرائع کے مطابق اگر چہ براہ راست ریپ یا قتل میں ملوث نہیں ہیں لیکن انہوں نے ذرائع کے مطابق اجتماعی عصمت ریزی اور واقعہ قتل میں فورسز کی اعانت (Fecilitate)کی ہے۔ تاہم مجلس مشاورت نے اسے ایک افواہ قرار دیا ہے۔ مجلس کے ایک کلیدی عہدے دار نے کہا کہ یہ افواہیں وہ لوگ پھیلا رہے ہیں جو اس سانحہ سے سیاسی استفادہ(Politocal Mileage)اٹھانا چاہتے ہیں۔
مجلس کے عہدے دار نے کہا کہ اس واقعہ میں کسی عام شہری کا ملوث ہونا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فور سز اور پولیس کی کارستانی ہے اور عینی شاہدوں نے مقامی عدالت میں بھی اس بات کا اعتراف کیا۔ادھر ضلع شوپیان تحریک حریت کے صدر مفتی طارق الامین نے کمیشن اورSITپر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں عام شہریوں کو ملوث کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا SITکے عہدے داروں نے کئی ٹریکٹر ڈرائیوروں کے آئی کارڈ ضبط کئے اور انہیں کیمپ آفس بلایا۔ وہاں ان کے فوٹو لئے گئے، ان سے الٹی سیدھی پوچھ تاچھ کی گئی اور ان کے انگلیوں کے چھاپ(Finger Prints)لئے گئے ۔ انہوں نے رہبر کو بتایا انہیں تشویش ہے کہ اس معاملے میں بے گناہوں کو کہیں ملوث نہ کیا جائے ۔
شوپیان معاملے کے حوالے سے 25مئی کو ایک اہم پیش رفت(Development)یہ ہوئی حکومت نے پلوامہ اسپتال کی سینئر ڈاکٹر اور ماہر امراض خواتین کو معطل کیا۔ ڈاکٹر نگہت نے آسیہ اور نیلوفر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے سنگین واقعے کی تصدیق کی تھی اور انہوں نے عوام اور میڈیا سے حلفیہ طور کہا تھا کہ آسیہ اور نیلو فر کو اجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نگہت ڈاکٹروں کی دوسری ٹیم سے تعلق رکھتی تھی جنہوں نے مقتولہ آسیہ اور نیلو فر کا طبی معائنہ کیا۔ حکومتی ذرائع نے کہا کہ ڈاکٹر نگہت شاہین کو جان کمیشن کی سفارش پر معطل کیا گیا اور وہ اپنی معطلی کے خلاف کمیشن میں اعتراضات پیش کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹر نگہت نے میڈیا کوبتایا کہ ان کو سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں اس لئے شوپیان لایا گیا تاکہ وہ ریپ اور مرڈر کے متعلق اپنی ماہرانہ رائے دے۔ ڈاکٹر نگہت نے کمیشن کی یہ بات مسترد کی کہ انہوں نے اٹاپسی میں غفلت برتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے عصمت دری کے متعلق رائے پوچھی گئی جو انہوں نے دیانت داری سے دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذکورہ خواتین کو اٹاپسی کیسے کرتی جبکہ پولیس تھانہ میں ایف آئی آر درج ہی نہیںہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اٹاپسی کے لئے ایف آئی آر درج کرنا لازمی ہوتا ہے۔ واضح رہے پولیس نے واقعہ کے ایک ہفتہ بعد اس کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ درج کی تھی۔
ڈاکٹر نگہت نے کہا کہ انہیں سچ بولنے پر انتقام گیری کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا سروس ریکارڈ بے داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق گوئی ایک فریضہ ہے اور ’’میں ہر بار سچ بولوں گی چاہئے کچھ بھی ہو‘‘۔ ادھر مجلس نے ڈاکٹر نگہت کی معطلی کو حکومت کی سیاسی انتقام گیری اور واقعات کی پردہ پوشی سے تعبیر کیا ہے۔ مجلس کے ترجمان نے ڈاکٹر نگہت کو معطل کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی۔ ایسے میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئر مین ملک محمد یاسین نے بھی حکومت فیصلے کی بھر پور الفاظ میں مذمت کی انہوں نے کہا کہ حکومت دانستہ طور شوپیان معاملہ میں تاخیری حربے استعمال کر ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس المیہ کے مجرم دندناتے پھر رہے ہیں اور حکومت دور کی کوڑیاں لانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کا وعدہ سراب ہی معلوم ہو رہا ہے کیوں کہ ایک مہینہ گذر کیا لیکن ابھی تک قاتلوں کو منظر عام پر نہ لایا گیا اور نہ گرفتار کیا گیا۔ ادھر لبریشن فرنٹ راجباغ نے بھی معطلی کی مذمت کی اور اس اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ ایسے میں ڈاکٹروں کی ایسو سی ایشن نے بھی اس واقعہ کا سنگینی سے نوٹس لیا ہے اور اگلے ہفتے غیر معینہ ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس حکم نامہ کو واپس لے جس کے تحت ڈاکٹر نگہت کو معطل کیا گیا ہے بصورت دیگر بقول انجمن نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ دریں اثنا شوپیان اور پلوامہ میں عوام نے اس فیصلہ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور کہا کہ یہ فیصلہ ’’مجرم بری گواہ کو پھانسی پر لٹکا یا جائے‘‘ کے مترادف ہے۔
ڈاکٹر نگہت کی معطلی عوامی اور سیاسی حلقوں کے مطابق اس کیس کی مس ہینڈلنگ کی انوکھی بات ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس واقعے کی شروع سے پردہ پوشی کرنا چاہتی تھی اور یہ اقدام بھی اسی پالیسی کا ایک حصہ ہے۔ عوامی حلقے کہہ رہے ہیں کہ انتظامیہ نے پہلے اس واقعہ کو غرقابی کا فسانہ بنایا۔ پھر اس کو ایک حادثہ قرار دیا۔ مقامی ایس پی، ایس ایچ او اور ڈی ایس پی نے اس سنگین المیہ کی ابتدائی (Primary)شہادتیں تلف کروائیں۔ انہوںنے ڈاکٹروں سے غلط پوسٹ مارٹم رپورٹ لکھوائی اور انتہائی گمراہ کن اطلاعات جاری کیا تھا کہ یہ غرقابی کا حادثہ ہے اور کوئی عصمت دری و قتل کا واقعہ کسی بھی صورت میں نہیں ہے۔ عوامی حلقوں کا اصرار ہے کہ ڈاکٹر نگہت کو انتقام گیری کا ہدف اس لئے بنایا کہ اس نے مقامی انتظامیہ کی طرف سے اس واقعہ کی پردہ پوشی کو ننگا کیا۔
انکے بیان کہ وہ قرآن پر ہاتھ رکھکر کہتی ہیں کہ آسیہ اور نیلو فر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہوئی ہے، نے وزیر اعلیٰ کی پوزیشن بھی مضحکہ خیز بنا دی کیوں کہ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ غرقابی کا قصہ ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ڈاکٹر نگہت کے بیان نے مقامی انتظامیہ کا پول کھولا اور وزیر اعلیٰ کوEmbraceکیا۔ لہذا یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر نگہت کو معطل کیا گیا۔ ڈاکٹر نگہت کو اگر کمیشن کی سفارشات پر معطل کیا گیا تب کمیشن کی اعتباریت پر بھی سوالیے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر موصوفہ کا کہنا ہے کہ جب جان کمیشن کے سامنے اس نے اپنا بیان قلم بند کروایا تھا تو جسٹس (ریٹائرڈ) مظفر جان نے ان کے بیان کو سراہا تھا۔ کمیشن کو شوپیان کے عوام نے پہلے ہی تسلیم نہیں کیا ہے اور مجلس مشاورت نے اس کو مسترد کیا ہے۔ جان کمیشن کو آزادی پسند تنظیموں نے مسترد کیا تھا اور اس واقعے کی ایمنسٹی انٹرنیشنل یا بین الاقوامی عدالت انصاف کے ذریعے تحقیقات کی مانگ کی تھی۔ سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف اپنی سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ خود وکلاء کی ریاستی تنظیم بار ایسوسی ایشن نے بھی اس کمیشن کو مسترد کیا تھا اور ہائی کورٹ کے سٹنگ جج سے اس کی تحقیقات کی مانگ کی تھی۔
ادھر جان کار حلقوں کا کہنا ہے کہ جسٹس جان کے سیاسی اعتقادات واضح ہیں اور ان کے سیاسی نظریات کا جھکاؤ حکمران نیشنل کانفرنس سے ہے لہذا کہیں ان کے سیاسی نظریات ان کے فیصلہ جان پر نہ منڈ ھلائیں یا حاوی ہو جائیں۔ عوامی حلقوں اور سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ ڈاکٹر نگہت کی معطلی کی سفارش بھی اسی نوعیت کا اقدام ہو سکتا ہے۔ مبصرین سوال کرتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر نگہت کے بیان کو کمیشن نے بقول اس کے سراہا تھا تو پھر ان کو معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کا جواز کیسے بنتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کمیشن کی سفارشات پر ان کو شک ہے اور وہ کمیشن کے حتمی فیصلہ کے حوالے سے بھی تحفظات رکھتے ہیں۔ بہر حال اب کمیشن تیار بہ تیار(All Set)ہے اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے کے لئے دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ ویسے مثل مشہور ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی!۔
|