|
امریکہ اور شام کے خستہ حال تعلقات کی بحالی
15.07.2009, 11:16am , بدھ (GMT+1)
تھامس اے ڈائن اور سونیا رینے ژوانی دے
ایک خستہ حال مکان کی طرح شام اور امریکہ کے تعلق کو بھی کئی سال سے مرمت اور تزئین وآرائش کی ضرورت ہے۔ بیس جنوری کو صدر اوبامہ کے افتتاحی خطاب میں "مخالفین" کے ساتھ مشغولیت کے اعلان کے بعد سے دونوں طرف دھیمے دھیمے لیکن مستقل مزاجی اور سنجیدگی کے ساتھ اس ٹوٹے پھوٹے تعلق کی شکل وصورت اور ماہیت بحال کرنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔
یہ خبر اب پرانی ہو چکی ہے کہ دو طرفہ تعلقات خستگی کا شکار تھے اور ان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے لازم باہمی احترام اور اعتماد کی قوت کا فقدان تھا۔ مثال کے طور پر مارچ 2009 میں شام میں ہونے والے گیلپ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 64 فیصد افراد ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے جبکہ سوالوں کے جواب دینے والوں کی 71 فیصد تعداد امریکی قیادت کو پسند نہیں کرتی۔ اگر شام کے بارے میں رائے عامہ جاننے کے لئے امریکہ میں سروے کرایا جاتا تو اس کے نتائج بھی اسی قسم کے برآمد ہونے کی توقع ہوتی۔
لیکن اگر آج ہم اس طرح کا سروے کرائیں تو امید ہے وہ لوگوں کے اندازِ فکر میں تبدیلی کی نشاندہی کرے گا۔ دونوں حکومتوں کی طرف سے مشترکہ مقاصد کے لئے کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے جو اس خستہ حال مکان کی کھڑکیاں اور دروازے ٹھیک کرنے کی طرف چھوٹا سا قدم ہے۔
یہ قدم دونوں ملکوں کی طرف سے اٹھایا گیا ہے۔ شام کی سفارت کاری میں ہتک آمیز اصطلاحات کا استعمال ختم کر دیا گیا ہے جب کہ امریکہ کی طرف سے شام میں حکومت تبدیل کرنے کی باتیں بند ہوگئی ہیں۔ اس کی بجائے شام کے صدر بشار الاسد اور وزیرِ خارجہ ولید معلّم نے ایک نئی شروعات پر زور دیا ہے۔
اوبامہ کی ٹیم نے سفاکانہ اور مہنگے تنازعات سے پاک خطہ قائم کرنے میں شام کی اہمیت اور کردار کو تسلیم کیا ہے۔ مشرق قریب امور کے قائم مقام امریکی نائب وزیرِ خارجہ جیفری فیلٹمین اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے ڈان شیپیرو دو دفعہ دمشق کا دورہ کر چکے ہیں۔ امریکہ کی مرکزی کمان کے وفد نے عراق سے متعلق معاملات پر گفتگو کے لئے اپنے شامی ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے اور امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن اور معلّم نے ایک دوسرے کے ساتھ فون پر مفید گفتگو کی ہے۔ یہ فون کال خاص طور پر مزید دو طرفہ مشغولیت کی راہ ہموار کرنے کے لئے ترتیب دی گئی تھی۔
اور اب ایک ایسے قدم کے طور پر جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا، ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنا ایک سفیر دمشق بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ عہدہ گزشتہ چار طویل سالوں سے جان بوجھ کر خالی رکھا گیا تھا۔
ایک فعال تعلق کی تعمیرِ نو کے امکانات بہت روشن ہوگئے ہیں۔ دمشق امریکی سفیر کی تقرری کو تعلقات کی بنیاد مضبوط کرنے کے طور پر لے گا لیکن یہ تو ان 14 سفارتی اقدامات کی لڑی کا محض آغاز ہے جن کی گھر کو مکمل طور پر تعمیر کرنے کے لئے ضرورت ہے۔
امریکہ اور شام جہاں اپنے سامنے موجود بہت سے چیلنجز سے نمٹنے کے طریقے پر سخت اختلاف کرتے ہیں وہیں انہوں نے مشترکہ مفاد والے علاقوں کی نشاندہی بھی کر لی ہے۔ ان میں سے ایک عراق ہے۔ شام، امریکہ اور عراق کے درمیان سرحدی سیکورٹی پر دہشت گردی کی روک تھام کا سہ فریقی تعاون انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے۔
افواج کی حیثیت کا معاہدہ (ایس او ایف اے) امریکی مسلح افواج کے انخلا کی راہ تو ہموار کرتا ہے لیکن بہت سے اہم مسائل کا احاطہ نہیں کرتا جنہیں صرف عراق کے ہمسایوں کے ساتھ امریکی مشغولیت، جو شام سے شروع ہوتی ہے، کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے۔
شام کو اس خواہش کے اظہار میں کبھی باک نہیں رہا کہ وہ ایک پر امن عراق کا خواہاں ہے جہاں مستحکم اور محفوظ مرکزی حکومت قائم ہو۔ لیکن اسے سب سے زیادہ جس بات کا ڈر ہے وہ یہ ہے کہ اس کے مغرب میں ایک ایسا ملک ہو جہاں کمزور مرکزی حکومت ہو اور جو فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہو۔
شام عراق سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی افواج کے لئے تعمیری انخلا کا راستہ ڈھونڈنے میں مدد کر سکتا ہے جب کہ امریکہ عراق اور شام کے درمیان بہتر اقتصادی تعاون میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا امریکہ پچھلے ڈیڑھ سال سے ترک حکومت کی ثالثی سے ہونے والے شام اسرائیل مذاکرات کے بارے میں خود کو الگ تھلگ رکھنے کی پالیسی کو اپنے خصوصی ایلچی جارج مِچل کے ذریعے تبدیل کر رہا ہے۔ درحقیقت امریکہ کے پالیسی ساز ایسی راہیں تلاش کر رہے ہیں جن سے ترکی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے گولان کی پہاڑیوں سے اسرائیل کا قبضہ ختم کرنے اور ایک نیا غیر فوجی علاقہ تخلیق کرنے میں مدد دی جائے جس کے عوض شام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لائے جائیں۔
آگے بڑھنے کے لئے دمشق اور واشنگٹن کے لئے ضروری ہے کہ ناقابلِ گفتگو مطالبات والا طرزِ عمل دہرانے کی بجائے جب بھی کوئی مثبت پیش رفت ہو تو اسے تسلیم کیا جائے۔
اس لرزتی ہوئی عمارت کو تنہا اوبامہ انتظامیہ کا مشغولیت کا عمل بحال نہیں کر سکتا۔ حالات کی ضرورت کے مطابق مثبت اقدامات میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے لیکن تعمیری مشغولیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اس حوالے سے شام خطے میں مثبت تبدیلی کا آغاز کرنے کی امریکی درخواستوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
شام امریکہ تعلق کی اصل روح بحال ہونے میں ابھی وقت لگے گا جس کی شروعات اعتماد سے ہوتی ہیں اور پھر دو طرفہ مشغولیت کے عمل میں آگے بڑھا جاتا ہے۔ ایک کے بعد دوسری اینٹ رکھتے ہوئے بحالی اور تعمیرِ نو کے اس عمل کو یوں ہی جاری رہنا چاہیے۔
* ٹام ڈائن سرچ فار کامن گراؤنڈ کے شام امریکہ پروگرام کے سینئر ایڈوائزر اور سونیا رینے ژوانی دے سرچ فار کامن گراؤنڈ کے ٹریک ٹُو ثالثی یونٹ کی ڈائریکٹر ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس کے تعاون سے شائع کیا گیا۔
|