|
عراق سے امریکی انخلا:مواقع اور چیلنجز
22.09.2009, 09:37am , منگل (GMT+1)
صفا اے حسین
تیس جون کو عراقی ٹینک اور گاڑیاں عراقی شہروں سے امریکی افواج کے انخلا کی خوشی میں قومی جشن منانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں۔ عراق کے شہروں، دیہات اور بستیوں سے امریکی لڑاکا افواج کے انخلا کے لئے یہ حتمی تاریخ سلامتی کے معاہدے کی دفعہ 24 کے تحت طے کی گئی تھی۔
معاہدے کے مطابق امریکہ کی تمام افواج 31 دسمبر 2011 تک عراق سے مکمل طور پر نکل جائیں گی۔ امریکی فوج عراق کے گنجان آباد علاقوں سے لڑاکا فورسز کو گزشتہ کئی مہینوں سے باہر نکال رہی تھی اور اس طرح یہ انخلا حتمی تاریخ سے دو روز پہلے ہی مکمل کر لیا گیا۔
پچھلے دسمبر میں جب عراقیوں اور امریکیوں کے درمیان سلامتی کے معاہدے پر مذاکرات اختتام کو پہنچے تو بہت سے مبصّرین کو حیرت تھی کہ امریکی افواج کے انخلا کی تاریخ اتنا پہلے سے طے کرلینے کے عراق کے استحکام پر کیا اثرات مرتّب ہوں گے۔ عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالِکی نے اپنے طور پر یہ اصرار کیا کہ انخلا کی تاریخ سے سیاسی عمل کو خاصی تقویت ملے گی اور سلامتی سے متعلق ان تمام خطرات کا خاتمہ ہو گا جو انخلا کی صورت میں جنم لے سکتے ہیں۔
تو پھر وہ کون سے چیلنجز اور مواقع ہیں جو امریکی افواج کی واپسی سے پیدا ہوں گے؟ پہلا چیلنج تو سیکورٹی ہے یعنی کیا عراقی سیکورٹی فورسز (آئی ایس ایف) ہر صوبے میں کامیابی کے ساتھ یہ ذمہ داری نبھانے کی استعداد رکھتی ہیں۔ انخلا سے پہلے دس دن کے دوران عام شہریوں کو ہدف بنا کر کئے گئے لگا تار حملوں میں دو سو سے زائد عراقی مارے گئے تھے۔
المالکی نے خبردار کیا تھا کہ افواج کی واپسی کی تاریخ کے قریب حملوں میں اضافے کا خدشہ ہے تاکہ عراقی حکومت اور آئی ایس ایف کو نااہل ثابت کیا جائے۔ لیکن وہ پُر اعتماد تھے کہ عراقی سیکورٹی فورسز امریکہ کے لڑاکا دستوں کے جانے کے بعد عراق کے شہروں کو تحفّظ فراہم کرنے کی صلاحیّت رکھتی ہیں۔
اعلٰی امریکی افسران نے بھی اس کی توثیق کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ ان کی افواج شہروں میں دہشت گردوں کی در اندازی روکنے کے لئے بیرونی دیہی پَٹّی میں جارحانہ طور پر کام جاری رکھیں گی۔
عراقی سیکورٹی فورسز حقیقی معنوں میں خود کو مضبوط بنا رہی ہیں اور عراق کی اپنی سلامتی کو درپیش چیلنجوں، جن میں القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند بھی شامل ہیں، سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت پر اعتماد میں اضافہ کر رہی ہیں۔ عراق کی انٹیلی جنس کی صلاحیتیں بھی مسلسل پختہ ہوتی جارہی ہیں۔
2008 کے موسم بہار اور گرما میں آئی ایس ایف کی طرف سے بڑے پیمانے پر تسلسل کے ساتھ کی گئی کارروائیاں بڑی تعداد میں سرعت کے ساتھ پھیل جانے کی ان کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ 26 جون کو بغداد سے ایک سو کلومیٹر شمال میں واقع سمارا میں مقدّس مقامات کی زیارت کے لئے آنے والے دو لاکھ افراد کی حفاظت کا فریضہ مقامی سیکورٹی فورسز نے کامیابی سے سر انجام دیا تھا۔ دو سال پہلے سمارا نہ صرف باہر سے آنے والے زائرین بلکہ مقامی باشندوں کے لئے بھی انتہائی خطرناک علاقہ تھا۔
عراق میں سیاسی، گروہی اور فرقہ وارانہ پُھوٹ کا مداوا کرنے کے لئے درکار سیاسی مفاہمت اس وقت عراقی حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔ عربوں اور کُردوں کے درمیان متنازعہ علاقے پر کشیدگی، دولت اور تیل کی آمدنی کی تقسیم اور شمال میں علاقائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم جیسے مسائل کا حل ہونا عراق کے مستقبل کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
حال ہی میں کُرد پارلیمنٹ میں منظور کیا جانے والا کردستان کا آئین بھی ان کشیدگیوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ امریکی افواج اختلافات کی سماعت اور خاتمے کے ذریعے ان کشیدگیوں کو کم کرنے کے لئے مکالمے کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ لیکن اب یہ کردار، اسے نبھانے کے لئے درکار وسائل سمیت امریکی سفارتخانے کو منتقل ہو جانا چاہیے۔
سلامتی کے معاہدے کا نفاذ اور امریکی دستوں کی واپسی عراقی حکومت کے لئے بھی نئےمواقع فراہم کرتی ہے۔ عراقی رائے عامہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو عمومی طور پر ایک قابض قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیں جتنی جلد ہو سکے یہاں سے نکل جائیں۔ بہت سے عسکریت پسند گروہوں نے اختیار حاصل کرنے کی اپنی جدوجہد میں "قابضوں کے خلاف مزاحمت" کے نعرے کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔
امریکی افواج کے انخلا کے بعد عسکریت پسندوں کے لئے اب عام لوگوں کو اس بات پر قائل کرنا بہت مشکل ہو جائے گا کہ وہ آزادی حاصل کرنے کے لئے لڑ رہے ہیں اور جب تک وہ ہتھیار پھینک کر مفاہمت کی راہ اختیار نہیں کریں گے، ان کے حمایتی کم ہوتے جائیں گے۔
عراقی مذہبی پیشوا مقتدہ الصدر جس کے عسکریت پسند ساتھی سلامتی کو لاحق بہت بڑا خطرہ ہیں، نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں عراق کے شہریوں کو آئی ایس ایف کی حمایت کرنے پر اکساتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ "سیاسی مزاحمت" کے ایک نئے دور میں شامل ہو جائیں اور متشدد سرگرمیوں کو خیرباد کہہ دیں۔
یہاں تک کہ بغاوت میں شامل ایک اہم شخصیت عزّت الدوری، جو صدام حسین کے دور میں عراقی انقلابی کمان کونسل کے ڈپٹی چیئرمین تھے، نے اس منگل کو ویب پر اپنی تقریر شائع کی ہے جس میں انہوں نے اپنے گروپ کو عراقی سیکورٹی فورسز پر حملے کرنے سے روک دیا ہے البتہ انہوں نے عراقیوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکیوں کے خلاف،" چاہے وہ عراق میں جہاں کہیں بھی ہوں،" جنگ جاری رکھیں۔
امریکی افواج کی از سرِ نو تعیناتی خارجہ امور کے معاملے میں بھی عراقی حکومت کو موقع فراہم کرتی ہے۔ بعض ہمسایہ ممالک کا عراق کے ساتھ رویّہ منفی ہے کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکی افواج کی موجودگی خود ان کے لئے براہِ راست خطرہ ہے۔ اس کا ردِّ عمل انہوں نے عراق کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مداخلت کرکے ظاہر کیا ہے۔ امریکی افواج کا انخلا ان ممالک کے ساتھ بھی صحت مندانہ تعلقات استوار کرنے کا موقع عطا کرے گا۔
مزید برآں بہت سے ممالک عراق کے ساتھ معمول کے مطابق اقتصادی اور سفارتی تعلقات قائم کرنے سے ہچکچا رہے تھے کیونکہ وہ عراق میں حکومت قائم رہنے کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار رہتے تھے۔ المالِکی نے بالکل درست طور پر اس تغیّر کو ایک ایسے نئے مرحلے سے تعبیر کیا ہے جو"عراق کی خود مختاری کو تقویت اور دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ اب ہم اپنی سلامتی کا دفاع اور اپنے داخلی امور کا انتظام خود کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔"
* صفا اے حسین تحلیل شدہ عراقی گورننگ کونسل کے سابق ڈپٹی ممبر ہیں اور اب عراقی نیشنل سیکورٹی کونسل میں کام کر رہے ہیں۔
|