|
اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن
23.07.2009, 01:16am , جعمرات (GMT+1)
عالمی اخبار ریسرچ یونٹ
ایشیا کے بیشتر ممالک میں اکیسویں صدی کاطویل ترین سورج گرہن دیکھا گیا۔پاکستان میں بھی جزوی سورج گرہن دیکھا گیا۔تاہم بیشتر شہروں میں مطلع ابرآلود ہونے کے باعث واضح طور پر نہیں دیکھا جاسکا۔
سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح پانچ بجکر اٹھاون منٹ پر ہوا۔بھارت میں مکمل سورج گرہن چھہ بجکرتریپن منٹ پر ہوا ، آٹھ بجکر پینتیس منٹ پر عروج پر پہنچا اورگیارہ بجکر بارہ منٹ پر ختم ہوگیا۔
کراچی میں سورج گرہن زیادہ واضح تھا تاہم مطلع ابرآلود ہونے کے باعث واضح نہیں دیکھا جاسکا۔ مکمل سورج گرہن کے باعث بھارتی شہربنارس اور پٹنہ سمیت بعض علاقے مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب گئے۔
چین میں بھی مکمل سورج گرہن ہوا اور شنگھائی میں اس موقع پر میلے کا سماں تھا جہاں ملکی اور غیر ملکی باشندوں کی بڑی تعداد نے سورج گرہن کامشاہدہ کیا۔لوگوں نے اس موقع پر مخصوص چشمے استعمال کئے۔
ا س کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش ، نیپال ، میانمار ، بھوٹان میں بھی سورج گرہن دیکھا گیا۔بھارت میں لاکھوں افراد نے مختلف دریاؤں میں اشنان کیا ، جبکہ متعدد لوگ خوف کے باعث اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلے۔بنارس میں جمع ہونے والے افراد میں بھگدڑ سے دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
پاکستان میں سورج گرہن کا دورانیہ ساڑھے چھ منٹ تھا۔کروڑوں افراد نے اپنی ٹیلی ویڑن اسکرین پر سورج گرہن کا براہ راست مشاہدہ کیا۔طویل دورانیہ کا سورج گرہن اس سے پہلےگیارہ جولائی انیس سو اکیانوے میں ہوا تھا جبکہ یہ نظارہ اب ایک سو تئیس سال بعد تیرہ جون 2132ٰء کو دیکھا جاسکےگا۔
ماہرین فلکیات نے اس موقع پر خصوصی طور پر سورج گرہن کا مشاہدہ کیا اور تحقیقات کے حوالے سے ڈیٹا حاصل کیا۔
بشکریہ۔اے آر وائی
|