16.10.2026, 10:54pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

وسطی امریکی ملک ہونڈوراس کا سیاسی بحران
28.07.2009, 08:29am , منگل (GMT+1)

عالمی اخبار۔رسیرچ یونٹ

 ہونڈوراس کے معزول اور ملک بدر کئے گئے صدر کی کوشش ہے کہ وہ کسی طور واپس اپنے ملک پہنچ جائیں۔ عبوری حکومت فی الحال اُن کو روکنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ ڈرا دھمکا بھی رہی ہے۔

وسطی امریکی ملک  ہونڈوراس کا سیاسی بحران کسی طور پر محدود نہیں ہو رہا۔ کوسٹا ریکا کے صدر آسکر آریاس کی کوششیں بے اثر دکھائی دے رہی ہیں۔ ملک بدر کئے گئے صدر مانویل سیلایا کے مشیران اور عبوری حکومت کے نمائندے کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہو پا رہے اور فریقین کے اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے سیاسی بحران کے خاتمے کے لئے ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ہی ختم ہو گئے۔

بات چیت میں ناکامی کے بعد معزول صدر سیلایا نے نکار گوا کے ساتھ جڑی سرحد سے ہنڈوراس میں داخل ہونے کی کوشش تو ضرور کی مگر اپنے ملک کے اندر ایک قدم  رکھنے کے بعد انہیں دوبارہ ملک بدر کر دیا گیا۔ سیلایا کے اِس اقدام کو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن  نے انتہائی بے خطر اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر اقدام قرار دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر اُوگو شاویز نے کہا کہ امریکہ اب یہ چاہتا ہے کہ ہونڈوراس کی عبوری حکومت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہو تے ہوئے اگلے الیکشن میں کامیابی حاصل کرے۔ دارالحکومت کاراکس میں ملک کی قومی اسمبلی سے تقریر کرتے ہوئے شاویز نے کہا کہ فوجی بغاوت کے ذریعے برسرِ اقتدار میں آنے والی عبوری حکومت اگر الیکشن میں کامیابی بھی حاصل کر لیتی ہے تو جائز نہیں قرار دی جا سکتی اور اِس کو ہونڈوراس کی حکومت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

 گذشتہ روز ہونڈوراس کے معزول صدر کی اپنے ملک داخل ہونے کی ایک اور کوشش کے دوران سرحدی مقام کے قریب ایک تیئیس سالہ نوجوان کی نعش ملی ہے جو سیلایا کا حامی تھا۔ اُس کے جسم  پر تشدد کے نشانات ہیں۔ لاش کی شناخت کر لی گئی ہے اور عینی شاہدین کے مطابق مقتول کو پولیس نے گزشتہ روز حراست میں لیا تھا۔ اِس ہلاکت پر معزول صدر نے عبوری حکومت کے سربراہ رابرٹو میشیلیٹی کو جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کی غلطی کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔ میشیلٹی حکومت نے سرحد کے ساتھ ساتھ کرفیو کی مدت میں اضافہ کردیا ہے تا کہ کسی طور سیلایا کے حامیوں کا اجتماع نہ ہو سکے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مانوئیل سیلایا کی سرحد عبور کرنے کی کوشش اصل میں پریشر پالیٹکس کا حصہ ہے۔ ایک طرف وہ ایسے اقدامات کر کے عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں دوسری جانب عبوری حکومت کی نیند حرام کر رہے ہیں۔ اندرونِ ملک بھی سیلایا کے حامیوں کی جانب سے حکومت مخالف سرگرمیوں جاری ہیں۔

معزول صدر سیلایا جہاں ایک بار پھر امریکی دارالحکومت واشنگٹن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہیں انہوں نے صدر اوباما سے ہونڈوراس کی عبوری حکومت کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مانویل سیلایا کے باعث امریکی صدر مشکل صورت حال سے دوچار ہیں کیونکہ امریکہ لاطینی امریکی ملکوں میں دائیں بازو کی فوجی بغاوتوں کی حمایت میں تسلسل کا خواہشمند نہیں ہے اور مانویل سیلایا کا سیاسی وقار اور اسلوب بھی خاصا پیچیدہ ہے جس کو کھل امریکی حمایت حاصل ہونا مشکل ہے۔ اِسی باعث امریکی ایوانِ نمائندگان کے کچھ ری پبلکن ممبران کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے سیلایا کے لئے جتنا کچھ کردیا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔

عبوری حکومت نے سرحد پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو معزول  صدر کوملک میں داخل ہونے پر گرفتار کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ میشیلیٹی حکومت کا کہنا ہے کہ سیلایا بڑے شوق سے واپس ملک لوٹیں لیکن اُن کو سیدھا جیل جانا پڑے گا اور چار الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا ہو گا جس میں غداری کا الزام بھی شامل ہے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عبوری حکومت کی یہ  ڈرانےدھمکانے کی ایک پالیسی ہے اور اُس کے پاس سیلایا کے خلاف زوردار ثبوت موجود نہیں ہیں۔

(بشکریہ ڈوئچے ویلے )


:دیگر مضامین
(27.07.2009) سانحہ شوپیان : تشنہ طلب سوالات کا جواب کون دے گا
(25.07.2009) سوات. بے گھر ہونے والوں کی کہانی
(24.07.2009) پٹرول بچاؤ مہم ضروری ہے
(23.07.2009) افسر شاہی بیوروکریسی ہی تو ہے
(23.07.2009) اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن
(18.07.2009) خانہ کعبہ کی چابی نیلام
(17.07.2009) ایک وڈیو غزل۔صوتی بصری آمیزش
(15.07.2009) جی ہاں میں کارٹون ہوں لیکن آپ جیسا!
(15.07.2009) امریکہ اور شام کے خستہ حال تعلقات کی بحالی
(12.07.2009) لندن کی پہچان ‘‘ بگ بین ‘‘150 سال کا ہوگیا
(09.07.2009)  Michael Jackson Memorial Live on Aalmi Akhbar تصاویر اور وڈیوز۔مائیکل جیکسن کا سفر آخرت۔
(08.07.2009) عرب دنیا میں جرمنی کی مقبولیت میں اضافہ
(07.07.2009) سات جولائی 2005۔لندن بم دھماکوں کی یاد میں
(07.07.2009) جان کمیشن کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا بھی یا نہیں؟
(07.07.2009) موبائل سے جوتے تک کا سفر
(03.07.2009) صوبائی خودمختاری اور صوبوں کی تقسیم۔از۔افضال خان
(02.07.2009) کینڈا کا قومی دن ملک کے اہم ترین ایام میں سے ایک ہے
(01.07.2009) کیا یہ ررست ہے کہ پاکستان میں وقت بدل رہا ہے
(01.07.2009) پاراچنار کو خطرہ ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ خاموش ہیں
(30.06.2009) مغربی ذرائع ابلاغ میں ایرانی انتخابات کی کوریج کا تنقیدی جائزہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں