 |
| مدیحہ اہل خانہ کے ساتھ پاکستان میں |
کچھ دن اور تاریخیں جیسے ذہن کی دیواروں سے چسپاں ہو جاتی ہیں۔ایسی ہی ایک تاریخ 27 ستمبر 2003 . یہی میری زندگی کا وہ دن کہ جب مجھے اپنے جان سے پیارے ماں باپ بہن بھائیوں کو چھوڑ کر جرمنی آنا تھا۔
سارا سفر خوشی خوشی گزارا مگر اُس وقت اندازہ ہی نہ ہوا کہ میں نے اپنے پیچھے کیا کچھ چھوڑ دیا- آنکھوں میں بہت سے خواب سجائے جب فرینکفرٹ ائرپورٹ پر اُتری تو بہت ہی پُرجوش استقبال ہوا-
اپنے گھر میں قدم رکھتے ہی لگا کہ جیسے سب کچھ پا لیا ہے-
 |
| مدیحہ اپنے شوہر علی اور بچے کے ساتھ |
لیکن آہستہ آہستہ جیسے دن گزرتے رہے تو پتا چلا کہ جیسے ایک پودا اپنی اصل آب و ہوا میں پھلتا پھولتا ہے یہ ہی حساب انسانوں کا بھی ہے- انسان اپنی آب و ہوا اپنی زمین اپنی زبان اپنے لوگ اپنے تہوار کے بغیر کچھ نہیں ہے-
اس مرتبہ تو دو ہزار نو میں یہاں شاید چھٹا رمضان پو گا لیکن اسوقت جب جرمنی میں میرا پہلا رمضان آیا تو لگا یہ وہ رمضان تو نہیں ہے جس کا انتظار پورے سال کیا جاتا ہے- وہ رونق وہ چمک دمک وہ سجدوں کی آوازیں وہ سحری و افطاری کے ہنگامے وہ روزہ کھلنے اور بند ہونے کا سائرن وہ سحری میں اُٹھانے والا ڈھول وہ سب کہاں ہیں-
عید آئی اور چلی بھی گئی یا الہی یہ میں کہاں آگئی ہوں- وہ چاند رات میں ہلا گُلا کرنا وہ دوستوں کے ساتھ مہندیاں لگانا عید کے کپڑے بنوانا وہ درزی کو ڈانٹنا بازاروں کے چکر لگانا سب کچھ ختم ہو گیا ہے-
 |
| مدیحہ اپنی بیٹی کے ساتھ |
وہ عید کتنی روتی ہوئی گُزری عید ایسی تو نہیں ہوتی۔ دن اور بڑھنے شروع ہوئے اور عید قرباں کی آمد آمد ہوئی- مگر یہ کیا؟ نہ بکروں کا شور نہ وہ سجے ہوئے جانور نہ گلیوں میں بچے بکروں اور گائے کو پھراتے نظر آئے- نہ بچوں کا مقابلہ نظر آیا- دل خون کے آنسو رویا ۔دل کرتا تھا کہ کاش میرے پَر لگ جائیں اور میں اُڑ کر پاکستان چلی جاؤں اپنوں کے پاس جہاں سب میرے ہیں-
خیر پانچ مہینے گزارنے کے بعد میرے شوہر علی کو مجھ پر رحم آیا اور ہم نے پاکستان کے لئے رختِ سفر باندھا-
مجھے یاد ہے کہ جب علی نے مجھے ٹکٹ پکڑائے تھے تو میں کیسے اُنہیں چوم چوم کر روئی تھی- دن گن گن کر گزرے اور آخرکار وہ دن بھی آیا کہ جب ہم نے پاکستان کے لئے پرواز کی- جب جہاز نے اُترنا شروع کیا تو اوپر سے اپنی سڑکوں کو دیکھ کر دل کیا کہ ابھی چھلانگ لگا دوں-
جہاز سے اُتر کر اپنی سر زمیں پر قدم رکھتے ہی ایک عجب سی طاقت نے آ گھیرا- لگا کہ اب کسی چیز کا خوف نہیں ہے ہر چیز اپنی ہے-
 |
| مسکرانا تو میری عادت ہے |
پاکستان پہنچ کر ہر چیز کو کس مسرت سے دیکھا تھا کہ جب اس ملک میں تھی تو کبھی اِن چیزوں کی قدر ہی نہ آئی اور پھر جس دن واپس آنا پڑا لگا کہ دوبارہ رخصت ہو گئی ہوں- اور پھر فرینکفرٹ پہنچ کر ہر چیز اجنبی ہو گئی-
پھر بیٹے قاسم کی ولادت ہوئی اور بس اُس وقت دل کیا کہ کوئی جادو ہو اور میرے سارے گھر والے میرے پاس آ جائیں- وقت بڑھتا چلا گیا اور ہر گزرتا دن کسی نہ کسی محرومی کا احساس دلاتا رہا- جیسے جیسے بچوں نے بڑھنا شروع کیا اُس ہی طرح مسائل نے بھی بڑھنا شروع کیا- بچوں کو قرآن پڑھانا، بچوں کو اپنی زبان سکھانا اُن کو اپنی تہزیب اپنی روایات سکھانا-
یا الٰہی پاکستان میں یہ سب کتنا آسان ہے- یہاں پر لوگوں کو اپنی زبان کو اہمیت دیتے سنا تو اِس محرومی نے آ گھیرا کہ ہم پاکستانی کیوں نہیں اس ہی طرح اپنی زبان کو فروغ دیتے- کیوں اُردو بول کر شرمندگی اور انگریزی اور دوسری زُبانیں بول کر فخر محسوس کرتے ہیں- لوگ اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور جرمن بولتے ہوئے فخر
 |
| تین نسلیں۔علی ۔انکے والد عون محمد رضوی اور علی کا بیٹا |
لیکن میں سوچتی ہوں کہ اِن لوگوں نے اپنا پاسپورٹ تو بدل لیا ہے مگر اِن شکلوں کا کیا کریں جو کہ پہلی نظر میں ہی پاکستانی ہونے کا ثبوت پیش کرتی ہیں-
جب بھی کسی اپنے پاکستانی کو کہا کہ میں سوچتی ہوں کہ پاکستان واپس چلی جاؤں تو جواب ملتا ہے کہ کمال کرتی ہو لوگ وہاں سے بھاگنے کا سوچتے ہیں اور تم ہو کہ واپس جانے کی بات کرتی ہو-
ارے وہاں تو جانوں کو خطرہ ہے- اِتنی دہشتگردی ہے مگر میرا کہنا ہے کہ جب اللہ نہ کرے خالم بدہن اپنا پاکستان ہی سلامت نہیں رہے گا ہم پاکستانیوں کو زندہ رہ کر کیا کرنا ہے- میری جان دل میرے وطن پر قربان الٰہی میرے ملک کو تا قیامت سلامت رکھے آمین ثمہ آمین