|
ترک خواتین صفحۂ اوّل کی شہ سرخیوں میں!
04.08.2009, 01:29am , منگل (GMT+1)
سیلان ییجینسو
ترکی: پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے جیسے ترکی کے اخبارات میں عورتوں کو صرف دو طرح سے ہی پیش کیا جاتا ہے، فیشن ماڈل کے طور پر مختصر یا جدید ترین لباس کی نمائش کرتے ہوئے یا پھر سفاکانہ جرائم کے شکار کے طور پر۔ تاہم اخباری صنعت میں خواتین کی کمی کے باوجود بغور جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ چند سال کے دوران صنف سے متعلق موضوعات کی کوریج میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور ترک میڈیا بذاتِ خود بھی خواتین کے مسائل سے متعلق آگہی دینے کی مہموں کو مہمیز دینے میں شریک ہوگیا ہے۔
تاریخی طور پر صنفی موضوعات کو اخبارات میں ترک جمہوریہ کے بانی مصطفٰے کمال اتا ترک کے اکسانے پر 1923 سے پیش کیا جارہا ہے، جنہوں نے 30 مارچ 1923 کو روزنامہ واکِت میں لکھا تھا: "بنی نوع انسان دو اکائیوں سے مل کر بنے ہیں، مرد اور عورت۔ اگر ہم ایک نصف کو ترقی کرنے دیں اور دوسرے کو نظر انداز کردیں تو پھر 'مکمل' کے لئے ترقی کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک نصف تو آسمان کی بلندیوں کو چھو لے اور دوسرے کو زمین کی پستیوں میں خوار ہونے دیا جائے؟"
بعض یورپی ممالک میں 1944 تک عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیا گیا تھا جب کہ صنفی مساوات پر اتا ترک کے پختہ یقین کی بنا پر ترکی میں عورتیں اور مرد قانون کی نظر میں 1926 میں برابر ہوگئے تھے جب عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔
لیکن ترک خواتین کو قانونی طور پر برابری ملنے کے باوجود نسبتاً بہت تھوڑی خواتین کو ان حقوق سے فائدہ پہنچا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین ابھی تک مناسب تعلیم حاصل نہیں کر پائی ہیں۔ یونیسف کے شائع کردہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2000 سے 2007 کے درمیان ترکی میں بالغ خواتین کی 26 فیصد تعداد ناخواندہ تھی۔ یہ شرح علاقے کے دیگر ممالک مثلاً ہمسایہ ملک یونان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جہاں صرف دو فیصد خواتین نا خواندہ ہیں۔
تعلیم تک خواتین کی رسائی نہ ہونے سے گھریلو تشدد وغیرہ جیسی بد سلوکیوں کا شکار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور یہ صورتحال ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صورتحال کی یہ بے لاگ (لیکن منفی) عکاسی خاتون رپورٹروں اور ایڈیٹروں کو صحافتی اداروں کے اندر مناسب اختیار حاصل نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ ترک میڈیا واچ ڈاگ 'میڈیز' کے جاری کردہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ میں صرف 15 فیصد ایڈیٹر، 12 فیصد کالم نگار اور 18 فیصد رپورٹر خواتین ہیں۔ روزنامہ ہیبر ترک کی گولین یلدریم کایا مُلک کی واحد خاتون چیف ایڈیٹر ہیں۔
اداراتی اختیار کے ایوانوں میں خواتین کی افسوسناک عدم موجودگی کے باجود ترک ذرائع ابلاغ کسی بھی طرح صنفی مساوات کے فروغ کی اپنی ذمہ داری پر حرف نہیں آنے دے رہے۔ مثال کے طور پر وزیرِ اعظم ریسپ طیّب اردگان کے 2004 کے تعزیراتی قانون کی اصلاحات میں، جن میں خواتین کی جنسی خود مختاری کو تسلیم کیا اور ان کے قانونی تحفّظ کو مضبوط کیا گیا ہے، ذرائع ابلاغ نے گھریلو تشدد اور عورتوں کی ناخواندگی جیسے مسائل کے بارے میں شعور میں اضافہ کرنے میں فعال کردار ادا کیا تھا۔
سیکولر مزاج رکھنے والے ترکی کے سب سے بڑے اخبار ڈیلی حُریّت نے اکتوبر 2004 میں ملک بھر میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے لئے قومی سطح پر ایک مہم چلائی اور بدسلوکی کا شکار ہونے والی خواتین کو مشورہ دینے کے لئے ایک ہیلپ لائن بھی قائم کی۔ حریّت کے ذیلی اخبار "مِلیّت" نے بھی " ابّو، مجھے اسکول بھیجیں" کے عنوان سے 2005 میں ایک مہم چلائی تھی جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ والدین کو اپنی بچیّوں کو تعلیم دلانے کی ترغیب دینا تھا۔ اس مہم نے یونیسف کی علاقائی ڈائریکٹر برائے وسطی ومشرقی ممالک ماریا کیلوِس کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ یہ سرگرمی باقی تمام ذرائع ابلاغ اور دیگر شعبوں کے لئے بھی قابلِ تقلید مثال ہے۔
اس طرح کی کمیونٹی کو محرک کی سرگرمیوں نے معاشرے میں اپنی بات کو زور دے کر منوانے والا مزید بہتر کردار اختیار کرنے میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی اور اب وہ میڈیا میں خواتین کی کوریج میں بتدریج تبدیلی لا چکی ہیں۔
ترکی کے قدامت پسند ذرائع ابلاغ جن کی قیادت "زمان" اخبار کے ہاتھ میں ہے، بھی خواتین کی تعلیم کے موضوعات کواپنی اشاعتوں میں بھرپور جگہ دیتے ہیں۔ ان کی خصوصی توجہ کا مرکز بعض عوامی جگہوں، جن میں یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں، پر ہیڈ سکارف اوڑھنے پر پابندی کے تناظر میں عورتوں کی تعلیم کے حق پر جاری تند وتیز بحث ہے۔
اگرچہ اس بات کا تعیّن کرنے میں تعلیم کلیدی نوعیت کا کردار ادا کرتی ہے کہ اتا ترک کا ترکی میں مکمل صنفی مساوات قائم کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا یا نہیں لیکن ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں صحت مند مباحثوں کی آبیاری کریں، لوگوں کا شعور بلند کریں اور خواتین کا مثبت تاثر اجاگر کرتے ہوئے ترک معاشرے کے رویّوں اور عمومی رجحانات میں تبدیلی لاتے رہیں۔
* سیلان ییجینسو حُریّت ڈیلی نیوز کے رپورٹر ہیں۔
کامن گراؤنڈ نیوز سروس
|