16.10.2026, 09:56pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

ترک خواتین صفحۂ اوّل کی شہ سرخیوں میں!
04.08.2009, 01:29am , منگل (GMT+1)

سیلان ییجینسو
ترکی: پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے جیسے ترکی کے اخبارات میں عورتوں کو صرف دو طرح سے ہی پیش کیا جاتا ہے، فیشن ماڈل کے طور پر مختصر یا جدید ترین لباس کی نمائش کرتے ہوئے یا پھر سفاکانہ جرائم کے شکار کے طور پر۔ تاہم اخباری صنعت میں خواتین کی کمی کے باوجود بغور جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ چند سال کے دوران صنف سے متعلق موضوعات کی کوریج میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور ترک میڈیا بذاتِ خود بھی خواتین کے مسائل سے متعلق آگہی دینے کی مہموں کو مہمیز دینے میں شریک ہوگیا ہے۔

تاریخی طور پر صنفی موضوعات کو اخبارات میں ترک جمہوریہ کے بانی مصطفٰے کمال اتا ترک کے اکسانے پر 1923 سے پیش کیا جارہا ہے، جنہوں نے 30 مارچ 1923 کو روزنامہ واکِت میں لکھا تھا: "بنی نوع انسان دو اکائیوں سے مل کر بنے ہیں، مرد اور عورت۔ اگر ہم ایک نصف کو ترقی کرنے دیں اور دوسرے کو نظر انداز کردیں تو پھر 'مکمل' کے لئے ترقی کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک نصف تو آسمان کی بلندیوں کو چھو لے اور دوسرے کو زمین کی پستیوں میں خوار ہونے دیا جائے؟"

بعض یورپی ممالک میں 1944 تک عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیا گیا تھا جب کہ صنفی مساوات پر اتا ترک کے پختہ یقین کی بنا پر ترکی میں عورتیں اور مرد قانون کی نظر میں 1926 میں برابر ہوگئے تھے جب عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔

لیکن ترک خواتین کو قانونی طور پر برابری ملنے کے باوجود نسبتاً بہت تھوڑی خواتین کو ان حقوق سے فائدہ پہنچا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین ابھی تک مناسب تعلیم حاصل نہیں کر پائی ہیں۔ یونیسف کے شائع کردہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2000 سے 2007 کے درمیان ترکی میں بالغ خواتین کی 26 فیصد تعداد ناخواندہ تھی۔ یہ شرح علاقے کے دیگر ممالک مثلاً ہمسایہ ملک یونان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جہاں صرف دو فیصد خواتین نا خواندہ ہیں۔

تعلیم تک خواتین کی رسائی نہ ہونے سے گھریلو تشدد وغیرہ جیسی بد سلوکیوں کا شکار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور یہ صورتحال ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صورتحال کی یہ بے لاگ (لیکن منفی) عکاسی خاتون رپورٹروں اور ایڈیٹروں کو صحافتی اداروں کے اندر مناسب اختیار حاصل نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ ترک میڈیا واچ ڈاگ 'میڈیز' کے جاری کردہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ میں صرف 15 فیصد ایڈیٹر، 12 فیصد کالم نگار اور 18 فیصد رپورٹر خواتین ہیں۔ روزنامہ ہیبر ترک کی گولین یلدریم کایا مُلک کی واحد خاتون چیف ایڈیٹر ہیں۔

اداراتی اختیار کے ایوانوں میں خواتین کی افسوسناک عدم موجودگی کے باجود ترک ذرائع ابلاغ کسی بھی طرح صنفی مساوات کے فروغ کی اپنی ذمہ داری پر حرف نہیں آنے دے رہے۔ مثال کے طور پر وزیرِ اعظم ریسپ طیّب اردگان کے 2004 کے تعزیراتی قانون کی اصلاحات میں، جن میں خواتین کی جنسی خود مختاری کو تسلیم کیا اور ان کے قانونی تحفّظ کو مضبوط کیا گیا ہے، ذرائع ابلاغ نے گھریلو تشدد اور عورتوں کی ناخواندگی جیسے مسائل کے بارے میں شعور میں اضافہ کرنے میں فعال کردار ادا کیا تھا۔

سیکولر مزاج رکھنے والے ترکی کے سب سے بڑے اخبار ڈیلی حُریّت نے اکتوبر 2004 میں ملک بھر میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے لئے قومی سطح پر ایک مہم چلائی اور بدسلوکی کا شکار ہونے والی خواتین کو مشورہ دینے کے لئے ایک ہیلپ لائن بھی قائم کی۔ حریّت کے ذیلی اخبار "مِلیّت" نے بھی " ابّو، مجھے اسکول بھیجیں" کے عنوان سے 2005 میں ایک مہم چلائی تھی جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ والدین کو اپنی بچیّوں کو تعلیم دلانے کی ترغیب دینا تھا۔ اس مہم نے یونیسف کی علاقائی ڈائریکٹر برائے وسطی ومشرقی ممالک ماریا کیلوِس کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ یہ سرگرمی باقی تمام ذرائع ابلاغ اور دیگر شعبوں کے لئے بھی قابلِ تقلید مثال ہے۔

اس طرح کی کمیونٹی کو محرک کی سرگرمیوں نے معاشرے میں اپنی بات کو زور دے کر منوانے والا مزید بہتر کردار اختیار کرنے میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی اور اب وہ میڈیا میں خواتین کی کوریج میں بتدریج تبدیلی لا چکی ہیں۔

ترکی کے قدامت پسند ذرائع ابلاغ جن کی قیادت "زمان" اخبار کے ہاتھ میں ہے، بھی خواتین کی تعلیم کے موضوعات کواپنی اشاعتوں میں بھرپور جگہ دیتے ہیں۔ ان کی خصوصی توجہ کا مرکز بعض عوامی جگہوں، جن میں یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں، پر ہیڈ سکارف اوڑھنے پر پابندی کے تناظر میں عورتوں کی تعلیم کے حق پر جاری تند وتیز بحث ہے۔

اگرچہ اس بات کا تعیّن کرنے میں تعلیم کلیدی نوعیت کا کردار ادا کرتی ہے کہ اتا ترک کا ترکی میں مکمل صنفی مساوات قائم کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا یا نہیں لیکن ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں صحت مند مباحثوں کی آبیاری کریں، لوگوں کا شعور بلند کریں اور خواتین کا مثبت تاثر اجاگر کرتے ہوئے ترک معاشرے کے رویّوں اور عمومی رجحانات میں تبدیلی لاتے رہیں۔

* سیلان ییجینسو حُریّت ڈیلی نیوز کے رپورٹر ہیں۔

 کامن گراؤنڈ نیوز سروس

:دیگر مضامین
(31.07.2009) گملوں میں ہاتھ اگنے لگے ہیں۔
(31.07.2009) سعودی عرب میں مذہبی مکالمے میں پیش رفت
(30.07.2009) مغل شنہشاہ شاہ جہان کا خنجر 1.7 ملین ڈالر میں نیلام ہوا
(30.07.2009) لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز
(29.07.2009) الشربینی کے قتل کے بعد رواداری کی تعمیر کے طریقے
(28.07.2009) وسطی امریکی ملک ہونڈوراس کا سیاسی بحران
(27.07.2009) سانحہ شوپیان : تشنہ طلب سوالات کا جواب کون دے گا
(25.07.2009) سوات. بے گھر ہونے والوں کی کہانی
(24.07.2009) پٹرول بچاؤ مہم ضروری ہے
(23.07.2009) افسر شاہی بیوروکریسی ہی تو ہے
(23.07.2009) اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن
(18.07.2009) خانہ کعبہ کی چابی نیلام
(17.07.2009) ایک وڈیو غزل۔صوتی بصری آمیزش
(15.07.2009) جی ہاں میں کارٹون ہوں لیکن آپ جیسا!
(15.07.2009) امریکہ اور شام کے خستہ حال تعلقات کی بحالی
(12.07.2009) لندن کی پہچان ‘‘ بگ بین ‘‘150 سال کا ہوگیا
(09.07.2009)  Michael Jackson Memorial Live on Aalmi Akhbar تصاویر اور وڈیوز۔مائیکل جیکسن کا سفر آخرت۔
(08.07.2009) عرب دنیا میں جرمنی کی مقبولیت میں اضافہ
(07.07.2009) سات جولائی 2005۔لندن بم دھماکوں کی یاد میں
(07.07.2009) جان کمیشن کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا بھی یا نہیں؟



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں