
انسان حُسن پرست ہے اور ہر اچھی اور خوبصورت چیز انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے - ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنا معیارِ زندگی بہتر سے بہتر بنائے - یہ ہی وجہ ِہے کہ ترقی پزیر ممالک میں رہنے والے انسانوں کو یہ ترقی یافتہ ممالک اپنی طرف کھینچتے ہیں
اپنے وطن کی محبت ایک طرف مگر اپنی زندگی کے معیار کو بڑھانا اور اپنے مستقبِل کو روشن بنانا بھی ضروری ہے - اِن ہی اسباب کی وجہ سے ہم پاکستانی بھی اِس دیارِ غیر میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں -
اِن ممالک میں آتے ہی جو چیز سب سے پہلے اپنی طرف کھینچتی ہے وہ ہے یہاں کی خوبصورتی - جہاں جہاں نظر جاتی ہے وہاں وہاں یہ خوبصورت ہریالی ، گھنے درخت اور یہ سبزہ آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا ہے - آلودگی سے پاک آب و ہوا طبعیت کو ہشاش بشاش کر دیتی ہے - شیشے کی طرح چمکتی سڑکیں ، کوڑے کرکٹ سے پاک جگہیں کس کو اچھی نہیں لگتیں -
صفائی کا ایسا نظام دیکھ کر اپنا پاکستان ضرور یاد آتا ہے کہ کاش ہم پاکستانی بھی اپنے ملک کا ایسا ہی خیال رکھیں - ٹریفک کے قوانین کی جو پابندی یہاں دیکھنے میں آتی ہے اُس سے یہاں کے لوگوں کے نظم و ضبط کا خوب اندازہ ہوتا ہے - پاکستان کا ہر موسم وہاں کے رہنے والوں کے لئے زحمت بن کر آتا ہے ، برسات کے موسم میں نالوں میں پانی کا جمع ہونا ، سیلابوں کا آنا ، جگہ جگہ پانی کا کھڑا ہونا ، گرمیوں میں بجلی کا چلے جانا ، سردیوں میں گرمائش کا بہتر انتظام نہ ہونا انسان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے -
لیکن اِس کی نسبت یہاں کا ہر موسم اپنے ساتھ ایک نیا مزا لے کر آتا ہے - یہاں کے تفریحی مقامات کو دیکھ کر روح تک کو سکون ملتا ہے - دیکھا جائے تو ہمارے مُلک کے شمالی علاقہ جات جنت کے ٹکڑے ہیں لیکن ہم ہی پاکستانیوں نے اُسے جہنم بنا کر رکھ دیا ہے - اچھی رہائش ہر ایک کی خواہش اور بُنیادی ضرورت ہے لیکن یہاں پر رہنے والوں کو اِن مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جب کہ پاکستان میں لوگوں کو ٹوٹے پھوٹے گھروں میں اور جھونپڑیوں میں رہتا دیکھ کر دِل بے حد دُکھتا ہے -
یہاں کی غذا خالص اور غزائیت سے بھرپور ہے اور ایسی غذاؤں کے بارے میں پاکستان میں اہک عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہاں پر ملاوٹ کا یہ حال ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اناج میں پتھر ملائے ہیں یا پتھر میں اناج -
پانی اِس قدر ناقص ہے کہ اُس کو پینے سے توانائی تو کیا ملے اُلٹا سو بیماریاں چمٹ جاتی ہیں اور بیماریوں کا علاج کروانا ہر ایک کے بس میں نہیں ہے جبکہ یہاں پر کتوں اور بلیوں کو بھی وہ سہولیات حاصل ہیں جو کہ پاکستان میں ایک عام انسان اپنے لئے سوچ بھی نہیں سکتا - یہاں پر دی جانے والی تعلیم واقعی تعریف کے قابِل ہے کہ یہاں پر امیروں اور غریبوں کے بچوں کو یکساں تعلیم دی جاتی ہے -
دہشت گردی کا پاکستان میں یہ عالم ہے کہ گھر سے اپنوں کو بھیجتے ہوئے یہ یقین نہیں ہوتا کہ ہمارے گھر والے واپس آئیں گے بھی کہ نہیں - آج مسجدوں میں اور اِمام بارگاہوں میں دہشت گرد حملوں کا سُن کر اور دیکھ کر دل میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ شائد ہم نے اِتنی قُربانیاں دے کر پاکستان اِس لئے حاصل کیا تھا کہ ہم آزادی سے اپنے مذہبی امور انجام دے سکیں اور بے خوف و خطر کہیں بھی آ جا سکیں -
لیکن سوال یہ ہے کہ اِن سب باتوں کا قصوروار کِس کو ٹھہرایا جائے ؟ کون ہے اِن سب فسادات کا ذمہ دار ؟ اِن سب باتوں کے پیچھے کِس کا ہاتھ ہے ؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جو شائد ہر پاکستانی کے ذہن میں اُٹھتے ہیں لیکن اِن کا جواب کیا کس کے پاس ہے؟ -