15.10.2026, 11:59am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

مصر میں مطالعۂ یہود کا ایک استاد۔از جیکب بیندر
07.08.2009, 10:00pm , جمہ (GMT+1)

جیکب بیندر
نیو یارک: "جیوش سٹڈیز کے ایک نفیس پروفیسر کا اس جیسی جگہ پر پڑھانے کا کیا کام؟" جو لوگ مصریوں کی معاصر دانشورانہ زندگی سے ناواقف ہیں ان کے ذہن میں عین شمس یونیورسٹی قاہرہ میں عبرانی علوم اور یہودی فِکر کے پروفیسر محمد حواری سے ملاقات کے بعد پہلا سوال یہی آتا ہے۔ اس یونیورسٹی میں تقریباً ایک لاکھ اسّی ہزار طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔

مصر میں 59 سالہ حواری کا نام جیوش سٹڈیز کے حوالے سے سب سے زیادہ معتبر ہے۔ یہودیت کے اس عالمی سطح پر معروف سکالر نے یہودیوں سے متعلق مختلف موضوعات پر بے شمار کتابیں اور مضامین لکھے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ ایک با عمل مسلمان اور محّبِ وطن مصری بھی ہیں۔ حال ہی میں میں نے "دی فارورڈ" کے لئے قاہرہ میں حواری سے ایک انٹرویو کیا جہاں ہم دونوں الازہر یونیورسٹی میں ایک بین العقائد کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے تھے۔

حواری نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا "یہودیت اور اسرائیل کے بارے میں مجھے پہلی بار دلچسپی قرآن ِ پاک میں یہودیوں سے متعلق بہت سی آیات پڑھ کر محسوس ہوئی تھی۔ اس سے میرے اندر یہودیوں کے بارے میں مزید جاننے اور نہ صرف اسلام اور یہودیت کے درمیان تاریخی تعلق کو سمجھنے بلکہ اسرائیل کے بارے میں بھی معلوم کرنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔"

1967 کی عرب اسرائیل جنگ نے حواری کی دلچسپی کو پیشہ ورانہ زندگی میں تبدیل کردیا۔ " اسرائیل بے شک مصر اور عربوں کا دشمن ہے۔ لیکن میں نے سوچا کہ یہ جاننا بہت اہم ہے کہ آخر یہ دشمن کون ہے۔"

جیوش سٹڈیز اور عبرانی زبان سیکھنے کی لگن میں حواری نے 1971 میں قاہرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور پھر عین شمس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پی ایچ ڈی کے مکالے کا عنوان " اسرائیل کے بچّوں کی الوہیت، موسٰی سے لے کر بابل سے نکلنے تک" تھا۔

وہ بتاتے ہیں "جب میں نے اس شعبے میں کام شروع کیا تو ہم محض چند لوگ تھے۔ عبرانی کا کوئی الگ شعبہ نہیں تھا بلکہ یہ عربی اور سامی زبانوں کے ایک حصّے کے طور پر پڑھی جاتی تھی۔" حواری اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کی بدولت آج مصر میں اعلٰی تعلیم کے اٹھارہ اداروں میں سے نصف میں عبرانی اور جیوش سٹڈیز کے شعبے ہیں۔

عین شمس میں لگ بھگ چار سو طلبا عبرانی اور جیوش سٹڈیز کے کورسز میں داخلہ لیتے ہیں۔ ان میں سے بعض طلبا درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔ بہت سے طلبا کو مصر کی سفارتی کور، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں میں ملازمت مل جاتی ہے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ عرب اسرائیل تنازعہ مصر میں یہود وعرب اور یہود ومسلم تعلقات کے تمام تر دھارے پر بری طرح حاوی ہے۔

حواری نے اسرائیل آنے جانے کا آغاز 1980 کی دہائی کے اوائل میں کیا تھا جب ابھی مصر کے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے پر دستخط کئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اس وقت حواری کو اسرائیل کے دورے کرنے پر مصر کے ذرائع ابلاغ میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن انہوں نے کہا " میں دراصل روابط قائم کرنے میں مدد دینے اور قیامِ امن کے عمل میں تعاون کے لئے اسرائیلی معلّمین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتا تھا۔"

لیکن تعلقات کو معمول پر لانے کی ابتدائی کوششوں کے کئی سال بعد اب حواری یہودی ریاست کا کبھی دورہ نہیں کریں گے۔ " میں اس سارے عرصے میں اسرائیل کی پالیسی سے شدید مایوس ہوا ہوں۔" یہ بات انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

" قیامِ امن کے عمل سے میری بہت امیدیں وابستہ تھیں۔ مجھے اب بھی اسرائیل آنے کے دعوت نامے موصول ہوتے رہتے ہیں لیکن اب میں انکار کر دیتا ہوں۔ اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ مسلسل اسرائیل کے دورے کرتے رہیں جیسے اس کا فلسطین کے علاقوں پر قبضہ اور اسرائیلی بستیاں آباد کرنے کی پالیسی کبھی جاری ہی نہیں رہی۔"

حواری کے مطابق "جب تک فسلطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک مصر اور اسرائیل کے درمیان کوئی گرم جوش معاہدہ وجود میں نہیں آسکتا، اور نہ ہی آنا چاہیے۔"

جب ان سے پوچھا گیا کہ عرب اسرائیل تنازعہ ان کے شاگردوں پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے تو انہوں نے بتایا " میں اپنے طلبا کو یہ پڑھاتا ہوں کہ انہیں اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں اور دنیا بھر میں رہنے والے یہودیوں کے درمیان امتیاز کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم اسرائیل فلسطین تنازعہ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے مذہبی تنازعہ نہ سمجھا جائے۔ میں اسرائیل، امریکہ اور یورپ کے بہت سے ایسے یہودیوں کو جانتا ہوں جو فلسطینی عوام کے اپنا آزاد ملک حاصل کرنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ بات میں اپنے شاگردوں کو بھی بتاتا ہوں۔ تمام یہودیوں کو ایک ہی عینک سے دیکھنے کی اجازت قطعی نہیں ہے۔"

مصری ذرائع ابلاغ میں یہود مخالف رجحان، مثلاً "صیہون کے بزرگوں کے اخلاقی ضابطے" نامی کتاب کی ٹیلی ویژن سیریل بنانا وغیرہ پر بات کرتے ہوئے حواری نے کہا کہ عرب اسرائیل تنازعہ کے دونوں فریق اسی طرح کی منفی اور نسلی دقیانوسیت پر مبنی حرکات کر چکے ہیں اور اس قسم کے تمام تعصبات کی مذمت کی جانی چاہیے۔"

حواری اپنے طور پر دنیا بھر میں یہودی سکالرز کے ساتھ بہترین روابط قائم رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں انہوں نے تین ایسے پروفیسروں کو عین شمس میں اپنے طلبا کو لیکچر دینے کے لئے مدعو کیا تھا جو راہب بھی تھے۔ ان میں پرنسٹن یونیورسٹی کے مارک آر کوہن، جیوش تھیولوجیکل سیمینری (جے ٹی ایس) کے ریمنڈ پی شینڈن اور ہیبرو یونین کالج-جیوش انسٹی ٹیوٹ آف ریلیجن کے ریووِن فائرسٹون کے نام شامل ہیں۔

کوہن نے اپنا قاہرہ کا دورہ یاد کیا جہاں حواری کے دوسو سے زائد شاگردوں نے ان کا لیکچر سُنا تھا جو طلبا کی درخواست پر عبرانی زبان میں دیا گیا تھا۔ "میں عبرانی زبان پر طلبا کی گرفت دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ حواری اس کام کو عربی زبان میں شائع کرکے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں جن سے قرونِ وسطٰی والے مصر میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان پائے جانے والے تعلقات کو دوبارہ زندگی مل رہی ہے۔"

کوہن نے وضاحت کی کہ حواری عربی، یہود و عربی اور عبرانی میں تحریر کئے گئے ہزاروں قلمی نسخوں اور ان کے ٹکڑوں پر مشتمل دفینے قاہرہ گنیزا کے سب سے بڑے ماہر ہیں۔ یہ دفینہ انیسویں صدی کے دوران قدیم قاہرہ میں بِن عذرا کنیسہ سے دریافت ہوا تھا۔ ان میں قرونِ وسطٰی کی عرب دنیا میں رہنے والی یہودی کمیونٹیز کی مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی کے بارے میں معلومات کا خزانہ موجود ہے۔

حواری جے ٹی ایس میں سینئر فُل برایٹ سکالر بھی ہیں اور پہلے عرب مسلم سکالر ہیں جن کے پاس آکسفورڈ مرکز برائے عبرانی اور جیوش سٹڈیز کی فیلو شپ ہے۔

فائر سٹون کہتے ہیں " محمد حواری یہودیت کے ایک عظیم سکالر ہیں۔ وہ سچ مُچ یہودیت اور اسلام کے درمیان تاریخی اور مذہبی تعلق سے مسحورہوگئے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اپنی علمیت میں متنازعہ دلائل سے احتراز کرتے ہیں، باہمی اختلافات پر پُل باندھنے والے اور ایک حقیقی "مینش ( محترم اور ذی وقار شخص) " ہیں۔"

 جیکب بیندر دستاویزی فلمیں بناتے ہیں اور جلد ہی منظر عام پر آنے والی فلم "کورڈوبا سے باہر: ابنِ رُشد اور موسٰی بن میمون اپنے اور ہمارے دور میں" کے ہدایت کار ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) نے ''دی فارورڈ'' کی اجازت سے تقسیم کیا ہے۔

:دیگر مضامین
(06.08.2009) صدر احمدی نژاد کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد
(04.08.2009) ترک خواتین صفحۂ اوّل کی شہ سرخیوں میں!
(31.07.2009) گملوں میں ہاتھ اگنے لگے ہیں۔
(31.07.2009) سعودی عرب میں مذہبی مکالمے میں پیش رفت
(30.07.2009) مغل شنہشاہ شاہ جہان کا خنجر 1.7 ملین ڈالر میں نیلام ہوا
(30.07.2009) لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز
(29.07.2009) الشربینی کے قتل کے بعد رواداری کی تعمیر کے طریقے
(28.07.2009) وسطی امریکی ملک ہونڈوراس کا سیاسی بحران
(27.07.2009) سانحہ شوپیان : تشنہ طلب سوالات کا جواب کون دے گا
(25.07.2009) سوات. بے گھر ہونے والوں کی کہانی
(24.07.2009) پٹرول بچاؤ مہم ضروری ہے
(23.07.2009) افسر شاہی بیوروکریسی ہی تو ہے
(23.07.2009) اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن
(18.07.2009) خانہ کعبہ کی چابی نیلام
(17.07.2009) ایک وڈیو غزل۔صوتی بصری آمیزش
(15.07.2009) جی ہاں میں کارٹون ہوں لیکن آپ جیسا!
(15.07.2009) امریکہ اور شام کے خستہ حال تعلقات کی بحالی
(12.07.2009) لندن کی پہچان ‘‘ بگ بین ‘‘150 سال کا ہوگیا
(09.07.2009)  Michael Jackson Memorial Live on Aalmi Akhbar تصاویر اور وڈیوز۔مائیکل جیکسن کا سفر آخرت۔
(08.07.2009) عرب دنیا میں جرمنی کی مقبولیت میں اضافہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں