صحافت آج کل پھر سے مردہ باد ھو رھی ھے ۔۔ اس کا نہ صرف ناطقہ بند کیا جا رھا ھے
بلکہ اس کا گلہ کاٹنا بھی باعث ثواب بن گیا ھے ۔ جیسا کہ حالیہ دو خبروں کے مطابق عدلیہ نے ہائی کورٹ کے باھر پہلے پولیس پر اور پھر بعد میں صحافیوں کی جوتم لات کی ، ڈنڈے برسائے اور ان کی سات پشتوں کی بھی خبر آیئندہ اسی طرح سے لینے کی دھمکی دی ۔۔ اور کوئی کچھ نہ کر سکا کہ اب ھماری عدلیہ آزاد ھے اور ایسی خوبصورت کاروائی کرنے والے تین بہادر شیر جوان وکلاء اب اس الزام سے بری بھی ھو چکے ھیں ۔۔ آزاد انسان ۔۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ آزاد پاکستان کی آزاد عدلیہ کا آزاد وکیل بھی ھو تو شیر کا بچہ ھی ھوا نہ جی ۔۔ اب وہ جنگل کے شیر کی طرح چاھے انڈہ دے یا بچہ ۔۔
ھم تو سنتے تھے کہ عدلیہ انصاف کے لیئے ھوتی ھے ۔۔ شائد انہیں انہی کی شکایت انہی سے کرنی پسند نہیں آئی اور سبق دینے کی خاطر ایسا کیا ھو ۔۔ اب صحافی بھی تو نہیں سنتے نا کسی کی کہ بھئی دنیا میں چڑھتے سورج اور ضرورت کو سلام ھوتا ھے ۔۔ جب آپ لوگوں کی ضرروت تھی آپ کو عدلیہ نے “تاج“ سمجھ لیا تھا ۔ اب بھلا کیا ضروت ھے اس کمال اور تاج کی ۔۔ ویسے بھی آپ کر ھی کیا رھے ھیں جس کی اتنی خاطر داری کی جائے ۔۔
سچ پوچھے تو اس خبر کے بعد دل بہت اداس ھو رھا ھے ۔۔ بس یہی سوچ سوچ کر کہ ھم
دنیا کے نقشے پر اکیلے رہ گئے ھیں ۔ ھمارا کوئی ساتھی دوست نہیں رھا جس کے کندھوں پر سر رکھ کر رویا جا سکتا ھو ۔۔ جو وقت پڑنے پر دشمن کو ھمارے ساتھ للکارے اور بھوک افلاس میں دو وقت کی روٹی کھلا دے ۔۔ قرضداروں کے چنگل سے جان چھڑانےکے لیئے ھمیں کچھ بغیر شرائط کے روپیہ پیسا دے کر ھمیں آ زاد کرادے ۔۔ معاشی بحالی کے لیئے مستقل بنیادوں پر ھم سے تجارت کر لیں ۔۔
سوچتی ھوں ۔۔کیا ھمارے تنہا رہ جانے کا ایک ھی شخص زمہ دار ھے جسے “اسامہ بن لاڈن “ کہا جاتا ھے ۔۔ یا مرحوم بیت اللہ محسود تھا یا پھر صوفی محمد ھے ۔۔ کیا صرف ایک دہشت گرد سولہ کڑوڑ لوگوں کو دنیا کے نقشے پر اکیلا کر سکتا ھے ۔۔ اگر وہ یہ کر گیا ھے تو اسے اب “گرو“ مان لیتے ھیں اور اسی سے کہتے ھیں کہ بھائی دہشت گرد اب خود بھی سدھر جاؤ اور ھم سولہ کڑوڑ لوگو کو بھی سدھار دو کہ ھم تو “لائی لگ “ قوم ھیں ۔۔ ھمیں اپنی عقل کی بجائے دوسروں کی عقلوں پر جینے کی عادت ھے ۔ ۔۔
دوسروں کی عقل اور مت پر جینے کی بات کے ساتھ ھی مجھے دوسروں پر تکیہ کرنا بھی
اداس رکھتا ھے ۔۔ جس طرح پاکستان کا کو ئی گھر “ماسی “ کے بغیر نہیں چل سکتا اسی طرح سے پاکستان کی انتظامیہ کو بھی رچرڈ ہالبروک اور باؤچر جیسی “ امریکہ ، برطانیہ ،رشین ماسیوں “ کی عادت ھو گئی ھے ۔۔
روز صبح سویرے اللہ رسول کا نام بعد میں لیا جاتا ھے ۔۔ پہلے یہ پوچھا جاتا ھے کہ زرا دیکھنا باھر نکل کے کہ ماسی آئی کہ نہیں ۔۔ گھروں کے گلشن ھوں کہ ملک کے کاروبار اب صرف “ ماسیوں “ سے چلتے ھیں ۔۔ ھر کام میں اسی کی عقل ، اسی کا وقت ملحوظ خاطر رکھا جاتا ھے اور اس کو خوش رکھنے کے لیئے منہ مانگی اجرت بھی دی جاتی ھے ۔۔ اور ماسی بھی تو دیکھیئے اتنی دلربا ھے کہ بہانے بہانے سے ھماری محبت آزماتی رھتی ھے ۔۔ جیسے کبھی لوگو کو سوات بدر کر کے انہیں برباد کر کے دوبارہ آباد کرنے کی معمولی سی ضد کر بیٹھتی ھے تو کبھی اپنے ھی گھر میں مسلکی لسانی جھگڑوں پر مر مٹنے کو کہہ دیتی ھے ۔۔ نٹ کھٹ ، شریر جو ھوئی ۔۔شرارت تو کرے گی نا ۔۔
لیجیئےبات ھو رھی تھی صحافت کہ وہ کیوں عدلیہ کے ھاتھوں لہو لہان ھو رھی ھے ۔۔اور
بات چل گئی دیسی بدیسی ماسیوں کی طرف ۔۔ سیانے کہتے ھیں کبھی کسی کے دن بڑے توکبھی کسی کی راتیں لمبی ۔۔آج کل صحافیوں کے دن رات دونوں ھی ان کے ھاتھوں میں نہیں رھے ۔۔ سچ پوچھئے یہ صحافی بھی تو کسی سے کم نہیں ھیں نا ۔۔۔۔ انہیں کس احمق نے مشورہ دیا تھا کہ اپنے زمہ حقائق کی ترسیل ، قومی شعور کی بیداری ، افہام و تقسیم ، فکری راھنمائی ، حکمرانوں سمیت انتظامیہ کااحتساب ، دینی اور اخلاقی اقدار کا پرچار ، غیر جانبدار معاشرے کی تشکیل ، معاشی مسائل جیسے مسئلوں کاحل ڈھونڈ نکالیں ۔۔ اور چلو بھائی اگر حل ڈھونڈ ھی لیا تھا تو بتانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔ چلو یہاں تک بھی ٹھیک تھا کہ حل بتا دیتے۔۔ پر عمل درآمد کا شور کیسا ۔۔ ؟
بھولے نادان صحافی شائد بھول گئے تھے کہ ان کا تعلق نہ تو القائدہ سے ھے کہ ان کی ھر بات ہاتھ باندھ کر سنی جائے ۔۔ اور نہ ھی وہ “ ماسی “ ھیں کہ پاکستان ان کے ناز نخرے اٹھائے اور ھر صبح ان کا دیدار نہار منہ کرنا چاھے ۔۔ ویسے بھی اب پاکستان کو القائدہ لوٹ لے یا کوئی “ ماسی “ اس کی مالکن بن جائے ۔۔ ھم کچھ نہیں کر سکتے کہ جس ملک کا قانون عملا یہ کہہ رھا ھو۔۔ بھئی ھم تو اندھے ھیں ۔۔۔ !وہاں کیا کسی کی داد رسی ھو گی ۔۔؟
اب آپ خود سچ سچ بتایئں کہ کیا ھماری آپ کی پوری عمر نہیں گزر گئی یہی سنتے ھوئے
کہ قانون اندھا ھوتا ھے ۔۔۔اب اگر میں یہ بھی ساتھ ایک اضافی جملہ کہہ دوں کہ اندھے کو کیا پتہ کہ اس کے سامنے کون کھڑا ھے ۔۔ کو ئی دہشت گرد یا محب وطن ۔۔ یا صحافی ۔۔ یا۔۔کوئی اور ۔۔تو ۔۔؟
پر اب اندھے قانون کو اس بات کا اندازہ ھو جانا چاھیئے تھا کہ جس طرح صحافیوں کے دن رات ان کے نہیں رھے تو اسی طرح سے وکیلوں کے بھی نہیں رھیں گے ۔۔ جس عوام کو وہ اپنی طاقت اور اقتدار کی وجہ جانتے ھیں ۔۔اتفاق سے وہ اندھی نہیں ھے اور وہ بڑی اچھی طرح سے جان چکی ھے کہ آزاد عدلیہ اپنی آزادی کا کتنافائدہ اٹھا رھی ھے اور انتظامیہ کے ھر معاملے میں اپنی مخالفت اور رائے کو جائز سمجھتے ھوئے درپردہ صرف اپنا انتقام لے رھی ھے ۔۔ پر کب تک یہ ھو سکے گا ۔۔۔؟
انصاف کے رکھوالوں ۔۔ ! ابھی بھی وقت ھے ۔۔اپنی آنکھوں سے خوش فہمی اور زاتی عناد کی پٹی ھٹا دینے میں آخر حرج ھی کیا ھے ۔۔ورنہ جس عوام نے آپ کو سر پہ “تاج “ کی طرح سجایا تھا وہ وہی تاج اٹھا کر باھر بھی پھینک سکتی ھے ۔۔بلکل اسی طرح سے جیسے آپ صحافیوں اور عوام کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک رھے ھیں ۔۔