پیدائش: 1914ءانتقال: 1973ء |
راجہ صاحب محمود آباد کے والد
|
مسلم لیگی رہنما۔ راجا امیر احمد خان آف محمود آباد یو۔پی )بھارت کے بہت بڑے جاگیردار اور قائداعظم کے معتمد رفقا میں سے تھے۔
راجا صاحب محمود آباد نے سیاسی بصیرت انہی سے حاصل کی اور نوعمری ہی میں مسلم لیگ کے سرگرم رکن بن گئے ۔ 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم رکن بن گئے۔
1937ء میں آل انڈیا سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تشکیل کی اور مسلم نوجوانوں کو تحریک پاکستان سے روشناس کرایا ۔
قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد کراچی آگئے ۔ لیکن سیاسی انتشار سے دل برداشتہ ہو کر عراق چلے گئے ، اور پھر لندن میں سکونت اختیار کی ۔ آپ لندن میں اسلام کلچر سینٹر کے ڈائریکٹر تھے۔
ڈاکٹرشيخ محمد عليم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے‘‘ پاکستان سرسيد احمد خان کي تعليمي خدمات ، قائد اعظم کي رہنمائي اور راجہ صاحب محمود آباد کي دولت کے مرہونِ منت ہے۔
راجہ صاحب محمود آباد (لکھنو کے قريب ايک علاقہ) رياست محمود آباد کے راجہ تھے ليکن مخدوم ہونے کے باوجود خادم نظر آتے اور شايد خدمت کي يہ ميراث ان کو اپنے والد مہاراجہ محمد علي خاں سے ملي تھي۔
ان کے والد ’’مہاراجہ علي محمد خاں‘‘، نے ايک دفعہ کانپور مسجد کے حادثے ميں گرفتار ہونے والے مسلمانوں کي ضمانت کے طور پر اپني پوري رياست پيش کردي تھي۔ لوگوں نے کہا بھي ’’آپ بلاامتياز سب کي ضمانت دے رہے ہيں، ان کي اکثريت سے آپ واقف بھي نہيں ہيں‘‘ تو آپ نے کہا ’’ايک مسلمان کے بچانے کے لئے ميري رياست ختم ہوجائے تو ميں اسے معمولي سمجھوں گا۔ اور يہ سينکڑوں کي تعداد ميں ہيں۔ ان کے تحفظ کے لئے ميں اپني جان اور آن کے لئے بھي خطرہ مول لے سکتا ہوں، رياست کيا چيز ہے‘‘۔
آپ کي دريادلي
راجہ صاحب نے جس طرح دل کھول کر تحريکِ پاکستان ميں اپني دولت کو لٹايا ہے اس کي مثال مشکل ہي سے ملتي ہے۔ گاندھي جي، جواہر لال نہرو، مولانا محمد علي، مولانا شوکت علي، مولانا حسرت موہاني، چودھري خليق الزماں، غرضيکہ ہندوستان کا ہر شعلہ بياں مقرر آپ کي رہائش گاہ ’’قيصر باغ‘‘ لکھنو ميں محفلوں کو گرماتا۔ جب آپ نے مسلم ليگ ميں شموليت اختيار کي تو گورنر ’’سرہنري ہيگ‘‘ سے ٹکر لي۔ انھيں بلايا گيا اور دھمکي دي گئي کہ اگر آپ نے مسلم ليگ نہ چھوڑي تو رياست ضبط کرلي جائے گي۔ ليکن آپ کا شعلہ آتش اور تيز ہوگيا۔
لوگوں کي خدمت راجہ صاحب مسلم ليگ کے اجلاس اور جلسوں کا خرچہ برداشت کرتے تو دوسري طرف ذاتي طور پر ايک بيکس و نادار کي مدد کے لئے ہمہ وقت تيار رہتے۔ بيٹے ’’سليمان مياں صاحب‘‘ کي ولادت ہوئي تو لوگوں نے جشن منانے کا مشورہ ديا۔
آپ نے ايک عجيب انداز سے اللہ کي اس نعمت کا شکرادا کيا۔ وہ اس طرح کہ رياست کي تمام ٢٤ تحصيلوں سے کل ايسے آدميوں کي فہرست منگوائي جو موتيا کے مرض کا شکار تھے۔ چنانچہ انھوں نے گيارہ سو اٹھاون 1158 مريضوں کو اپنے علاقے کے کيمپ ميں ٹھہرايا اور تمام لوگوں کا مفت آپريشن ڈاکٹر ٹي پرشاد (جو اس وقت آنکھوں کے مشہور ڈاکٹر تھے) سے کروايا
قائد اعظم کي انسان شناسي
قائد اعظم نے آپ کي صلاحيتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ کو مسلم ليگ کا خزانچي مقرر کرديا ليکن اس کے ساتھ ساتھ اپني شعلہ بياني سے بھي آپ نوجوانوں کے دلوں کو گرماتے رہتے، يوں زباني جمع خرچ کے ساتھ ساتھ جيبي خرچ کي ذمہ دارياں بھي انجام ديتے رہے۔
ليکن پاکستان بننے کے بعد آپ کو اپني رياست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ جس کے بعد آپ کو پاکستان ميں تين فيکٹرياں لگانے کي پيشکش بھي ہوئي ليکن آپ نے اسے ٹھکرا ديا۔ اپني زندگي کے آخري ايام بڑي کسمپري کے ساتھ جو کي روٹي اور بسوں ميں سفر کرتے ہوئے گزار دي
وہ محوِ نالہ جرسِ کارواں رہے
يارانِ تيزگام نے محمل کو جاليا
جنوبی ہند میں دکن، حیدر آباد، گولکنڈہ، بیجاپور اور مشرقی ہند میں بنگال، کلکتہ، بہار، پٹنہ، عظیم آباد اور پھر گوالیار۔محمود آباد، جاورہ اور پٹیالہ کی ریاستیں بھی عزاداری کا مرکز رہی ہیں۔ محمود آباد میں راجہ صاحب محمود آباد کے خاندان نے اسمیں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔
عبدالماجد دریا آبادی نے ‘‘مولانا محمد علی جوہر سیرت و افکار ‘‘ میں لکھا ہے ‘‘زمانہ 1912ء کی برسات کا ہے، اگست کے مہینہ کی کوئی تاریخ "مسلم یونیورسٹی"ابھی قائم ہو چکی کہاں ہے، قائم ہو رہی ہے، اس کے قیام کے غلغلہ سے ساری فضا گونجی ہوئی، ہر زبان پر اس کا تذکرہ، ہر مجلس میں اسی کا چرچا، 1910ء سے گویا یہی شغل پڑھے لکھے اور بے پڑھے ہندی مسلمان کا رہ گیا ہے، ہزہائینس سر آغا خان کا طوفانی دورہ، زرخیز اور "چندہ انگيز" ملک کے طول و عرض میں ختم ہو چکا ہے۔ اور اب دور دورہ راجہ صاحب محمود آباد کا ہے (مہاراجہ بہت بعد کو ہوۓ، اس وقت صرف راجہ تھے) وہی اس کشتی کے ناخدا، وہی یونیورسٹی فاؤنڈیشن کمیٹی کے صدر، کانسٹیٹیوشن کمیٹی (مجلس وضع آئین و ضوابط) اپنا کام شروع کر چکی ہے، اور قوم کی نگاہیں اب ان کی طرف لگی ہوئی ۔ ۔ ۔ ہاۓ 1948ء میں کوئی 1912ء کی فضا کو کیسے واپس کھینچ بلاۓ ۔ ۔ ۔ چوٹی کے افراد، قوم و ملت سے چنے ہوۓ اس کمیٹی کے ممبر ہیں، کمیٹی کا اجلاس لکھنو میں طلب ہوا ہے، اور راجہ صاحب کی صدارت میں انہيں کے قصر قیصر باغ میں ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ وہ قصر محمود آباد جو مہمانوں کی دعوتوں اور ضیافتوں کے لۓ وقف تھا، اور جس کا "ڈرائنگ روم" قابوں اور پلیٹوں اور چمچوں کی جھنکار سے ہر وقت گونجتا ہی رہتا تھا۔‘‘
پاکستان کے قیام کی تاریخ کے ایسے کتنے ہی نام ہیں جن کو مفاد پرست حکمران فراموش کر چکے ہیں اور آنے والی نسلوں کو ان سے روشناس ہی نہیں کروایا گیا۔
اس مضمون کی تیاری میں لائبریری،انٹر نیٹ اور وکیپیڈیا سے مدد لی گئی ہے