
پاؤلا لرنر 2002 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے بعد سے افغانستان میں خواتین کے ساتھ رابطے کر رہی ہیں۔ ایک فوٹو گرافر اور ایکٹوسٹ کی حیثیت سے انہوں نے وہاں حقوقِ نسواں کے لئے کام کرنے والوں کو درپیش انوکھے چیلنجز اور کامیابیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ حال ہی میں آلٹ مسلمہ ڈاٹ کام کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر عباس جعفر نے افغان عورتوں کی ترقی میں مصروفِ کار ہونے کے حوالے سے ان سے انٹرویو کیا جو درجِ ذیل ہے۔
س: آپ نے افغانستان کے سفر اور بزنس کونسل برائے امن کے ساتھ کام کا آغاز کب کیا؟
پاؤلا لرنر: میں نے 2005 میں آغاز کیا تھا اور تب سے میں پانچ مرتبہ افغانستان جا چکی ہوں۔ اپنے پہلے تین دوروں میں میں رضاکاروں کی ایک ٹیم کا حصّہ تھی جو خواتین کو پائیدار کاروبار قائم کرنے اور پھیلانے میں مدد دینے والے غیر منافع بخش ادارے بزنس کونسل برائے امن کے لئے کام کر رہی تھی۔ 2006 میں میں نے واشنگٹن پوسٹ کے تعاون سے ان کے لئے ان غیر معمولی بزنس ویمنز پر ملٹی میڈیا فیچر لکھا جس نے انعام بھی حاصل کیا۔ یہ فیچر آن لائن دستیاب ہے۔
آخری دو سفروں میں میرا زیادہ وقت قندھار میں گزرا جہاں میں شہر کی خواتین کے بارے میں ایک علیحدہ پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی۔
س: کیا ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں افغانستان کی کوریج اس صورتحال کی بالکل ویسی ہی عکاسی کرتی ہے جیسے وہاں درحقیقت ہو رہا ہے؟
پاؤلا: میرا خیال ہے کہ میڈیا کوریج عموماً اتنی پختہ اور جانفشانی سے نہیں کی گئی ہوتی جتنی کہ ہونی چاہیے۔ اسی وجہ سے وہ اتنی صحیح بھی نہیں ہوتی جنتی کہ ہونی چاہیے۔ عام طور پر کوریج بہت محدود اور فوج اور طالبان کی شورش مرکوز ہوتی ہے۔ روزمّرہ زندگی کے بارے میں خبریں یا ایسی کہانیاں جو امریکیوں کو افغان عوام کا انسانی پہلو یا وہاں کی ثقافتی پیچیدگیوں کے بارے میں بہتر تفہیم دیں، بہت کم ہوتی ہیں۔ میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ توازن کے بغیر ہمیں ایک بڑی بے ہنگم سی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسی لئے ہماری ہمدردی کی استعداد اور حقیقی تفہیم کی صلاحیت بھی محدود ہوجاتی ہے۔
س: کیا آپ ہمیں حال ہی میں طالبان کے ہاتھوں قتل ہونے والی حقوقِ نسواں کی ایکٹوسٹ ستارہ اچکزئی کی کوششوں اور انہیں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بتا سکتی ہیں؟
پاؤلا: ستارہ اچکزئی ایک ذہین، تعلیم یافتہ، سلجھی ہوئی اور متحرک خاتون تھیں جو اپنے آبائی صوبے قندھار میں مردوں، عورتوں اور بچّوں کی حالتِ زار کو بدلنے کے لئے سخت محنت کر رہی تھیں۔ قندھار کی صوبائی اسمبلی کی منتخب رکن کے طور پر طالبان نے کونسل کے تمام ارکان کے طرح ان کے سر کی بھی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔ وہ بہت بہادر تھیں کہ اس طرح کے حالات میں بھی اپنی جد وجہد جاری رکھے ہوئے تھیں۔
قتل ہونے سے چند ہفتے قبل میں نے اچکزئی کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو کیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ جن باتوں پر انہیں سب سے زیادہ فخر ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں اور صوبائی اسمبلی کی رکن دیگر تین خواتین کو کونسل کے بعض مرد ارکان کے مقابلے میں زیادہ ایماندار اور کم بد عنوان سمجھا جاتا ہے۔ اسی بنا پر جب بعض مرد ارکان کوئی قرار داد پیش کرنے لگتے ہیں تو انہیں اور دیگر خواتین کو اپنا نمائندہ بنانے کی خواہش کرتے ہیں۔
س: آپ کے خیال میں مغربی خواتین کو افغان عورتوں کی مدد کے لئے کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟ اس تعامل کی نمایاں خصوصیات کیا ہو سکتی ہیں؟
پاؤلا: بزنس کونسل برائے امن (بی پیس) کے ذریعے میں نے کامیاب مغربی بزنس ویمن کو مشورہ، تربیت اور بعض اوقات اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد دینے کے لئے اپنی افغان بہنوں کے ساتھ رابطہ کرتے دیکھا ہے۔ اس تعامل کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ یہ مغربی بزنس ویمن کی واضح مثال تھی جس میں وہ خیرات نہیں بانٹ رہی تھیں بلکہ مدد کے لئے ہاتھ بڑھا رہی تھیں۔ میرے خیال میں اگر ہم افغانستان میں حالات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو یہی وہ کوشش ہے جس پر ہم مغرب والوں کو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
میں نے پروگرام کے دوران بی پیس کی ارکان اور افغان خواتین کے درمیان بہت سے گہری دوستیاں ہوتی دیکھیں جو طویل وقت گزرنے کے بعد بھی قائم رہیں۔ میں سمجھتی ہوں یہ کہنا بالکل جائز ہے دونوں طرف خواتین کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی تھی۔ میں نے اسی طرح کا کام کرنے والے جو دیگر گروہ دیکھے ہیں ان میں ویمن فار افغان ویمن اور تھنڈر برڈ سکول آف گلوبل مینیجمنٹ کا پراجیکٹ آرٹیمس قابلِ ذکر ہیں۔
س: افغان خواتین کی بعض ایسی کامیابیوں کے بارے میں بتائیں جنہیں عام ذرائع ابلاغ میں زیادہ اجاگر نہیں کیا جاتا۔
پاؤلا: خواتین کی کامیابی کی بہت سی کہانیاں ایسی ہیں جنہیں عام ذرائع ابلاغ میں زیادہ کوریج نہیں ملی۔ پچھلے چار سال کے دوران میں نے خود کاروبار، میڈیا اور سیاست میں مصروفِ عمل افغان خواتین سے انٹرویو کئے ہیں جو اپنے شعبوں میں کارہائے نمایاں سر انجام دے رہی ہیں لیکن مغرب والے ان کی کہانیوں سے اکثر وبیشتر بے خبر ہی رہتے ہیں۔
مارچ میں اپنے آخری دورے کے دوران میں روایتی ملبوسات تیار کرنے، شہد کی مکھیاں پالنے اور شہد بیچنے اور فٹ بال بنانے کے کاروبار سے منسلک خواتین سے ملی۔ مجموعی طور پر انہوں نے سینکڑوں دیگر خواتین کو ملازم رکھا ہوا ہے اور وہ اپنی کمیونٹیز پر مالی طور پر اور مثالی نمونہ بن کر دونوں طرح سے قابلِ قدر طور پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
فوٹو جرنلسٹ اور ملٹی میڈیا پروڈیوسر کی حیثیت سے میرا ذاتی نصب العین اس طرح کی خواتین کو روشنی میں لانا اور سامعین کی بڑی تعداد کو ان کی کہانیوں سے آگاہ کرنا ہے تاکہ افغانستان کی عورتوں کے تجربات کے بارے میں مزید متوازن اندازِ فکر پیش کیا جا سکے۔
* عباس جعفرآلٹ مسلمہ ڈاٹ کام کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں اور اس موسمِ خزاں سے ہارورڈ ڈیونِٹی سکول میں صنف اور اسلام کی تعلیم حاصل کریں گے۔ یہ مشترکہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس نے مصنف کی اجازت سے تقسیم کیا ہے۔