|
عراق میں قیامِ امن میں کھیلوں کا کردار
17.08.2009, 12:03pm , سوموار (GMT+1)
سارہ ہِلیئر اور ایشلے ہوفمین
تین جون کو عراق سے باسکٹ بال کی چودہ سے سولہ سال عمر کی دس کھلاڑی لڑکیاں اور تین کوچ پہلی بار امریکہ آئے۔ ہم دو امریکی خواتین کے لئے جو یہ سمجھتی ہیں کہ کھیلوں کے ذریعے مختلف ثقافتوں کے لوگوں کو باہم جوڑا جا سکتا ہے، ان کی آمد نے عراقیوں کو امریکیوں کے ساتھ جوڑنے کے ایک پرانے خواب کو تعبیر دے دی۔
2008 کے موسم گرما میں دنیا بھر میں لڑکیوں اور خواتین کو کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی اور معیار بہتر بنانے کے لئے کوشاں غیر منافع بحش ادارے "سپورٹ فور پیس" نے عراق میں لڑکیوں کے لئے پہلی بار کھیلوں کا تربیّتی کیمپ منعقد کیا۔ ہم نے ملک کے چھ مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والی 60 لڑکیوں کو ٹینیسے یونیورسٹی کی خواتین باسکٹ بال ٹیم کی ہیڈ کوچ پیٹ سمِٹ کی مدد سے تربیت فراہم کی جنہوں نے ٹریننگ کی ویڈیوز اور آلات بھیجے۔
ہم نے کھلاڑیوں سے پوچھا کہ ان کا سب سے بڑا خواب کیا ہے تو جواب ملا "امریکہ کا چکّر لگانا، ویمنز نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن (ڈبلیو این بی اے) یا نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن ( این بی اے) کا کھیل دیکھنا اور کوچ سمِٹ کا شکریہ ادا کرنا جنہوں نے ہمیں تربیّتی ویڈیوز اور آلات بھیجے۔"
ہمیں اسی وقت فوراً اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لئے ہمارا اگلا ہدف کیا ہونا چاہیے۔
جب ہم کنوکس ویلے، ٹینیسے، واپس آئیں تو ہم نے کوچ سمِٹ اور ان کے عملے سے کہا کہ وہ عراقی لڑکیوں کو 2009 کے سمر باسکٹ بال کیمپ میں شرکت کی دعوت دیں۔ ٹینیسے یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ ہیڈ کوچ ہولی وارلِک نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور امریکی وزارتِ خارجہ اور سپورٹس یونائیٹڈ کی مالی معاونت سے اس نوجوان ٹیم کی میزبانی کرنے کی حامی بھر لی۔ سپورٹس یونائیٹڈ ایک بین الاقوامی سرگرمی ہے جو تعلیم اور ثقافتی امور کے امریکی بیورو کے تحت کام کرتی ہے۔
عراقی لڑکیوں کی ٹیم نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک ہفتہ گزارا جہاں کھلاڑیوں نے رسّیوں پر مشکلات کا کورس مکمل کیا، ڈبلیو این بی اے کا واشنگٹن مسٹکس اور اٹلانٹا ڈریم کے درمیان ہونے والا مقابلہ دیکھا، ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کے ساتھ فٹ بال میچ کھیلا، بیماری سے شفا کی عالمی ریس میں حصّہ لینے والوں کو داد دی اور باؤلنگ جیسا ایک کھیل باکسے کھیل کر دیکھا جو ان کے لئے نیا تجربہ تھا۔ کنوکس ویلے میں سمر باسکٹ کیمپ میں شرکت کرنے والے سینکڑوں کھلاڑیوں اور کوچز نے ٹیم کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا۔
ایک کوچ نے ہمیں بتایا کہ " یہ ہمارے لئے باعثِ افتخار ہے کہ ہم عراقی بچوّں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنی ثقافت کے بارے میں بہت کچھ سکھایا ہے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ باسکٹ بال میں اتنے باصلاحیت ہوں گے اور انہوں نے ہمیں عراق کے لوگوں کے بارے میں پائے جانے والے دقیانوسی تصوّرات پر قابو پانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان باصلاحیت لڑکیوں کے دل اتنے بڑے ہیں کہ یہ اپنے کسی بھی خواب کی تعبیر حاصل کر سکتی ہیں۔ ہم ان سے ہونے والی ملاقات کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے اوراب ہم اس جگہ جہاں یہ رہتی ہیں، جانے اوران کی زندگیوں، ان کے گھر والوں اور ان کی ثقافت کے بارے میں مزید جاننے کے لئے اب اورانتظار نہیں کر سکتے۔" یہ امریکی کوچ اب آئندہ گرمیوں میں عراق میں منعقد ہونے والے تیسرے سالانہ ٹریننگ کیمپ میں شرکت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔
برسوں حالتِ جنگ میں رہنے کے بعد ان امریکی اور عراقی کھلاڑیوں کو ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کا موقع ملنا دونوں کے لئے سود مند تھا۔ شمالی عراق سے تعلق رکھنے والے کوچ رِزگار رؤف نے بتایا کہ انہوں نے کافی عرصے سے کوچ سمِٹ کے بارے میں سُن رکھا تھا۔ ایک روز کیمپ کے دوران انہوں نے سمٹ سے کہا " کوچ پیٹ، میں نے گزشتہ موسم گرما میں جب آپ کے بارے میں جانا، تب سے میں آپ کا احترام کرتی ہوں۔ لیکن مجھے آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ کے بارے میں ایک بات ایسی ہے جو کوئی بھی شخص انٹرنیٹ کے ذریعے نہیں سمجھ سکتا اور وہ ہے آپ کی شفقت اور باسکٹ بال سے بھی زیادہ عظیم ایک چیز کے لئے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا کر لینے کی منفرد صلاحیت ۔"
جب یہ ٹیم اپنے وطن روانہ ہوگئی تو اس کے دس روز بعد سپورٹ فور پیس نے باسکٹ بال کا دوسرا ٹریننگ کیمپ لگانے کے لئے ایک بار پھر عراق کا سفر کیا۔ ہمارے لئے وہاں واپس جانا بہت اہم تھا کیونکہ محدود مالی وسائل اور نقل وحرکت کی مشکلات کی وجہ سے 60 میں سے صرف 13 کھلاڑی اور کوچ امریکہ کا دورہ کر پائے تھے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ تمام کھلاڑیوں کو یہ احساس ہو کہ ان کا دھیان رکھا جا رہا ہے اور یہ کہ ان کے گھر والوں کے ساتھ بھی رابطہ رکھا گیا ہے۔
ایک عراقی کھلاڑی کی والدہ نے ہمیں بتایا " اس کے امریکہ جانے سے پہلے ہمارے ذہن میں تمہارے ملک کے بارے میں متنازعہ تصوّرات تھے۔ اب وہ ہر روز ہمیں واقعات سناتی ہے کہ واشنگٹن اور ٹینیسے کے لوگ اس سے کتنی مہربانی سے پیش آتے تھے اور کس طرح اس تجربے نے اس کی زندگی ہی بدل ڈالی ہے۔ اس کی باتیں سُن کر اس کے والد اور میں بھی بدل گئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس طرح کے پروگرام محض اچھے باسکٹ بال کے کھلاڑی پیدا کرنے سے بھی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور یہ ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنا رہے ہیں۔"
امریکی اور عراقی کوچز اور اس عراقی والدہ کے الفاظ بھی اس امر کا اظہار ہیں کہ کھیل مختلف ثقافتوں کے لوگوں کے درمیان رابطے استوار کرنے اور با معنی مکالمہ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارا یقین بھی یہی کہتا ہے۔
*سارہ ہلیئر اور ایشلے ہوفمین ٹینیسے یونیورسٹی میں سپورٹس سوشیالوجی میں ڈاکٹریٹ کے تیسرے سال میں ہیں۔ انہوں نے کھیلوں کے ذریعے مختلف ثقافتوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے 'سپورٹ فور پیس' (www.sport4peace.org ) قائم کیا ہے جو گلوبل سپورٹس پارٹنرز کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔
|