عالمی اخبار جرمنی کے تاریخی اور تفریحی مقامات کے بارے میں ایک سلسلہ شروع کر رہا ہے جو تصاویر اور وڈیوز کی شکل میں ہو گا اور جس سے عام سیاحوں جرمنی کے مختلف حصوں میں ایسے مقامات کے بارے میں معلومات مہیا کی جائیں گی۔
دیگر زبانوں میں اگرچہ اس موضوع پر مواد موجود ہے لیکن اردو زبان کا دامن خالی ہے اور اسی لیئے عالمی اخبار نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مقیم مدیحہ رضوی کی خدمات مستعار لی ہیں جو ایسے مقامات کے بارے میں تحریر،تصاویر اور وڈیوز خاص طور پر تیار کریں گی اور یہ سارا کام عالمی اخبار کے دوسرے دوستوں کی طرح بلامعاوضہ سر انجام دیں گی۔
مدیحہ رضوی کا تفصیلی تعارف جلد ہی پیش کیا جائے گا۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی میں آج ‘‘جرمنی کے صوبے باویریا میں نیو شوائن شٹائن میں پہاڑ کی چوٹی پر تعمیر شدہ قلعے‘‘ کی تصاویر پیش کی جا رہی ہیں۔
جرمنی وسط یورپ میں واقع ایک ملک کا نام ہے۔ اس کا سرکاری نام وفاقی جمہوریہ جرمنی ہے۔ اسے انگریزی زبان میں جرمنی، جرمن زبان میں ڈوئچ لانڈ اور عربی زبان میں المانیا کہا جاتا ہے۔ اس کی قومی زبان جرمن ہے۔ اس میں 16 ریاستیں ہیں۔ اس کے شمال میں بحر شمالی، ڈینمارک اور بحر بالٹک واقع ہیں، مشرق میں پولینڈ اور جمہوریہ چیک، جنوب میں آسٹریا اور سوائٹزرلینڈ، اور مغرب میں فرانس، لگزمبرگ، بيلجيم اور نيدر لينڈ واقع ہیں۔
جرمنی اقوام متحدہ، نیٹو اور جی۔ایٹ کا ممبر ہے۔ یہ یورپی یونین کا تاسيسي ممبر اور یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا اور سب سے طاقتور اور دنیا کی تیسری بڑی معيشت رکھنے والا ملک ہے۔
انتظامی طور پر جرمنی کو سولہ ریاستوں (جرمن میں: لینڈر، واحد:لانڈ) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے تین ریاستیں صرف ایک شھر اور اس سے ملحق علاقے پر مشتمل ہیں۔ یہ ریاستیں برلن، ہامبرگ اور بریمین ہیں۔ ان کے علاوہ ریاستیں ہیں:
* بادن وورتمبرگ * باویریا * برانڈنبرگ * تھورنگیا * رائنلانڈ فالس * زارلانڈ * سیکسنی * زاکزن انھالٹ * شلیزوگ ہولشٹائن * میکلنبرگ فورپومرن * نوردرائن ویسٹفالن * نیدرزاکزن * ہیسیےان ریاستوں میں آبادی کے لحاظ سے نوردرائن ویسٹفالن اور رقبے کے لحاظ سے باویریا سب سے بڑی ریاست ہے اور اسی جرمنی کے صوبے باویریا میں نیو شوائن شٹائن میں پہاڑ کی چوٹی پر تعمیر شدہ ایک قلعہ ہے جسے سالانہ قریب تیرہ لاکھ لوگ اور گرمیوں میں روزانہ قریب چھ ہزار لوگ دیکھنے کے لئے آتے ہیں ۔دنیا میں سب سے زیادہ تصاویر اس مقام کی اتاری گئی ہیں۔
بادلوں میں گھرا ہوا لڈوگ دوئم کا تعمیر کردہ یہ قلعہ اس نے اپنے باپ میکسی ملین دوئم سے متاثر ہو کر بنوایا تھا۔
 |
| نیو شوائن شٹائن میں پہاڑ کی چوٹی پر تعمیر شدہ قلعہ |

|
اس قلعہ کو لڈوگ دوئم نے انیسویں صدی میں تعمیر کروایا تھا
|
 |
| یہ قلعہ اس نے اپنے باپ میکسی ملین دوئم سے متاثر ہو کر بنوایا تھا |
 |
| یہ قلعہ لڈوگ دوئم کے والد میکسی ملین دوئم نے تعمیر کروایا |
 |
| میرین بروک پل میکسی ملین ٹو نے اپنی کوہ پیما بیوی ‘‘میری‘‘ کی سالگرہ کے پر تعمیر کروایا تھاکو اس کی سالگرہ کے موقع پر تعمیر کروایا تھا |
 |
| میرین بروک پل سے نیچے کا منظر |
 |
| میرین بروک پل سے نیچے کا ایک اور منظر |
 |
| یہ بگھی قلعہ نیو شوائن شٹائن پر جانے کے لئے بطور سواری استعمال کی جاتی ہے |