
یہ شعبان کا مہینہ ہے اور مذہبی نقظۂ نطر سے سب مسلمانوں کے لئے بہت ہی مبارک ماہ ہے. یہ . وہ ماہ ہے جسمیں شب برات کے علاوہ خانوادۂ عصمت و طہارت کے گھر میں اللہ کی طرف سے خاص رحمتوں کا نزول ہوا.
حضرت امام حسین علیہ السلام ، جناب سیدہ ، ثانیء زھرا جناب زینب سلام اللہ علیہا ، سرکار وفا حضرت عباس علمدار علیہ السلام ، یوسف آل محمد(ص) شھزادہ حضرت علی اکبر علیہ السلام اور امام زمانہ عجل اللہ و فرجہم شریف کا ظہور بھی اسی ماہ مبارک میں ہوا.

پیرس کی تنظیم نے مقامی امام بارگاہ میں تین دن تک جشن کا اہتمام کیا. اس کے لئے سویڈن سے ذاکر محمد و آل محمدسائیں رحمت علی اور ہالینڈ سے ترمذی صاحب کو مدعو کیا گیا. اس کے علاوہ مشہور و معروف شاعر اہلیبیت جناب اسد رضوی صاحب ، جو کہ پیرس میں ہی مقیم ہیں، کو بھی اس کو مدعو کیا گیا. پیرس کے مقامی ذاکرین نے بھی اپنے کلام سنا کر حاضرین سے داد وصول کی.
جناب اسد رضوی صاحب نے محققانہ گفتگو میں ان ایام کی برکت اور اہلیبیت رسول کی عصمت پہ روشنی ڈالی. مومنین کی فرمائش پر اسد صاحب نے اپنے دوسرے کلام کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل کلام بھی سنایا.
میں خوش نصیب ہوں مجھ پر کرم حسین کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔عطا کیا ہوا سارا بھرم حسین کا ہے رضوی صاحب نے اس سلام پر 110 شعر لکھے ہیں اور بقول ان کے ابھی تک لکھ رہے ہیں. وقت کی کمی کے باعث تمام شعر نہیں پڑھ سکے . رضوی صاحب نے اپنی رباعیات اور سلام پڑھ کر مومنین سے دعائیں لیں. اسد رضوی صاحب کی کچھ کتابیں چھپ چکی ہیں جن سے سب اہل مودت مستفید ہو رہے ہیں . ّ ریزہ نجف ّ قصائد و سلام پہ مشتمل اسد رضوی صاحب کی طرف سے اہل مودت کے لئے ایک انمول تحفہ ہے . اسد صاحب نے بہت محبت کے ساتھ ایک جلد سائیں رحمت علی کو بھی پیش کی.

جناب سید حسن تراب صاحب نے اپنا کلام حاضرین کی سماعتوں کی نظر کیا. حسن صاحب بہت اچھا لکھنے والے شاعر آل محمد ہیں مگر کلام میں اپنا نام بھی استعمال نہیں کرتے. سائیں رحمت علی کی پر زور اپیل پر حسن تراب صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ آئیندہ اپنا کلام سائیں کو دیں گے. یہ شعر سید حسن تراب صاحب کی اہلیبیت رسول سے مودت کا مظہر ہے.
بقائے دین کی خاطر جنم حسین کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زمانے بھر میں الگ ہی دھرم حسین کا ہے
ترمذی صاحب نے بہت ہی خوبصورت انداز میں منقبت اور سلام پیش کئے. ترمذی صاحب اس سال کے شروع میں زریات کے لئے شام گئے . واپسی پہ جہاز حادثہ کا شکار ہو گیا جس کی وجہ سے ترمذی صاحب کو کافی چوٹیں آئیں مگر الحمداللہ ان کی نوعیت تشویشناک نہیں تھیں. ترمذی صاحب ماشاء اللہ صحتیاب ہیں اور اب بھی مدح آل محمد میں دل کھول کر حصہ لیتے ہیں. اللہ تعالیٰ ترمذی صاحب کو سلامت رکھیں. آمین
اس کے علاوہ سید کفایت نقوی صاحب، ملک صاحب اور راجا برق صاحب نے اس ذکر میں حصہ لیا.

ٓآخر میں ذاکر اہلیبیت سائیں رحمت علی نے اپنے مخصوص انداز میں سلام اور قصائد پیش کئے جس پر مومنین نے دل کھول کے داد دی. حسین پنجتن کا نور پنجم بھی مومنین کی فرمائش پر سائیں نے سنایا. اس کے علاوہ سرائیکی اور پیجابی میں کلام پیش کئے. صفدر ھمدانی صاحب کا کلام ، حسین تیرا حسین میرا حسین سب کا، بھی سامعین کی نظر کیا جس پر سامعین نے بہت داد دی. سائیں نے پیرس کے مومنین کے متعلق کا کہا پیرس کا مجمع ذاکر کو پڑھواتا ہے.
پیرس کے بعد سائیں رحمت علی نے برسلز کے مومنین کی خواہش اور مولانا قبلہ مرید حسین صاحب کے حکم پر برسلز (بیلجئم) کے امام بارگاہ میں حاضری دی. برسلز میں مومنین نے تمام جشن بھرپور طریقہ سے منائے.
سائیں رحمت علی جوکہ سچل سائیں کے نام سے مشہور ہیں اور اکثر نیٹ پہ بھی پڑھتے ہیں. سائیں نے جب پڑھنا شروع کیا تو بہت سارے مومنیں نے بے اختیار کہا کہ یہ تو سچل سائیں ہیں. سائیں نے ابتداء سید حسن تراب صاحب کے کلام ، بقائے دین کی خاطر جنم حسین کا ہے، سے کی. جس کو مومنین نے بہت سراہا.
سائیں رحمت نے آئمہ علیہ السلام کے احکمات پہ روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا کردار سنت محمد و آل محمد کا آئینہ دار ہونا چاہئے.

اس کے علاوہ حاضرین سے گذارش کی یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب مل کے پاکستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے کام کریں . مسلمانوں کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کار خیر میں سب مسلمانوں کو حصہ لینا چاہئے. سائیں نے مزید کہا کہ اس وقت یورپی ممالک میں جو نفرت مسلمانوں کے خلاف بڑھ رہی ہے اس کو ختم کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جناب سرور کائنات کا اور آئمہ علیہ السلام کے کردار کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور ہم سب مسلمان سنت نبوی پہ عمل کریں.
سویڈن مقامی امامبارگاہ میں بھی جشن کی محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا قبلہ ذاکر حسین صاحب نے سیرت حضرت امام حسین علیہ السلام پہ مفصل روشنی ڈالی. اس کے علاوہ مختلف پڑھنے والوں نے بارگاہ امامت میں اپنا اپنا حدیہ عقیدت پیش کیا. ذاکر آل محمد سائیں رحمت علی کے علاوہ چوہدری اسلم صاحب نے بھی قصائد و مناقب پڑھ کر مومنین سے دعائیں لیں.