جسونت سنگھ کی کتاب ‘’جناح - بھارت، تقسیم، آزادی‘ لکھنے پر پارٹی رکنیت معطل۔یہ خبر دنیا بھر میں بھارت کو ایک بڑی جمہوریت کہنے والوں اور بھارت میں انسانی حقوق کی تعظیم کا دعویٰ کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ بھارت جس نے ہمیشہ ہر میدان میں چاہے وہ کشمیر پر سیاست کا ہو یا چین سے مفادات کی دوستی کا۔پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا ہو یا پاکستان کے معاملات میں اپنی طرف سے دخل اندازی کا،ہر رُخ سے بھارت نے دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ وہ حقیقت ہے جسکی وجہ سے بھارت کے لیئے‘‘بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘ کی اصطلاح وضع ہوئی۔آج جب مجھے عالمی اخبار کے کنٹرول بورڈ پر بابا (جناب صفدر ھمدانی ) نے نہیں دیکھا توخریت پوچھنے کے لیئے فون کر دیا ۔۔ اور میں ان کی آواز سن کر آبدیدہ سی ھو گئی ۔۔ وہی تو ھیں جن سے میں اکثر حبس بےجا میں پڑے ھوئے کئی خیال اور دلائل بڑی آسانی سے کہہ لیا کرتی ھوں ۔۔۔ میں ان سے بڑی دیر تک ایک ھی موضو ع پر بات کرتی رھی ۔۔ یہ جانتے ھوئے بھی کہ انہوں نے ھی بریکنگ نیوز بنائی ھے ۔۔ میں پھر بھی بار بار اسی خبر کا تذکرہ کر کے اپنے دل کی اداسی بیان کرتی رھی ۔۔ وہ خبر جس نے مجھے اس قدر افسردہ کر دیا تھا ۔وہ یہ خبر یہ تھی کہ
“بھارتی حزب مخالف کی جماعت بی جے پی نے قائد اعظم محمد علی جناح کی تعریف کرنے پر71 سالہ سینئر رہنما جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا ہے“
اس کی وجہ یہ تھی کہ جسونت سنگھ کی کتاب ‘’جناح - بھارت، تقسیم، آزادی‘‘17 اگست کو قارئین کے سامنے آئی تھی۔پارٹی کی جانب سے انہیں اس پرسخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کتاب میں سابق بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے قائد اعظم سے متعلق لکھا ہے کہ محمد علی جناح ایک عظیم قوم پرست ہندوستانی تھے جنھیں کانگریسی رہنماؤں کے رویے نے الگ ملک کے لیے جد جہد پر مجبور کیا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ کانگریسی رہنما اس حقیقت کا ادراک نہ کرسکے کہ ہندوستان کے نئے نظام میں مسلمان ہندو غلبے سے خائف تھے اور نئے نظام میں اپنے مقام کا تعین چاہتے تھے۔
اس کے بعد کتاب ‘’جناح - بھارت، تقسیم، آزادی‘‘میں جسونت سنگھ نے قائد اعظم اور گاندھی کی شخصیت کا موازنہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ گاندھی کی شخصیت میں ہندو تشخص نمایاں تھا جبکہ محمد علی جناح غیر فرقہ وارانہ قومی جذبے کے حامل تھے۔اس کے بعد دنیا بھر میں جمہوریت کے راگ الاپنے والے ملک بھارت میں انہی کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نےجمہوریت میں آزادی اظہار کی قیمت کچھ یوں چکائی جب وہ بی جے پی کے ایک اہم پارٹی اجلاس میں بغیر بلائے پہنچے تو انہیں دیکھتے ھی لوگوں نے ان کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور بعد میں پارٹی رہنماؤں نے متفقہ فیصلہ کرتے ھوئے شوکاز نوٹس دئے بغیر ھی انہیں پارٹی کی رکنیت سے معطل کر دیا ۔۔
دوستو ۔۔! یہ ھے آزادی رائے کی قیمت اور سچ بولنے کی سزا ۔۔جو ھر دور میں کسی نہ کسی صورت میں سچ بولنے والے کو ملتی رھی ھے ۔۔یہی جرم وتعزیر کی بے حسی اور سزاؤں کا دوہرا معیار میرے لیئے آج وجہ ملال بنا تھا۔ ابھی ابھی کچھ دیر پہلے ھی میں ایک نجی ٹی وی چینل پر بھارت کے سابقہ وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی پریس بریفنگ دیکھ رھی تھی جو شملہ سے براہ راست نشر کی جا رھی تھی ۔
بریفنگ میں جسونت سنگھ کہہ رھے تھے کہ انہیں آزادی اظہار کی سزا ملی ھے ۔انہوں نے 1967 میں فوج چھوڑ کر سیاست کا رخ کیا تھا کہ وہ عوام کی خدمت کرنا چاھتے تھے ۔۔ یہ جملہ کہتے ھوئے ان کی آواز بھرا گئی اور وہ اپنی آنکھوں کی نمی نہ چھپا سکے ۔۔ اس کے بعد میں کچھ اور نہ سوچ سکی ۔۔سوائے اس بات کے ۔۔ کہ ۔۔
اس خبر کے بعد کسی کو بھی یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ھو گا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوری حکومت کہلوانے کا کہیں سے بھی حقدار نہیں ھے ۔ اس کی پالسیاں شروع ھی سے دوغلی رھی ھیں ۔۔ ھمیشہ سے بغل میں چھری اور منہ میں رام رام جپتا رھا ھے ۔ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کے مصداق جب فروری 1993 میں “
شیو سینا“ کے بال ٹھاکرے نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ “ھم بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ ھوا تھا “ ۔۔بھارت نے اس بات کا اتنی سنجیدگی سے نوٹس لیا کہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ۔
6
دسمبر 1992ء کو انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کردیا۔ جس کے بعد بھارت میں اپنی تاریخ کے بدترین ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ جن میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئےتھے ۔
گودرہ اور گجرات کے متعدد دیگر واقعات میں مسلمانوں کے خون سے کیسے ہولہ کھیلی گئی یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
قائد اعظم جیسے زیرک رہنما مستقبل میں ھونے والے ھندو مسلم فسادات کے خدشات ۔۔ ۔۔ ھندوؤں کی شدت پسندی اور تعصبی مزاج کو پاکستان بننے سے پہلے ھی جان چکے تھے ۔ اور اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ھے کہ قائد اعظم پہلے کانگریس میں ھی تھے ۔۔ انہوں نے جب ھندوؤں کے دوغلے رویئے کو محسوس کیا توانہوں نے سوچا کہ جب میرے ساتھ کانگریسی ایسا کرسکتے ھیں تو ایک عام مسلمان کے ساتھ کیا کیا نہ کریں گے ۔۔ سو وہ کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آگئے ۔۔اور ایک آزاد ملک کی جدوجہد کا آغاز کر دیا ۔۔
دنیا جانتی ھے کہ قائد اعظم صرف انگریزی میں تقریریں کیا کرتے تھے ۔۔ اکثر لوگ ایک دوسرے سے پوچھا کرتے کہ قائد کیا کہہ رھے ھیں تو وہ کہتے اس کا پتہ نہیں کہ کیاکہہ رھے لیکن جو کہہ رھے ھیں وہ سچ کہہ رھے اور صحیح کہہ رھے ھیں ۔۔
آ
ج اسی قائد اعظم کی سوچ اور فکر کو ۔۔ اس کی صلاحتیوں اور فہم و فراست اور اس کے فلسفہ آزادی کو ان کے دشمن بھی کھلے دل سے تسلیم کرتے ھیں ۔۔ اور کٹر ھندو پارٹی (بی جے پی) کے تیس برس پرانے رہنما جسونت سنگھ کو اس سچائی کو کتابی شکل دینے پر اپنے ھی دوستو کے ھاتھوں اپنی ھی عوام کے سامنے رسوا ھو ناپڑا ۔۔ ۔۔۔ اشکبار ھونا پڑا ۔۔ آواز کی شکستگی کو نمناک مسکراہٹ میں چھپانا پڑا ۔۔
میرے کانوں میں ان کا یہ جملہ اب بھی گونج رھا ھے ۔۔ کہ “
یہ خالصتاً ادبی کام ہے اور اس کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔کتاب میں کسی کو بدنام یا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہرگز مقصد نہیں ۔۔ پھر ان کی درخواست بھرالہجہ کہ “ آپ لوگ ایک بار کتاب پڑھیں ۔۔ پھر فیصلہ کریں ۔۔“ اور آخر میں ان کا ایک اور کتاب لکھنے کا عزم ۔۔ اس وقت پورے بھارت میں ہلچل مچا گیا ھے ۔۔ ۔۔
دوستو یہ کوئی پہلی بار کسی بھارتی رھنما نے قائد کی تعریف نہیں کی ھے ۔اس سے پہلے
بی جے پی قائد ایل کے اڈوانی نے2005 میں جناح کو سیکولر رہنماقرار دیا تھا اور اس بات پر تنقید کے بعد انہوں نے جماعت کی قیادت سے مستعفی ہونے کی پیش کش کی تھی۔
قاعد اعظم تعصب اور شدت پسندی سے کوسوں دور رھنے والے انسان تھے ۔اسی وجہ سے وہ اپنے حلقہ احباب تو کیا اپنے دشمنوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔۔ ۔ ۔۔وہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان ایسا ملک ھو گا جہاں ھندو سکھ اور عیسائی مسلمانوں کے ساتھ مل کر رھیں گے ۔۔ یہ ملک ھم سب کا ھو گا ۔۔۔ ایسی جمہوریت کی صدا لگانے والا بے شک ھم میں نہیں رھے لیکن ان کی آواز کی سچائی اور صداقت کو پہنچاننے والے لوگ رھتی دنیا تک رھیں گے ۔۔۔
زندہ قوموًں کی تاریخیں زندہ لوگ ھی لکھتے ھیں ۔۔ اور ابھی تک صرف “سچائی “ ھی کو اللہ پاک نے یہ اعزاز اور عزت دی ھے کہ سچ بولنے والے اور لکھنے والے دونوں ھی تاریخ کے اوراقوں میں “زندہ “ رھتے ھیں ۔۔۔
کیا یہ سچ نہیں کہ بابائے قوم محمد علی جناح نے اسوقت بھی انگریز اور ہندو کو شکست دی تھی اور آج اپنی وفات کے عشروں بعد بھی انہوں نے بھارتی جمہوریت کا پول کھول کر ایک بارپھر فتح حاصل کی ہے۔