تُو کبھی مجھ سے خفا ایسا نہ تھا
دل کو اپنے سے گلہ ایسا نہ تھا
پیٹر سب غمگین ہیں مایوس ہیں
گزرا موسم غمزدہ ایسا نہ تھا
تیرے ہیں خواب جاگی آنکھ میں
سِیل کوئی دوسرا ایسا نہ تھا
ناؤ ہچکولے ہے کھاتی یاد کی
رُخ کسی طوفان کا ایسا نہ تھا
ذات کا ساگر تو گہرا ہے مگر
پست تیرا حوصلہ ایسا نہ تھا
دل کو خندہ ہے شکایت بس یہی
اے صنم تو بے وفا ایسا نہ تھا