آج تک جتنی پُر مغز اور بہترین کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ اکثر جیل میں لکھی گئی ہیں ۔

کسی شخصیت پر لکھنے کیلئے اُس شخصیت کے ہر پہلو کو بخوبی جاننا ضروری ہوتا ہے ۔ تاکہ جو خاکہ وجود میں آئے وہ اُس شخصیت کا
آئین دار ہو ۔ اگرکسی شخصیت کی تخلیق پر قلم اُٹھا نا ہو تو اس کی تخلیق کے ہر پہلو کا جائزہ لینا لازمی ہوتا ہے ۔
مگر مجھے مخدوم صاحب کی گونا گوں خصوصیات کا ذاتی علم اُن سے خاندانی قربت کی بدولت ہے اور میں ان سب خصوصیات اور خوبیو ں کا چشم دید گواہ ہوں اور بعض مقا مات پر اُن کا ساتھی بھی ہوں ۔ مخدوم جاوید ہاشمی جس کا نام بچپن میں ’’ بھاون شاہ ‘‘ رکھا گیا میری خالہ ان کو پیار سے ’’ بھاندا یا بھاندو ‘‘ یعنی سرائیکی زبان میں ’’ دل کو پیارا اور من موہ لینے والا ‘‘ کہہ کر سینے سے لگایا کرتی تھی دیکھتے ہی دیکھتے یہ بچہ پورے مخدوم رشید شہر کا بھاندا بن گیا ۔ پرائمری سکول میں داخلے کے وقت نام تبدیل کیا گیااور محمد جاوید رجسٹرڈ کیا گیا جس میں میرے والدِ محترم کا دست ِ شفقت اور دعائیں بھی شامل تھیں ۔

نوجواں ہو کر محمد جاوید ہاشمی پو رے ملک کی آنکھ کا تارا بن گئے ۔ آج مخدوم محمد جاوید ہاشمی ہمارے درمیان جلوہ گر ہیں اللہ پاک اس باکردار اور باہمت انسان کی حفاظت کرے اور لمبی زندگی عطاء فرمائے آمین ۔ میں نے مخدوم صاحب کو ملتان شہر سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پرلاہور اور دہلی روڈ پر آباد اپنے آبائی گاؤں ’’ مخدوم رشید ‘‘ جو ہمارے جدِ امجد حضرت مخدوم عبدالرشید حقا نی ا لقریشی الہاشمی المکی رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے منسوب ہے کی گلیوں میں کھیلتے دیکھا ’ جوانی میں مدینہ منورہ کی گلیوں کی خاک چومتے دیکھا ’ سکول کی بزمِ ادب میں بولتے سُنا ’ پنجاب یونیورٹی ’ قومی اسمبلی اور یو این او میں تقاریر کرتے سُنا ’ گاؤں کی مساجد میں آذان دیتے دیکھا ’ واتیکان اٹلی کے چرچ میں دھیمے سے آذان دیتے سُنا ’ کبھی اسلام آباد پاکستان قومی اسمبلی میں اپنا قومی فریضہ اور کردار ادا کرتے دیکھا کبھی مکہ مکرمہ میں طوافِ کعبہ میں فنا فی اللہ دیکھا ۔
پرائیمری سکول میں ٹاٹ پر بیٹھ کر تختی پر املاء لکھتے دیکھا اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل میں ’’ ہاں میں باغی ہوں ‘‘ اور ’’ تختۂ دار کے سائے تلے ’’ جیسے علمی فکری ادبی تاریخی اور سیاسی شاہکار لکھتے دیکھا ۔ میں شروع سے لیکر آج تک ان کی باہمت ’ با وقار اور با کردار شخصیت کا موئتقد ہوں وہ ہمارے خاندان کا فخر ہیں ۔

اُن کا اخلاق ۔ کردار ۔ انسانوں اور ملک و قوم سے محبت ۔ بہادری ۔ ان تھک محنت او ر مسلسل مثبت سیاسی جد وجہد کی ایک لمبی داستان ہے ۔ اُن کی پوری زندگی کی کتاب میرے سامنے ایک شفاف اور بے داغ شیشے کی مانند اجلی اجلی ہے ۔ مجھے بے پناہ خوشی ہے کہ آج مخدوم جاوید ہاشمی صاحب 63 ویں یوم ِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر یعنی ۱۴ اگست کو یہاں جرمنی کے تجارتی اور خوبصورت شہر فرینکفرٹ میں ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ اُن کی تخلیق ’’ تختۂ دار کے سائے تلے ’’ پر کچھ کہنے لکھنے کیلئے وقت درکار ہو گا ۔ اُن کی بات کو سمجھنے کیلئے انہی کے الفاظ میں لکھا ایک مضمون جو انہوں نے اپنی بیٹی میمونہ ( جو حافظۂ قرآن ’ پوسٹ گریجو ایٹ اکیڈمی کی پرنسپل اور ایم این اے نیشنل اسمبلی پاکستان بھی ہیں ) کے نام ایک خط کی صورت میں لکھا ہے جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرونگا مجھے یقین ہے کہ ہم ان کے خیالات سے ضرور استفادہ حاصل کریں گے ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اُنسٹھ سالہ آزادی
( سکیورٹی وارڈ ) سنٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور
میمونہ بی بی اسلام علیکم
آج پاکستان کو بنے اُنسٹھ سال ہو گئے ہیں ۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اس دن کو خاص اہتمام کے ساٹھ منایا ۔ آج بھی میں نے اُٹھ کر غسل کیا کپڑے بدلے
خشبو لگائی اور بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہو کر شکرانے کے نفل ادا کئے ۔ آزادی کے حصول میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کیلئے فاتحہ پڑھی ۔ قائدِ اعظم علامہ اقبال اور دیگر راہنماوئں کے لئے دُعائے مغفرت کی ۔ لبنان ’ فلسطین ’ کشمیر ’ افغانستان ’ عراق اور چیچینیا کے مجاہدین کی کامیابی کیلئے خدائے برتر سے نصرت کی التجا کی ۔ میمونہ بی بی ۔گزشتہ سات سال کے دوران میں چھٹا یومِ آزادی جیل کی چار دیواری کے اندر منا رہا ہوں۔ پاکستان کو بنے ایک طویل عرصہ ہو گیا ہے مگر محسوس ایسے ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام ابھی تک آزادی کی نعمت سے محروم ہیں ۔ لگتا ہے صرف مالکان تبدیل ہوئے ہیں منظر نہیں بدلا ۔ ہمیں حقیقی آزادی کے حصول کے تک جد و جہد جاری رکھنے کا عہد کرنا ہو گا اور قوم کو اس مقصد کے حصول کیلئے قربا نیاں دینے کیلئے تیار کرنا ہو گا۔
آج کمرے کی جالیوں سے آزادی کی صبح کا منظر دیکھنے کی کوشش کی مگر میری نظر پھانسی گھاٹ کی دیواروں سے آگے نہ جا سکی ۔ میرے سامنے ہر وقت پانسی کا پھندا لٹکتا رہتا ہے۔
میں نے ایڑیاں اُٹھا کر اُس کے اُوپر سے ڈیوڑھی پر لہراتے پرچم کو دیکھنے کی کوشش کی مگر یہ سب بے سود تھا ۔ پانچ بجے کے قریب صحن میں آیا تو ڈیوڑھی کے کھمبے پر لگے پرچم کو ابھی تک نہیں کھولا گیا تھا ۔ جیل میں یوم آزادی سرکاری طور پر منایا جاتا ہے ۔ لیکن مجھے کسی ایسی اجتماعی دُعا میں شمولیت کی اجازت نہیں میرے پاس جو قیدی کام کرنے آتے ہیں اُنہیں
آزادی کی مبارک باد دیتا ہوں اور وہ مجھے ۔ ہم قیدی ہو کر آزادی کی مبارک باد وصول کرتے ہیں ۔ اگر پاکستان نہ بنا ہوتا تو شاید کشمیریوں کی طر ح جیل سے باہر ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو آزاد ہونے کی مبارک باد پیش نہ کر سکتے ۔
لبنان اسرائیل جنگ کی وجہ سے آج کا دن اہمیت کا حامل ہو گیا ہے ۔ لبنان نے فوج نہ ہونے کے باوجود دنیا کی مضبوط ترین عسکری قوت کا سر جھکا دیا ہے ۔ ہمارے پاس دنیا کی منّظم ترین فوج ہونے کے باوجود ہمارا سر امریکہ کے سامنے جھکا ہوا ہے ۔ حزب اللہ نے اسرائیل کو شکست دے کر عسکری تاریخ کو نیا موڑ دے دیا ہے ۔ اب یہ سوچ پیدا ہو گئی ہے
کہ بڑی فوجیں آزادی کی حفاظت کرنے کی بجائے اپنی حفاظت کرتی ہیں اور اپنے وجود کو بچانے کیلئے ملک کا وجود گروی رکھ دیتی ہیں ۔ خاص طور پر مسلمان ملکوں میں ایک نئی لہر کا پیدا ہونا یقینی ہے ۔ گزشہ ساٹھ سال میں افریقہ لاطینی امریکہ اور دیگر ایشیائی ممالک نے اپنی فوجوں کی بالا دستی سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے ۔ حتیٰ کہ نیپال جیسے ملک میں بھی
فوج نے عوام کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے ہیں۔ صرف مسلمان ممالک اب تک اپنی افواج کے یرغمال بنے ہوئے تھے ۔ حزب اللہ کی کامیابی نے انہیں نئی جہتوں سے روشناس کر کے ایک نئے انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ میں نے آج صبح دعا بھی مانگی تھی کہ یا اللہ ہماری فوج کو امریکہ کی غلامی سے آزاد کر اور پندرہ کروڑ عوام کو فوج کی غلامی سے ۔ ہندوستان نے اسرائیل سے شہ پا کر ہمیں دھمکی دی تھی کہ وہ اسرائیل کی طرح پاکستان کے دہشت گردوں کا پاکستان کی سر زمین کے اندر تک پیچھا کرنے کا حق استعمال کرے گا ۔ امریکہ کے وائٹ ہاؤس کے ترجمان رچرڈ باؤچر نے ہندوستان کے ان اقدام کی حمائت میں بیان جاری کیا ۔ ہماری حکومتی ادارے اپنی بے بسی کا ماتم کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہ کر سکے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج سے آزادی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج 14 اگست کو سات بجے صبح سے جنگ بندی کی قرار
داد پر عمل در آمد شروع ہو جائے گا ۔ اور عالمی تاریخ ایک نیا موڑ مُڑ جائے گی ۔ آج کے بعد نہ وہ اسرائیل رہے گا اور نہ وہ مشرقِ وسطیٰٰ بلکہ عسکریت کی بالا دستی کے قلعے میں جو شگاف پڑا ہے وہ آگے جا کر عوام کی فتح کی نوید بن جائے گا ۔ جو کام مصر ’ سعودی عرب ’ لیبیا ’ اردن ’ اور شام کی افواج مل کر نہ کر سکیں وہ ایک محدود سی عوامی قوت نے کر کے دکھا دیا ہے ۔ نام نہاد عظیم افواج کی اپنے عوام کے سامنے مٹی پلید ہو گئی ہے ۔ یہ اب معیشت پر بوجھ نظر آنے لگتی ہیں ۔ ان افواج کی وجہ سے عالم اسلام آمروں کی گرفت میں ہے اور ہر آمر اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کیلئے عالمی قوتوں کی گرفت میں ۔ عالمی قوتوں کیلئے کسی فوج کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا نہات آسان ہوتا ہے ۔ اس طرح انہوں نے ایک ارب مسلمان قوم کی آزادی سلب کی ہوئی ہے ۔ عراق کی روائتی فوج کابہت بڑا حصہ اپنے عوام سے جنگ لڑ رہا ہے ۔ عالمی قوتوں کی قدرتی وسائل والے ملکوں پر گرفت کو موئثر بنانے میں روائتی فوجیں کار آمد ذریعہ ہیں ۔ امریکہ نے جو بظاہر جمہوریت کا چیمپین بنتا ہے ایک صدی تک جنوبی امریکہ میں جمہوریت کے خلاف سازشیں کیں اور وہاں کے ڈکٹیٹروں کی حمایت کی لیکن وہاں ان کی سازشیں دم توڑ چکی ہیں ۔ آخری ضرب وینزویلا کے عوام نے لگائی ہے ۔ جنہوں نے فوجی انقلاب ناکام بنا کر اپنے منتخب صدر شاو یز کو دوبارہ اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا ہے افریقہ سے یورپی ممالک اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں ۔ قرائن بتاتے ہیں افریقہ کافی حد تک بیرونی اثر و رسوخ سے بہت جلد چھٹکارا حاصل کر لے گا ۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ نے عراق میں اور آگے بڑھ کر افغانستان میں برائے نام جمہوریت کا شوشہ چھوڑا ہے جب کہ حقائق اس کے دعوے کے خلاف ہیں ۔ نائیجیریا ’ فلسطین ’ صومالیہ ’ سوڈان ’ لبنان ’ ایران اور پاکستان میں جہاں جمہوری نظام کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور پارلیمنٹ کا ادارہ بھی کام کر رہا ہے ۔ امریکہ ان ملکوں کے عوام کے فیصلے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔ کیونکہ اُسے اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ دنیا بھر کے عوام ’ بالعموم اور پاکستان کے عوام بالخصوص امریکہ کی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں ۔ اس لیئے وہ ان ممالک پر گرفت مظبوط کرنے کیلئے وہاں کی افواج کو بغاوت پر اکساتا ہے ۔ اسے حسنی مبارک قذافی سعودی عرب اور اُردن کی شہنشاہت سے خطرہ نہیں ہے اسے وہاں کے عوام سے خطرہ ہے ۔ اس لیئے وہ غیر مقبول حکومتوں کی سر پرستی کر کے انہیں مسلمانوں کے مفادات کے خلاف استعمال کرتا رہتا ہے ۔
حز ب ا للہ کی کامیابی نے اس کے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں ۔ آج کا دن دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کی فتح کا دن ہے ۔ حزب اللہ اور اس کے راہنما حسن نصر اللہ یقینا ہمارے خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ ‘‘ ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی ‘‘
میمونہ بی بی میں نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں قرآن حکیم کو عربی گرائمر سے ترجمے کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔ تمہارا سینہ قرآن سے منور ہے ۔ میں تمہیں یقین سے کہ
سکتا ہوں کی دنیا کو سمجھنے کیلئے بھی قرآن مجید سے بہتر کوئی کیاب نہیں ہے ۔ دین کی تو اساس یہی منبع فیض ہے ۔ یقینا اندھیرے سے اُجالے کی طرف لے آتا ہے ۔ میں آج کے یومِ آزادی کے موقع پر تمہیں اس سے بڑی کوئی نصیحت نہیں کر سکتا کہ تمہیں قرآن میں غوطہ زن ہونے کی تلقین کروں ۔ قرآن کا چراغ جس دل میں فروزاں ہو جائے تو دنیا بھر کے اندھیرے اس سے بھاگتے ہیں۔ جب بچپن میں تم قرآن حفظ کر رہی تھیں تو مجھے اس بات کا احساس نہیں تھا کہ قرآن فہمی کتنی ضروری ہے ۔ مگر اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قرآن کا حفظ کرنا بہت بڑی سعادت ہے ۔ مگر اس کا سمجھنا شاید اس سے بھی زیادہ ضروری ہے ہمارے دینی مدارس نے گزشتہ کئی صدیوں سے صرف قرآن کے حفظ کرنے پر زور دیا ۔ شاید یہ اس دور کی ضرورت بھی تھی مگر قرآن کے اندر چھپے ہوئے علم کے خزانوں تک پہنچنے کیلئے اب یہ بہت ضروری ہے کہ قرآن کو وضاحت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ اگرچہ مسلمانوں نے اسوہ رسول ﷺ کو سامنے رکھ کر زندگیوں کو نمونہ بنانے میں کافی محنت کی اور سیرتِ رسول ﷺ کو قرآن کا عملی نمونہ سمجھتے ہوئے اپنے کردار کو ایک خاص رُخ پر چلایا مگر حضور ﷺ نے قرآن فہمی پر بار بار زور دیکر یہ نکتہ ذہن نشیں کرانے کی کوشش کی کہ قرآن پر عمل کرنے ہی میں اُمت کی فلاح ہے ۔ عمل اسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان کو کسی کام کی سمجھ آ چکی ہو ۔ میں واپس اپنے گاوئں کے سکول میں پہنچ گیا ہو ں جہاں گرمی کی چھٹیوں میں چودہ اگست کو سکول بند ہونے کی وجہ سے
تقریبِ آزادی منانے کا رواج نہیں تھا ۔ میں نے رات دن محنت کر کے کچھ اساتذہ کو اس دن کیلئے اپنے اپنے گاؤں سے سکول آنے پر آمادہ کر لیا ۔ پہلے سال چھوٹی سی تقریب ہوئی اس روز سبز ہلالی پرچم لہرانے کا نشہ آج تک نہیں اُتر سکا ۔ دوسری تقریب اس سے کہیں بڑھ کر تھی میں سکول سے کالج کا سفر کیا آخری سال کی تقریب بہت حسین تھی ۔
اس وقت بھی میرے سامنے وہ پرچم ہوا میں لہرا رہا ہے میں کنول ( چھوٹی بہن کی نو بیاتا بیٹی جن کا جہاز ملتان سے عمرہ کیلئے فلائی کرتے وقت تباہ ہو گیا تھا ) کے جنازے میں شرکت کیلئے گیا تو وقت بہت مختصر تھا میں اپنی ماں قبر پر فاتح بھی نہ پڑھ سکا ۔ سکول کے گراونڈ میں کنول کا جنازہ پڑھتے ہوئے میں دیکھا وہ سٹیج اُسی طرح موجود تھا جس پر میں نے پہلی مرتبہ پاکستان کا پرچم لہراہا تھا ۔ مجھے یقین ہے آج اس وقت جب میںجیل کی ڈیوڑھی پر پاکستان کا پرچم لہراتے دیکھ رہا ہوں سکول کے گراونڈ میں معصوم بچے اس پرچم کو تھام کر قومی ترانے گا رہے ہوں گے ۔ ’’ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ‘‘
جس وطن کے پاسبان عوام بن جائیں اس ملک کی آزادی کو اسرائیل اور امریکہ مل کر بھی نہیں چھین سکتے ۔ یہ سادہ سی بات پاکستان کے حکمرانوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی ۔
والسلام ۔ تمہارا والد جاوید ہاشمی
٭٭٭