معزز قاریئن دو ہزارتیرہ کا ماہ رمضان شروع ھو چکا ھے اور دنیا کے کئی ملکوں میں آج پہلا روزہ ھے ۔ میری عاجزانہ سی کوشش ھو گی کہ رمضان مبارک کے دنوں کے حساب سے میں اس کی اہمیت اور دعاؤں کا خزانہ آپ سب سے بانٹتی رھوں ۔ اس دعا کے ساتھ اللہ پاک ھم سب کی حقیر ترین نیکی کو اپنی رحمتوں کے صدقے قبول فرمائے اور ھمارے لیئے ھماری کوئی کہی ھو ئی بات اور کوئی لکھی ھوئی تحریر باعث نجات اور خیر وبرکت ھو جائے ۔۔آمین
آج یکم رمضان ھے ۔۔ اس حوالے سے چند ضرورہ معلومات پیش کرتی ھوں جس میں پورے مہینے کی اھمیت مختصرا لکھ رھی ھوں جو آیئندہ دنوں میں انشاللہ حسب ضرورت تفصیل کے ساتھ لکھونگی ۔
ماہ رمضان المبارک کا آغاز در حقیقت مسلمانوں کے لئے موسم بہاراں کی آمد ہے۔ اس مبارک مہینے کا آغاز مسلمانوں کی عید ہے جس پر وہ ایک دوسرے کو جتنی مبارکباد پیش کریں کم ھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایسے بے شمار ایسے مسائل و پریشانی میں گھرا رھتا ہے جو اسے ذکر الہی سے غافل اور راہ اللہ سے دور کر دیتے ہیں۔
انسانی خواہشیں اور جذبات اسے پستی و تنزلی کی جانب دھکیلتی ہیں۔ ماہ رمضان کی آمد پر ھم جیسے انسانوں کو ایک موقع ملتا ہے کہ اپنی روح اور باطن کوجو فطری اور قدرتی طور پر پاکبازی کی جانب مائل رہتا ہے اسے مزید بلندیوں کی سمت لے جایئں ، قرب الہی حاصل کریں اور اخلاق حسنہ سے خود کو سنوار لیں ۔ اس لیئے ماہ رمضان مبارک انسان کے لئے خود سازی اور نفس کی تعمیر نو کا مہینہ ھے اور اللہ پاک سے مانوس اور اس کے قریب ہونے کے لئے سب سے خوبصورت مہینہ ھے جو نیکیوں کا موسم بہار ہے۔
رمضان مبارک کی برکتوں کی برسات دلوں میں بسنے والے نور سے شروع ھوتی ھیں ۔ایک طرف اس مہینے کے روزے، دوسری طرف اس با برکت مہینے میں تلاوت کلام پاک اور اس کے علاوہ اس مہینے کی مخصوص دعائيں انسان کے نفس کو پاکیزہ اور اس کے باطن کو طاہر بنا دیتی ہیں۔بس یہ ایسے ھی جیسے اللہ پاک جنت کو زمین پر اتار دیتے ھیں ۔اور ھم میں سے کچھ لوگ صرف تیس دنوں تک ھی جنت میں رھنے کا سلیقہ پاتے ھیں ۔کچھ لوگ پورے سال اسی جنت میں رھنے میں کامیاب ھوجاتے تو کچھ لوگ ساری عمر جنت مکیں ھو جاتے ھیں ۔
وہی کچھ لوگ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ھوئے اس جنت کی طرف دیکھتے تک نہیں ھیں ۔اور اپنی بدبختی سے اس ماہ کی تمام برکات سے الگ ھو جاتے ھیں ۔
ماہ رمضان، دعا و مناجات اور تقوا و پرہیزگاری کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم عبادات اور اذکار کے ذریعے روحانی و معنوی قوت حاصل کرکے مشکل ترین راستوں سے گزرنے کا درس پاتے ھیں ۔
ماہ رمضان، قوت و توانائی کا سرچشمہ ہے۔ اس مہینے میں روزہ، نماز، دعا و مناجات، بندگی و عبادات میں اضافہ کر یں، کیونکہ ماہ رمضان میں خود سازی اور تہذیب نفس، سعادت و خوشبختی کا راز مضمر ھے۔
روزہ کی تعریف
نیت کے ساتھ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے ، ازدواجی تعلقات اور دیگر مفطرات سے رکے رہنے کا نام روزہ ہے ۔
گویا روزہ کے تین رکن ہوئے :
1. نیت ، بغیر نیت کوئی عمل مقبول نہیں ہے ۔
2. رکنا ، یعنی کھانے پینے اور روزہ کو توڑنے والی دیگر چیزوں سے ۔
3. وقت یعنی یہ نیت اور رکنا طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کے وقت میں ہو ۔
روزے کی فرضیت:
رمضان المبارک کا روزہ شعبان 2 ھ میں فرض ہوا، روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، جو شخص اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں رھتا ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
(یَایُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلیَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ)(البَقَرَہْ:١٨٣)
اے ایمان والو! تمہارے اوپر روزہ فرض کیاگیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا،تاکہ تم متقی(گناہوں سے بچنے والے) بنو.
اسی طرح حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے سوال کیاکہ اے اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ مجھے بتائیے کہ اللہ نے میرے اوپر روزوں میں سے کون سے روزے فرض کئے ہیں؟تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ ر مضان کے روزے،اس نے کہا کہ کیا میرے اوپراسکے علاوہ بھی روزے فرض ہیں؟تو آپ نے فرمایا کہ نہیں،مگر یہ کہ نفلی روزے رکھو۔ (بخاری،مسلم)
روزے کی فضیلت:
1- روزے کی فضیلت اور و اہمیت کا اندازہ لگانے کیلئے یہی کافی ہیکہ حدیث قدسی میں رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ابن آدم کا ہرعمل اسی کیلئے ہے ،مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دونگا...،،[ بخاری :1894 ، مسلم :1151 ]
2- یہی وہ بابرکت مہینہ ہے جسکے اندر قرآن نازل ہوا .
3- اسی مہینہ کے اندر ایک ایسی رات ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہوتی ہے.
4- اس رحمتوں اور برکتوں والے مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں،
5- شیطان بیڑیوں میں جکڑ دئے جاتے ہیں۔
6- روزہ قیامت کے دن روزہ دارکیلئے شفارش کرے گا ،
7- اسی طرح جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ریان نامی ایک دروازہ روزہ داروں کے لئے خاص ہے ،جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہونگے۔
کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس با برکت مہینہ میں تلاوت ِقرآن ،ذکرِا لہی،قیام ِ لیل،صدقہ و خیرات اور دیگربھلائی کے کاموں کو انجام دیکر اپنے لئے بہترین زاد ِآخرت تیار کر لیتے ہیں اور کتنے بد قسمت ہیں وہ لوگ جو اس فیوض و برکات والے مہینہ کو لہو و لعب،فسق وفجور اور دیگر برائی کے کاموں میں گزار دیتے ہیں۔
روزہ کن پر فرض ہے :
روزہ ہر عاقل ، بالغ مسلمان پر پر فرض ہے ۔
روزہ کے شرائط :
روزہ رکھنے والا مسلمان ہو ، عاقل ہو ، بالغ ہو ، مقیم ہو ، روزہ رکھنے پر قدرت حاصل ہو اور روزہ میں رکاوٹ بننے والے کسی بھی امر سے خالی ہو ۔
روزے کی نیت :
فرض روزوں کی نیت طلوع فجر سے پہلے کرنا ضروری ہے جیسا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہیکہ :اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نےطلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اسکا روزہ نہیں (ابوداؤد:2454 ،ترمذی)
البتہ نفلی روزے کی نیت زوال سے پہلے کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے بشرطیکہ آدمی نے طلوع فجر کے بعدسے کچھ کھایا پیا نہ ہو،جیسا کہ حضرت عائشہ کی روایت میں ہے کہ ایک روز میرے پاس اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا :کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ہم نے کہا کہ کچھ نہیں ہے ،آپ نے کہا :پھر تو میرا روزہ ٹہرا،پھر ایک روز آپ میرے یہاں تشریف لائے تو ہم نے کہا :حیس(حلوہ)تحفہ میں ملا ہے تو آپ نے فرمایا :مجھے دکھاؤ حالانکہ آج صبح ہم نے روزہ کی نیت کرلی تھی ،پھر آپ نے تناول فرمایا ۔
(مسلم: 1154)
معلوم ہونا چاہئے کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے ،زبان سے نیت کرنے کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے ۔
سحری و افطاری:
سحری کھاناایک تاکیدی حکم اور باعث برکت ہے اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کا ارشاد ہے: سحری کھاؤ اسلئے کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔(بخاری ومسلم)
سحری تاخیر سے کھانا سنت ہے،لیکن اتنی تاخیر نہیں کہ فجر کا وقت داخل ہوجائے ، اس کے بر خلاف افطار میں جلدی کرنا سنت ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کا ارشاد ہے: لوگ جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے برابر بھلائی پر قائم رہیں گے ۔(بخاری ومسلم)
اسی طرح ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :میرے سب سے محبوب بندے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں۔(ترمذی)
سنت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی تازہ کھجور سے افطار کرے، اگر تازہ کھجورمیسر نہ آئے تو عام کھجور سے افطار کرے اگرکھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کر لے، افطار کے وقت یہ دعا سنت سے ثابت ہے
(ذَھَبَ الظَّمَاوَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَ ثَبَتَ اْلاجْرُ انْ شَاء اللّٰہُ)
ترجمہ: پیاس ختم ہوئی ،رگیں تر ہو گئیں اور روزے کااجر انشاء اللہ پکا ہوگیا(ابوداؤد)
نمازِتراویح :
رمضان المبارک میں تراویح یا قیام کی بڑی فضیلت ہے جیسا کہ اللہ کے رسول ۖکا ارشاد ہے:جس نے رمضان میں ایمان و احتساب (ثواب کی نیت)سے قیام کیا،اسکے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئے گئے (بخاری ومسلم)
نمازِ تراویح کا وقت عشاء کے بعدسے شروع ہوتا ہے اور طلوع ِفجر تک رہتا ہے تراویح کی نماز وتر کے ساتھ گیارہ رکعت سنت سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت ابو سلمہ نے ایک بارحضرت عائشہ، رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رمضان میں اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کی نماز (تراویح) کیسی ہوتی تھی ،تو انھوں نےجواب دیا :آپ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں کرتےپڑھتے تھے ۔۔۔۔۔)(بخاری)
جن امورسے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
روزہ کو فاسد کرنےوالے امور دو طرح کے ہیں :
(١)جن امور سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور صرف قضا واجب ہوتی ہے
(٢)جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا و کفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں ۔
وہ امو ر جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور صرف قضا واجب ہوتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(١)جان بوجھ کر کھا پی لینا ،البتہ بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے ۔
(٢)جان بوجھ کر قئے کرنا ،البتہ خود بخود قئے آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔
(٣)حیض و نفاس کا خون آجانا۔
(٤)جان بوجھ کر بیداری کی حالت میں منی خارج کرنا۔البتہ احتلام ہو جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(٥)غذا بخش یا خون کا انجکشن لگوانا۔
٭وہ امور جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا وکفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں وہ صرف ایک ہے یعنی حالت روزہ میں بیوی سے جماع کرنا روزے میں جماع کا کفارہ یہ ہے : ایک گردن آزاد کرے ، اگر گردن آزاد کرنا ممکن نہ ہو تو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھے اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔
روزہ نہ رکھنے کی رخصت: ایسا مریض جس کے لئے روزہ باعث ضرر ہو مریض اور مسافر کے لئے روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے لیکن بعد میں قضا کرنی ہوگی اور اگر بحالت ِسفر یا بحالت ِمرض روزہ رکھ لیا تو روزہ ادا ہوجائے گا ۔
٭حیض و نفاس والی عورتیں افطار کریں گی اور بعد میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کریں گی ۔اگر مذکورہ حالت میں روزہ رکھ بھی لیا تو درست نہ ہوگا ۔واضح رہے کہ مذکورہ عورتوں پر فوت شدہ نمازوں کی قضا نہیں ہے۔
٭حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے البتہ بعد میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہوں گی۔
٭انتہائی ضعیف یا ایسا بیمار جسکی شفا یابی کی امید نہ ہو،ان کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے،البتہ یہ لوگ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں گے ،اور ان پر قضا نہیں ہے۔
اعتکاف:
رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی بڑی فضیلت ہے اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ان دنوں میں شب بیداری کا خاص اہتمام کرتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہیکہ جب رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تو اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اپنی کمر کس لیتے اورشب بیداری کرتے اور اپنے اہل کو بیدار کرتے (بخاری ومسلم)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اپنی حیابت مبارکہ کے آخری ایام تک رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کرتےتھے ، پھر آپکے بعد آپکی بیویوں نے اعتکاف کیا۔(بخاری ومسلم)
٭جو شخص رمضان کے عشرئہ اخیر کا اعتکاف کرنا چاہتاہےاسے چاہئے کہ وہ اکیسویں رات کو غروب شمس سے پہلے مسجد میں داخل ہوجائے ۔
٭معتکف کیلئے جائز نہیں ہےکہ وہ کسی کی عیادت،یا جنازہ میں شرکت کیلئے جائے،یا بیوی سے ہم بستری کرے ،یا بشری ضرورتوں کے علاوہ مسجد سے باہر جائے۔
٭معتکف سے اسکی بیوی ملنے کیلئے آسکتی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں ہیکہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ سے ملنے کیلئے آئیں اور آپ انکو مسجد کے دروازے تک چھوڑنے کیلئے گئے۔
شب ِقدر
شب قدر کو اللہ تعالی نےبہت سے فضائل و خصائص سے نوازا ہے ، جیسے :
1- اس رات کی عبادت گذشتہ گناہوں کا کفارہ ہے، اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کا فرمان ہے :جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شب ِقدر کاقیام کیا اسکے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں(بخاری ومسلم)
2- یہ بابرکت رات ہزار مہینوں سے بہتر ہوتی ہے ،
3- اس رات میں فرشتے اور جبرئیل امین زمین پرنازل ہوتے ہیں
اس عظیم رات پر قران پاک میں ایک پوری سورت “قدر“ عطا ھوئی ھے ۔جس کے معنی ھیں
1 - ہم نے اس( قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا
2 - اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟
3 - شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
4 - اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں
5 - یہ( رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے
اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کی اس بابرکت رات کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرے جیسا کہ اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کا فرمان ہے:لیلت القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو (بخاری)
بڑا بد نصیب ہے وہ شخص جو اس بابرکت رات کی قدر نہ کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس ماہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کی برکت سے محروم رہا ہے وہ ہر قسم کے خیر سے محروم رہا [ ابن ماجہ ] اس رات میں یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہئے
(اَللَّھُمَّ ا نَّکَ عَفُوّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ )
ترجمہ: یااللہ تومعاف کرنیوالاہے اورمعاف کرنا پسند کرتاہے لہذامجھے معاف فرما.( ترمذی)
صدقہ الفطر:
صدقہ الفطرہر آزاد،غلام ،مرد ،عورت ،بالغ ، نابالغ پرفرض ہے،اسکی فرضیت کا اصل مقصد روزے کو لغو اور فحش باتوں سے پاک کرنا، نیز محتاجوں کے کھانے کا اانتظام کرنا ہے۔اسکی مقدار ایک صاع غلہ ہے جو موجودہ وزن میں تقریبا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہوتا ہے ۔اسکے نکالنے کاافضل وقت عید کے دن عید کی نماز سے پہلے ہے البتہ عید سے دو ایک دن پہلے بھی نکالا جاسکتا ہے جو شخص نماز عید کے بعد نکالے گااس کا صدقہ فطر ادا نہ ہوگا بلکہ اس کا شمار عام صدقے میں ہو گا۔
صدقہ الفطر گھر کا سر پرست تمام اہل خانہ کی طرف سے نکالے گا۔
نماز ِعیدین
عیدین کی نماز سنت مؤکدہ ہے ،اسکی مشروعیت ہجرت کے پہلے سال عمل میں آئی جیسا کہ حضرت انس سے روایت ہیکہ جب اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگوں نے دو دن (نیروز و مہرجان)لہو و لعب کیلئے خاص کر رکھا ہے ، تو آپ نے فرمایا :اللہ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے اس سے بہتر دن عطا کر دیا ہے ،عید الفطرو عید الاضحی۔(ابوداؤد نسائی )
نماز ِعیدین میں یہ امور مستحب ہیں:
(1 )غسل کرنا
(2) خوشبولگانا
(3) اچھے کپڑے زیب تن کرنا
(4)عید الفطر میں عید گاہ جانے سے پہلے طاق کھجوریں کھانا اور عید الضحی میں عید گاہ سے واپس آنے کے بعد قربانی کرکے اس کا گوشت کھانا
(5)عید گاہ جاتے اور آتے وقت راستہ بدلنا
(6)عید گاہ جاتے وقت کثرت سے تکبیریں پڑھنا تکبیر کے صیغے یہ ہیں :
اللہ اکبر اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ، اللہ اکبر وللہ الحمد
(7)نماز ِعیدین بستی سے باہر ادا کرنا ، البتہ کسی عذرکی بنیاد پر مسجد میں پڑھی جائے (٨)عید الفطر کی نماز عید الاضحی کے مقابلے میں قدرے تاخیر سے ادا کرنا۔
مضان المبارک تمام مہینوں میں سے افضل ترین مہینہ ہے اور اس کی عبادات کو تمام عبادات سے افضل قرار دیا ہے
پہلا روزے کی دعا
تسبیح
بسم اللہ الرحمن الرحيم
ٍاَلَّلہمَّ اجْعَلْ صِيامي فيہ صِيامَ الصَّائِمينَ وَ قِيامي فيہ قِيامَ الْقائِمينَ وَ نَبِّہنى فيہ عَنْ نَوْمَہالْغافِلينَ وَہبْ لى جُرْمي فيہ يا اِلہ الْعالَمينَ وَ اعْف ُعَنّي يا عافِياً عَنِ الْمُجْرِمينَ.
ترجمہ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
خدایا میرا روزہ اس دن میں روزہ داروں کے روزہ کی طرح قرار دے اور میری نماز ،نماز گزاروں کی نماز کی طرح قرار دے اور مجھ کو ہوشیار کر دے غافلوں کی نیند سے اور میرے گناہ کو بخش دے اے عالمین کے معبود اور مجھ کو معاف کر دے اے گنہگاروں کے معاف کرنے والے
یکم رمضان کے اھم واقعات
ولادتِ حضرت عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
حضرت عبد القادر جیلانی (رح ) سلسلہ اولیا ء االلہ کے درخشاں ستارے ، بلکہ سورج ) تھے ۔ جن کی ولادت یکم رمضان المبارک بروز جمعہ ٤٧٠ھ میں ہو ئی ۔ چونکہ یہ حسنی اور حسینی دونوں تھے۔ لہذا ان میں حسنی صفت بھی تھی اور حسینی بھی ۔اس کو سمجھ نے کے لیئے آپ کو وہ حدیث دیکھنا پڑے گی کہ جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے حضور (ص) سے اپنے دونوں بچوں کے لیئے در خواست فر مائی کہ ان کو آپ اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فر ماد یجئے، تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ حسن (ع) میں میری وراثت میں سے رعب اور حسین (ع) میں میری سخاوت ہوگی۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس قسم کے لوگ پیدا بھی سن ِ یاس میں ہو تے ہیں ۔ جیسے کہ حضرت ابرا ہیم (ع)کے ہاں حضرت اسمٰعیل (ع) اور حضرت اسحاق (ع) ۔ اسی طرح ان کے والدین (رح)کو بھی حضرت عبد القادر کی صورت میں جو بچہ عطا فر مایا گیا ،وہ اس وقت جبکہ ان کی والدہ ِ محترمہ کی عمر ٦٥ سال تھی۔ اس سے ان کے والد ِ محترم کی عمر بھی قیاس کی جاسکتی ہے۔ یہ بچہ جس کو آگے چل کر مجدد بننا تھا۔ بچپن ہی سے انتہائی ذہین تھا۔اور انتہائی متقی والدین کی اولاد بھی ۔
جب وہ مقامی تعلیم سے بھی فارغ ہوگئے اور وہاں کے علماءنے کہدیا کہ یہ بچہ اب تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ۔تو بغداد شہر جو کہ اسوقت علم کا مرکز تھا، ان کی ماں نے دل پر جبر کا پتھر باندھ کر اور کل جمع پونجی جو چالیس دینار تھے ان کی گڈری میں سیکر انہیں اس نصیحت کے ساتھ رخصت فر مادیا کہ بیٹا جھوٹ کبھی مت بولنا۔ راستہ میں ڈاکو ؤں نے گھیر لیا انہوں نے سب سے پو چھا کہ تمہارے پاس کیا ہے۔لوگوں نے چھپایا مگر انہوں (رح) نے فر مایا کہ میرے پاس چالیس دینار گدڑی میں سلے ہو ئے ہیں۔ انہیں بڑی حیرت ہوئی کہ لوگ تو چھپارہے ہیں اور مار نے پیٹنے کے بعد کچھ بمشکل قبول رہے ہیں۔ یہ عجیب بچہ ہے کہ خود کہہ رہا کہ میرے پاس چالیس دینار ہیں ۔ انہیں (رح) وہ اپنے سردار کے پاس لے گئے ۔ اس نے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتا یا کہ میری ماں نے یہ تاکید کی تھی کہ بیٹا جھوٹ مت بولنا؟ وہ بڑا شرمندہ ہو ا کہ میں اللہ سے نہیں ڈرتا جو دانا اور بینا ہے اور یہ ماں سے عہد کا اتنا پاس کررہا۔ لہذا اس نے جو مال چھینا تھا قافلے والوں سے وہ ان کو واپس کردیا خود قذاقی سے تو بہ کر لی ۔ جب یہ بچہ بغداد پہونچا تو اس کی شہرت پہلے سے وہاں پہونچ چکی تھی اور ہر عالم یہ چاہتا تھا کہ یہ اس کے مدرسہ میں دا خلہ لے ۔مگر یہ سعادت اللہ نے شیخ حماد (رح) دباس کے قسمت میں لکھی تھی لہذا انہیں عطا ہو ئی ۔جن سے انہوں نے رو حانیت کی تعلیم تو حا صل کی ہی ساتھ ہی ساتھ انہوں نے سو چا کہ دینی تعلیم بھی مکمل کر لی جا ئے لہذا وہ مدرسہ باب الازج پہونچے جہاں حضرت قاضی ابو سعید مخزومی (رح) درس دیتے تھے۔ یہ بھی ان کے درس میں شامل ہو گئے۔ جلد ہی علم ِ دین پر اتنا عبور حاصل کر لیا کہ انہوں نے یہ فرما کر سند ِ حدیث دیدی کہ دراصل ہم تم سے علم حدیث سیکھتے ہیں جو کہ تمہارا اپنا انداز ہے۔ پھر انہوں (رح) نے صحرانوردی شروع کردی اس کے بعد جب وہ واپس آئے ،تو استاد نے ان کو اپنی درس گاہ میں ہی درس دینے کے لیئے چن لیا اور وہ اسی مدرسے میں پڑھانے لگے۔ مقبولیت اتنی بڑھی کہ ان کے درس میں لوگ ہزاروں کے تعداد میں آنے لگے ۔
درس کے وقت راستے جام ہو جاتے، لہذا پھر انہوں نے عید گاہ میں درس دینا شروع کردیا جس میں کہ پچھتر ہزار تک حاضرین ہو تے تھے اور لکھنے کے لیئے چارسو قلم دوات مو جود رہتے ۔ ان کی خوبی تھی کہ ان کی بات دل میں اترتی چلی جاتی اور کرامت یہ تھی کہ بغیر کسی مکبر کے ان کی آواز ہر جگہ یکساں سنی جاتی ۔ یہ بطل جلیل نصف صدی سے زیادہ درس دیتے رہے۔ چھ خلفا ءکا دور دیکھا مگر کسی خلیفہ کویہ جرا ءت نہ ہو ئی کہ وہ ان پر ہاٹھ ڈالتا۔ جبکہ یہ برسرِ عام ان پر ،اس دور ر کے علماءاور رو ساءپر کھل کر تنقید فر ماتے تھے ۔ یہ وہ عطا تھی جو حضرت امام حسن (ع)سے ان تک پہونچی یعنی رعب اور ان کی سخاوت بھی انتہا پر تھی جس کے بہت سےقصے مشہور ہیں۔ جو ان تک حضرت امام حسین (ع) سے پہو نچی۔ رہیں کرامات تو ہر منکر کرامات بھی تسلیم کر تا ہے کہ وہ صاحب ِ کرامات تھے ۔
(شمس جیلانی)
بو علی سینا کا انتقال
یکم رمضان المبارک سن 428 ہجری قمری کو" شیخ الرئیس " کے نام سے معروف اہم ایرانی منجم ، فلسفی ، ریاضیدان اور طبیب بوعلی سینا کا 58 برس کی عمر میں ایران کے مغربی شہر ہمدان میں انتقال ہوا۔
انہوں نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کرلیا تھا۔ خود بوعلی سینا کے بقول انہوں نے 18 سال کی عمر میں ہی اس دور کے تمام علوم حاصل کرلئے تھے بوعلی سینا ان افراد میں سے تھے جو صلاحیت اور قابلیت کے لحاظ سے انسانی کمال کی حد تک پہنچے ہوئے اور تحقیق میں نہایت سنجیدہ تھے ۔ وہ مشرق اور مغرب میں ممتاز فلسفی اور طبیب کی حیثیت سے معروف تھے ۔
ابن سینا کے معاصر دانشوروں کے نظریات پر ان کے افکار کا گہرا اثر ہوا۔ جس کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہا ۔ابن سینا کی متعدد اور بیش بہا کتب میں " شفا " ، " قانون " اور دانشنامۂ علائی خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
ابن خلدون کی پیدائش
یکم رمضان المبارک سن 732 ہجری قمری کو تیونس کے معروف سیاستدان ، مورخ اور ماہر سماجیات " ابن خلدون " پیدا ہوئے ۔ابن خلدون کی زندگی کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ پہلا حصّہ انہوں نے مختلف علوم کی تحصیل میں گزارا ۔ زندگی کے دوسرے حصے میں میدان سیاست میں بھر پور حصّہ لیا اور اس دور میں وہ ملک کے بہت سے سرکاری عہدوں پر فائز رہے ۔ پھر انہوں نے آہستہ آہستہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی ، اور درس و تدریس میں لگ گئے ۔ یہ زمانہ ابن خلدون کی زندگی کے تیسرے حصّے کا آغاز تھا، جوزمانہ سیاست سے کنارہ کشی اور تحقیقی اور تالیفی زمانے کے نام سے موسوم ہے ۔
( رمضان اسپیشل کی تحاریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )