تقریبا" چودہ سو سال قبل مسجد النبی (ص) کے بلند و بالا منبر سے مرسل اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی امت کو یہ خوش خبری سنائی تھی ۔
" لوگو ! خدا کا مہینہ برکت و رحمت اور مغفرت کے ساتھ تمہاری طرف آ رہا ہے وہ مہینہ جو خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے جس کے ایام بہترین ایام جس کی شبیں بہترین شبیں اور جس کی گھڑیاں بہترین گھڑیاں ہیں ، (اس مہینہ میں ) تمہاری سانسیں ذکر خدا میں پڑھی جانے والی تسبیج کا ثواب رکھتی ہیں تمہاری نیندیں عبادت ، اعمال مقبول اور دعائیں مستجاب ہیں ۔
اس مہینے کی بھوک اور پیاس کے ذریعے روز قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو ، غریبوں اور بے سہاروں کی مدد اور تائید و تصدیق کرو بڑے بوڑھوں کا احترام کرو اور چھوٹوں کے ساتھ مہر و محبت سے پیش آؤ ، عزیز و اقارب کے یہاں آؤ جاؤ ، زبان نامناسب باتیں کرنے، کان ناروا آوازیں سننے اور نگاہ ناجائز چیزیں دیکھنے سے محفوظ رکھو ، یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرو تا کہ تمہارے یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے ، گناہوں سے توبہ استغفار کرو کیونکہ سب کو خدا کے پاس پلٹ کر واپس جانا ہے۔
تیسرے دن کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ الذِّھْنَ وَالتَّنْبِیہَ، وَباعِدْنِی فِیہِ مِنَ السَّفاھَہ وَالتَّمْوِیہِ، وَاجْعَلْ لِی نَصِیباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُ فِیہِ، بِجُودِکَ یَا جْوَدَ الْاَجْوَدِین
اے معبود! آج کے دن مجھے ہوشاور آگاہی عطا فرما مجھے ہر طرح کی نا سمجھی اور بے راہ روی سےبچا کے رکھ اور مجھ کو ہر اس بھلائی میں سے حصہ دے جو آج تیری عطاؤں سے نازل ہو اے س سے زیادہ عطا کرنے والے۔
تین رمضان کے اہم واقعات
شیخ مفید محمد بن نعمان کا انتقال
3 رمضان المبارک 413 ہجری قمری کو شیخ مفید کے لقب سے معروف عظیم مسلمان عالم ، فقہ اور علم کلام کے ماہر محمد بن نعمان کا انتقال ہوا ۔
شیخ مفید سے قبل علم کلام صرف کتاب کی تصنیف و تالیف تک محدود تھا لیکن انہوں نے علم کلام اور فقہ کے بنیادی اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے استدلال اور بحث و گفتگو کا سلسلہ شروع کیا اور ان علوم کی ترویج کی ۔ شیخ مفید بہت روشن خیال اوراعلیٰ استعداد کے حامل تھے ۔
شیخ مفید نے فقہ ، اصول فقہ اور کلام کے موضوع پر بہت سی کتابیں تحریر کی ہیں جن کی تعداد تقریبا" دو سو ہے ۔
ابن خشّاب کا انتقال
3 رمضان المبارک سنہ 567 ہجری قمری کو چھٹی صدی ہجری کے مشہور مسلمان مصنّف اور محقق ابن خشّاب کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 492 ھ ق میں عراق میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنے زمانے میں رائج علوم حاصل کرنے کے بعد ، اس دورکے معروف اساتذہ کی سرپرستی میں متعدد کتابیں لکھنے کا آغاز کیا۔
ابن خشاب کی علمی شخصیت کم نظیر حیثیت کی حامل ہے ، اسی لئے آپ کو علّامہ کیا گيا ۔وہ قرآئت اور قرآن فہمی کے لحاظ سے اپنے زمانے کے قاریان قرآن میں سرفہرست تھے ۔انہیں مختلف قرآئت کےساتھ قرآن حفظ تھا ۔مادیات کی طرف عدم توجہ آپ کی اہم اخلاقی خصوصیات میں سے تھی انہوں نے ہمیشہ طالب علموں کو یہ نصیحت کی کہ علم کو زور و زر کے حصول کا ذریعہ نہ بنائیں اور اسے صرف راہ خدا میں استعمال کریں ۔
ابن خشاب نے جہاں مختلف علوم میں بہت سے شاگردوں کی تربیت کی وہیں نہایت اہم تالیفات بھی یادگار کے طور پر چھوڑی ہیں ۔