انسان کی اصل شناخت اس وقت ہوتی ھے جہاں اسے اپنی تمام تر توانایئاں اور ہمتیں ایک جگہ صرف کرنی ہوتی ہیں ۔ وہ جتنی بہادری سے اپنے نفس کے ساتھ لڑتا ھے اتنا ھی بڑا اور قیمتی انسان ھوتا جاتا ھے۔
اکثر انسانوں کو جب بھی کسی معرکہ پر جانا ھوتا ہے اس کی ہمّتیں چھوٹی اور پست ھوجاتی ھیں ،جو نہ صرف کار ہائے سر انجام نہیں دے سکتے بلکہ اگر اسکا تذکرہ بھی سنتے ھیں تو خوفزدہ ھو جاتے ھیں اوراپنے دل میں تنگی کا احساس کرنے لگتے ھیں ۔
نفس کے جہاد کے لیئے روزے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتے ہے ۔ ھم سب نے کئی بار دیکھا ھو گا کہ ھم ھی میں سے کچھ افراد ماہ رمضان کا سنتے ھی ادھر ادھر دیکھنے لگ جاتے ہیں ۔۔ٹال مٹول سے کام لینے لگتے ہیں اور لاکھ ہمت کرنے پر بھی خود کو روزوں کے لیئے تیار نہیں کر پاتے ۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ھمت کر کے روزہ رکھ تو لیتے ہیں پر زرا سی موسم کی گرانی سے گھبرا جاتے ہیں اور کبھی کبھی کوئی بہانہ بنا کر روزہ توڑ بھی لیتے ہیں ۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ ھمت کر کے اپنے روزے کو مکمل کر ہی لیتے ہیں۔ بشرطیکہ موسم اچھا ھو یا دفتر اسکول سے چھٹی ھو۔ماہ رمضان کے روزے توموسم دیکھ نہیں رکھے جا سکتے ۔
ایسے کم ھمت لوگوں کی اصلاح کے لیئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایاکہ “انہیں گرمیوں کے روزے زیادہ عزیز ہیں ۔
ھم ھی میں سے ایک انسان ایسا بھی ھوتا ھے جو تھوڑی سی ہمت کرتا ھے اور اپنے اوپر فرض تمام روزوں کو گرمی وسردی کی پرواہ کئے بغیر ھی رکھتا جاتا ھے ۔۔ لیکن روزے کے آداب واسرار سے بے خبر رہتا ھے ،اسکی قسمت میں بھی بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں آتا جیسا کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا
:کَم مِن صَائِمٍ لَیسَ لَہ مِنْ صِیَامِھ الْجُوع وَالظَّمَاء۔ ۔ ۔ ۔ کتنے روزہ دار ایسے ھیں جن کو ان کے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نھیں ملتا‘۔
ایک ایسا انسان بھی ھے جو آداب روزہ کی حرمت تورکھتا ھے لیکن اسرار روزہ سے بے خبر رہتاھے ۔اگرچہ اس کی ہمّت دوسروں کی بہ نسبت کافی بلند ہوتی ھے لیکن اسکی زندگی روزہ کے اثرات و ثمرات سے بے بہرہ رہتی ھے۔ اسکے نصیب میں فقط روزہ کاثواب آتا ھے۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ اسے جنّت توضرور مل جاتی ھے لیکن خدا نہیں ملتا ، اس کی زندگی پر روزے کا کوئی اثر نہیں ھوتا۔
یہ ایسے ھی جیسے ھر روز نماز پڑھی جائے اور ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے گناہ بھی سرزد ھوتے جایئں ۔۔یہ سب اس لیئے ھوتا ہے کہ ھم نماز کے اسرار سے واقف نہیں ھوتے ۔۔اس لیئے نماز ہماری زندگی پر کوئی اثر نہیں کر پاتی ۔
اسی طرح ماہ رمضان کے اسرار سے نا واقفیت دراصل زندگی کے رموز سے نا آشنائی ھے ۔
چھٹے رمضان کی دعا
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
اَللّٰھُمَّ لاَ تَخْذُلْنِی فِیہِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِیَتِکَ وَلاَ تَضْرِبْنِی بِسِیاطِ نَقِمَتِکَ
اے معبود! آج کے دن مجھے چھوڑ نہ دے کہ تیری نا فرمانی میں لگ جاؤں اور نہ مجھے اپنے غضب کا تازیانہ مار
وَزَحْزِحْنِی فِیہِ مِنْ مُوجِباتِ سَخَطِکَ، بِمَنِّکَ وَایادِیکَ یَا مُنْتَہی رَغْبَہ الرَّاغِبِینَ
آج کے دن مجھے اپنے احسان و نعمت سے مجھے اپنی ناراضی کے کاموں سے بچائے رکھ اے رغبت کرنے والوں کی آخری امید گاہ۔
6 رمضان کے اہم واقعات
ابویعلی جعفری کا انتقال
6 رمضان سنہ 463 ھ ق کو 5 ویں صدی ہجری قمری کے ایک نامور عالم دین ابویعلی جعفری نے وفات پائی ۔ وہ فقیہ اور ماہر علم کلام تھے اور عظیم اسلامی دانشور شیخ مفید کی حیات میں ان کے نائب تھے ۔
وہ عظیم اسلامی دانشور شیخ طوسی کے ہم عصر تھے ۔ ابویعلی جعفری نے علم کلام اور فقہ کی تدریس بھی کی ۔ان کی تصانیف میں میلاد صاحب الزماں اور تکملہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
حمزہ بن عبداللہ کا انتقال
6 رمضان المبارک سنہ 463 ہجری قمری کو مشہور مسلمان فقیہ حمزہ بن عبداللہ سالار کا ایران کے شہر تبریز میں انتقال ہوا ۔شیخ سالار عظیم دانشور شیخ مفید اور سید مرتضیٰ علم الہدی کے مشہور شاگرد تھے ۔
شیخ سالار کی سب سے مشہور کتاب "المراسم العلویہ و الاحکام النبویہ " ہے جو دس دیگر کتابوں کے ساتھ مل کر جوامع الفقہ کے نام سے چھپ چکی ہے ۔ شیخ سالار کی دیگر کتابوں میں الابواب و الفصول اور التقریب خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )