اصل میں مسلئہ یہ بھی ھے کہ انسان استدلال اور منطق کا کم ھی رھا ھے اورھمیشہ سے زیادہ تر جذبات اور احساسات کا غلام رھا ھے جس کی وجہ وہ اپنے دل میں فیصلوں کے وقت ڈولتا ھی رھتا ھے ۔۔ ایسے جیسے عمیق اور اتھرے سمندر میں ایک چھوٹی سی کشتی لہروں کے ھاتھوں ڈولتی رھتی ھے ۔
انسان کو دو طرح سے دیکھا جاتا ھے ۔۔ ایک جسمانی اور ایک روحانی ۔۔ اسی طرح سے اس کی طبیعت اور فطرت بھی دو طرح سے دیکھی جاتی ھے ۔
طبیعت انسانی طبع یعنی جسم کے تقاضوں کے طابع ھوتی ھے اور فطرت ،روح کے تقاضے پوری کرتی ھے ۔
جب ھم طبعی (جسمانی) تقاضے یعنی طبعیت کی بات کرتے ھیں تو تین تقاضے سر فہرست آتے ھیں جمادی ،نباتی اور حیوانی تقاضے ۔
انسانی جسم کے جمادی پہلوکا تقاضا یہ ھے کہ انسان اپنی جگہ پڑا رھے، کوئی حرکت نہ کرے ، رات دن صبح و شام ھر وقت صرف آرام و سکون کی فکر میں ھو۔
جسم کے نباتی پہلوکا تقاضا یہ ھے کہ انسان اپنے جسم میں اضافہ کرتا رھے ،وہ خود اپنی جگہ قائم ھو اور دوسرے اسکے لئے مناسب غذا ئیں فراھم کرتے رھیں ۔
جسم کے حیوانی پہلوکا تقاضا یہ ھے کہ وہ زندہ رھنے کے لیئے مسلسل حرکت کرتا رھے اور اپنی افزایئش نسل کا بھی اہتمام کرتا رھے ۔
یہ الگ بات ھے کہ اکثر تقاضوں کو پورا کرتے وقت انسان کی فطرت اور روح کو کبھی کبھار سخت کوفت اور اذیت سے گزرنا پڑتا ھے ۔
یہی انسان جب اپنے روحانی یعنی فطرتی تقاضوں کو پورا کرتا ھے تو کبھی علم حاصل کرتا ھے، اپنے بلند مقاصد کے لیئے سخت محنت کرتا ھے ، اپنے فن و ھنر میں کمال حاصل کرنے کے لئے جسم سے مستقل استفادہ کرتا ھے یعنی مسلسل مشقت اٹھاتا ھے اور کئی دوردراز کے سفر کرتا ھے , اپنے خالق اپنے رب کو خوش رکھنے کے لیئے کی اس کی اطاعت و عبادت کے لیئے سر توڑ کوششیں اور مجاہدے کرتا ھے ۔
اور اس منزل تک پہنچنے کے لیئے اپنے جسم کو سخت اذیت میں بھی رکھتا ھے لیکن انسان کی روح اس میں لذت محسوس کرتی ھے اور یہ لذت ان جسمانی لذتوں سے کہی زیادہ نشاط آور ھوتی ھے جو طبعی تقاضوں کو پورا کرنے سے حاصل ھوتی ھے ۔
اب اس یاد دہانی کا مطلب یہ نہیں ھے کہ انسان جسمانی تقاضوں کو بالکل ترک کر دے اور خود کو موت کے سپرد کر دے ۔
بلکہ اھم بات اور اصل پیغام یہ ھے کہ ایک انسان اپنے اندر کے حالات سے آگاہ ھو اور وہ یہ سمجھ سکے کہ اس پر غلبہ کس کا ھے ؟ جسمانی تقاضوں کا یا روحانی و فطری تقاضوں کا ؟
دوستو یہی آگاہی خود شناسی ھے ۔۔۔
اور خود شناسی کے لیئے ماہ رمضان سب سے افضل ھے ۔۔۔۔
ساتویں دن کی دعا
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
اَللّٰھُمَّ اعِنِّی فِیہِ عَلَی صِیامِہِ وَقِیامِہِ، وَجَنِّبْنِی فِیہِ مِنْ ھَفَواتِہِ وَآثامِہِ، وَ
اے معبود! آج کے دن مجھے روزہ رکھنے اور عبادت کرنے میں مدد دے اور اس میں مجھے بے کار باتوں اور گناہوں سے
ارْزُقْنِی فِیہِ ذِکْرَکَ بِدَوامِہِ، بِتَوْفِیقِکَ یَا ھادِیَ الْمُضِلِّینَ ۔
بچائے رکھ اور اس میں مجھے یہ توفیق دے کہ ہمیشہ تیرے ذکر و فکر میں رہوں اے گمراہوں کو ہدایت دینے والے۔
7 رمضان کے اہم واقعات
پیغمبر اسلام (ص) کے چچا حضرت ابوطالب کا انتقال
ایک روایت کے مطابق ہجرت سے تین سال پہلے سات رمضان المبارک کو پیغمبر اسلام (ص) کے چچا حضرت ابوطالب کی وفات ہوئی ۔
حضرت ابو طالب بن عبد المطلب ( 549ء تا 619ء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا اور حضرت علی علیہ السلام کے والد تھے۔ ان کا نام عمران اور کنیت ابوطالب تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی والدہ حضرت آمنہ بنت وھب علیہا السلام اور دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد آٹھ سال کی عمر سے آپ کے زیر کفالت رہے۔
آپ نے ایک بار شام اور بصرہ کا تجارتی سفر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی ہمراہ لے گئے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عمر بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ بحیرا راہب کا مشہور واقعہ، جس میں راہب نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نبوت کی نشانیاں دیکھ کر پہچان لیا تھا، اسی سفر کے دوران میں پیش آیا تھا۔
پیغمبر اسلام (ص) کے دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد حضرت ابوطالب نے آپ کی پرورش کی اور پیغمبر اسلام (ص) کے اعلان رسالت کے بعد بھی مشرکین کی مخالفت کے وقت آپ کی مدد و حمایت کی ۔
حضور اکرم (ص) کی بعثت کے بعد جب مکہ کے مشرکین نے مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ کردیا تو نبی اکرم (ص) اپنے تمام متعلقین کے ساتھ شعب ابی طالب میں چلے گئےاور آپ کے چچا حضرت ابوطالب نے ہی آپ کی کفالت کی ۔ شعب ابی طالب میں مسلمانوں کی تین سالہ اقتصادی ناکہ بندی کا دور ختم ہوتے ہی حضرت ابوطالب کا انتقال ہوگيا ۔
آپ کی وفات کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر مظالم کی انتہا کر دی۔ آپ کی وفات 619ء میں ہوئی۔ اسی سال حضرت خدیجہ علیہا السلام کی وفات بھی ہوئی۔ ان دو واقعات کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سال کو عام الحزن یعنی " غم کا سال" قرار دیا۔
ابن زہرہ کی پیدائش
7 رمضان سنہ 511 ہجری قمری کو چھٹی صدی ہجری کے ایک مشہور ماہر علم کلام نامور فقیہ اور معروف دانشور ابن زہرہ موجودہ شام کے ایک شہر حلب میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے نجف اور حلب میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بلند علمی مقام حاصل کیا ۔ابن زہرہ کو فقہ ، اصول ، کلام اورعربی ادب میں مہارت حاصل تھی ۔
انہوں نے ابن ادریس حلّي جیسے دانشوروں کی تربیت کی اور اصول فقہ کے موضوع پر بہت سی کتابیں تحریر کیں ۔ابن زہرہ کا سنہ 585 ھ میں انتقال ہوا۔
سید نظام الدین محمد معصوم صفائی ترمذی کی پیدائش
7 رمضان المبارک سنہ 944 ہجری قمری کو دسویں صدی ہجری قمری کے ایک معروف شاعر اور مورخ " سید نظام الدین محمد معصوم صفائی ترمذی " ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔
وہ " نامی " تخلص کرتے تھے ۔ان کے آباء اجداد ترمذ کے مسلمان تھے اور جنوب مشرقی افغانستان میں واقع علاقے قندہار میں رہتے تھے ۔لیکن چونکہ ان کے والد نے ہندوستان ہجرت کرلی تھی ۔اس لئے وہ بھی قندہار میں اپنی تعلیم مکمل کرکے گجرات چلے آئے اور دفتری عہدوں پر فائز رہے ۔
نامی اپنے زمانے کے محنتی دانشوروں میں سے تھے ۔انہوں نے" طبّ نامی " جیسی بیش بہا کتابیں لکھیں ۔سنہ 1019 ع ہجری قمری میں نامی کا انتقال ہوا
۔( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )