حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔۔
روزہ کے تین درجے ہیں۔ ایک روزہ عوام کا ہے اور ایک روزہ خواص کا اور ایک اخص خواص کا۔
عوام کا روزہ یہ ہے کہ پیٹ اور شرم گاہ کو ان کی خواہش ادا کرنے سے روکا جاوے جیسا کہ اوپر اس کی تفصیل گزری ہے ۔
اور خواص کا روزہ یہ ہے کہ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضاء کو گناہ سے روکا جاوے اور اخص خواص کا روزہ اس طرح ہے کہ دل کو بری ہمتوں اور دنیوی فکروں سے دور رکھا جاوے اور سوائے خدائے تعالیٰ کے اور چیزوں سے مطلقاً اس کو روک دیا جاوے۔
اس قسم کا روزہ خدائے تعالیٰ اور آخرت کے سوا اور چیزوں میں فکر کرنے سے اور دنیا میں فکر کرنے سے ٹوٹ جاتا ہے، ہاں جو دنیا کہ دین کے لیے مقصود ہوتی ہے اس کا فکر اس روزہ کو افطار نہیں کرتا کیونکہ وہ زاد آخرت ہے دنیا میں سے نہیں۔
اور یہ رتبہ انبیاء اور صدیقین اور مقربین کا ہے۔ اور وہ روزہ اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ تمام ہمت خدائے تعالیٰ کی طرف آدمی متوجہ ہو، اور خدائے تعالیٰ کے غیر سے منہ پھیر لے ۔
خواص کا روزہ یعنی نیک بخت لوگوں کا، جو اعضاء کو گناہوں سے باز رکھنے سے ہوتا ہے وہ چھ باتوں سے ہوتا ہے۔ اول نظر کا نیچے رکھنا اور جو باتیں بری اور مکروہ ہیں ان کی طرف ان کو نہ جانے دینا اور جن چیزوں کے دیکھنے سے دل ہٹتا ہو اور خدائے تعالیٰ کی یاد سے غفلت ہوتی ہو، ان سے نظر کو روکنا ۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ نظر کرنا ایک زہر کا بجھا ہوا تیر ہے، شیطان کے تیروں میں جو کوئی اس خدائے تعالیٰ کے خوف سے ترک کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایمان عنایت فرما دے گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائےگا۔
آٹھویں رمضان کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ رَحْمَہ الْاَیْتامِ وَ اِطْعامَ الطَّعامِ وَ افْشاءَ السَّلامِ
اے معبود! آج کے دن مجھے یتیموں پر رحم کرنے، ان کو کھانا کھلانے اور کھلے دل سب کو سلام کہنے
وَصُحْبَہ الْکِرامِ، بِطَوْ لِکَ یَا مَلْجَا الْاَمِلِینَ
اور شرفاء کے پاس بیٹھنے کی توفیق دے اپنے فضل سے اے آرزومندوں کی پناہ گاہ ۔
8 رمضان کے اہم واقعات
نجم الدین علی دبیران کا انتقال
8 رمضان سنہ 675 ھ ق کو عظیم ایرانی منجم اور مفکر نجم الدین علی دبیران کا انتقال ہوا ۔ وہ کاتبی کے نام سے معروف تھے ۔ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں اطلاعات دستیاب نہیں ہیں لیکن یہ بات ثابت ہے کہ عظیم فلسفی اورمفکر خواجہ نصیرالدین طوسی نے مراغہ کی رصد گاہ میں آ کر ان کا ہاتھ بٹایا ۔
مراغہ کی رصد گاہ اس دور کی معروف رصد گاہ تھی ۔کاتبی نے برسوں اس رصد گاہ میں فعال کردار ادا کیا ۔ان کی کتابوں میں " جامع الدقائق " اور " حکمت العین " خاص طور سے قابل ذکر ہیں
۔( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )