لندن برطانیہ کا دارالحکومت ہے۔یہاں مسلما نوں کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے۔یہ مسلمان
مختلف ممالک سے ترکِ وطن کر کے
یہاں آباد ہوے ہیں۔ان ممالک میں ایران ،افغانستان،پاکستان،ہندوستان،ترکی،ملائشیا،اندونیشیا،خلیجی ممالک اورافریقی ممالک خصوصاً صومالیہ شامل ہیں۔
یہ مسلمان یوں تو ہر وقت ہی اپنے آبائی وطن کو یاد کرتے ہیں،لیکن فطری تقاضوں کے مطابق رمضان المبارک اور عیدین کے موقع
پر خصوصاً انھیں اپنے وطن کی یاد ستاتی ہے۔اس کی وجوہات جہاں بہت سی ہیں وہاں یہ وجہ کافی اہم ہے کہ رمضان کے موقع
پر مسلم ممالک میں جو اہتمام ہوتا ہے وہ یہاں نہیں ہوتا۔
اور مسلمان اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتے ہیں،کیونکہ مسلم ممالک میں دن کے وقت سب ہی عموماً روزے سے ہوتے ہیں۔کھانے پینے کی دوکانیں اور ہوٹل احترامِ رمضان میں بند
ہو جاتے ہیں اور مساجد سے آنے والی اذانوں اور عبادتوں کی آوازیں ایک پر نور سماں باندھ دیتی ہیں۔
جو کہ یہاں ممکن نہیں۔
لیکن پھر بھی مسلمان پوری کوشش کرتے ہیں کہ اس رحمتوں اور برکتوں بھرے مہینے سے مل جل کر مستفیض ہوں۔
ایک اندازے کے مطابق لندن میں یورپ کے کسی بھی شہر سے زیادہ مساجد پائی جاتی ہیں۔
ریجنٹ پارک مسجد یا اسلامک کلچرل سینٹر لندن یہا ں کی سب سے بڑی مسجد ہے جسمیں
5 ہزار نمازیوں کی گنجائش
ہے۔ اس مسجد کی جگہ بادشاہ جارج ششم نے قاہرہ ، مصر میں ایک اینگلیکن کتھیڈرل کی زمین کے بدلے میں دی تھی۔
گو 1944 سے یہ مسجد زیر استعمال ہے لیکن اس کی موجودہ شکل 1977 میں مکمل ہوئی تھی۔
اسکے علاوہ سلیمانیہ مسجد کنگز لینڈ روڈ،لندن جامع مسجد برک لین،عزیزیہ مسجد سٹوک ،نیو انگٹن روڈ،ایسٹ لندن مسجد
اور بہت سی مساجد لندن میں اہل اسلام کی جاےء عبادت ہیں۔
مساجد کے ساتھ ساتھ اسلامک سینٹرز اور امام بارگاہیں بھی کثرت سے ہیں جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نماز اور دوسری عبادات کے لیےء جمع ہوتی ہے۔
میڈاول کا اسلامک سینٹر ہو یا حسینی اسلامک مشن آئزل ورتھ،مشرقی لندن کا سکینہ
ٹرسٹ ہو یا حسینی اسلامک سینٹر
سٹین مور سب ہی صاحبانِ ایمان کی عبادت گاہیں ہیں جہاں سینکڑوں مومنین مل کر عبادات بجا لاتے ہیں۔
لندن کے مسلمان بڑے خلوص اور جوش و جذبہ سے رمضان المبارک کے روزے رکھتے ہیں۔ تراویح اور دیگر عبادات بجا لاتے ہیں۔
افطار و سحر کے اوقات میں روایتی پکوان تیّار کیےء جاتے ہیں مساجد اور امام بارگاہوں میں افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے۔اور اس کے علاوہ مسلمان ایک دوسرے کو افطاری پر اپنے گھروں پر بھی مدعو کرتے ہیں۔
اور یوں مل جل کر اس بارکت مہینے کی پر فیض ساعتوں سے اپنا دامنِ حیات اور نامہ اعمال منّور کرتے ہیں۔