ہمارے گھرانے کا شمار لاہور کے قدیمی رہائشیوں میں ہوتا ہے جو کئی نسلوں سے اسی
شہر میں مقیم ہیں۔ لاہور کی ثقافت کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ۔ ہمارے گھر کا ماحول بھی ویسا ہی ہے جیسے میرے بچپن میں ہوا کرتا تھا۔میرا بچپن اندرون شہر میں گزرا ۔ ہمارے دادا کا چار منزلہ گھر تھا۔ رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے ہم بالائی منزل کی چھت پر جاتے گھر کی اکلوتی دوربین ایک دوسرے سے چھین کر چاند دیکھنے کی کوشش کی جاتی۔
مجھے یاد ہے ایک دو بار میں نے بھی رمضان کا چاند دیکھا۔ چاند دیکھ کر سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ۔ روزانہ اپنی امی سے وعدہ لیا کرتی کہ مجھے سحری کے لیے ضرور اُٹھائیں گی، اور اس ڈر سے کہیں امی مجھے اُٹھانا بھول نہ جائیں ساری رات
جاگنے ہی کاٹ دیا کرتی۔ کئی بار چپکے چپکے اُٹھ کر دیکھ آتی کہ امی تہجد کی نماز کے لیے اُٹھ چکی ہیں یا نہیں ۔ ۔ پھر امی کی آواز کا انتظار رہتا۔
ہم دو بہنیں ہیں مگر ہماری امی نے ہم سے کبھی گھریلو کام نہیں کروایا کہ بچیاں پڑھائی میں ہیں وقت آنے پر سب سیکھ جائیں گی۔ سو سوائے میز پر برتن رکھنے یا اُٹھانے کے کبھی کوئی کام نہیں کیاتھا ۔ نمازِ فجر کے بعد سبھی قرآن پڑھتے۔ سکول میں سہیلیوں کو بڑے فخر سے بتایا جاتا کہ میں نے اتنے روزے رکھ لیے اور اتنے سیپارے پڑھ لیے۔ جمعے کے روز گھر میں سبھی صلوۃ التسبیح پڑھتے تو ہم بھی اُن کی نقل میں نفل ادا کیا کرتے۔
افطاری میں بازار سے کچھ منگوانے کا رواج نہ تھا گھر ہی میںملک شیک ، فروٹ چاٹ
اور پکوڑے ،سموسے یا دہی بڑے بنتے۔ ایک اچھی روایت یہ تھی کہ ہمسایوں کے گھر بھی افطاری بھیجی جاتی خاص طور پر اُس دن جب کوئی خاص چیز بنتی تھی۔رشتہ داروں کی افظاری کروائی جاتی تو گھر میں خوب رونق ہو جاتی۔ رمضان ہی میں عید کے کپڑوں کی تیاری بھی چلتی کپڑوں کے ڈیزائن سوچے جاتے۔ مجھے بازار جانا سخت ناپسند تھا اس لیے میری امی اور بہن اپنی پسند سے میرے کپڑے جوتے لے آیا کرتی تھیں ہم دونوں بہنیں ہمیشہ ایک سے کپڑے پہنتی تھیں۔
لاہور ایک ایسا شہر ہے جس کے باسی اپنی ثقافت ار روایات سے رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ماہِ رمضان میں شہر کا ماحول ہی بدل جاتا ہے۔ بازاروں میں افطار سے پہلے بھیڑ لگی رہتی ہے بازار میں نت نئے خوانچہ فروش براجمان ہو جاتے ہیں جوٹھیلوں پر سموسے، پکوڑے، دہی بڑے یا جلیبیاں فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر قسم کا پھل زیادہ
مقدار میں دستیاب ہوتا ہے اور خریداری کا رحجان بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ لاہور کے رہنے والے رمضان میں کچھ زیادہ خوش خوراک ہو جاتے ہیں۔
پچھلے کچھ برسوں سے دیکھ رہی ہوں کہ رمضان میں ناجائز منافع خوری کارحجان بہت بڑھ گیا ہے۔ یہ ایک افسوس ناک بات ہے۔حکومتیں بھی ان منافع خوروں کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں یا پھر چشم پوشی سے کام لیتی ہیں۔ ایک اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ رمضان میں اردگرد کے دیہات سے پیشہ ور بھکاری شہر پر یلغار کر دیتے ہیں۔ بازاروں اور سڑکوں پر ان سے جان چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے۔ دن میں کئی بار گھر کی بیل بجتی ہے اور باہر کوئی حاجت مند کھڑا ہوتا ہے۔
اپنی بے بسی پر بھی رونا آتا ہے کہ ہر مانگنے والے ہاتھ کی حاجت پوری نہیں کرسکتے۔
یقی سے بھی کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ان میں سے کون واقعی حاجت مند ہے اور کون پیشہ ور۔ ہم اپنی زکوٰۃ ایک یا دو ضرورت مندوں کو یک مشت ہی دے دیتے ہیں تاکہ اُن کا کچھ بھلا ہو جائے۔ کچھ لوگ کاڑیوں میں آٹا چینی گھی بھی تقسیم کرتے نظر آتےہیں۔
مسجدوں میں خوب رونق رہتی ہے ۔ کچھ لوگ جو سارا سال نمازِ جمعہ کے علاوہ مسجد میں نظر نہیں آتے اس با برکت مہینے میں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے لگتے ہیں۔ بچے بھی بہت شوق سے مسجد کا رُخ کرتے ہیں ۔ اب اکثر مساجد میں خواتین کے لیے بھی تراویح کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ بہت سی خواتین گھر کی بجائے مسجد میں تراویح پڑھنے لگی ہیں۔ شہر کی نوے فیصد آبادیوں میں رمضان میں دورہء قرآن کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ میرے سسرال میں بھی دورہء قرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اب چھت پر جا کر چاند دیکھنے کا رواج نہیں رہا ۔ ٹی وی پر اعلان سُن لیتے ہیں اور فون
پر مبارکباد دیتے اور وصول کرتے ہیں۔ ہم سبھی باقاعدگی سے روزے رکھتے ہیں ۔ مسجد گھر کے سامنے ہے اس لیےمیرے دونوں بیٹے بھی پانچ وقت کی نماز مسجد میں ہی ادا کرتے ہیں۔ اب سحری خود ہی بنانا ہوتی ہے اس لیے رات کو گھڑی پر الارم لگا کر سوتی ہوں ۔
شہر کی نئی آبادیوں میں سحری کے وقت جگانے والے نہیں آتے نہ جانے پرانے محلوں میں آتے ہیں یا نہیں۔ کہنے کو ہم چار فرد ہیں لیکن ہر ایک کی پسند الگ ہے۔ سو کسی نےپراٹھا کھانا ہے تو کسی نے سلائس ۔ ایک بچے کو سالن پسند نہیں تو اُس کے لیے آملیٹ بنے گا۔ سحری بناتے بناتے بچوں کو اُٹھاتی ہوں۔ مفتی صاحب باقاعدہ تہجد گزار ہیں سو سب سے آخر میں سحری کھانے بیٹھتے ہیں۔ نماز کے بعد سبھی قرآن پڑھتے ہیں بچوں کو سکول جانا ہو تو تیاری کرتے ہیں ورنہ سو جاتے ہیں۔
نمازِ عصر کے بعد افطاری بنانا شروع کرتی ہوں۔بازار سے افطاری کے لیے کچھ
منگوانےکا رواج نہیں ہے ۔ افطاری پر بچوں کی خاطر اہتمام کرنا ہوتا ہے اور بچوں کے ساتھ ساتھ ہم بھی خوش خوراک ہو جاتے ہیں غیر صحت بخش پکوان کھانے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے خود کو روزہ رکھنے کا انعام دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ روزہ تزکیہ نفس کا نام ہے لیکن خوراک کے معاملے میں ہمارے ہاں رمضان میں سادگی نام کو بھی نہیں رہتی ۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور ہمارے روزے قبول کرے۔
میرے سوا سبھی مسجد میں نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں ۔ کوشش ہوتی ہے کہ رمضان میں جلدی سو جائیں مگر رات کو دیر تک جاگنے کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ بارہ بجے سے پہلے لیٹنا مشکل ہو جاتا ہے نیند آنا تو اُس سے بھی مشکل ۔
رمضان میں اپنے عزیزوں کو افطاری پر بلانے کا رواج ابھی قائم ہے۔ افسوس کی بات یہ
ہے کہ کچھ لوگوں نے اسے فیشن بنا لیا ہے بڑے بڑے افطار ڈنر دیے جاتے ہیں۔ ہم بھی معاشرے کا حصہ ہیں اس لیے مہینے میں تین چار افطار ڈنر ہمیں بھی کروانے ہوتے ہیں ۔ ایک فرق جو میں محسوس کرتی ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے طرزِ زندگی میں سادگی ختم ہو گئی ہے ۔ افطار ڈنر پر بھی بے جا خرچ کیا جاتاہے ۔ ہمارے بچپن میں عزیزوں رشتہ داروں کی افطاری حصولِ ثواب کے لیے کی جاتی تھی جبکہ اب نام و نمود یا دُنیاوی عزت کے لیے کی جاتی ہے۔
رمضان کے آخری عشرے میں ایک طرف افطار ڈنر اپنے عروج پر ہوتے ہیں تو دوسری طرف عبادات۔ ہمارے معاشرہ واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ چکا ہے ۔ ایک گروہ پر مغربیت غالب ہےتو دوسرے پر مذہب ۔ مذہبی رحجان رکھنے والے اہلِ ثروت رمضان کا
مہینہ یا آخری عشرہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں گزارنے لگے ہیں۔ آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھنے کا رحجان بھی بڑھ رہا ہے۔ اکثر نوجوان اور گھر کی خواتین بھی اعتکاف میں بیٹھتی ہیں۔ مساجد میں شبینہ کی محافل باقاعدگی سے ہوتی ہیں۔
میری امی اور میری ساس ہر سال اعتکاف میں بیٹھتی ہیں۔ اللہ اُن کی عبادات قبول فرمائے ۔ اُنتیس رمضان کی شام کوہم سب ٹی وی پر چاند نکل آنے کے اعلان کے منتظر رہتے ہیں کیونکہ مجھے اپنے میکے اور سسرال میں اپنی ماؤں کو اعتکاف کی مبارکباد دینے اور اُن سے دُعائیں لینے جانا ہوتا ہے۔
چاند نظر نہ آئے تو اگلے روز مغرب سے پہلے ہی سسرال چلی جاتی ہوں اپنی ساس سے مل کر امی کے گھر آجاتی ہوں اُن سے دُعائیں لے کر گھر لوٹ آتی ہوں۔یوں رمضان کا مہینہ جیسے پنکھ لگا کر اُڑ جاتا ہے اللہ سے دُعا ہے کہ ہماری عبادات قبول فرمائے اور ہمیں اس سے بہتر مسلمان بننے کی توفیق دے۔