ماہ رمضان المبارک درحقیقت موسم بہاراں کی نوید ہے اسے روح میں اتاریئے
حافظ و قاری مولانا حضرت شاکر علی نوری صاحب اپنی کتاب “ رمضان کیسے گذاریں ؟ “ میں لکھتے ہیں کہ ماہ رمضان ” رمض“ کا مصدر ہے ۔ رمض کا معنی ” گرمی یا جلنا “کے ہوتے ہیں ۔ چونکہ یہ مہینہ گناہوں کوجلا ڈالتا ہے ۔ اس لئے اسے رمضان کہتے ہیں۔
ر مضان المبارک میں پانچ حروف ہیں یعنی
(ر) سے رضائے الہیٰ
(م) سے مغفرت الہیٰ
(ض ) سے ضمانت الہیٰ
(الف) سے الفت الہیٰ
(ن) سے نوافل بھی مراد لیے جاتے ہیں
گویاجس نے رمضان المبارک میں عبادت کیا وہ ان ساری چیزوں کا حقدار ہے ۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ صوم یعنی روزہ اعلان نبوت کے پندرہ ہویں سال یعنی دس شوال 2 میں فرض ہوا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں “(بخاری)
جس دن رمضان المبارک کا چاند طلوع ہونے کی امید ہوتی اور شعبان کا آخری دن ہوتا ۔ مصطفےٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام رض کو جمع فرما کر خطبہ ارشادفر ماتے جس میں رمضان المبارک کے فضائل و ظائف و خصائص اور اہمیت کو اجاگر فرماتے تا کہ اس کے شب و روز سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ اور اس میں غفلت ہرگز نہ برتی جائے ۔
اس کے ایک ایک لمحے کو غنیمت جانا جائے ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شعبان کے آخری دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”
اے لوگو!ایک عظیم المر تبت اور برکتوں والا وہ مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔
اللہ تعالی نے اس مہینہ کے روزے فرض کئے ہیں ۔ اور اس مہینے کی راتوں میں عبادت کو افضل قرار دیا ہے ۔
جس شخص نے اس مہینے میں ایک نیکی کی یا ایک فرض ادا کیا ۔ اس کا اجر اس شخص کی طرح ہوگا ۔ جس نے کسی دوسرے مہینے میں ستر (70)فرض ادا کئے ۔
یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے ۔یہ مہینہ نیکی پہنچانے کا ہے ۔ اس مہینے میں مومن کی روزی میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا ۔ اس کے گناہ بخش دیئے گئے ۔
اسکی گردن آتش دوزخ سے آزاد کی جائے گی اور روزہ دار کے روزے کا ثواب کم کئے بغیر افطار کرانے والے کو بھی روزے دار کے برابر ثواب ملے گا۔“ (بحوالہ غنیۃ الطالبین باب نمبر 13، صفحہ نمبر359)
رمضان شریف کے اہم ایام :
دوسرے مہینوں پر ماہ رمضان المبارک کی فضیلت چند اعتبار سے ہے ۔
1۔ ماہ رمضان میں قرآن مقدس کا نزول ہوا۔
2۔ اسی ماہ میںشب قدر ہے ۔ جس میں و شب بیداری ہزار مہینوں کے قیام سے بہتر ہے ۔ ہر ماہ میں عبادت کے لئے وقت مقرر ہے مگر اس ماہ میں روزہ دار کا لمحہ عبادت میں شمار ہوتا ہے ۔ اس ماہ میں نیکیوں کا ثواب دس گناہ سے سات سو گناہ تک بڑھا دیا جاتا ہے ۔ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر ہوجاتا ہے ۔ جنت دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ۔ آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور بندوں کی جائز دعائیں باب اجابت تک بالکل آسانی کے ساتھ پہنچ جاتی ہے ۔
3۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے اس ماہ کو ایک تاریخ کو نازل ہوئے ۔
۔4۔توریت شریف اس ماہ میں نازل ہوئی۔
5 ۔انجیل شریف اسی ماہ میں نازل ہوئی ۔
6۔قرآن مقدس اس مہینے میں نازل ہوا ۔
7۔ جنگ بدر اسی ماہ میں ہوئی۔
8۔فتح مکہ اس ماہ میں ہوئی ۔
9 مشکل کشا شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت اس ماہ کی 21تاریخ کو ہوئی
دسویں دن کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُتَوَکِّلِینَ عَلَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْفائِزِینَ
اے معبود! آج کے دن مجھے ان لوگوں میں رکھ جو تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اس میں مجھے ان میں قرار دے جو تیرے حضور
لَدَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ الَیْکَ، بِاحْسانِکَ یَا غایَہ الطَّالِبِینَ
کامیاب ہیں اور اس میں اپنے احسان و کرم سے مجھے اپنے نزدیکی لوگوں میں قرار دے اے طلبگاروں کے مقصود ۔
دس رمضان کے اہم واقعات
حضرت خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا کی وفات
ام المؤمنین حضرت ختیجہ کبری سلام اللہ علیہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کی پہلی بیوی جو کہ عرب اور اسلام کی نامدار ، اصیل اور نہایت با فضیلت خاتون تھیں ۔اس کے باجود کہ جاھلیت کے زمانے میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئی ، مگر عفت ، نجابت ، سخاوت ،حسن معاشرت ، صمیمیت ، صداقت ۔ شوھرکے نسبت وفا و محبت میں بے نظیر تھیں ۔ اس زمانے میں طاھرہ اور سیدۃ نساء قریش کے نام سے یاد کی جاتی تھیں ۔ اور پھر اسلام میں بہشت کی چار خواتین میں سے ایک قرار پائی اور انکی بیٹی حضرت فاطمہ زھراسلام اللہ علیہا کے بغیر کوئی خاتون اس مقام کو نہ پہنچ سکی ہے ۔(1)
حضرت ختیجہ کبری سلام اللہ علیہا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سے پہلے ھند بن بناس تمیمی معروف بہ ” ابوھالہ ” اور اسکے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے نکاح میں تھی ۔اور ان دونوں سے اولادیں تھیں ۔دوسرے شوھر کے مرنےکے بعد حضرت ختیجہ کبری سلام اللہ علیہا نے اپنی درایت اور عقلمندی سے تجارت کو کافی فروغ دیا اور عرب کی سرمایہ دار ترین فرد بن کر ابھری اور تجارت کے کافلوں کے کافلے شام وغیرہ بھیجا کرتی تھی ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنے چاچاحضرت ابو طالب کے کہنےپر حضرت ختیجہ (س) کے تجارت میں شرکت کی اور حضرت ختیجہ کبری (س) کیلۓ کافی منافع کما کے دیااور ان کے دل میں آنحضرت کے نسبت محبت پیدا ہوئی اور آخر کار دونوں کا آپس میں نکاح ہوا ۔
حضرت ختیجہ کبری (س) کا پیغمبر (ص) کے نسبت خاص محبت تھی اور جب آنحضرت مبعوث بہ رسالت ہوۓ تو اپنا سارا سرمایہ آنحضرت کے اختیار میں دیا تاکہ اسلام کے کام آجاے ۔وہ پہلی خاتون ہیں جس نے سب سے پہلے ایمان لایا اور اس راہ میں قریش کی طرف سے ڈھاۓ جانے والے مصائب تحمل اور بردباری کے ساتھ برداشت کۓ ۔(3)
جب تک زندہ تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے دل کا سکون اور یار و یاور تھی اور شعب ابیطالب میں جلاوطنی کے شدید ترین دورمیں آنحضرت کا ساتھ نہ چھوڑا اور تمام وجود کے ساتھ انکی حمایت کرتی رہی ۔
آخر کار یہ فداکارخاتون 25 سال رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور اسلام کی خدمت میں رہ کر شعب ابی طالب میں قریشوں کے محاصرے سے نکل کر مکہ معظمہ میں دس رمضان بعثت کی دسویں سال میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر اعلی علیین کو عروج کرگئ ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کم مدت میں دو عظیم حامی ابوطالب (ع)اور ختیجہ کبری(س) کو کھو بیٹھے اور اس وجہ سے کافی غمگین تھے ۔اور اس سال کو عام الحزن (غم کا سال ) نام دیا گيا۔
حضرت ختیجہ کے بدن مطہر کے غسل و کفن کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے انہیں حجون مکہ میں دفن کیا ۔ (4)
حضرت ختیجہ کبری (س) کے پیغمبر اسلام (ص) سے چھے فرزند دو بیٹے قاسم اور عبداللہ جو کہ طیب اور طاھر کے نام سےمعروف ہیں اور بیٹیاں زینب ، رقیہ ،ام کلثوم اور حضرت فاطمہ زھراء تھے ۔(5) ان فرزندان میں حضرت فاطمہ زھراء(س) بعثت کے بعد پیدا ہوئی اور وحی کی فضا میں آنکھیں کھولی ہیں ۔
پیغبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت ختیجہ (س) کے بارے میں فرمایا: خدا کی قسم میرے لۓ پروردگار نے ختیجہ سے بہتر کسی کو نصیب نہ کیا کیونکہ جب لوگ کفرمیں تھے اس نے مجھ پر ایمان لایا ، جب لوگ مجھے جٹھلاتے تھے،وہ میری تصدیق کررہی تھی؛ جب لوگوں نے مجھے محروم کیا اس نے اپناسارا سرمایہ میرے اختیار میں رکھا۔ خدا نے اسکے ذریعہ مجھے اولاد عطا کۓ جبکہ دوسری بیویوں سے یہ کچھ نصیب نہ ہوا ۔ (6
خواجہ نظام الملک کاانتقال
10 رمضان المبارک سنہ 485 ھ ق کو سلسلۂ سلجوقی کے معروف وزير اور مشہور زمانہ کتاب " سیاست نامہ " کے مصنف خواجہ نظام الملک کاانتقال ہوا۔
وہ سنہ 410 ھ ق میں ایران کے شہر طوس میں پیدا ہوئے اور 40 سال تک سلجوقی دربار سے وابستہ رہے ۔ خواجہ نظام الملک نے اس مدت میں بغداد کے مدرسۂ نظامیہ کی طرز پر مدارس قائم کئے جن میں تقریبا" چھ ہزار طلبہ فقہ اور تفسیر قرآن اور اس زمانے میں رائج دیگر علوم کی تعلیم میں مصروف تھے ۔
نظام الملک کی اہم ترین کتاب " سیاست نامہ " یا " سیر الملوک " ہے جو 51 ابواب پر مشتمل ہے اور تاریخی موضوعات سے پر ہے
۔( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )