حضرت سلمان رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں ایک خطبہ دیا، جس میں آپ نے ارشاد فرمایا :
وَہوَ شَہرٌ اَوَّلُہ رَحْمَہ وَ اَوْسَطُہ مَغْفِرَہ وَآخِرُہ عِتْقٌ مِنَّ النَّارِ. (ابن خزيمہ)
’’یہ ایک مہینہ ہے، جس کا ابتدائی حصہ رحمت، اور درمیانی حصہ مغفرت کے لئے ہے اور تیسرے حصہ میں دوزخ سے رہائی عطا کر دی جاتی ہے‘‘۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَن صَامَ رمضانَ اِیماناً و اِحتساباً غُفِرَ لَہُ مَا تَقّدَمَ مِن ذَنبِہِ :::
جِس نے اِیمان اور(بخشش کی) اُمید کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اُس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو وہ آگے بھیج چُکا ہے ۔ صحیح البُخاری ، حدیث ، ٢٠١٤
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے
الصَّلوَاتُ الخَمس و الجُمعَۃُ اِلیٰ الجُمعَۃِ(و رَمضَانُ اِلیٰ رَمضَانُ) مُکفَّراتٌ مَا بینَھُنَّ اِذااجتَنَبتَ الکَبائِر
پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک ( اور رمضان سے رمضان تک کا وقت چھوٹے گناہوں میں سے ) جو کُچھ اِن (اوقات) کے درمیان ہے اُس کا کفارہ ہے ،(بشرطیکہ)تُم کبیرہ گناہوں سے بچے رہے ۔صحیح مُسلم ، حدیث ، ٢٣٣
مسلمانوں کو ھر رمضان میں اپنی مغفرت کا ایک بہت بڑا موقع ملتا ہے ، کہ ایک نماز سے لےکر دوسری نماز تک جو گُناہ ہوئے ہیں وہ معاف کروا سکیں ۔ کیونکہ آنے والی نماز اِن گناہوں کا کُفارہ ہو جاتی ہیں ۔ اِسی طرح ایک جمعہ سے اگلے جمعہ تک اور پھر رمضان سے رمضان تک جو صغیرہ یعنی چھوٹے گُناہ ہوئے ہیں وہ معاف ہو سکتے ہیں ، کیونکہ آنے والا جمعہ یا رمضان گُزر ے ہوئے وقت کے گُناہوں کا کُفارہ ہو گا ، مگر ایک شرط ہے کہ اِس عرصہ میں کبیرہ یعنی بڑے گناہوں سے بچا جائے ۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اِذا کانَت اوَّلُ لَیلَۃٍ مِن رَمضَانِ ، صُفِّدَتِ الشَّیَاطِینُ وَ مَردَۃَ الجِنِّ ، وَ غُلِّقت ابوابُ النَّارِ ، فَلَم یُفتَحَ مِنھَا بابٌ وَ فُتِّحت ابوابُ الجَنَّۃِ ، فَلَم یُغلَقُ مِنھَا بابٌ ، وَ نَادَی مُنَادٍ ، یَا باغی الخَیرِ اقبل ، یَا باغی الشَّرِّ اقصِر ، وَ لِلَّہِ عُتَقَاءُ مِن النَّارِ ، وَ ذَلِکَ فِی کُلِّ لَیلَۃٍ
جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سر کشّ جنّوں کو باندھ دِیا جاتا ہے ، اور آگ ( یعنی جہنم ) کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں پھر اُن میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا ( یعنی رمضان میں ) اور جنّت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، پھر اُن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ، اور آواز دینے والا آواز دیتا ہے ( یعنی اللہ کی طرف سے کِسی فرشتے کے ذریعے آواز دی جاتی ہے ) اے خیر کے چاہنے والے آگے بڑھ ، اے شر کے چاہنے والے باز آ ، اور اللہ ہر رات میں لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے ۔ سُنن ابن ماجہ ، حدیث ، ١٦٤٢ ، اِمام اللبانی نے اِس حدیث کو صحیح قرار دِیا ۔ سُنن النسائی ، حدیث ، ٦٨٢ ۔
سوچنے کی بات یہ ھے کہ اگر ہم اِس مُقدس مہینے میں جنّت کے کُھلے دروازوں سے بھی اندر نہ جا سکیں تو کتنی بد بختی ہے ۔ اللہ پاک کی طرف سے تو مغفرت اور رحمت کا ہر سبب مہیا کر دیا جاتا ہے ، شیطانوں کو باندھ دِیا جاتا ہے ، پھر ہمارے اپنے نفوس کی شر انگیزی ہی رہ جاتی ہے جو ہمیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی پراُکساتا ہے بلکہ نافرمانی کرواتا ہے ۔
گیارہویں دن کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیَّ فِیہِ الْاِحْسانَ وَکَرِّہْ الَیَّ فِیہِ الْفُسُوقَ وَالْعِصْیانَ
اے معبود! آج کے دن نیکی کو میرے لئے پسندیدہ فرما دے اس میں گناہ و نا فرمانی کو میرے لئے نا پسندیدہ بنا دے
وَحَرِّمْ عَلَیَّ فِیہِ السَّخَطَ وَالنِّیرانَ، بِعَوْ نِکَ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِین
اور اس میں غیظ و غضب کو مجھ پر حرام کر دے اپنی حمایت کے ساتھ اے فریادیوں کے فریاد رس۔َ
گیارہ رمضان کے اہم واقعات
ابراہیم کر کی کا انتقال
11 رمضان المبارک 853 ہجری کو مسلمان محدث ادیب اور مورخ ابراہیم کر کی، مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں وفات ہوئی ۔انہوں نے قرآن سیکھنے اور ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، اعلیٰ تعلیم کے لئے مختلف علمی اور دینی مراکز کی طرف رجوع کیا ۔
یہاں تک کہ فقہ اور ادبیات میں کافی مہارت حاصل کرلی ۔ابراہیم کرکی نے مختلف کتابیں بھی لکھیں جن میں قرآنی علوم پر کتاب " اعراب المفصل " خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔
( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )