قرآن مقدس ماہ رمضان میں میں نازل ہوا ۔۔
قران پاک کے بارے میں قرانی آیات
1. الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيہ ہدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ
”الف لام میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے“(الْبَقَرَہ ، 2 : 1، 2 )
2. وَانْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَاتُواْ بِسُورَہ مِّن مِّثْلِہ وَادْعُواْ شُہدَاءَكُم مِّن دُونِ اللّہ انْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ، اور (اس کام کے لئے بیشک) اللہ کے سوا اپنے (سب) حمائتیوں کو بلا لو اگر تم (اپنے شک اور انکار میں) سچے ہو “(الْبَقَرَہ ، 2 : 23 )
3. انَّ اللَّہ لاَ يَسْتَحْيِي ان يَّضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَہ فَمَا فَوْقَہا فَامَّا الَّذِينَ آمَنُواْ فَيَعْلَمُونَ انَّہ الْحَقُّ مِن رَّبِّہمْ وَامَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَيَقُولُونَ مَاذَا ارَادَ اللَّہ بِہـذَا مَثَلاً يُضِلُّ بِہ كَثِيراً وَّيَہدِي بِہ كَثِيراً وَمَا يُضِلُّ بِہ الاَّ الْفَاسِقِين
بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ (سمجھانے کے لئے) کوئی بھی مثال بیان فرمائے (خواہ) مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بھی بڑھ کر ہو، تو جو لوگ ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے رب کی طرف سے حق (کی نشاندہی) ہے، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا وہ (اسے سن کر یہ) کہتے ہیں کہ ایسی تمثیل سے اللہ کو کیا سروکار؟ (اس طرح) اللہ ایک ہی بات کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے صرف انہی کو گمراہی میں ڈالتا ہے جو (پہلے ہی) نافرمان ہیں “(الْبَقَرَہ ، 2 : 26 )
4. الَّذِينَ آتَيْنَاہمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَہ حَقَّ تِلاَوَتِہاُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِہ وَمن يَكْفُرْ بِہفَ اوْلَـئِكَ ہمُ الْخَاسِرُونَ
(ایسے لوگ بھی ہیں) جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسے پڑھنے کا حق ہے، وہی لوگ اس (کتاب) پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو اس کا انکار کر رہے ہیں سو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں “(الْبَقَرَہ ، 2 : 121 )
5. رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيہمْ رَسُولاً مِّنْہمْ يَتْلُو عَلَيْہمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُہمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَت وَيُزَكِّيہمْ انَّكَ انتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ
اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے “(الْبَقَرَہ ، 2 : 129 )
6. كَمَا ارْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَہ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ
اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسًا و قلبًا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اَسرارِ معرفت و حقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے “(الْبَقَرَہ ، 2 : 151 )
7. شَہرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ انزِلَ فِيہ الْقُرْآنُ ہدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْہدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَہدَ مِنكُمُ الشَّہرَ فَلْيَصُمْہ وَمَن كَانَ مَرِيضًا اوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّہ مِّنْ اَيَّامٍ اخَرَ يُرِيدُ اللّہ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّہ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّہ عَلَى مَا ہدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ “(الْبَقَرَہ ، 2 : 185 )
8. كَانَ النَّاسُ امَّہ وَاحِدَہ فَبَعَثَ اللّہ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَانزَلَ مَعَہمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُواْ فِيہ وَمَا اخْتَلَفَ فِيہ الاَّ الَّذِينَ اوتُوہ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْہمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَہمْ فَہدَى اللّہ الَّذِينَ آمَنُواْ لِمَا اخْتَلَفُواْ فِيہ مِنَ الْحَقِّ بِاذْنِہ وَاللّہ يَہدِي مَن يَشَاءُ اِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(ابتداء میں) سب لوگ ایک ہی دین پر جمع تھے، (پھر جب ان میں اختلافات رونما ہو گئے) تو اﷲ نے بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبروں کو بھیجا، اور ان کے ساتھ حق پر مبنی کتاب اتاری تاکہ وہ لوگوں میں ان امور کا فیصلہ کر دے جن میں وہ اختلاف کرنے لگے تھے اور اس میں اختلاف بھی فقط انہی لوگوں نے کیا جنہیں وہ کتاب دی گئی تھی، باوجود اس کے کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آچکی تھیں، (اور انہوں نے یہ اختلاف بھی) محض باہمی بغض و حسد کے باعث (کیا) پھر اﷲ نے ایمان والوں کو اپنے حکم سے وہ حق کی بات سمجھا دی جس میں وہ اختلاف کرتے تھے، اور اﷲ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما دیتا ہے (الْبَقَرَہ ، 2 : 213 )
9. ہوَ الَّذِي انزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْہ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ ہنَّ امُّ الْكِتَابِ وَاخَرُ مُتَشَابِہاتٌ فَامَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِہمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہ مِنْہ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَہ وَابْتِغَاءَ تَاوِيلِہ وَمَا يَعْلَمُ تَاوِيلَہُ الاَّ اللّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ الاَّ اوْلُواْ الْاَلْبَابِ
وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جس میں سے کچھ آیتیں محکم (یعنی ظاہراً بھی صاف اور واضح معنی رکھنے والی) ہیں وہی (احکام) کتاب کی بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ (یعنی معنی میں کئی احتمال اور اشتباہ رکھنے والی) ہیں، سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اس میں سے صرف متشابہات کی پیروی کرتے ہیں (فقط) فتنہ پروری کی خواہش کے زیرِ اثر اور اصل مراد کی بجائے من پسند معنی مراد لینے کی غرض سے، اور اس کی اصل مراد کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور علم میں کامل پختگی رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، ساری (کتاب) ہمارے رب کی طرف سے اتری ہے، اور نصیحت صرف اہلِ دانش کو ہی نصیب ہوتی ہے(“آل عِمْرَان ، 3 : 7 )
10. ذَلِكَ نَتْلُوہ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
یہ جو ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں (یہ) نشانیاں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے ( آل عِمْرَان ، 3 : 58. آل )
چودھویں دن کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ لاَ تُؤاخِذْنِی فِیہِ بِالْعَثَراتِ وَاقِلْنِی فِیہِ مِنَ الْخَطایا وَالْھَفَواتِ
اے معبود! آج کے دن لغزشوں پر میری گرفت نہ فرما اس میں میری خطاؤں اور فضول باتوں سے درگزر کر اور آج مجھ
وَلاَ تَجْعَلْنِی فِیہِ غَرَضاً لِلْبَلایا وَالْاَفاتِ، بِعِزَّتِکَ یَا عِزَّ الْمُسْلِمِینَ ۔
کو مشکلوں اور مصیبتوں کا نشانہ قرار نہ دے بواسطہ اپنی عزت کے اے مسلمانوں کی عزت۔
چودہ رمضان کے اہم واقعات
محدث ابن مغازلی کا انتقال
14 رمضان المبارک سنہ 542 ھ ق کو مسلمان فقیہ اور محدث ابن مغازلی کا انتقال ہوا ۔ وہ سنہ 457 ھ ق میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے عراق میں عظیم علماء سے تعلیم حاصل کی ۔
ابن مغازلی کو اسلامی علوم و معارف میں سے علم حدیث میں بہت زيادہ دلچسپی تھی ۔انہوں نے اپنی زندگی کا زيادہ تر حصہ واسط اور بغداد شہر میں حدیث نقل کرنے میں گزارا ۔ انہوں نے اپنے اسلاف کے آثار کو بھی نقل کیا ہے جن میں ان کے والد کی مناقب بھی شامل ہیں ۔
ابن مغازلی کے تحریری آثار میں صرف حدیث پر ایک کتاب دمشق کے کتب خانے " ظاہریہ " میں قلمی نسخے کی صورت میں محفوظ ہے ۔
حکیم شمس الدین بہبہانی کا انتقال
14 رمضان سنہ 1248 ہجری کو ایران کے مشہور دانشور اور حکیم شمس الدین بہبہانی نے وفات پائي ۔بہبہانی نے نوجوانی میں محقق بہبہانی اور علّامہ طباطبائي جیسے علماء سے کسب فیض کیا ۔وہ عظیم فقیہ اور عارف تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی کا زيادہ تر حصہ تحقیق و تصنیف میں گزارا ۔شمس الدین بہبہانی نے " ، " پر تفصیلی شرح لکھی اور حکمت و اصول میں کئی کتابیں بھی تحریر کی ہیں
۔( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )