15.10.2026, 02:51pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

آج 15 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
24.07.2013, 01:22am , بدھ (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی
قران پاک کو پڑھنے اور سمجھنے والوں کے فضائل

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

وہ مومن بندہ جو تلاوتِ قرآن کرتا ہے اس کی مثال مالٹا کی طرح (عرب کے ایک) لذیذ پھل کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی خوش کن اور مزہ بھی اچھا ہوتا ہے۔

 اور وہ مومن بندہ جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال سوکھی کھجور (چھوہارہ) کی طرح ہے جس میں خوشبو تو نہیں ہوتی لیکن ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ اور فاجر (بدکار) جو قرآنِ پاک پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ (گلاب کے پھول) کی سی ہے کہ اس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔

اور قرآن پاک کی تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال حنظلہ (تمہ) کی سی ہے کہ اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور خوشبو بالکل نہیں ہوتی۔ اور نیک صالح شخص کے پاس بیٹھنے والے کی مثال خوشبو فروش (عطار) کے پاس بیٹھنے والے کی سی ہے کہ تجھے اس سے کچھ بھی نہ ملے تو اس کی خوشبو تو تجھے ضرور پہنچے گی۔

 اور برے آدمی کے پاس بیٹھنے والے کی مثال بھٹی والے (لوہار) کے پاس بیٹھنے والے کی طرح ہے کہ اگر اس کی کالک تجھے نہ بھی پہنچے تو کم از کم اس کا دھواں تو تیرے ناک میں ضرور داخل ہوگا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

 حسد (رشک) تو بس دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے: پہلا وہ شخص جسے اﷲ تعالیٰ نے قرآن (پڑھنا و سمجھنا) سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے اس کا پڑوسی اسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش! مجھے بھی اس کی مثل قرآن عطا کیا جاتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔

 اور دوسرا وہ شخص جسے اﷲ تعالیٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے اﷲ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتا ہے۔ دوسرا شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے ۔ کاش! مجھے بھی اتنا مال ملتا جتنا اسے ملا ہے تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

 جس نے اﷲ تعالیٰ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا، اس کے لئے اس کے بدلہ میں ایک نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (گویا صرف الم پڑھنے سے تیس نیکیاں مل جاتی ہیں)۔

حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

 اللہ رب العزت فرماتا ہے: جس شخص کو قرآن اور میرا ذکر اتنا مشغول کردے کہ وہ مجھ سے کچھ مانگ بھی نہ سکے تو میں اسے مانگنے والوں سے بھی زیادہ عطا فرما دیتا ہوں۔ اور تمام کلاموں پر اﷲ تعالیٰ کے کلام (قرآن حکیم) کی فضیلت اسی طرح ہے جس طرح اﷲ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر( فضیلت ہے)۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

 قیامت کے روز روزہ اور قرآن دونوں بندہ کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے) اور (دوسری) نفسانی خواہشات سے روکے رکھا، پس تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا پس اس کے متعلق میری شفاعت کو قبول فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

پندرہویں دن کی دعا:

 بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے

 اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ طاعَہ الْخاشِعِینَ، وَاشْرَحْ فِیہِ صَدْرِی بِانابَہ
 
 اے معبود! آج کے دن مجھے خاشعین کی سی اطاعت نصیب فرمااور اس میں دلدادہ لوگوں ایسی بازگشت کیلئے میرا سینہ
 
الْمُخْبِتِینَ، بِامانِکَ یَا امانَ الْخائِفِینَ ۔

کھول دے اپنی پناہ کے ساتھ اے خوف زدوں کی پناہ۔

پندرہ رمضان کے اہم واقعات

حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت باسعادت کامبارک دن

مکمل نام  حسن ابن علی
ترتیب  دوم
جانشین  حسین علیہ السلام
تاریخ ولادت  15 رمضان، 03 ہجری
کنیت  ابو القاسم
والد  علی علیہ السلام
والدہ  فاطمہ بنت محمد
تاریخ وفات  28 صفر، 50 ہجری
جائے وفات  مدینہ منورہ، جزیرہ نمائے عرب
وجۂ وفات  شہادت

امام حسن علیہ السلام  امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے بیٹے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکے بطن مبارک سے تھے۔ حضرت اما حسین علیہ السلام آپ کے چھوٹے بھائی تھے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بارھا فرمایا تھا کہ حسن و حسین علیہ السلام میرے بیٹے ھیں اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام اپنے تمام بیٹوں سے فرمایا کرتے تھے: تم میرے بیٹے ھو اور حسن و حسین علیہ السلام رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے ھیں۔( مناقب ابن شھر آشوب ، ذخائر العقبی)

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت پندرہ رمضان  3ھء مدینہ میں ھوئی تھی۔ انھوں نے سات سال اور کچھ مھینے تک اپنے نانا (رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ  کی وفات سے تین یا چہ مھینے پہلے ھوئی، آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آگئے تھے۔

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد خدا کے حکم اور حضرت علی علیہ السلام کی وصیت کے مطابق امامت کے درجے پر فائز ھوئے اور ساتھ ساتھ ظاھری خلافت کے عہدیدار بھی بنے۔

تقریباًچھ ماہ تک آپ مسلمانوں کے خلیفہ رھے اور امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالے رھے۔ اسی مدت میں معاویہ جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ  اور آپ کے خاندان کا سخت ترین دشمن تھا اور کئی سال سے خلافت کی حرص و خواھش میں (سب سے پہلے خلیفہ سوم کے خون کے بدلے کے بہانے اورآخر کار خلافت کا دعویدار ھونے کی وجہ سے) اس نے کئی جنگیں بھی کی تھیں اور کئی بار عراق پر چڑھائی کی تھی جو اس زمانے میں امام حسن علیہ السلام کا دار الخلافہ تھا۔

 اس طرح آپ سے بھی جنگ شروع کر رکھی تھی۔ دوسری طرف اس نے امام حسن(ع) کے فوجی جرنیلوں اور سپاہیوں کو بہت زیادہ پیسہ اور مستقبل کے جھوٹے وعدے دے کر اپنے ساتھ ملالیا تھا۔ اس طرح اس نے ان کو امام حسن(ع) کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرلیا تھا۔

آخر کار امام حسن علیہ السلام صلح پر مجبور ھوکر اس شرط پر ظاہری خلافت سے دست بردار ھو گئے کہ امیر معاویہ کے مرنے کے بعد خلافت دوبارہ حضرت امام حسن علیہ السلام کو واپس مل جائے گی اور اس کے ساتھ ہی ان کے خاندان اور طرفداروں کے لئے کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں گی۔

امیر معاویہ نے اسلامی خلافت پر قبضہ کرلیا اور عراق میں داخل ھو کر ایک عام سرکاری تقریر میں صلح کی شرائط کو منسوخ کردیا۔ اس نے ہر ممکن ذریعے سے فائدہ اٹھاتے ھوئے اھل بیت(ع) اور ان کے طرفداروں پر سختیاں شروع کردیں۔

امام حسن علیہ السلام نے اپنی امامت کے تمام عرصے میں جو کہ دس سال کا تھا، بہت ھی سیاسی گھٹن اور سختی میں زندگی گزاری۔ ان کے لئے یا ان کے خاندان حتی کہ ان کے گھر کے اندر بھی ان کے لئے جائے امن نہ تھی۔ آخر کار  50ھ میں معاویہ کے اکسانے پر آپ کی بیوی (جعدہ) نے آپ کو زہر دے کر شھید کر دیا۔

امام حسن علیہ السلام انسانی کمالات میں اپنے والد گرامی کا کامل نمونہ اور اپنے نانا بزرگوار کی نشانی تھے۔ جب تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ رھے آپ اور آپ کے بھائی (امام حسین علیہ السلام) ھمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس رہتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھی ان کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیا کرتے تھے۔

اقوال حضرت امام حسن علیہ السلام

1۔ مجھے تعجب ھے اس شخص پر کہ جو جسمانی غذا کے متعلق توغور و فکر کرتا ھے لیکن روحانی غذا کے لئے نہیں ۔ نقصان دہ غذاؤں کو اپنے شکم سے دور رکھتا ھے لیکن ھلاک کرنے والے مطالب کو اپنے قلب میں جگہ دیتا ھے “۔

2 ۔ رشتہ داروں میں قریب ترین افراد وہ ھیں جن کے اندر محبت زیادہ ھے اگر چہ نسب کے لحاظ سے دور ھوں ۔ اور رشتہ داروں میں دورترین افراد وہ ھیں جن کے اندر محبت کم ھے اگر چہ وہ نسب کے لحاظ سے قریب ھوں “

 3 ۔ انسان کی پستی و ذلت یہ ھے کہ نعمت کا شکر ادا نہ کرے “ ۔

4 ۔” ذلت دوزخ کی آگ سے بہتر ھے “۔

5 ۔ ایک خیر ایسا ھے جس میں کسی طرح کا کوئی شر نہیں ھے : وہ یہ ھے کہ نعمت ملنے پر شکر ،اور مصیبت کے وقت صبر کیا جائے۔

6 ۔ کوئی بھی گروہ اپنے امور میں ایک دوسرے سے مشورہ نہیں کرتا مگر یہ کہ اس میں انکے لئے خیر و صلاح ھو “۔

دانشور ابوبکر محمد بن عباس خوارزمی کا انتقال

15 رمضان سنہ 383 ھ ق کو معروف ادیب اور دانشور ابوبکر محمد بن عباس خوارزمی نے ایران کے شمال مشرقی شہر  نیشابور میں وفات پائی ۔وہ بہت قوی حافظے کے مالک تھے اور عربوں کی تاریخ اور اشعار حفظ کرنے میں بہت زيادہ صلاحیت رکھتے تھے ۔ ابوبکر خوارزمی کے تحریری آثار میں رسائل نامی کتاب باقی ہے جس کو عربی ادب میں خاص اہمیت حاصل ہے ۔

 عالم و فقیہ زین الدین بن علی کی شہادت

15 رمضان سنہ 965 ھ ق کو عظیم عالم و فقیہ زین الدین بن علی شہید ہوئے ۔وہ شہید ثانی کے لقب سے معروف تھے ۔شہید ثانی سنہ 911 ھ ق میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کے پاس تعلیم حاصل کرنی شروع کی ۔

اس کے بعد انہوں نے مختلف شہروں کا سفر کیا اور ممتاز علماء سے کسب فیض کیا جس کے نتیجے میں فقہ ، حدیث ، منطق اور فلسفے میں بہت مہارت حاصل کرلی ۔انہوں نے تقریبا" 70 کتابیں تحریر کیں ۔شہید ثانی کا بلند علمی مقام ان کے دشمنوں کے لئے بغض و حسد کا باعث بنا اور بالآخر ان کو شہید کردیا ۔

( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )


:دیگر مضامین
(23.07.2013) آج 14 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(18.07.2013) ماہ صیام اور محمد ّو آل محمد ّ۔استقبال رمضان پر سید اکمل حسین کی خصوصی تحریر
(14.07.2013) آج 5 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(13.07.2013) ماہ صیام کے موسم بہار میں قران پاک میں لکھی دعاؤں کا منظوم نذرانہ
(13.07.2013) آج 4 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(12.07.2013)  ماہ صیام کے موسم بہار میں قران پاک میں لکھی دعاؤں کا منظوم نذرانہ
(10.07.2013) ماہ صیام کے موسم بہار میں قران پاک میں لکھی دعاؤں کا منظوم نذرانہ
(10.07.2013) اس سال 2013 میں روسی مسلمان سب سے طویل یعنی بائیس گھنٹے کا روزہ رکھیں
(10.07.2013) آج یکم رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(09.07.2013) رمضان کی فیضلت معصومین کے فرامین کی روشنی میں ۔از؛سید اکمل حسین ۔لندن
(09.07.2013)  روزے کی جسمانی و نفسیاتی افادیت ۔۔۔۔میاں امجد ۔فرانس
(08.07.2013) رمضان کا احسان ہے رمضان مہربان۔اویس قادری
(08.07.2013) چاند رمضان کا جب نظر آ گیا
(07.07.2013) کون کہتا ہے سحر نہیں ہو گی ۔۔۔از۔۔۔فرخندہ رضوی
(06.07.2013) انجمن تخلیق و تہذیب کویت نے عالمی مشاعرے کی ڈی وی ڈی سفیر پاکستان کو پیش کی
(04.07.2013) انجمن تخلیق و تہذیب کویت کے عالمی مشاعرے کی ڈی وی ڈی سفیر پاکستان کو پیش کر دی گئی
(04.07.2013) مرحومہ عظمیٰ صبوحی سحر کے شعری مجموعے۔۔اب سحر نہیں ہو گی۔۔۔۔کی تقریب اجراء
(01.07.2013) فرخندہ رضوی کے شعری مجموعہ [زیر لب خندہ] کی کامیاب تقریب اجرا
(29.06.2013) سخن گو فرخندہ رضوی کے شعری مجموعہ [زیر لب خندہ] کی تقریب اجرا
(24.06.2013) امامت تنہا ظاہری طورپرحکومت کرنے کامنصب نہیں ہے۔از۔سید اکمل حسین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں