قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے چند آداب
رمضان کا مہینہ قرآن کریم کا موسم ہے اورتلاوت ِقرآن کے کچھ آداب ہیں جن کا تلاوت کے وقت پاس ولحاظ رکھنا ضروری ہے تاکہ تلاوت اللہ تعالی کے یہاں مقبول ہو اور ثواب کا باعث ہو.
1۔تلاوت قرآن کریم کے اندر اخلاص وللہیت ہو یعنی اس کا مقصد اللہ تعالی کی خوشنودی اور ثواب ہوکیوں کہ تلاوت یہ عبادات میں سے ہے ، اور اللہ تعالی نے عبادتوں سے متعلق فرمایا:(وَماَ اُمِرُوْااِلاَّلِیَعْبُدُ وْا اللّہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ)٫٫اور انہیں حکم تو یہی دیا گیا ہے کہ وہ خالص اللہ کی عبادت کریں اسی کیلئے دین کو خالص رکھیں،،(سورئہ بینہ:٥).
2۔ حدث سے پاک ہو کر تلاوت کرے (یعنی باوضوہو ) خواہ وہ حدث چھوٹا ہو یا بڑاکیوں کہ باوضو قرآن کی تلاوت کرنے میں اللہ کے کلام کی تعظیم اور احترام ہے. ارشادباری تعالی ہے (لاَیَمَسُّہُ اِلاَّ الْمُطَہَّرُوْنَ)٫٫ اسے صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں،،(سورئہ واقعہ:٧٩).
3۔ تلاوت سے پہلے ٫٫اَعُوْذُبِاللّہِ مِنَ الشَّیْطاَنِ الرَّجِیْمِ،،پڑھے اور اگر کسی سورت کی ابتداء سے پڑھے تواَعُوْذُبِاللّہ کے بعد ٫٫بِاسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْمِ،، پڑھے سوائے سورئہ توبہ کے۔
4۔ قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرے ارشاد باری تعالی ہے( وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً)٫٫اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کیجئے ،،(سورئہ مزمل:٤).
5۔بہتر یہ ہے کہ تلاوت کے وقت قبلہ رخ ہو کیوں کہ یہ سمت سب سمتوں سے افضل ہے .
6۔اچھی آواز میں تلاوت کرنے کی کوشش کرے کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫اللہ تعالی نے نبی کو کسی دوسری چیز کیلئے ویسی اجازت نہیں دی جسطرح قرآن کو ترنم ،اچھے طرزو با آواز بلند پڑھنے کی اجازت دی ہے ،،(صحیح مسلم کتاب صلاہ المسافرین باب:٣٤حدیث:٢٣٣ )
7 ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫ زینوا القرآن باصواتکم،،٫٫قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو،،(سنن ابو داؤد کتاب الوتر باب:٢٠ حدیث:١٤٦٨)
8۔ پڑھتے وقت ہر حرف کی ادائیگی کا حق ادا کرے تاکہ لفظ پورا ہونے پر کلام واضح ہوجائے کیوں کہ ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اس کیلئے ایک نیکی ہے اور وہ نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے (ترمذی کتاب فضائل القرآن باب:١٦حدیث:٢٩١٠)
9۔ قرآن کریم کو تجوید کے قواعد کے مطابق پڑھے .
10۔آیت سجدہ سے گزرے تو سجدہ کرے ،سجدئہ تلاوت کی یہ دعا ہے ٫٫سَجَد َوَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ، وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ فَتَباَرَکَ اللَّہُ اَحْسَنُ الْخاَلِقِیْنَ،،(ترمذی کتاب الدعوات باب: ٣٣حدیث: ٣٤٢٥، اور حاکم نے اسے روایت کرکے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی اور یہ زائدلفظ ٫٫فَتَباَرَکَ اللَّہُ اَحْسَنُ الْخاَلِقِیْنَ،،بھی حاکم کے ہیں).
11۔گندی جگہوں میں یا ایسے مجمعوں میں نہ پڑھے جہاں قرآن کی تلاوت کے وقت لوگ خاموش نہ رہیں کیوں کہ ایسی جگہوں میں قرآن کی تلاوت اس کی توہین ہے .
12۔قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے مسواک کرکے اپنا منہ پاک وصاف کرلے .\
13۔ رحمت کی آیت کے وقت اللہ تعالی سے رحمت طلب کرے اور عذاب کی آیت کے وقت اللہ تعالی سے اس کی پناہ طلب کرے.
14۔خشوع وخضوع ، اطمینان ووقار کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرے .
15۔تلاوت کے وقت آیتوں کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرے ، غور وفکر اور تدبر کے ساتھ پڑھے ارشاد باری تعالی ہے ( وَلَقَدْ یَسَّرْناَ الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِفَہَلْ مِنْ مُدَّکِرْ)٫٫اور بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کیلئے آسان کردیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنی والاہے ؟،،( سورئہ قمر:١٧)
16۔ ایسی باتوں کیلئے تلاوت کو منقطع نہ کرے جن کا کوئی فائدہ نہ ہو.
اللہ ہم سب کو تلاوت قرآن کریم کے آداب کا پاس ولحاظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین یارب العالمین.
سولہویں دن کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنِی فِیہِ لِمُوافَقَہ الْاَ بْرارِ، وَجَنِّبْنِی فِیہِ مُرافَقَہ الْاَشْرارِ
اے معبود! آج کے دن مجھے نیکوں سے سنگت کرنے کی توفیق عطا فرما اس میں مجھ کو بروں کے ساتھ سے بچائے رکھ
وَآوِنِی فِیہِ بِرَحْمَتِکَ الی دارِ الْقَرارِ، بِاِلھِیَّتِکَ یَا الہَ الْعالَمِینَ ۔
اور اس میں اپنی رحمت سے مجھے دار القرار میں جگہ عطا فرما بواسطہ اپنی معبودیت کے اے جہانوں کے معبود۔
سولہ رمضان کے اہم واقعات
محدث ابن زملکانی کاانتقال
16 رمضان سنہ 727 ھ ق کو دمشق کے معروف ادیب ، فقیہ اور محدث ابن زملکانی نے وفات پائی ۔انہوں نے اپنے دور کے معروف علما اور اساتذہ سے کسب فیض کیا اور بیس سال کی عمر میں فتویٰ دینے کی اجازت حاصل کرلی ۔
ابن زملکانی نے مختلف عہدوں پر فائز رہتے ہوئے درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور دمشق کے بہت سے مدرسوں میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ ان کی کتابوں میں السلوک المعرفۃ الملوک کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔ یہ کتاب مصر کی تاریخ سے متعلق ہے ۔
مورخ تقی الدین ابوالعباس مقریزی کا انتقال
16 رمضان سنہ 845 ھ ق کو معروف دانشور اور مورخ تقی الدین ابوالعباس مقریزی نے وفات پائی ۔ وہ قاہرہ میں پیدا ہوئے تھے ۔ انہوں نے حصول علم کی خاطر عالم اسلام کے اہم شہروں کا دورہ کیا اور مختلف دینی علوم میں مہارت حاصل کی ۔
وہ ایک عرصے تک قاہرہ میں قاضی کے عہدے پر فائز رہے ۔ مقریزی کو تاریخ میں بہت زيادہ دلچسپی تھی اور اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں ۔