صفدر بھائی کی فر مائش تھی ہی ،اب بہن نگہت کی بھی فر مائش آگئی اور ہمارے یہاں روایات یہ ہیں کہ بھائی کی بات
کوتو ایک وقت ٹال دیتے ہیں۔ مگر بہنوں کا مان نہیں توڑتے۔
لہذا قلم اٹھانا پڑا۔
پہلے ہندوستان سے شروع کر تے ہیں جو ہماری جنم بھومی تھی۔جب ہم نے آنکھ کھولی اور پھر کچھ ہوش سنبھالا تو یہ دیکھا کہ سب لوگ نقارے کی آواز پر جاگ جاتے ہیں اور خلاف معمول منہ اندھیرے تک کچھ کھا پی کر اور فجر کی نمازپڑھ کر سو جاتے ہیں۔
اس اسپیشل کھانے میں بچوں کو صرف ایک چیز پسند تھی اور وہ تھی بریڈ دودھ میں بھیگی ہو ئی، جو رات کو بھگو دی جاتی اور سحری میں سب کھانے کے علاوہ ضرور کھاتے، اس میں کچھ ایسی کشش تھی کہ سب بچے اٹھنے کی ضد کرتے تھے اور اگر کسی کو سحری میں نہ اٹھایا جا ئے تو تو رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتا تھا۔
جبکہ بہت سے لوگ اس ک
ے بجا ئے پھینی اور کھجلے وغیرہ کھاتے تھے۔چونکہ ہمارے تایا 1924 میں اعلیٰ تعلیم کے لیئے لندن بھیجے گئے تھے، لہذا وہ وہاں سے واپسی میں فرج (جو مٹی کے تیل سے چلتا تھا)، بریڈ اور پالسنس بٹر لے آئے تھےلہذاہماری تہذییب کھجلےاور
یھینی سے تھوڑی سی مختلف ہوگءی تھی۔
پھر تھوڑے بڑے ہو ئے تو نماز کے لیئے مسجد جانا لازمی ہو گیا کہ جب تک ہم لو گ نہ جا ئیں تو نماز نہیں ہو تی تھی اور امام صا حب آدمی بھیج رہے ہو تے تھے۔جب ہم مسجد میں پہو نچتے اطمینان سے افطاری سے فارغ ہوکر تو دیکھتے تھے کہ لوگ افطار ہضم کر چکے ہیں۔اور اس راستے کی طرف بیچینی سےدیکھتے ہو تے تھے، جد ھر سے ہم لوگوں کو آنا تھا۔ پھر یہ سلسلہ پو رے مہینے چلتا رہتا۔
اور ختم عید پر ہو تا تھا جس میں ہم لوگ سب سے گلے ملتے تھے اور پھر وہ ہمارے یہاں دوپہر کے کھانے پر جمع
ہو تے تھے ۔جن کی تعداد ہزاروں میں ہو تی تھی ۔
نہرو کی سو شلسٹ سوچ نے سن 1951 میں تمام جاگیرداری اور رجواڑے ختم کر کے ہماری ان تکلفات سے جان چھڑادی
اور ہم ۔۔۔ مشرقی پاکستان ، جسے اب بنگلہ دیش کہتے ہیں آگئے۔
یہاں کی دنیا کچھ اور تھی۔جس طرف بھی نگاہ جاتی لوگ صرف لنگی اور بنان پہنے پانی میں بھیگتے اور نماز پڑھتے نظر آتے ۔یہ ہی حال روزوں میں ہو تا کہ لوگ اجتما عی طور پر روزہ کھو لتے، جو جس کے پاس ہو تا وہ سب کے سامنے لاکر رکھ دیتا۔غربت اتنی تھی کہ لوگ زیادہ ہو تے اور کھانا کم ۔
مگر اس کے با وجود بھی
افطاری ساتھ کرتے۔اور یہ ہی منظر سحری میں بھی نظر آتا اگر ٹرین میں سفر کر رہے ہو تے۔تو فجر اور مغرب، دو نمازیں ایسی تھیں جن میں ٹرین کا کسی تالاب کے کنارے رکنا لازمی تھا۔ تاکہ سب وضو کرکے نماز پڑھ سکین ۔
اتنی دیر ٹرین کھڑی رہتی تھی جتنی دیر با جماعت نماز ختم ہو۔ وہاں غربت کتنی تھی اور ہم نے کیا کچھ دیکھا اگر ہم لکھیں تو آپ لوگ رونے لگیں گے۔جس کو جہاں نماز کا وقت ملتا نماز پڑھ لیتا چاہے وہ کشتی پر ہی کیوں نہ ہو
سن 1954 میں ہم نے یہ جان کر کہ یہ ہی شب روز رہے، تو مشرقی پاکستان بنگال بن جا ئے گا ۔ڈھاکہ چھوڑ دیا اور سفینہ عرب کے ذریعہ کراچی پہو نچ گئے۔مگر یہاں چونکہ جاگیرداری باقی تھی ۔ لہذا یہاں ابھی تک وہی ٹھاٹ تھے، یہ اور بات ہے کہ اب وہ ہمارے نہ تھے۔یہاں وہی اونچ تھی جو ہمارے بچپن میں تھی۔ جو اخوت ہم نے بنگال میں
دیکھی وہ پھر ہمیں کہیں نہیں ملی۔
جب سندھ کے حالات خراب ہوئے وہاں سے بھی بستر باندھ لیا اور 1989 میں کناڈا آگئے۔
پہلا رمضان ایسا آیا کہ بس ہم تھے اور ہمارے اہلِ خاندان۔پھر نئے سرے سے پہچان بنا نی شروع کی چونکہ ہم جہاں رہے اسی سر زمین کے ہوکے رہے لہذا اب یہاں بھی وہی حالت ہے کہ مسجد ہو یا کوئی اور جگہ غیریت محسوس نہیں ہوتی ۔
رمضان بھرافطاری کی دعوتیں اتنی ہو تی ہیں کہ ہماراسارا نظام گڑ بر ہو جاتا ہے۔ اس لیئے کہ ہم شوگر زدہ ہیں۔ اور ہر کہیں پانچ چھ میٹھوں اور بیس پچیس ڈشوں سے کم کھانا نہیں ہو تا۔ جبکہ ہم جیسا آدمی کسی ایک ہی ڈش پر اکتفا کرسکتا ہے۔ مگر اس میں بھی چکنائی اتنی ہو تی ہے کہ شوگر
کا مطلوبہ لیول بر قرار رکھنا مشکل ہو جاتاہے۔
یہ وہی قوم ہے کہ جس کو قر آن نے کہا ہے " کھا ؤ پیو مگر اصراف ِ بیجا مت کرو، اور دوسری جگہ ارشاد ہوا ” اصراف ِ بیجا کر نے والے شیطان کے بھائی ہیں ” مگر ہم الحمد للہ خود کو ابھی تک تمام نا فرمانیوں کے با وجود مسلمان ہی کہتے اور سمجھتے ہیں۔