قرآن مجید وہ عظیم ترین ہدایت نامہ ہے جو ہمیں گمراہی کی تاریکی سے نکال کر رشد وہدایت کی روشنی عطا کرتا ہے ۔یہ کتاب کسی خاص فرد یا قوم یا کسی خاص علاقہ کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب ہدایت کا فیض اسی وقت پہونچے گا جب اسے پڑھا جائے ۔اس کے معنی و مفہوم کو سمجھا جائے ۔اس کی آیات میں غور و فکر کیا جائے اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے ۔اس کے مطابق اپنا ذہن و فکر بنایا جائے ۔اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں اس کو رہنما بنایا جائے ۔
آج دنیا میں تقریبا 65 زبانوں میں قرآن مجید کی ترجمے شائع ہو چکے ہیں ۔اسی طرح ترجمے کے ساتھ ساتھ تفسیریں بھی منظر عام پر آچکی ہیں ،تیسری شکل یہ ہے کہ جہاں کہیں درس قرآن کا سلسلہ جاری ہے یا علماءربانی تعلیم قرآں کا اہتمام کرتے ہیں ،اس میں پابندی کے ساتھ شرکت کی جائے ،انشاءاللہ قرآن مجید کا فیض پہونچے گا۔
قرآن مجید کا مطالعہ کر نے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ،ایک وہ جو سادہ طریقہ سے قرآن مجید پڑھنا چاہتے ہیں ،اور اپنی اصلاح کرتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے لئے عربی زبان کی معمولی شد بد،یا ترجمہ یا تفسیر کافی ہے ،ان کے ذریعہ کتاب اللہ سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،اس لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ اس کتاب کو سارے انسانوں کے لئے ہدایت قرار دیا ہے ۔
وہ لوگ ہیں جو زیادہ گہرائی سے قرآن مجید کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں ،وہ مفسر اور اسکالر بننا چاہتے ہیں ،ایسے لوگوں کے لئے مزید چند علوم کی ضرورت ہے ،مثلا عربی زبان و ادب سے واقفیت ،علوم تفسیر و اصول حدیث ،علوم فطرت ،تواریخ اقوام ،اور قدیم آسمانی صحیفے وغیرہ کے علوم سے واقفیت ہونی چاہئے تاکہ قرآن کا گہرا مطالعہ کر سکے ،اور دوسروں تک قرآن کے احکامات پہونچا سکے ،جیسا کہ علماءکرام نے قرآن مجید کے ترجمے کئے اور تفسیریں لکھ کر عوام الناس تک پہونچایا ۔
اس نظریہ کا خاتمہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نور اللہ مرقدہ نے قرآن مجید کا ترجمہ شروع کر کے کیا ،اس کے بعد ملک ہندوستا ن میں تراجم کا سلسلہ شروع ہوا ،چانچہ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ:بعض لوگ کہہ بیٹھتے ہیں کہ قرآن مجید اور حدیث شریف کو وہی سمجھ سکتا ہے جو بہت سے علوم اور بے شمار کتابیں پڑھا ہوا ہو ۔اور اپنے زمانے کا علامہ ہو ۔
ان کے جواب میں اللہ فرماتا ہے ۔
(ترجمہ)اللہ وہ ہے جس نے ان پڑھوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو گناہوں کے میل کچیل سے پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب(قرآن )اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے
حق تعالیٰ فرماتا ہے
(ترجمہ)یعنی پچھلے لوگ پڑھے ہوئے ہوں یا ان پڑھ مگر جب وہ مسلمان ہوں اور اصحاب کے طریقے کی پیروی کا ارادہ کریں اور قرآن و حدیث کو سنیں تو انہیں بھی پاک کردینے کے لئے یہی قرآن وحدیث کافی ہو سکتی ہیں ۔
اس کے علاوہ ایک جگہ اور یوں فرماتا ہے
(ترجمہ)قرآن میں کیوں کر نہیں فکر کرتے ،پس اگر قرآن آسان نہ ہو تو اس میں فکر کیوں کر کیا جائے ،دوسری جگہ فرماتا ہے کہ ”یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں ،یعنی باوجود یکہ دلوں پر قفل نہیں لگے ہوئے ہیں ۔پھر بھی کیسی گمراہی ہے قرآن کے فکر میں زور نہیں لگاتے“
(بحوالہ تاریخ دعوت و عزیمت)
قرآن مجید کو سمجھ کر نہ پڑھنا گستاخی ہے ۔( حضرت امام غزالی)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں اس تلاوت سے کیا نفع جس میں سمجھنے اور سوچنے سے واسطہ ہی نہ ہو ۔
یاد رکھو اگر تم سوچ سمجھ کر ایک ہی آیت کو رات بھر پڑھتے جاؤ گے تو پچاس قرآن ختم کرنے سے افضل ہے (امام غزالی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں سور ہ انا انزلنااور القارع یعنی چھوٹی سورتیں سوچ سمجھ کر تلاوت کروں تو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں کہ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران فر فر پڑھ جاؤں ۔(امام غزالی)
اقوال شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریہ فماتے ہیں کہ علم ( قرآن کا علم ) سیکھنا عبادت سے افضل ہے ،تما م فتنوں سے نجات قرآن میں ہے ۔قرآن پاک فہم و تدبر کے ساتھ پڑھیں ،اس کے معنی میں غورو فکر کرو ،تدبر فکر کے ساتھ آیات وعدہ و رحمت پر دعائے مغفرت اور رحمت مانگیں ۔قرآن پاک کو اچھی آواز سے پڑھو اور اس کے معنی میں تدبر کرو ،تاکہ تم فلاح کو پہونچو۔
حضرت شیخ الحدیث ایک جگہ حسن بصری کا قول نقل رتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
”حسن بصری کہتے ہیں کہ پہل لوگ قرآن مجید کو اللہ کا فرمان سمجھتے تھے رات بھر اس میں غور وفکر کرتے تھے اور دن میں اس پر عمل کرتے تھے ،اور تم اس کے حروف اور زیر و زبر تو بہت درست کرتے ہو مگر اس کو شاہی فرمان نہیں سمجھتے اس میں غور و فکر نہیں کرتے ۔(فضائل اعمال)
سترہویں دن کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ اھْدِنِی فِیہِ لِصالِحِ الْاَعْمالِ، وَاقْضِ لِی فِیہِ الْحَوائِجَ وَالْاَمالَ یَا مَنْ
اے معبود! آج کے دن مجھے نیک اعمال بجالانے کی ہدایت دے اور اس میں میری حاجتیں اور خواہشیں پوری فرما اے وہ
لایَحْتاجُ الَی التَّفْسِیرِوَالسُّؤالِ،یَا عالِماً بِما فِی صُدُورِ الْعالَمِینَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ
جو سوال کرنے اور ان کی تشریح کا محتاج نہیں اے ان باتوں کے جاننے والے جو اہل عالم کے سینوں میں ہیں محمد اور ان کی پاکیزہ آل(ع) پر رحمت نازل فرما ۔
سترہ رمضان کے اہم واقعات
جنگ بدر
17 رمضان سنہ 2 ہجری قمری کو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک علاقے میں اسلام کی ایک معروف و مشہور جنگ بدر ہوئی ۔بدر مدینے کے جنوب مغرب میں اٹھائیس فرسخ کی دوری پر واقع ایک کنویں کا نام ہے جہاں مشرکین سے مسلمانوں کی پہلی جنگ ہوئي ۔
اس جنگ میں مشرکین کے لشکر کی کمان ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی جبکہ مہاجرین اورانصار پر مشتمل اسلام کے لشکر کی قیادت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کررہے تھے ۔
تاريخ اسلام کی معتبر کتابوں میں جنگ بدر کے بارے میں لکھا ہے کہ اس جنگ میں مشرکین کے لشکر کے سپاہیوں کی تعداد نو سو بیس تھی اور اسلام کے سپاہیوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی لیکن اس کے باوجود اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی چونکہ یہ کامیابی دشمن کے تقریبا" تین برابر سپاہیوں کے مقابلے میں حاصل ہوئی تھی ۔
اس لئے پیغمبر اسلام (ص) نے جنگ بدر میں ملنے والی اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت کی علامت بتایا ۔
سترہ رمضان 58 ہجری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ھوئی
حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب تھا۔ ان کا نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سن 11 نبوی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور 1 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ رخصتی کے وقت ان کی عمر ساڑھے گیارہ برس تھی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نو برس گذارے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی وفات کیسے ھوئی اور کب ھوئی اس پر کوئی متفقہ تاریخ کہیں کسی کتاب میں نہیں ملتی ۔لیکن کئی کتابوں میں درج تفصیل سے قرین قیاس یہی پتہ چلتا ھے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ اٹھاون ہجری رمضان کے اوائل میں بیمار ہوئیں اور اور چند روز بعد سترہ رمضان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے 48 سال بعد 66 برس کی عمر میں انتقال فرما گیئں ۔ ان کا انتقال بنو امیہ کے حکمران امیر معاویہ کے دور میں ہوا اور نماز جنازہ حضرت ابوہریرہ نے پڑھائی۔
تاریخی کتب میں منقول ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو علمی حیثیت سے عورتوں میں سب سے زيادہ فقیہہ اور صاحب علم ہونے کی بناء پر چند صحابہ کرام پر بھی فوقیت حاصل تھی۔ آپ فتوے دیتی تھیں اور بے شمار احادیث آپ سے مروی ہیں۔ آپ بہت زیادہ خوش تقریر بھی تھیں۔
اقوال جنابِ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
٭ مہمان کے لیے زیادہ خرچ کرنا اسراف نہیں ۔
٭ خیر یہی ہے کہ شر سے باز آ۔
٭ حق کا پرستار کبھی ذلیل نہیں ہوتا چاہے سارا زمانہ اسکے خلاف ہو جائے باطل کا پیرو کار کبھی عزت نہیں پاتا چاہے چاند اسکی پیشانی پر نکل آئے ۔
٭ سچائی کی مشعل جہاں بھی دکھائی دے اس سے فائدہ اٹھا یہ نہ دیکھ کہ مشعل بردار کون ہے ۔
٭ بہترین خصلت زبان کی حفاظت ہے ۔
٭ جب معدہ بھر جاتا ہے تو قوت فکر کمزور پڑجاتی ہے اور حکمت و دانش کی صلاحیتیں گونگی ہو جاتی ہیں ۔
٭ شکم سیری بیماری کی جڑ اور پرہیز ساری بیماری کا علاج ہے ۔
٭ عظمت صرف ایک فیصد ودیعت کی جاتی ہے اور 99 فیصد محنت دریافت سے ملتی ہے ۔
امیر علی شیر نوائی کی پیدائش
17 رمضان سنہ 844 ہجری قمری کو معروف و مشہور ایرانی شاعر اور مصنف امیر علی شیر نوائی پیدا ہوئے ۔انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں شیریں و فرہاد ، لیلیٰ و مجنون اور قصۂ شیخ صنعان کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے شیر نوائي اپنے ترکی اشعار میں نوائی اور فارسی اشعار میں فنائی تخلص کرتے تھے ۔وہ سنہ 906 ہجری قمری میں 62 سال کی عمر میں وفات پاگئے -
الحاج میرزا محمد ہاشم خوانساری کا انتقال
17 رمضان سنہ 1318 ہجری قمری کو بزرگ عالم دین اور مرجع تقلید الحاج میرزا محمد ہاشم خوانساری نے ایران کے شہر اصفہان میں وفات پائي ۔انہوں نے دینی علوم کی ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے دور کے اہم اور جیّد علماء سے کسب فیض کیا اور گہرے مطالعے اور تحقیق سے فقہ، اصول فقہ ، حدیث اور تفسیر قرآن جیسے علوم میں کافی مہارت پیدا کرلی اور پھر اہم کتابوں کی تدریس اور تالیف شروع کردی ۔اس بزرگ عالم دین کی تصنیفات میں جواہر العلوم کی طرف خاص طور سے اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
فاضل شربیانی کا انتقال
17 رمضان المبارک سنہ 1322 ہجری قمری کو 14 ویں صدی ہجری کے ایک عظیم مرجع تقلید فاضل شربیانی کی وفات ہوئی ۔ وہ علم اصول میں ایک بے نظیر استاد تھے انہیں فقہی احکام کے استنباط میں کمال حاصل تھا۔ فاضل شربیانی آذربائیجان اور قفقاز میں مسلمانوں کے مرجع تقلید تھے ۔آپ کی متعدد کتب میں نو جلدوں پر مشتمل رسائل و مکاسب کی شرح قابل ذکر ہے ۔
رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )