1980سے پہلے سویڈن میں مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی . صرف ترکی کے
مسلمان یہاں رہتے تھے جنہوں نے عبادت کے لئے یا نماز کے لئے کرائے پہ جگہ لی ہوئی تھیں. 80 کے وسط میں آفریکا سے خوجہ مسلمان، جو کہ بنیادی طور پہ ھندوستانی تھے ، سیاسی پناہ گزینوں کے طور پر سویڈن میں آکر آ باد ہوئے.
زیادہ تر خوجہ لوگ ترولہیتان ( جو کہ گوتھن برگ سے 60 کلومیٹر شمال میں ہے) میں آباد ہوئے اور یہاں پہ ایک مکان لے کر عارضی طور پہ عبادات کا سلسلہ شروع کیا. خوجہ مسلمانوں نے دن رات محنت کے ساتھ 1985 تک قومی شاہراہ کے اوپر مسجد تعمیر کر دی. یہ مسلمانوں کی سکینڈے نیویا میں پہلی مسجد تھی . اس مسجد کی تعمیر میں مولانا مقبول احمد صاحب کا نمایاں کردار تھا. اس کے بعد سٹاکہلوم میں خوجہ مسلمانوں نے زینبیہ سینٹر کے نام سے مسجد تعمیر کی جہاں پہ مولا ذاکر حسین صاحب درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں.
1990 کے بعد افریکا ، عراق اور ایران سے مسلمان سویڈن میں آکر آباد ہوئے. اپنی دینی
ضروریات کے تحت مسلمانوں نے سویڈن میں مختلف مقاما ت پر عبادت خانے بنائے. آج سٹاک ہولم شہر کے وسط میں اہل اسلام کی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں تمام مکاتب فکر کے لوگ نماز جمعہ باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتے ہیں.
وسطی ایشاء سے لوگوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے مگر گذشتہ چند سالوں میں پاکستانی طالبعلم اعلیٰ تعلیم کی خاطر سویڈن میں آئے ہیں. اس سال 500 کے لگ بھگ پاکستانی طالبعلم سویڈن آئے ہیں . لین شوپینگ شہر میں 200 طالبعلم زیر تعلیم ہیں. پاکستانی طلباء اور مستقل رہنے والوں نے عالمی اخبار کو سحری اور افطاری کے موقع پر مدوع کیا.
اتنی بڑی تعداد کو ایک ساتھ سحری اور افطاری کرتے ہوئے دیکھ کر پاکستان یاد آ گیا. شام
کے وقت پاکساتی و دیگر مسلمان افطاری کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں. اس چھوٹے سے شہر میں گو کہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ نہیں مگر مختلف ممالک سے آنے والوں نے اپنی اپنی جگہ لے کر ماہ رمضان کی عبادات کا اہتمام کیا ہے. پاکستانی طلباء یونین کے صدر مزمل خان نے بتایا کہ اس سال طلباء زیادہ آنے کی وجہ سے رہائش کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے مگر وقتی طور پر طلباء آپس میں مل جل کر رہ رہے ہیں .
مزمل خان کے مطابق اس طرح رہنے سے رمضان کی رونق بڑھ گئی ہے. سب ایک جگہ پہ سحری کرتے ہیں اور ایک جگہ پہ افطار کا انتظام کیا جاتا ہے. افطاری کے بعد کچھ لوگ مسجد میں جاکر عبادت کرتے ہیں خصوصا نماز جمعہ میں سب شرکت کرتے ہیں.
مزمل خان نے مزید کہا کہ یہ بات بہت ہی باعث مسرت ہے کہ خواتین بھی کافی تعداد میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے آرہی ہیں.
سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مل جل کر رمضان مبارک کی عبادات میں حصہ لیتے ہیں اور امید ہے کہ یہ کاوش اتحاد بین المسلمین کے لئے ایک اچھا کردار ادا کرے گی.
سٹاک ہولم میں اس سال نارڈک اسلامک سینٹر نے ماہ رمضان کے لئے مولانا ساجد علی شرعی صاحب کو مدوع کیا ہے. شرعی صاحب اٹلی میں مقیم ہیں . سینٹر کے صدر غضنفر عباس صاحب نے بتایا کہ لوگ امام بارگاہ سے کافی فاصلہ پہ رہتے ہیں اس کے باوجود افطار کے وقت خاصی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں.
افطار سے پہلے روزانہ درس قرآن پاک ہوتا ہے اور اس کے بعد قبلہ شرعی صاحب
مختلف مسائل پہ گفتگو کرتے ہیں. اس کے علاوہ قبلہ شرعی صاحب فروع دین پر بچوں کو درس دیتے ہیں.
نماز مغرب کے بعد افطاری ہوتی ہے اور کھانے کا انتظام نماز عشاء کے بعد ہوتا ہے. مومنین جوق در جوق اچھے اچھے کھانے امامبارگاہ میں نذر کرتے ہیں. کھانے کے ساتھ ساتھ دینی مسائل پہ گفتگو بھی جاری رہتی ہے اور خوش گپی بھی.
زینبیہ سینٹر میں اہل اسلام اس مبارک ماہ کی عبادات میں سر گرم عمل ہیں. زینبیہ سینٹر میں مولانا قبلہ ذاکر حسین صاحب مستقل عالم ہیں. مولانا ذاکر صاحب اس کے علاوہ مجمع اہلیبیت( جو کہ ایرانی اور عراقی مسلمانوں کی مشترکہ مسجد ہے) میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں. قبلہ واعظی صاحب وہاں مستقل عالم ہیں. وہاں پر بھی فرزندان توحید ماہ
صیام میں جوق در جوق حصہ لے رہے ہیں .
ترولہیتان میں مولانا قبلہ مقبول احمد صاحب کی سرکردگی میں تمام مسلمان عبادت الاہی میں مشغول نظر آ رہے ہیں. ترولہیتان میں چونکہ مسلمانوں کی ایک ہی مسجد ہے اس لئے وہاں پر تمام مکاتب فکر کے لوگ سحر اور افطار کے لئے جمع ہوتے ہیں . ماہ صیام میں بروز جمعہ اجتماع بہت زیادہ ہوتا ہے.
نماز جمعہ میں خواتین و حضرات کی بھاری تعداد مسجد میں آتی ہے جسے دیکھ کر پاکستان کے کسی شہر کی جامع مسجد کا گمان ہوتا ہے. ترولہیتان ایک بہت ہی چھوٹا شہر ہے اور لوگ مسجد کے نزدیک نزدیک رہتے ہیں. افطاری سے پہلے لوگ ہاتھوں میں نیاز لئے مسجد کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جو کہ انتہائی دلکش منظر ہوتا ہے. مولانا قبلہ مقبول صاحب اس شہر میں 1973 سے خدمات انجام دے رہے ہیں .
ایک وقت تھا جبکہ مسجد بھی تعمیر نہیں ہوئی تھی اس وقت سارے سکینڈے نیویا سے
لوگ مجالس و دیگر دینی تہواروں میں شرکت کے لئے آتے تھے. موالانا قبلہ مقبول صاحب نے دینی خدمات ( خصوصا سکینڈے نیویا) کی وجہ سے مذہب حقہ کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کیا ہے. تمام مسلمانوں کو ، قطع نظر مسلک، یکجا کرنا یہ صرف قبلہ صاحب ہی کا کام ہے . مولانا صاحب پیر سنی کے باوجود درس و تدریس کے سلسلہ میں آج بھی فعال ہیں . مستقبل میں جب بھی دین کی بات ہوگی تو قبلہ صاحب کا نام فخر اور احترام کے ساتھ لیا جائے گا. سویڈن کے مسلمان قبلہ مقبول صاحب اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی کے لئے ہمیشہ دعاگو ہیں.
اختصار کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ ایک وقت تھا جب رمضان ، عید، بقرہ عید ، عید
میلاد النبی اور ماہ محرم کا پتہ ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس کے ذریعہ لگتا تھا مگر اب بفضل خدا سویڈن میں رہنے والے پاکستانی اس سروس کے محتاج نہیں. الحمد الاﷲ اب مسلمان کثیر تعداد میں یہاں مقیم ہیں. بڑے شہروں میں پتہ چلتا ہے کہ اب ماہ صیام کی آمد ہے.
آخر میں دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمام اہل اسلام پر ، اس ماہ مبارک میں، اپنی خصوصی رحمتوں کا نزول فرمائے اور مسلمانوں کو بھائی چارہ اور اتحاد کی توفیق عطا فرمائے. آمین