زکوٰۃ دو ہجری میں مسلمانوں پرفرض ہوئی۔یہ درحقیقت اس صفت ہمدردی و رحم کے بقاعدہ استعمال کا نام ہے جو انسان کے دل میں اپنے ابنائے جنس کے ساتھ ساتھ قدرتاً فطری طور پر موجود ہے۔
یہ اموال نامیہ یعنی ترقی کرنے والوں میں مقرر کی گئی ہےجن میںسے ادا کرنا ناگوار بھی نہیںگزر سکتا۔اموال نامیہ میں تجارت سے حاصل ہونے والی دولت ، زراعت اور مویشی (بھیڑ بکری گائے وغیرہ) اور نقد روپیہ اور معدنیات اور دفائن شمار ہوتے ہیں۔جن کے مختلف نصاب ہیں۔ان کے تحت ایک حصہ ادا کرنا فرض ہے۔
قرآن کریم میںاللہ پاک نے زکوٰۃ کی تقسیم ان لفظوں میںفرمائی-
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلفُقَرَآءِ وَالمَسٰکِینِ وَالعٰمِلِینَ عَلَیھَا وَالمُوَلَّفَۃِ قُلُوبُھُم وَفِی الرِّقَابِ وَالغٰرِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اِللہ وَابنِ السَّبِیلِ ہ ((التوبہ 60))
یعنی زکوٰۃ کا مال فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہے اور تحصیلداران زکوٰۃ کے لیے ( جو اسلامی اسٹیٹ کی طرف سے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے مقرر ہوں گے ان کی تنخواۃ اس میںسے ادا کی جائے گی) اور ان لوگوں کے لیے جن کی دل افزائی اسلام میں منظور ہو یعنی نو مسلم لوگ اور غلاموں کو آزادی دلانے کے لیے اور ایسے قرضداروں کا فرض چکانے کے لئے جو قرض نہ اتار سکتے ہوں اور اللہ کے راستے میں (اسلام کی اشاعت و ترقی و سر بلندی کے لیے) اور مسافروں کے لیے۔۔
حدیث میں ہے کہ صدقہ نکالنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھ ہی جاتا ہے اور یہ بھی کہ اسکا ثواب دوگنا سہ گنا بڑھتا ہے۔جیسا کے آیا ہے کہ اللہ پاک صدقہ کے مال کو بڑھاتا ہے۔اور دوسرے اعتبار سے نفس کو بخل کے رذائل سے پاک کرنے والی چیز ہے اور گناہوں سے بھی پاک کرتی ہے اور اسلام کا یہ تیسرا اعظیم رکن ہے۔
اسکی شرعی تعریف یہ ہے کہ مقررہ نصاب سے سال گزرنے کے بعد فقراء و دیگر مستحقین کو اسے ادا کرنا فقراء ہاشمی اور مطلبی نہ ہوں کہ ان کے لیے اموال زکوٰۃ کا استعمال ناجائزہے۔
زکوٰۃ کے لیے بھی کچھ اور بھی شرائط ہیں۔
اول اسکی ادائیگی کے وقت اخلاص ہونا ضروری ہے۔ریا و نمود کے لیے جو زکوٰۃ ادا کرے تو وہ عنداللہ زکوٰۃ نہیں ہوگی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایک حد مقررہ کے اندر وہ مال ہو اور اس پر سال گزر جائے اور زکوٰۃ عاقل و بالغ پر واجب ہے۔
اس سے دنیا میں وجوب کی ادائیگی اور آخرت کا ثواب حاصل ہونا مقصود ہے اور اس میں حکمت یہ کہ یہ انسانوں کو گناہوں کے ساتھ خصائل رذالت سے بھی پاک کرتی ہے اور درجات بلند کرتی ہے۔
اور یہ اسلام میں ایک بہترین عمل ہے مگر جس پر واجب ہے اس کی تفصیلات میں کچھ اختلاف ہے اور یہ اسلام میں ایک ایسا قطعی فریضہ ہے کہ جس کے لیے کسی اور مزید دلیل کی ضرورت ہی نہیں اور دراصل یہ قطعی فرض ہے جس کی فرضیت سے انکار اسلام کے دائرے سے باھر کر دیتا ہے ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے؛
وَاقِيمُواْ الصَّلاَۃ وَآتُواْ الزَّكَاۃ وَارْكَعُواْ مَعَ الرَّاكِعِين
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ (مل کر) رکوع کیا کرو
وَاقِيمُواْ الصَّلاَۃ وَآتُواْ الزَّكَاۃ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِانفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوہ عِندَ اللّہ انَّ اللّہ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور نماز قائم (کیا) کرو اور زکوٰۃ دیتے رہا کرو، اور تم اپنے لئے جو نیکی بھی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے حضور پا لو گے، جو کچھ تم کر رہے ہو یقینا اللہ اسے دیکھ رہا ہے
لَّيْسَ الْبِرَّ ان تُوَلُّواْ وُجُوھكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّہ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلآئِكَۃ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّہ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَاقَامَ الصَّلاۃ وَآتَى الزَّكَاۃ وَالْمُوفُونَ بِعَھدِھمْ اذَا عَاھدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَاسِ اولَـئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَاولَـئِكَ ھمُ الْمُتَّقُونَ
نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں
اِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَاقَامُواْ الصَّلاَہ وَآتَوُاْ الزَّكَاہ لَہمْ اجْرُہمْ عِندَ رَبِّہمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْہمْ وَلاَ ھمْ يَحْزَنُونَ
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے، اور ان پر (آخرت میں) نہ کوئی خوف ہوگا ۔
لَّـكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْھمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا انزِلَ الَيكَ وَمَا انزِلَ مِن قَبْلِكَ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلاَۃ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاۃ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللّہ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اوْلَـئِكَ سَنُؤْتِيھمْ اجْرًا عَظِيمًا
لیکن ان میں سے پختہ علم والے اور مومن لوگ اس (وحی) پر جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور اس (وحی) پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی (برابر) ایمان لاتے ہیں، اور وہ (کتنے اچھے ہیں کہ) نماز قائم کرنے والے (ہیں) اور زکوٰۃ دینے والے (ہیں) اور اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے (ہیں)۔ ایسے ہی لوگوں کو ہم عنقریب بڑا اجر عطا فرمائیں گے
انَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّہ وَرَسُولُہ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَہ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاہ وَہمْ رَاكِعُونَ
بیشک تمہارا (مددگار) دوست تو اﷲ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں
انَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّہ مَنْ آمَنَ بِاللّہ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَاقَامَ الصَّلاَہ وَآتَى الزَّكَاہ وَلَمْ يَخْشَ اِلاَّ اللّہ فَعَسَى اوْلَـئِكَ ان يَكُونُواْ مِنَ الْمُھتَدِينَ
اللہ کی مسجدیں صرف وہی آباد کر سکتا ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا (کسی سے) نہ ڈرا۔ سو امید ہے کہ یہی لوگ ہدایت پانے والوں میں ہو جائیں گے
انَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْہا وَالْمُؤَلَّفَہ قُلُوبُہمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّہ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَۃ مِّنَ اللّہ وَاللّہ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے ۔
قرانی آیا ت کی روشنی میں یہ بات انتہائی واضح ہے کہ قبولیت ایمان و اسلام کے ساتھ ساتھ نماز بھی قائم کرنا اور صاحب نصاب ہونے پر زکوٰۃ ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
حدیث کی روشنی میں زکوٰۃ کی ھدایت
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن (کا حاکم بنا کر) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں او ر یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالی نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالی نے ان کے مال پر کچھ صدقہ بھی فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔
زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کا گناہ
اللہ تعالی نے (سورہ براۃ میں )فرمایا
“کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے آخر آیت ((فذوقو اما کنتم تکنزون))تک۔۔یعنی اپنے مال کو گاڑنے کا مزہ چکھو۔
آیت میں کنز کا لفظ ہے کنز اس مال کو کہیں گے جس کیزکوٰۃ ادا نہ کی جائے۔اکثر صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے کہ آیت اہل کتاب اور مشرکین اور مومنین سب کو شامل ہے۔امام بخاری نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے اور بعض صحابہ نے اس آیت کو کافروں کے ساتھ خاص کیا ہے۔((وحیدی))
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
اونٹ (قیامت کے دن) اپنے مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کا حق (زکوہ ) نہ ادا کیا کہ اس سے موٹے تازے ہو کر آیئں گے ( جیسے دنیا میں تھے) اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گے۔بکریاں بھی اپنے ان مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کے حق نہیں دئیے تھے پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہوکر آیئں گی اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔
اللہ پاک ہمیں ماہ رمضان میں ہر سعد عمل کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
بیسویں دن کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِی فِیہِ ابْوابَ الْجِنانِ، وَاغْلِقْ عَنِّی فِیہِ ابْوابَ النِّیرانِ
اے معبود! آج میرے لئے جنت کے دروازے کھول دے اور آج مجھ پر جہنم کے دروازے بند فرما دے اور آج مجھے
وَوَفِّقْنِی فِیہِ لِتِلاوَہ الْقُرْآنِ، یَا مُنْزِلَ السَّکِینَہ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ ۔
قرآن پڑھنے کی توفیق دے اے ایمان داروں کے دلوں کو تسلی بخشنے والے۔
بیس رمضان کے اہم واقعات
رسول اکرم (ص) کی کمان میں مکّہ شہر کی فتح اور سورۂ نصر کا نزول
بیس رمضان سنہ 8 ھ ق کو رسول اکرم (ص) کی کمان میں لشکر اسلام نے مکّہ شہر کو فتح کیا ۔رسول اکرم (ص) کا یہ اقدام کفار کی طرف سے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کئے جانے کے بعد عمل میں آیا تھا ۔
سنہ 6 ھ ق میں رسول اکرم (ص) اور قبیلۂ قریش کے درمیان صلح حدیبیہ سمجھوتے پر دستخط ہوئے تھے ۔آپ نے فتح مکہ کے بعد اس شہر کے لوگوں کو پناہ دی جبکہ ان لوگوں نے دین اسلام کے فروغ کو روکنے کی کوشش کی تھی ، اور رسول اکرم (ص) سمیت مسلمانوں کو ایذائيں اور تکالیف پہنچائی تھیں ۔
آپ (ص) کے اس محبت آمیز رویّے سے متاثر ہوکر قبیلۂ قریش نے اسلام قبول کرلیا ۔بہرحال مکہ بغیر کسی خونریزی کے فتح ہوگیا ۔اس کے بعد رسول اکرم (ص) نے کچھ افراد کو مکے کے اطراف میں بت خانے توڑنے کے لئے بھیجا اور خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ خانۂ کعبہ کے بتوں کو توڑنے میں مشغول ہوگئے ۔
اس کامیابی پر خداوند عالم نے آنحضرت (ص) پر سورۂ نصر نازل فرمایا ۔
علم نحو کے ماہر " ابن شجری " کا انتقال
20 رمضان سنہ 542 ہجری کو مسلمان شاعر ، ادیب اور علم نحو کے ماہر " ابن شجری " کا انتقال ہوا ۔ان کا نسب نواسۂ رسول (ص) حضرت امام حسن مجتبی (ع) سے ملتا ہے ۔اسی لئے انہیں علوی حسنی کا نام دیا گيا ہے ۔
ابن شجری نے 70 سال تک نحو کی تعلیم دی ۔ان کے بہت سے تحریری آثار بھی یادگار کے طور پر موجود ہیں جن میں الامالی ۔ الحماسہ ۔اور منظومۂ ابن الشجری خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
ادیب یاقوت حموی کا انتقال
20 رمضان سنہ 626 ہجری قمری کو ساتویں صدی ہجری کے مشہور ادیب یاقوت حموی نے وفات پائی ۔وہ سنہ 539 ہجری میں بغداد میں پیدا ہوئے ۔
نوجوانی میں قیدی بنالئے گئے لیکن کچھ عرصے کے بعد انہیں ایک تاجر نے بغداد میں خرید لیا اور پھر آزاد کردیا ۔یاقوت حموی نے آزاد ہونے کے بعد بہت سے سفر کئے اور دوران سفر مطالعہ بھی کرتے رہے ۔
یہاں تک کہ حموی چنگیز خان کے ماورالنہر پر حملے کے دوران شام کے شہر حلب کی طرف چلے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔
ان کے اہم تحریری آثار میں معجم البلدان اور معجم الادباء قابل ذکر ہیں ۔
( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )