16.10.2026, 11:46pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

حیات بعد از موت .غازی علم الدین شہید۔جو حرمت رسول پر مرمٹا
28.10.2011, 09:00am , جمہ (GMT+1)

عالمی اخبار ریسرچ یونٹ
کچھ لوگ چھوٹی سی زندگی میں اتنا بڑا کام کر جاتے ہیں کہ ان کا نام تا قیامت زندہ رہتا ہے انہیں میں سے ایک غازی علم الدین شہید تھے۔

غازی علم الدین شہید 3دسمبر 1908ءکو محلہ چابک سواراں لاہور میں پیدا ہوئے ۔والد کا نام میا ں طالع مند تھا جو نجاری یعنی لکڑی کا کام کرتے تھے غازی علم الدین نے نجاری کا فن اپنے والد سے اور بڑے بھائی میاں محمدا لدین سے سیکھا ۔پھر 1928ءمیں کوہاٹ چلے گئے اور والد کے ساتھ بنوں بازار کوہاٹ میں فرنیچر کا کام کرنے لگے۔

 غازی علم الدین نے مشہور بدنام زمانہ کتاب ”رنگیلا رسول “کے ناشر راج پال کو ٹھکانے لگایا اور تختہ دار پر چڑھ گئے ۔اس واقعہ کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے ہندووں کی شدھی اور سنگھٹن کی تحریکوں کو یاد رکھنا ضروری ہے جو 1920ءکی دہائی میں شروع کی گئی تھیں ۔اس سلسلہ میں ہندووں نے دلآزار لڑیچر شائع کرنا شروع کیا ۔

مہاشہ کرشن مدیر ”پر تاپ “لاہور نے ایک کتاب ”رنگیلا رسول “کے نام سے لکھی ۔مصنف نے مسلمانوں کے غم و غصہ سے بچنے کے لئے اپنی بجائے پروفیسر چمپوپتی لال ایم اے کا فرضی نام بطور مصنف لکھ دیا ۔تاہم اس کتاب پر راج پال ناشر ہسپتال روڈ لاہور کا نام درست اور واضح لکھا ہوا تھا۔مسلمانوں نے اس کتاب کو تلف کرنے کی درخواست کی ۔اس کے انکار پر مسلمانوں نے دفعہ 153الف کے تحت فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا ۔مجسٹریٹ نے ناشر کو چھ ماہ قید کی سزا دی۔مگر اس نے ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے اس کو رہا کردیا۔

اس سلسلے میں مسلمانوں نے جلسے کئے۔متعدد جلوس نکالے لیکن حکومت نے دفعہ 144نافذ کر کے مسلمان لیڈروں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔فرنگی حکومت کے انصاف سے مایوس ہونے کے بعدمسلمانوں نے اپنی قوت بازو سے کام لینے کا مصمم ارادہ کیا ۔چنانچہ راج پال کو ٹھکانے لگانے کے لئے سب سے پہلے ایک نوجوان غازی عبد العزیز کوہاٹ سے لاہور آیا۔پوچھتا پوچھتا ناشر کی دوکان پر جا پہنچا ۔اتفاق سے اس وقت دوکان پر راج پال نہیں بیٹھاتھا بلکہ اس کی جگہ اس کا ایک دوست جتندر موجود تھا۔

عبد العزیز نے ایک ہی وار میں اس کا کام تما م کردیا ۔انگریزی حکومت نے کچھ قانونی تقاضوں اور مصلحتوں کے پیش نظر عبدالعزیز کو چودہ سال کی سزا دی ۔راج پال اپنے آپ کو ہروقت خطرے میں محسوس کرتا ۔اس کی دراخوست پر دو ہندو سپاہی اور ایک سکھ حوالداراس کی حفاظت کے لئے متعین کئے گئے ۔راج پال لاہور چھوڑ کر ہردوا ‘کاشی اور متھرا چلاگیا لیکن دوچار ماہ بعد واپس آکر اپنا کاروبار دوبارہ شروع کردیا۔

چنانچہ غازی علم الدین 6اپریل 1929ءکو لاہور آئے اور ایک بجے دوپہر راج پال کی دوکان واقع ہسپتال روڈ انار کلی نزد مزار قطب الدین ایبک پہنچ کر آپ نے راج پال کو للکارا اور کہا ”اپنے جرم کی معافی مانگ لو اور دلآزار کتاب کو تلف کردواور آئندہ اس قسم کی حرکتوں سے باز آجاو۔“راج پال اس انتباہ کوگیڈر بھبکی سمجھ کر خاموش رہا ۔اس پر غازی علم الدین نے ایسا بھر پور وار کیا کہ وہ اف تک نہ کرسکا۔اس وقت دوکان میں دو ملازم بھگت رام اور کدار ناتھ بھی موجود تھے ۔

کدار ناتھ نے انار کلی پولیس سٹیشن میں قتل کی اطلاع درج کروائی ۔پولیس نے لاش پر قبضہ کرکے کدار ناتھ ‘بھگت رام اور دیگر گواہوں کے بیانات لئے ۔چونکہ ملزم اقبالی تھا اس لئے مقدمے کی تفتیش اور چالان میں نہ توکوئی دقت پیش آئی نہ کوئی رکاوٹ ہوئی ۔اس واقعہ کے بعد شہر میں خاصاخوف وہراس پھیل گیا تھا ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے دفعہ 144نافذ کر کے ہندو مسلم کشیدگی پرقابو پانے کی کوشش کی۔تاہم ہندووں نے راج پال کی ارتھی کا جلوس نکالا اور پورے احترام کے ساتھ رام باغ نزد بادامی باغ نذر آتش کر کے اس کی راکھ کو دریائے راوی میں بہا دیا ۔مقدمہ مسٹر لوئیس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا۔انہوں نے ملزم پر فرد جرم عائد کر کے اس کا بیان لیا اور بغیر صفائی کے مقدمہ سیشن کے سپرد کردیا۔

مسٹر نیپ سیشن جج تھے ۔مسٹر سلیم بارایٹ لاءنے غازی علم الدین کے حق میں معقو ل دلائل پیش کئے مگر عدالت نے دفعہ 302کا فرد جرم عائد کرکے مورخہ 22مئی 1929ءکو پھانسی کی سزا کا حکم سنایا ۔مسلمانان لاہور میں کئی جلسے کر کے فیصلہ کیا کہ سیشن جج کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل ضرور کی جائے ۔مسٹر محمد علی جناح اس مقدمے کی پیروی کی غرض سے بمبئی سے لاہور آئے ان کی معاونت مسٹر فرخ حسین بیر سٹر نے کی ۔مقتول کی طرف سے جے لال کپور اور دیوان رام لال سرکا ر کی طرف سے پیش ہوئے ۔مسٹر براڈوے اور مسٹر جان سٹون جج ہائی کورٹ میں اپیل کی سماعت کی ۔15جولائی 1929ءکوغازی علم الدین کی اپیل خارج کردی اور سیشن کورٹ کے فیصلے کو بحال رکھا۔ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ جب غازی علم الدین کو جیل میں سنایا گیا تو انہوں نے مسکراکر کہا ”شکرو الحمد ﷲ۔میں یہی چاہتاتھا ۔بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں گلنے سڑنے کی بجائے تختہ دار پر چڑھ کر رسول برحق رسالتمابپر اپنی حقیر جان کو قربان کرنا موجب ہزار ابدی سکون وراحت ہے۔

مسلمانوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پریوی کونسل لندن میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا اس اپیل کا مسودہ قائد اعظم کی نگرانی میں تیار ہوا لیکن پریوی کونسل نے بھی اپیل نامنظور کردی غازی علم الدین کو جونہی اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا انہوں نے حسب سابق خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔صوبے کے امن وامان کوملحوظ رکھتے ہوئے حکام وقت نے فیصلہ کیا کہ غازی علم الدین کو فوری طور پر صوبے کی کسی محفوظ اور دوردراز جیل میں منتقل کردیاجائے ۔چنانچہ اس مقصد کے لئے میانوالی جیل کو منتخب کیا گیا۔4اکتوبر 1929ءکو آپ کو لاہور سے منتقل کر کے میانوالی لے جایاگیا اور 31اکتوبر 1929ءکو بروز جمعرات آپکوپھانسی دی گئی۔

مجسٹریٹ نے آپ سے پوچھا ”آپ کی آخری خواہش کیا ہے۔“آپ نے کہا ”صرف دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے ۔“اس پر آپ نے دورکعت نفل پڑھے اور خود سوئے دار بصدشوق چل پڑے ۔انگریز حکومت کا خیال تھا کہ اگر غازی علم الدین کی لاش کو لاہور بھیجا گیا تو یقینا ہندو اور مسلمان مشتعل ہو کر فساد پر آمادہ ہوجائیں گے۔اس لئے اس کی پاک میت کو بغیر جنازہ ایک گڑھے میں دبادیا گیا

لیکن مسلمانوں نے ان کی میت کو لینے کے لئے شدید مطالبہ کیا۔اور لاہور میں مسلسل جلسے جلوس اور ہڑتالیں ہوتی رہیں۔4نومبر1929ءکو مسلمانوں کا ایک وفد گورنر پنجاب سے ملا ۔اس وفد میں سر میاں محمد شفیع ‘میاں عبدالعزیز ‘مولاناظفرعلی خاں ‘سر فضل حسین ‘خلیفہ شجاع الدین ‘میاں امیر الدین ‘سر محمد اقبال ‘اور مولاناغلام محی الدین قصوری سرفہرست تھے۔گورنرنے سخت شرائط پر نعش کی واپسی کی اجازت دی۔مسلمانوں کا ایک وفد سید مراتب علی شاہ اور مرزا مہدی حسن مجسٹریٹ کی قیادت میں 13نومبر کو میانوالی پہنچا دوسرے دن علی الصبح نعش کو گڑ ھے سے نکال کر ڈپٹی کمشنر راجہ مہدی زمان خان کے بنگلے پر لایا گیا وفد اور میانوالی کے لوگوں کا بیان ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود نعش میں ذرا بھی تعفن نہیں تھا۔بلکہ جسم صحیح وسالم تھا۔چہرے پر جلا ل وجمال کا امتزاج تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔

نعش بذریعہ ٹرین 15نومبر1929ءکو لاہور چھاو¿نی کے پاس پہنچی۔محکمہ ریلوے نے یہ نعش محکمہ جیل کے احکام کے حوالے کی اور محکمہ جیل نے وہ صندوق مسلم لیگ کے دونمائندوں سر محمد شفیع اور سر محمد اقبال کے حوالے کیا۔

غازی علم الدین کے جنازے پر ایک محتاط اندازے کے مطابق چھ لاکھ انسان شامل ہوئے۔اخبار انقلاب کے مطابق جنازے کا جلوس ساڑھے پانچ میل لمبا تھا ۔نماز جنازہ قاری محمد شمس الدین خطیب مسجد وزیر خاں نے پڑھائی ۔باقی نمازیں دیگر علماءکرام نے پڑھا کر فرض کفایہ ادا کیا ۔ مولانا دیدار شاہ اور علامہ محمد اقبال نے میت کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا ۔لوگوں نے عقیدت سے اتنے پھول نچھاور کئے کہ میت ان میں چھپ گئی۔اس کے بعد کچی اینٹوں سے تعویذ کو بند کر دیا گیا اور کلمہ شہادت اور کلمہ تمجید پڑھ کر قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔

غازی علم الدین شہید کا مقبرہ میانی صاحب قبرستان میں بہاولپور روڈ کے کنارے نمایاںمقام پر ہے۔ مزار کے چاروں طرف ایک مسقف بر آمدہ ہے مگر خود مزار بغیر چھت کے ہے۔ مزار کے مشرق میں غازی کے والد، والدہ اور رئو ف احمد بھتیجے کی قبریں ہیں ۔ تایا میاں میر بخش اور ان کی اہلیہ کی قبریں مغرب کی طرف ہیں۔ تعویذ کے شمال میں سنگ مرمر کا ایک کتبہ ہے جس کے اندرون رخ پر غازی کی تاریخ پیدائش 3دسمبر 1908ءاور تاریخ وفات 31اکتوبر1929ءدرج ہے۔ کتبے پر پنجابی اور اردو میں بے شمار اشعار کندہ ہیں۔
”خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را“

:دیگر مضامین
(20.10.2011) سمیرحلائقہ:۔مغربی کنارے میں مفاہمت کے حوالے سے سخت مایوسی کی کیفیت ہے
(18.09.2011) اتحاداُمت کے نقیب،مسلم قومیت کے علمبردار ۔از“ محمد احمد ترازی
(06.09.2011) مخدوم سید قمرالزماں ، مثالی سیاست دان اور بے مثال انسان
(10.08.2011) قبلہ اول کے سابق امام الشیخ محمود الصیام کا خصوصی انٹرویو
(20.06.2011)  ریسکیو1122 اپنے فرائض پوری ایمانداری سے اداکررہا ہے
(18.05.2011) سیدنا جعفر بن ابی طالب المعروف جعفرالطیّار شہیدِ مؤتہ۔از۔پیر سید علی عباس شاہ
(16.03.2011) جمعرات 17مارچ 2011 11) ربیع الثانی ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(17.02.2011) اسرائیلی جیل سے رہا ہوئے فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن جمال نتشہ سے گفتگو
(27.01.2011) حماس نے23 سال میں بیک وقت مزاحمت و حکمرانی کا بہترین نمونہ پیش کیا: طہ
(02.12.2010) حضرت فاطمہ الزہرا ء ۔۔۔ (40)۔۔۔ شمس جیلانی
(29.11.2010) ڈاکٹر محمود الرحمٰن صاحب کی ہمہ جہت شخصیت ۔از؛ قمر رضا
(19.10.2010) ” مُش اینڈ مُش لیگ “ ماضی ، حال اور مستقبل ۔از؛ جاوید اقبال کیانی
(30.09.2010) جناب معین الحق ایک مثالی انسان اور ایک مثالی سفارت کار ۔۔شمس جیلانی
(27.09.2010) معروف ادیب و شاعر رام پرکاش مہندی رتہ سے ایک ملاقات ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.08.2010) ولادتِ حضرت عبد القادر جیلانی رح۔از۔۔شمس جیلانی
(10.08.2010) ابھی تک نا مکمل ہے مگر تعبیر آزادی ۔از؛ محمد احمد ترازی ۔کراچی
(04.08.2010) ثبوت حاضر ہیں ۔از؛ محمد احمد ترازی ۔کراچی
(28.07.2010) عصمت محمدیہ (ص) کے چودھویں ستارے حضرت امام مہدی (عج)
(16.07.2010) نظام ہدایت کی ضرورت پر ایک منطقی بحث۔از: سید مصباح حسین جیلانی
(15.07.2010) نظام ہدایت کی ضرورت پر ایک منطقی بحث۔از: سید مصباح حسین جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں