15.10.2026, 10:10am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » زرقا مفتی
 

ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از زرقا مفتی
09.09.2009, 06:21am , بدھ (GMT+1)

زرقا مفتی۔لاہور

وطنِ عزیز کے سیاسی اُفق پر ایک انوکھی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ جو برستی ہے تو برسوں کی جمی ہوئی گرد کو دھو ڈالتی ہے۔ جہاں برستی ہے وہیں ایک سچ کو جھوٹ کی پرتوں سے باہر نکال دیتی ہے۔ سچ تو ہمیشہ خوبصورت ہوتا ہے مگر کئی سچ بہت سے بدصورت اور کریہہ المزاج لوگوں کے کالے کرتوتوں کو سامنے لے آتے ہیں۔ ایسے ہی کئی سچ سامنے آ رہے ہیں۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ بہت سے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کی سیاست  بھی اسٹیبلشمنٹ اور اس کی ماتحت ایجینسیوں کے کردار کے بغیر نامکمل ہے۔ سیاستدان جو بھی کہیں اسٹیبلشمنٹ کی رضا مندی کے بغیر اس ملک میں مسندِ اقتدار پر بیٹھنا نا ممکن ہے۔

عدلیہ کی بحالی اور مشرف صاحب کے استعفے کے بعد اکثر سیاستدان سمجھنے لگے ہیں کہ انہوں پاکستان کی سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کر دیا ہے اسی غلط فہمی کے بل بوتے پر انہوں نے مشرف صاحب کے مواخذے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ عدالتِ عالیہ نے معاملہ پارلیمنٹ کی صوابدید پر چھوڑ دیا تو میڈیا میدان میں آگیا۔ ہم خیال کالم نویس اور ٹی وی اینکرز یہ مطالبہ دہرانے لگے۔ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ نے ایک پرانے کھلاڑی برگیڈیئر امتیاز کو میدان میں اُتار دیا جو شریفین کو بیتی باتیں اور پرانے قصے یاد دلانے لگے۔  شریفین آئینہ دکھائے جانے پر سیخ پا ہو گئے اور ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں میں پھر لفظوں کی جنگ شروع گئی۔ پی پی پی اور ن لیگ کے  رومانس کا شعلہ تو  کب کا جل بجھا  ہے بچی کھچی مفاہمت کی راکھ ہے جس میں مخاصمت کی چنگاریاں بھڑکتی رہتی ہیں۔

ہمارے رہنما عوام کے مسائل کو بھاڑ میں جھونک کر خود ایک دوسرے کی تذلیل میں مصروف ہیں ۔ نواز شریف صاحب  اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو سیاست سے ختم کرنے کے سب سے بڑے حامی ہیں ان کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ جنرل جیلانی ان کو سیاست میں لائے ۔وہ ضیاء الحق کے منظورِ نظر رہے اور اُن کے سیاسی جانشین بھی بنے۔  ضیاالحق کے غیر جماعتی الیکشن کے نتیجے میں اسبلی میں پہنچے وزیرِ اعلیٰ بنے ۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ جونیجو صاحب کو ضیاء الحق نے برخواست کر دیا اور ضیاء الحق کو اجل لے گئی اس طرح اُن کے لیے میدان صاف ہو گیا۔ اور اسٹیبلشمنٹ کو پی پی پی کے مقابلے کے لیے موزوں ترین امیدوار نواز شریف ہی نظر آئے ۔ اقتدار اور مقبولیت کے نشے میں چور شریفین سمجھنے لگے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو زیر کر سکتے ہیں۔ لیکن ۱۹۹۹کے تلخ تجربے نے اُن پر واضح کر دیا کہ ابھی وہ اتنے طاقتور نہیں۔ لگ بھگ ۹ سال کی جلاوطنی کے بعد شریفین وطن لوٹے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو زیر کرنا اُن کے ایجنڈا پر سرِ فہرست ہے۔

دوسری طرف ایم کیو ایم ہے۔ جس کے متعلق سب جانتے ہیں کہ ضیاء الحق صاحب کے زمانے میں  کراچی و سندھ میں پی پی پی کی مقبولیت کم کرنے کے لیے سیاسی منظرِ نامے پر لائی گئی تھی۔ یہ جماعت ن لیگ اور پی پی پی کے ہر دورِ حکومت میں شریکِ اقتدار بھی رہی اور زیرِ عتاب بھی۔ اس کے قائد الطاف حسین تا دمِ تحریر جلاوطن ہیں۔ عوام کی نظروں میں مجیب الرحمن کا سا رتبہ رکھتے ہیں ۔ سیاست کے افق پر جاری برسات  ان کی جماعت پر لگے الزامات کو دھو رہی ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی کی محاذ آرائی کا فا ئدہ ان کو پہنچ رہا ہے۔ یا پھر یوں کہیے کہ شاید یہ ہنگامہ الطاف حسین کی باعزت وطن واپسی کے لیے برپا کیا گیا ہے۔

سیاسی فضا سے بادل چھٹنے کے بعد کس کا کردار نکھرتا ہے اور کس کا کیچڑ آلود ہوتا ہے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس برسات نے سیاسی میدان میں جو اُتھل پتھل مچائی ہے اس کا سب سے زیادہ فائدہ ملک دشمن قوتوں کو ہو رہا ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اور پاکستانی فوج اور اس کے ماتحت ایجینسیوں کی کردار کشی کرنا چاہتے ہیں۔ ہر ملک کی طرح ہماری فوج بھی سرحدوں کی محافظ ہے لیکن سرحدوں کی محافظ  سرحدوں کے اندر بھی ملک دشمن عناصر سے بر سرِ پیکار ہے۔

 امریکی اتحادی اور اُن کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور بھارت پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اور کسی بہانے سے ہمیں ایٹمی اسلحے سے دستبردار کروانا چاہتے ہیں۔ افغانستان سے بھگوڑے طالبان نے پاکستان کا رُخ کیا تو ان کی مراد بر آنے کو تھی لیکن پاک فوج نے سوات میں کامیاب آپریشن کر کے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

حال ہی میں امریکہ نے اپنے سفارت کاروںکی پاکستان میں حفاظت کا ٹھیکہ بدنامِ زمانہ بلیک واٹر نامی کمپنی کو دیا ہے۔بہت سے محبِ وطن تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ بلیک واٹر کے اہلکار اور ایک ہزار امریکی میرینز پاکستان کے ایٹمی اسلحے کی تباہی کے لیے پاکستان آئے ہیں ۔  امریکی اور بھارتی سفارت خانے کی غیر معمولی توسیع نے پر عوامی جمہوریہ چین کو بھی تشویش لاحق ہوئی ہے لیکن ہمارے رہنما فضول لفظی تکرار میں اُلجھے ہوئے ہیں۔  اس محاذ آرائی کی آڑ میں فوج کی کردار کشی کی مہم بھی جاری ہے۔

 سوات آپریشن سے جو نیک نامی پاک فوج نے کمائی ہے اُس کا اثر زائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ۔ اور دوسری طرف علیحدگی پسند قوتوں کو مفاہمت کے نام پر آزادی دی جا رہی ہے۔ بے نظیر کے انتقال پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے زرداری صاحب کو اب صرف امریکہ کی دلداری مقصود ہے۔ بلوچستان کتے مسائل پر حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے۔  ملک کے دانشور بھی بے بس و لا چار ہیں  اپنے رہنماؤں کی فہم و دانش کا نوحہ پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اُن کے ہاتھوں میں اختیار نہیں کہ ان بے بصر کوتاہ فہم بونوں کو ہمیشہ کے لیے جلا وطن کر دیں یا کالے پانی کی سزا سنا دیں۔

مشرف صاحب بھی اس ہنگامے سے مستفید ہونے والے افراد میں شامل ہیں ۔ کیونکہ اُن کے مواخذے کا معاملہ سرد پڑ گیا ہے ۔ گو کہ ن لیگ نے اپنے اجلاس میں اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مشرف کو تختہء دار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر کسی کے انتقام کی آگ ٹھنڈی ہو سکے۔ انتقام کی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتی ۔ سیاست کے افق پر ایسی ہنگامہ آرائیاں فوجی طالع آزماؤں کے لیے نظریہ ضرورت کو از سرِ نو پیدا کرتی ہیں۔ ہمارے سیاستدان اگر آمریت کی راہ ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہتے ہیں تو ایسی ہنگامہ آرائیوں سے گریز کریں ۔ عوامی مسائل پر توجہ دیں ۔

 ملکی سلامتی کے لیے یکسو ہو کر سوچیں اور دشمن کے سامنے متحد ہو کر صف آرا ہوں ۔ عوام  کیطرف سے ایک حتمی الٹی میٹم ہے کہ ہم سیاست دانوں کی ہنگامہ آرائیوں سے تنگ آ چکے ہیں اگر انہوں نے اپنی سرشت نہ بدلی تو ہمارے غضب کی تیز ہوا  ان میں سے ہر ایک کی مقبولیت کو بخارات کی مانند آڑا لے جائے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی ہنگامے کے سامنے کسی کی پیش نہیں چلتی ۔ عوامی ہنگامہ آرائی پر یہ سوال بھی نہیں اُٹھتا  کہ ہنگامہ ہے کیوں برپا؟؟؟




 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں