16.10.2026, 10:14pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

آج 21 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
30.07.2013, 01:25am , منگل (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی

ماہ رمضان میں تراویح پڑھنے کی فضیلت

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام حسن ابن علی رضی اللہ عنہ کی زبانی بیان کیا ہے کہ تراویح پڑھنا سنت ہے اور اسے کسی حال میں ترک کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام رمضان میں نماز تراویح پڑھی اور گاہے ترک کرتے ہوئے فرمایا میں اس خوف سے مسلسل نہیں پڑھتا کہ کہیں یہ فرض نہ ہو جائے۔

احادیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر خلفاء راشدین ہمیشہ تراویح پڑھتے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے لوگو! میرے اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت پر سختی کے ساتھ عمل کرو۔ فقہ کی بعض کتابوں میں مرقوم ہے اگر شہر کے باشندے تراویح پڑھنا چھوڑ دیں تو حاکم وقت کے لیے لازمی ہے کہ وہ تارکین تراویح کو قتل کر دے۔

روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا اپنے غلام زکوان کے پیچھے تراویح پڑھتی تھیں اور یہی عمل ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کا تھا کہ وہ دیگر خواتین کے ساتھ جماعت کے طور پر اپنے غلام امام حسن بصری کی امامت میں تراویح پڑھتی تھیں۔

 یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ مجھے ابوسلمہ نے خبر دی، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے فضائل بیان فرما رہے تھے کہ جو شخص بھی اس میں ایمان اور نیت اجر و ثواب کے ساتھ ( رات میں ) نماز کے لیے کھڑا ہو اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

 عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں حمید بن عبدالرحمن نے او ر انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کی راتوں میں ( بیدار رہ کر ) نماز تراویح پڑھی، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی او ر لوگوں کا یہی حال رہا ( الگ الگ اکیلے اور جماعتوں سے تراویح پڑھتے تھے ) اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی ایسا ہی رہا۔

ابن شہاب سے ( امام مالک رحمہ اللہ علیہ ) کی روایت ہے، انہوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کی کہ انہوں نے بیان کیا، وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گئے ۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔

 اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہوگا، چنانچہ آپ نے یہی ٹھان کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام بنادیا۔

 پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز ( تراویح ) پڑھ رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے اور ( رات کا ) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصہ ( کی فضیلت ) سے تھی کیوں کہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میں پڑھ لیتے تھے۔

یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے خبردی او رانہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ( رمضان کی ) نصف شب میں مسجد تشریف لے گئے اور وہاں تراویح کی نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے اس کا چرچا کیا۔ چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے ( اس رات بھی ) نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی۔
چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھیں۔ ( لیکن اس رات آپ برآمد ہی نہیں ہوئے ) بلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر شہادت کے بعد فرمایا۔ اما بعد! تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ، چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہی کیفیت قائم رہی۔

اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تراویح یا تہجد کی نماز ) رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ آپ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی چار رکعت پڑھتے، تم ان کے حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، پھر چار رکعت پڑھتے، ان کے بھی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، آخر میں تین رکعت ( وتر ) پڑھتے تھے۔ میں نے ایک بار پوچھا، یا رسول اللہ! کیا اپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

اکیسویں دن کی دعا:

 بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِیہِ الی مَرْضاتِکَ دَلِیلاً، وَلاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطانِ

 اے معبود! آج کے دن اپنی رضاؤں کی طرف میری رہنمائی کا سامان کر اور اس میں شیطان کو مجھ پر کسی طرح

فِیہِ عَلَیَّ سَبِیلاً، وَاجْعَلِ الْجَنَّہ لِی مَنْزِلاً وَمَقِیلاً، یَا قاضِیَ حَوائِجِ الطَّالِبِینَ ۔

کا اختیار نہ دے اور جنت کو میرا مقام اور ٹھکانہ قرار دے اے طلبگاروں کی حاجتیں پوری کرنے والے ۔

 اکسیویں شب کی عبادتیں
                                            
1 اکسیویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر ایک ایک بار اور سورہ اخلاص ایک ایک مرتبہ پڑھے ، بعد سلام کے 70 مرتبہ دورود پاک پڑھے ۔ انشاہ اللہ اس نماز کے پڑھنے والے کے حق میں فرشتے دعاے مغفرت کرے گئے ۔

2 اکیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں  سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر ایک ایک اور سورہ اخلاص تین تین بار بار پڑھنی ہے ۔
بعد سلام کے نماز ختم کر کے ستر مرتبہ استغفار پڑھے ۔ انشا اللہ اس نماز اور شب قدر کی بر کت  سے اللہ پاک اس کی بخشش فرما دے گا ۔
                                                         
3 ماہ رمضان کی اکیسویں شب کو اکیس بار سورہ قدر پڑھنا بھی افضل ہے.

اکیس  رمضان کے اہم واقعات

مولائے متقیان ، امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ شہید ہوئے

21 رمضان سنہ 40 ھ ق کو جانشین رسول اکرم (ص) ، مولائے متقیان ، امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ شہید ہوئے ۔ شہادت سے دو روز قبل مسجد میں صبح کی نماز کے دوران جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سجدے کی حالت میں تھے کہ ابن ملجم نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے آپ کے سرپروار کیا اور 21 رمضان کو آپ کرم اللہ وجہہ اپنے معبود حقیقی سے جا ملے ۔

آپ  نے وہ سعادت حاصل کرلی جس کی آپ کو ہمیشہ سے آرزو تھی، یعنی راہ خدا میں شہادت ۔آپ کا طرز زندگی ، آپ کی حکومتی روش اور آپ کے خطبات و کلمات آج کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی عدل و انصاف اور حق و صداقت کی جستجو کرنے والوں کے لئے مشعل راہ کا کام دے رہے ہیں ۔

نہج البلاغہ آپ کے خطبات ، خطوط اور کلمات قصار پر مشتمل اہم کتاب ہے جس کو ایک بڑے عالم و دانشور سید رضی علیہ الرحمہ نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب حضرت علی کرم اللہ وجہہ  کی حکمت آمیز باتوں ، عرفانی معارف اور اخلاقی نصیحتوں کا بحر بے کراں ہے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ  نے انسان کے لئے اخلاقی فضائل سے آراستہ ہونے کی بہترین راہ ،تقویٰ و پرہیزگاری کو قراردیا ہے ۔

مولا علی کرم اللہ وجہہ کی شخصیت کا مختصر خاکہ

تاریخ اسلام میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے امتیازی اوصاف وکمالات اور خدمات کی بنا پر رسول (ص) ان کی بہت عزت کرتے تھے اور اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو بیان کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ ” علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ” ۔کبھی یہ کہا کہ ” میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ” کبھی یہ کہا ” تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے ” کبھی یہ کہاکہ ” علی کومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ (ع) سے تھی” کبھی یہ کہاکہ ” علی  مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یاسر کو بدن سے ہوتا ہے”

کبھی یہ کہ” وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ” یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی کرم اللہ وجہہ  کو نفس رسول کاخطاب ملا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کادروازہ کھلا رکھا گیا جب مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر (ص) اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیااور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس جس کامیں سرپرست اورحاکم ہوں اس اس کے علی  سرپرست اور حاکم ہیں یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے علی کرم اللہ وجہہ کو مبارک باد دی اور ان میں حضرت عثمان غنی (رض) نے سب سے پہلے دی ۔سارے جہانوں نے سمجھ لیا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے علی کرم اللہ وجہہ کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے۔

افسوس ہے کہ یہ امن , مساوات اور اسلامی تمدّن کا علمبردار دنیا طلب لوگوں کی عداوت سے نہ بچ سکا اور 19ماہ رمضان 40ھ کو صبح کے وقت خدا کے گھر یعنی مسجد میں عین حالت نماز میں زہر آلودہ تلوار سے انکے سر اقدس کوزخمی کیا گیا ۔

 آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کی انتہا یہ تھی کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کاچہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔

 تو آپ کو اس پر بھی رحم آگیا اور اپنے دونوں فرزندوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمھارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا . اگر میں اچھا ہوگیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگانا , کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں , اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے ۔

 دو روز تک علی کرم اللہ وجہہ بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت واقع ہوئی امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام نے تجہیزو تکفین کی اور نجف کی سرزمین میں انسانیت کے عظ?م تاجدار کو ہمیشہ کے لیے سپرد خاک کردیا۔

مولا ئے کایئانات حضرت علی فرماتے ہیں

تم کو ان لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہیے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجا م کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طالبوں کے سے ہوتے ہیں.

اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جو انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جو بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں۔ اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں. اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں.

جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تواترانے لگتے ہیں اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے. جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہوکر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں.

ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبالیتے. دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں. اگر مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہوجاتے ہیں تو ناامید ہوجاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں .

جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پرآتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں. اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ,اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہوجاتے ہیں. عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں. مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں. فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں ۔

وہ نفع کو نقصان اور نقصا ن کو نفع خیال کرتے ہیں. موت سے ڈرتے ہیں. مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے. دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں .اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں .

لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں .دولتمندوں کے ساتھ طرب ونشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں.

 اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کرلیتے ہیں مگر خود ادا نہیں کرتے. وہ اپنے پروردگا ر کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خو ف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔


معروف عالم اور محدث " شیخ حرّ عاملی " کا انتقال

21 رمضان المبارک سنہ 1104 ہجری قمری کو لبنان کے معروف عالم اور محدث " شیخ حرّ عاملی " کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 1033 ہجری میں پیدا ہوئےتھے انہوں نے 40 سال تک لبنان اور شام کے قابل قدر اساتذہ سے کسب فیض کیا اور ان کے علم سے بہرہ مند ہوئے ۔

شیخ حر عاملی کچھ عرصے بعد ایران کے شہر مشہد مقدس چلے آئے اور تقریبا" 24 سال تک دین کی ترویج ، تدریس اور قاضی کے فرائض انجام دیئے ۔

اس بلند پایہ عالم کی تالیفات میں کتاب "وسائل الشیعہ " معروف ترین ہے جو فقہ اور حدیث کی معتبر کتابوں میں شمار ہوتی ہے ۔ان کی دیگر کتب میں " الجواہرُ السنیّہ فی الاحادیث القُدسیّہ " اور " دیوان شعر عربی " قابل ذکر ہیں ۔

( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )

( شب قدر کی عبادات کی تفصیل نزہت نسیم نے لندن سے ترتیب دی )


:دیگر مضامین
(29.07.2013) آج 20 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(28.07.2013)  آج 19 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(27.07.2013)  آج 18 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(26.07.2013) آج 17 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(24.07.2013) آج 15 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(23.07.2013) آج 14 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(18.07.2013) ماہ صیام اور محمد ّو آل محمد ّ۔استقبال رمضان پر سید اکمل حسین کی خصوصی تحریر
(14.07.2013) آج 5 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(13.07.2013) ماہ صیام کے موسم بہار میں قران پاک میں لکھی دعاؤں کا منظوم نذرانہ
(13.07.2013) آج 4 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(12.07.2013)  ماہ صیام کے موسم بہار میں قران پاک میں لکھی دعاؤں کا منظوم نذرانہ
(10.07.2013) ماہ صیام کے موسم بہار میں قران پاک میں لکھی دعاؤں کا منظوم نذرانہ
(10.07.2013) اس سال 2013 میں روسی مسلمان سب سے طویل یعنی بائیس گھنٹے کا روزہ رکھیں
(10.07.2013) آج یکم رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(09.07.2013) رمضان کی فیضلت معصومین کے فرامین کی روشنی میں ۔از؛سید اکمل حسین ۔لندن
(09.07.2013)  روزے کی جسمانی و نفسیاتی افادیت ۔۔۔۔میاں امجد ۔فرانس
(08.07.2013) رمضان کا احسان ہے رمضان مہربان۔اویس قادری
(08.07.2013) چاند رمضان کا جب نظر آ گیا
(07.07.2013) کون کہتا ہے سحر نہیں ہو گی ۔۔۔از۔۔۔فرخندہ رضوی
(06.07.2013) انجمن تخلیق و تہذیب کویت نے عالمی مشاعرے کی ڈی وی ڈی سفیر پاکستان کو پیش کی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں