16.10.2026, 09:06am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

کوئٹہ کا 1935کا تباہ کُن زلزلہ
29.10.2008, 12:48pm , بدھ (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔لندن
دنیا میں زلزلوں کی تاریخ کے جو بیس بڑے بھونچال آئے ہیں ان میں سے صرف ایک پاکستان میں آیا ہے جو انیس سو پینتیس میں کوئٹہ میں آنے والا زلزلہ تھا جس سے یہ شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا اور امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس کے نتیجہ میں ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو اسلام آباد ،آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں بھی زلزلہ آیا۔ سات اعشاریہ چھ کی شدت کے زلزلے میں اسی ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں زخمی ہوئے۔

انتیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کو قیامت خیز زلزلے نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کا رخ کیا۔ اور کوئٹہ قلعہ عبداللہ، پشین، لورالائی، ہرنائی، زیارت، سبی، مستونگ سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے سے ایک سو سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سینکڑوں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے جبکہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ پانچ ریکارڈ کی گئی۔
        
   
1876ء میں کوئٹہ کو باقاعدہ برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ اس دوران ہزارہ قبائل کے افراد بڑی تعداد میں کوئٹہ میں آباد ہوئے۔

انگریزوں نے کوئٹہ کو ایک فوجی اڈہ میں تبدیل کر دیا چنانچہ اس دور میں کوئٹہ کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا جو 1935ء کے مشہور زلزلہ تک جاری رہا۔ 31 مئی 1935ء کو کوئٹہ میں ایک بڑا زلزلہ آیا جس نے پورے شہر کو آناً فاناً مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کردیا اور ایک اندازہ کے مطابق 40،000 افراد چند دقیقوں میں ہلاک ہو گئے۔

اس قیامت خیز زلزلہ نے کوئٹہ کو بالکل تباہ کر دیا اور شہر میں کوئی عمارت نہ چھوڑی۔ یہ زلزلہ رچرڈ کے معیار کے مطابق 7.1 کی شدت کا تھا۔ اس کا شمار جنوبی ایشیاء کی تاریخ کے چار بڑے ترین زلزلوں میں کیا جاتا ہے جس کے بغیر کوئٹہ کی تاریخ نامکمل ہے۔ اس زلزلہ کے بعد کوئٹہ کی تعمیرِ نو ہوئی مگر تمام عمارات یک منزلہ تھیں۔

 اس کے علاوہ برطانوی لوگوں نے چونکہ اپنے فوجی اڈے افغانستان کی سرحد کے ساتھ بنا لیے تھے اس لیے انہوں نے کوئٹہ کی تعمیرِ نو میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ لیکن کوئٹہ چونکہ افغانستان اور ایران کے تجارتی راستے پر تھا اس لیے آہستہ آہستہ اس نے اپنی حیثیت دوبارہ مستحکم کر لی۔ اس کی تجارت افغانستان کے ساتھ چمن کے راستے اور ایران کے ساتھ نوشکی، دالبندین اور تفتان کے راستے دوبارہ شروع ہو گئی۔

کوئٹہ 30.2 ڈگری شمال اور 67 ڈگری مشرق پر واقع ہے۔ چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھری ہوئی وادی ہے۔ سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے۔ یہ افغانستان کے شہر قندھار سے قریب ہے۔ یہ کراچی کے شمال مشرق میں اور اسلام آباد کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ بذریعہ ریل اس کا کراچی سے فاصلہ 863 کلومیٹر اور لاہور سے 1170 کلومیٹر ہے۔

لاہور سے فضائی فاصلہ صرف 700 کلومیٹر ہے مگر درمیان میں کوہِ سلیمان کے آنے کی وجہ پہلے روہڑی جانا پڑتا ہے اس لیے ریل کا راستہ زیادہ طویل ہے۔ صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر وادی پشین واقع ہے جو نہائت زرخیز ہے اور اپنے پھلوں اور کاریزات کی وجہ سے مشہور ہے۔

پاکستان میں زیادہ زلزلے شمال اور مغرب کے علاقوں میں آتے ہیں جہاں زمین کی سطح کے نیچے موجود غیر یکساں تہیں یعنی انڈین ٹیکٹونک پلیٹ ایرانی اور افغانی یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے ساتھ ملتی ہے۔ زیر زمین تہ جسے انڈین پلیٹ کہا جاتا ہے بھارت، پاکستان اور نیپال کے نیچے سے گزرتی ہے۔ انڈین پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے ٹکراؤ کے نتیجہ میں ہی ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے تھے۔

پاکستان میں جن علاقوں میں زلزلہ آنے کا سب سے زیادہ امکان ہے وہ وہ کوئٹہ سے افغانستان کی سرحد تک پھیلا ہوا علاقہ اور مکران کے ساحل کا علاقہ ہے جو ایرانی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ دوسرے کوہ ہندوکش سے نکلنے والے زلزلہ شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کو متاثر کرتے ہیں۔

بیس نومبر سنہ دو ہزار دو کو گلگت کے علاقہ میں زلزلہ آیا تھا جس سے گلگت میں تئیس افراد ہلاک ہوئے تھے، گلگت اور اسطور میں خشف زمین (لینڈ سلائڈ) سے پندرہ ہزار لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔

تین نومبر سنہ دو ہزار دو میں گلگت اور اسطور کے علاقہ میں آنے والا زلزلہ پشاور، اسلام آباد اور سری نگر تک محسوس کیا گیا تھا جس سے شاہراہ قراقرم بند ہوگئی تھی۔ اس سے سترہ افراد ہلاک اور پینسٹھ زخمی ہوگئے تھے جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔

یکم نومبر سنہ دو ہزار دو میں گلگت اور اسطور کے علاقہ میں ہی ایک زلزلہ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا جبکہ شاہراہ قراقرم بند ہوگئی تھی۔

چھبیس جنوری سنہ دو ہزار ایک کو بھارت کے صوبہ گجرات میں جنم لینے والے زلزلہ سے جنوبی پاکستان کے کچھ کے علاقہ میں بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ستائیس فروری انیس سو ستانوے میں بلوچستان میں ہرنائی کے مقام پر ایک بڑی شدت کا زلزلہ آیا جس سے کوئٹہ، ہرنائی اور سبی میں خشف زمین (لینڈ سلائڈ) سے پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ زلزلہ وسطی بلوچستانمیں محسوس کیا گیا تھا۔

نو اگست انیس سو ترانوے کو کوہ ہندوکش سے جنم لینا والے ایک بڑے زلزلہ نے وسطی ایشیا سے ملتان تک کے لعاقہ کو متاثر کیا لیکن اس کا مرکز بہت گہرائی میں تھا جس وجہ سے زندگی زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔

اکتیس جنوری انیس سو اکیانوے کو کوہ ہندوکش میں زلزلہ آنے سے افغانستان میں ننگر ہار اور بدخشاں کے علاقوں میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ پاکستان کے شمالی علاقوں خصوصا چترال میں تین سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

انتیس جولائی انیس سو پچاسی کو کوہ ہندوکش ہی میں ایک بڑا زلزلہ (رکٹر اسکیل پر سات اعشاریہ ایک) آیا جس سے سوات اور چترال کے ضلعوں میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ زلزلہ پنجاب میں بھی محسوس کیا گیا تھا۔

تیس دسمبر انیس سو تراسی کو کوہ ہندوکش میں ایک بڑے زلزلہ سے شمالی پاکستان میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔

بارہ ستمبر انیس سو اکیاسی کو گلگت میں آنے والے ایک بڑے زلزلہ سے دو سے زیادہ افراد ہلاک اور ڈھائی ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے۔

اٹھائیس دسمبر سنہ انیس سو چوہتر میں مالاکنڈ کے شمال مشرق میں آنے والے زلزلہ سے پانچ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ستائیس نومبر انیس سو پینتالیس کو بلوچستان کے ساحل مکران میں جنم لینے والے ایک بڑے زلزلہ سے دو ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے اور سنامی پیدا ہوئی تھی جس نے ممبئی کو بھی متاثر کیا تھا۔

اکیس نومبر انیس سو پینتیس کو کوئٹہ میں جنم لینے والے زلزلہ سے تیس ہزار سے ساٹھ ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے اور کوئٹہ شہر تقریبا مکمل طور پر تباہ ہوگیاتھا۔ یہ زلزلہ بہت کم گہرائی میں پیدا ہوا تھا اس لیے اس سے اتنی تباہی ہوئی۔سنہ اٹھارہ سو ستائیس اور انیس سو اکتیس کے درمیان بلوچستان کےمختلف علاقوں میں نو مختلف زلزلے آیے۔

چھبیس ستمبر اٹھارہ سو ستائیس کو لاہور کے قریب زلزلہ کا مرکز بنا جس سے ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

سولہ جون اٹھارہ سو انیس کو جنوبی پنجاب اور بھارت کے علاقہ کچھ میں آنے والے زلزلہ سے بتیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور جنوبی پنجاب کے درجنوں قصبے اور دیہات تباہ ہوگئے تھے۔ یہاں پر نوے کلومیٹر تک زمین کی پٹی زلزلہ کی شدت سے سطح سے چار فٹ بلند ہوگئی تھی۔ یہ زلزلہ اللہ بند نامی فالٹ لائن (دو غیر مساوی زمین کی زیریں تہوں کے ملنے کا مقام) سے پیدا ہوا تھا۔ اسی فالٹ لائن سے کسی زمانے میں بھنبور شہر تباہ ہوا تھا۔

اس تحقیقی مضمون کی تیاری میں ویکپیڈیا اورعالمی اخبار کی ڈیجیٹل لائبریری کے حوالہ جاتی  مواد سے مدد لی گئی ہے

:دیگر مضامین
(25.10.2008) چہروں کی بجائے اب نظام بد لا جائے ۔
(22.10.2008) بجلی کا بل اور کرنٹ
(20.10.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر انگریزی پیغامات
(13.10.2008) وینس ٹی وی لندن کا مشاعرہ
(07.10.2008) جشنِ مرتضوی 2008 کراچی
(04.10.2008) وینس ٹی وی لندن کا مشاعرہ
(04.10.2008) لندن میں نصبِ علم کی تقریب
(04.10.2008) سڈنی میں ایک خوبصورت موسیقی کی شام
(04.10.2008) پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور باب تحریر ہوا
(04.10.2008) پاک ڈچ نیشنل فورم کایادگار مشاعرہ
(04.10.2008) ’’ شہادتِ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ‘‘
(04.10.2008) حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ
(04.10.2008) ''ہے تجسس جو اگر شمس نہ تھک کر بیٹھو‘‘
(04.10.2008) سیف الاسلام سید نا یحییٰ بن زید شہید سلامُ اللہ علیہ
(04.10.2008) نقشِ پا انکے ہیں جنت کے نشاں
(04.10.2008) ام الاوصیا،شہربانو،سلام اللہ
(04.10.2008) وینکور میں معمر افراد کا مثالی مرکز
(04.10.2008) عبد زھراء ۔۔خطبہ مبارکہ لُمََّہْ
(04.10.2008) آغوش پنجتن پاک
(04.10.2008) سن پینسٹھ کی جنگ کی کہانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں