علامہ محمد معراج الاسلام مزید فرماتے ہیں
شب قدر
عمل و ریاضت کے شیدائیوں کے لئے شب قدر خاص اہمیت و کشش رکھتی ہے کیونکہ اس میں انتہائی مختصر وقت میں حیرت انگیز حد تک زیادہ سے زیادہ رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین عمل کے شیدائی تھے، ایک دفعہ ان کے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا :
گذشتہ امتوں کے لوگ طویل ترین عمروں کے مالک ہوتے تھے، ان میں سے بعض اپنی ساری عمر عبادت و اطاعت میں کھپا دیتے تھے۔ صحابہ کرام نے یہ سن کر عرض کی : ’’ہماری عمریں تو مختصر ترین ہوتی ہیں ہم کتنی بھی محنت کریں، عمل میں ان خوش قسمت افراد کی برابر نہیں کر سکتے۔ عمر کی طوالت ان کو ہم پر فوقیت بخش دے گی‘‘۔
چونکہ اصحابِ عزیمت و ہمت تھے، خود کو میدان عمل میں بے بس پا کر افسردہ خاطر ہوئے اور اپنی بے بسی اور ساتھ ہی اطاعت و عبادت کے لئے اپنی رغبت کا اظہار کیا۔ قدرت ربانی نے ان کے خلوص و ذوق کو پذیرائی بخشی اور سورۃ القدر نازل فرماکر بتایا۔
شب قدر کی ایک رات کی عبادت ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے۔ طلوع فجر تک اس میں انوار و ملائک کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ یہ خوشخبری سن کر ان کی رگوں میں مسرت کی لہر کے ساتھ جذبہ عمل کی بجلیاں بھی دوڑ گئیں اور شب قدر کی تعین کے بارے میں استفسار فرمایا : اگر محنت و مشقت پر ابھارنا اور ان کی قوت عمل کو بیدار کرنا مقصود نہ ہوتا تو بتادیا جاتا، فلاں تاریخ کو شب قدر ہوتی ہے، مگر جذبہ عمل کو مہمیز لگانے کے لئے وہ طریقہ اختیار کیا جس میں مایوسی بھی نہیں اور ہر طبقہ کا شوق بھی برابر رہتا ہے۔
مثلاً یہ کہہ دیا جاتا کہ سارا سال عبادت کرکے شب قدر تلاش کرو تو اکثریت کی ہمتیں پست ہوجاتیں، اس لئے اس پست ہمتی اور مایوسی سے بچانے کے لئے بتادیا کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ کچھ لوگ ہی اتنے بلند ہمت ہوتے ہیں جو مسلسل دس راتیں بھی جاگنے کے لئے تیار ہوں، اس لئے پانچ راتیں مخصوص فرما دیں کہ وہ آخری عشرے کی طاق راتیں ہیں۔ کچھ لوگ پانچ راتیں جاگنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرسکتے تھے، انہیں ستائیسویں شب کو جاگنے کا مشورہ دیا۔
اس پردہ پوشی سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ہر طبقہ کے افراد کو ان کے درجہ کے مطابق عمل و فعل پر ابھارنا مقصود ہے کہ جتنا کسی سے ہوسکے، ضرور جاگ کر اپنے مالک کی رحمت سے جھولیاں بھرنے کی کوشش کرے اور عمل سے دست کش ہوکر نہ بیٹھ جائے، چنانچہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے ۔
(ترمذی)
’’وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے، لیکن تمہیں اس لئے خبر نہ دی کہ بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتانے کے لئے تشریف بھی لائے مگر وہ دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھ کر واپس تشریف لے گئے، گویا قدرت کو بھی منظور نہ تھا کہ عام لوگوں میں اس کا چرچا ہو، یہ صرف اسی لئے تاکہ مسلمانوں میں عمل و تجسس اور جدوجہد کا جذبہ قائم رہے۔
بخاری شریف میں ہے :
(صحيح الخباری : 893)
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب قدر کا بتانے کے لئے تشریف لائے، اس وقت دو شخص آپس میں جھگڑ پڑے۔ (آپ کی طبع مبارک پر یہ جھگڑا گراں گزرا، لہذا آپ واپس تشریف لے گئے) بعد میں فرمایا ہم باہر آئے تھے تاکہ شب قدر کے بارے میں بتائیں لیکن فلاں فلاں نے جھگڑنا شروع کر دیا اور وہ اٹھالی گئی۔ ممکن ہے یہی تمہارے حق میں بہتر ہو۔ لہذا انتیسویں، ستائیسویں اور پچیسویں میں سے اسے تلاش کرو‘‘۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، حدیث پاک میں جو یہ آتا ہے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر ڈھونڈو غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام اس طرح پوچھتے تھے : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اکیسویں شب میں تلاش کریں؟ آپ فرما دیتے : ہاں۔ دوسرا ستائیسویں کی یقین دہانی کرا لیتا، اسی طرح پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں کے بارے میں پوچھتے اور آپ سب کو وہی جواب دیتے کیونکہ آپ کی عادت مبارکہ تھی۔
’’جیسا سوال ہوتا، ویسا ہی جواب دیا کرتے تھے۔ پوچھا جاتا، فلاں رات میں تلاش کریں؟ آپ فرماتے : ہاں فلاں رات میں تلاش کرو‘‘۔
( ترمذی)
شب قدر کی واضح تعیین تو نہ فرمائی گئی مگر ترغیب و شوق کے لئے اس کے بے شمار فضائل بیان فرما دیئے، دیلمی کی روایت ہے :
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے صرف میری امت کو شب قدر دی ہے اور جو لوگ گزر گئے ان کو نہیں دی‘‘۔
طبرانی کی روایت ہے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرو۔
’’جس نے ایمان و یقین کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس میں قیام کیا اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : میں اس رات میں کیا دعا کروں؟ فرمایا : پڑھو
اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ.
’’اے اللہ تو معاف فرمانے والا ہے، عفو و درگزر کو پسند فرماتا ہے، مجھے معاف فرمادے‘‘۔
شب قدر كی رات بيدار رہ كر عبادت كرنے بہت زيادہ فضيلت بيان كی گئی ہے
پيغمبر اكرم صلہ علیہ وسلم نے فرمايا:
جو بھی شب قدر كو زندہ ركھے گا تو آيندہ سال تك عذاب اس سے اٹھا ليا جاۓ گا- (اقبال الاعمال)
پيغمبر اكرم صلہ علیہ وسلم نے فرمايا:
جو بھی ايمان اور ثواب كی خاطر ،شب قدر كو عبادت كے ساتھ گزارے گا ،اس كے گذشتہ تمام گناہ معاف ہوجاﺋیں گے –(فضاﺋل الاشھر الثلاثہ )
امام صادق علیہ السلام نے فرمايا:
شب قدر ماہ مبارك رمضان كا دل ہے-(بحار الانوار )
انتسیویں دن کی دعا
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ غَشِّنِی فِیہِ بِالرَّحْمَہِ، وَارْزُقْنِی فِیہِ التَّوْفِیقَ وَالْعِصْمَہَ، وَطَھِّرْ
اے معبود! آج کے دن مجھے رحمت سے ڈھانپ دے اس میں مجھے نیکی کی توفیق اور برائی سے تحفظ نصیب فرما اور میرے
قَلْبِی مِنْ غَیاھِبِ التُّھَمَہ، یَا رَحِیماً بِعِبادِہِ الْمُؤْمِنِینَ ۔
دل کو تہمت تراشی کی تاریکیوں سے پاک کردے اے اپنے ایماندار بندوں پر بہت مہربان۔
پانچوں شب قدر۔۔ انتنسیوں شب کی عبادات
1 انتنسیوں شب قردار کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر ایک ایک بار تین تین سور،ہ اخلاص پڑھنی ہے سلام کے بعد سورہ الم نشرح سترمرتبہ پڑھے ۔ انشا الله الله پاک اس نماز کے پڑھنے والے کو دنیا سے ایمان کے ساتھ لے جے گا ۔
2 اس رات کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر ایک اور پانچ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے سلام کے بعد ایک سو دفعہ دورود شریف پڑھے۔
انشا الله اس نماز کو پڑھنے والے کو دربار خدا وند ی سے بخشش و مغفرت عطا ہوگی ۔
انتسیویں رمضان کے اہم واقعات
عظیم عالم دین محدث اور ادیب علّامہ حلّی جو جمال الدین کی پیدایئش
29 رمضان المبارک سنہ 648 ہجری قمری کو عظیم عالم دین محدث اور ادیب علّامہ حلّی جو جمال الدین کے نام سے معروف ہیں ، پیدا ہوئے ۔ابتدا میں انہوں نے اپنے والد کے پاس رائج علوم سیکھے ۔
اس کے بعد فقہ ،اصول فقہ اور حدیث جیسے علوم میں اعلیٰ علمی درجے پر فائز ہوئے ۔علّامہ حلّی زہد و تقویٰ کے لحاظ سے بہت مشہور تھے ۔مختلف موضوعات پر ان کی پانچ سو سے زائد تصانیف موجود ہیں جن میں " تذکرہ الفقہا " اور " ارشاد الاذہان " کی طرف خاص طور سے اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
خطیب اور مورخ ابن فرات کا انتقال
29 رمضان المبارک سنہ 807 ہجری قمری کو مصری فقیہ ، خطیب اور مورخ ابن فرات کا قاہرہ میں انتقال ہوا ۔وہ اسی شہر میں سنہ 735 ہجری قمری میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی جوانی سے ہی علم کی جستجو شروع کردی ۔انہیں تاريخ میں بے حد دلچسپی تھی اسی لئے ہمیشہ تاریخی مسائل کو قلمبند کرنے میں مصروف رہے ۔اسی حوالے سے ان کی معروف کتاب " تاریخ الدول و الملوک " جو تاریخ ابن فرات کے نام سے بھی معروف ہے ۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں چھٹی سے آٹھویں صدی ہجری تک کے حالات و واقعات کو لکھا ہے ۔ابن فرات نے اپنی کتاب تاریخ میں برسوں کے اعتبار سے حالات و واقعات کو قلمبند کیا ہے اور ہر سال کےاختتام پر بڑی شخصیات کی تاریخ وفات کا اضافہ کیا ہے ۔ابن فرات کی دیگر کتابوں میں " السماء الصحابہ " اور " تاریخ العباد و البلاد " کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )
شب قدر کی عبادات کی تفصیل نزہت نسیم نے لندن سے ترتیب دی )