اس عشرے کی ایک خصوصی عبادت صدقہ فطر بھی ہے، جو ہر صاحب حیثیت مسلمان پر تقریباً دو سیر گندم یا اس کی قیمت، کے حساب سے واجب ہے، اس کی ادائیگی نماز عید سے پہلے ہونی چاہئے تاکہ غربا و نادار اپنی ضروریات خرید کر سب کے ساتھ خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔
زَکٰوہُ الْفِطْرِ فَرَض عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ حُرِّ وَعَبْدٍ ذَکَرِ وَاُنْثٰی مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ. (دار قطنی)
“صدقہ فطر، مسلمان مردو عورت، آزاد و غلام سب پر فرض ہے“ ۔
صدقہ فطر کی فرضیت کی حکمت
صدقہ فطر کی فرضیت کی حکمت کو بیان کرتے ہوئے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’روزہ دار سے جو لغویات اور فضول حرکتیں سرزد ہوتی ہیں۔ فطرانہ ان سے روزوں کی تطہیر کرتا ہے اور مساکین کی خوراک کا ذریعہ ہے، جو شخص نماز عید سے پہلے ادا کر دے اس کی طرف سے یہ قبول کر لیا جاتا ہے مگر جو بعد نماز ادا کرے، اسے عام دیئے جانے والے صدقہ کا ثواب ملتا ہے، فطرانہ کا نہیں (اور اس کی اہمیت یہ ہے کہ) روزے زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتے ہیں جب تک فطرانہ کی ادائیگی نہ ہو‘‘۔
رمضان کے فوراً بعد شوال کی پہلی رات میں اور پہلی صبح میں عید کی نماز سے پہلے کییے جانے والا کام زکوۃ الفطر یعنی فطرانہ کی ادائیگی ہے ۔
زکوۃ الفِطر
زکوۃ الفطر کی حِکمت
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ( فرض رسولُ اللَّہ صلی اللَّہ علیہ وسلم زکاۃَ الفِطرِ طُھرَۃً لِلصَّائمِ مِن اللَّغوِ و الرَّفَثِ ، و طُعمَۃً للمساکینِ فَمَن ادَّاھَا قَبلَ الصَّلاۃِ فَھي زکاۃٌ مقبولۃٌ ، وَ مَن ادَّاھَا بعدَ الصَّلاۃِ فَھي صدقۃٌ مِن الصَّدقاتِ ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزوے داروں کے لیے فضول اور بے ہودہ باتوں کی طہارت کے لیئے اور غریبوں کی خوراک کےلیے زکوۃ الفطر فرض کی ، لہذا جِس نے عید کی نماز سے پہلے ( فطرانہ ) ادا کر دِیا تو وہ ( اللہ کی طرف سے ) قُبول شدہ زکوۃ الفِطر ہو گی ، اور جِس نے جِس نے عید کی نماز کے بعد ( فطرانہ ) ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا )
سُنن ابو داؤد/حدیث١٦٠٩/کتاب الزکاۃ/باب زکاۃ الفطر ، صحیح ابن ماجہ/حدیث
زکوۃ الفطر کِس پر فرض ہوتی ہے ، اور کب فرض ہوتی ہے ، اور کب تک ادا کی جانی چاہیئے
زکوۃ الفِطرہر مُسلمان پر فرض ہے ،عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ( فرض رسول اللَّہ صلی اللَّہ علیہ وسلمزکاۃَ الفِطرِ صاعاً مِن تمرٍ او صاعاً مِن شعیرٍ علیٰ العَبدِ و الحُرِ و الذَکرِ و الاُنثیٰ و الصغیرِ و الکبیرِ مِن المسلینِ و اَمرَ بھا ان تؤدَّیَ قبل خروج الناس اِلیٰ الصَّلاۃِ ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مُسلمانوں کے ہر غُلام اور آزاد ، مرد اور عورت ، بڑے اور چھوٹے ، پر کھجوروں کا ایک صاع یا جَو کا ایک صاع زکوۃ الفِطر فرض کی اور حُکم فرمایا کہ لوگوں کے نماز عید کی طرف جانے سے پہلے یہ زکوۃ ادا کی جائے ۔
صحیح البخاری/کتاب الزکاۃ/باب٣١ ، صحیح مسلم/کتاب الزکاۃ )
فضائلِ عیدالفطر
عید نام ہے ماہِ شوال کے پہلے دن اور ذی الحجہ کے دسویں دن کا، ان دنوں کو عید اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں لوگ اطاعت الٰہی یعنی ماہِ رمضان کے فرض روزے اور حج سے فارغ ہوئے اور اطاعتِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹ آئے یعنی انہوں نے شوال کے چھ روزے رکھے اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی تیاری کی، یا انہیں عید اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ دن ہر سال لوٹ آتے ہیں۔
یا اس لئے کہ اس میں اللہ تعالٰے باربار فضل وکرم کرتا ہے، یا اس لئے کہ ان کے آنے سے خوشیاں لوٹ آتی ہیں، بہرحال تمام توجیہات میں عَود کا معنٰی پایا جاتا ہے۔
پہلی نمازِ عید
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے پہلی نمازِ عید 2ھ میں نمازِ عیدالفطر ادا کی اور پھر اسے کبھی ترک نہیں فرمایا لٰہذا یہ سنتَ مؤکدہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنی عیدوں کو تکبیروں سے زینت بخشو۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس شخص نے عید کے دن تین سو مرتبہ سبحٰن اللہ وبحمدہ پڑھی اور مسلمان موتٰی کی روحوں کو اس کا ثواب ہدیہ کیا تو ہر مسلمان کی قبر میں ایک ہزار انوارداخل ہوتے ہیں اور جب وہ مرے گا اللہ تعالٰے اس کی قبر میں ایک ہزار انوال داخل فرمائے گا۔
جناب وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ شیطان ہر عید پر نوحہ و زاری کرتا ہے اور تمام شیطان اس کے اردگرد جمع ہو کر پوچھتے ہیں، اے آقا! آپ کیوں غضب ناک اور اُداس ہیں ؟ وہ کہتا ہے اللہ تعالٰے نے آج کے دن اُمت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بخش دیا ہے لٰہذا تم انہیں لذتوں اور خواہشاتِ نفسانی میں مشغول کرو۔
جناب وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے عید الفطر کے دن جنت کو پیدا فرمایا اور درخت طوبٰی عیدالفطر کے دن بویا، جبریل کا وحی کیلئے عیدالفطر کے دن انتخاب کیا اور فرعون کے جادوگروں کی توبہ بھی اللہ تعالٰے نے عیدالفطر کے دن قبول فرمائی۔
فرمانِ نبوی ہے کہ جس نے عید کی رات طلبِ ثواب کیلئے قیام کیا، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا جس دن تمام دل مر جائیں گے۔
حکایت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عید کے دن اپنے بیٹے کو پُرانی قمیص پہنے دیکھا تو رو پڑے، بیٹے نے کہا اباجان! آپ کس لئے روتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا، اے بیٹے! مجھے اندیشہ ہے کہ آج عید کے دن جب لڑکے تجھے اس پھٹے پُرانے قمیص میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹوٹ جائے گا، بیٹے نے جواب دیا، دل تو اس کا ٹوٹے جو رضائے الٰہی کو نہ پا سکا یا اس نے ماں یا باپ کی نافرمانی کی ہو اور مجھے اُمید ہے کہ آپ کی رضامندی کے طفیل اللہ تعالٰے بھی مجھ سے راضی ہوگا۔ یہ سن کر حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے، بیٹے کو گلے لگایا اور اس کیلئے دعاء کی
۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے،،
قالوا غدا العید ماذا انت لا بسہ
قلت خلعۃ ساق عبدہ الجرعا
نقر وصبر ثوبان بینھما
قلب یری ربہ اعیادا والجمعا
العید لی ماتم ان غبت یا املی
والعید ان کنت لی مراءی ومستمعا
ترجمہ
1۔ انہوں نے کہا کل عید ہے تم کیا پہنو گے؟ میں نے کیا ایسی پوشاک جس نے بندے کو رفتہ رفتہ بہت کچھ دیا۔
2۔ فقراور صبر دو کپڑے ہیں اور ان کے درمیان دل ہے جو کو اس کا مالک عیدوں اور جمعوں میں دیکھتا ہے۔
3۔ تب میری عید نہیں ہوگی، اے امید اگر تو مجھ سے غائب ہو جائے، اور اگر تو میرے سامنے اور کانوں کے قریب ہوئی تو پھر میری عید ہے۔
یہ بات بھی وارد ہے کہ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی فرشتوں کو بھیجتا ہے جو زمین پر اُترتے ہیں اور وہ گلی کوچوں اور راستوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور بلند آواز سے کہتے ہیں جسے جن و انسان کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے، وہ کہتے ہیں اے محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی اُمت اپنے ربِ کریم کی طرف آؤ، وہ تمہیں عطائے عظیم دیگا اور تمھارے بہت بڑے گناہ معاف فرمائے گا
اور جب لوگ عیدگاہوں میں آ جاتے ہیں تو اللہ تعالٰے فرشتوں سے فرماتا ہے، مزدوری کا بدلہ کیا ہے جب وہ اپنا کام مکمل کرنے؟ فرشتے کہتے ہیں اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے، تب اللہ تعالٰے فرماتا ہے میں تمھیں گواہ بناتا ہوں، میں نے ان لوگوں کیلئے اپنی بخشش اور رضا کو ان کا اجر بنایا ہے۔
(ملخص، مکاشفہ القلوب، ص650 تا 652)
تیسویں دن کی دعا:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صِیامِی فِیہِ بِالشُّکْرِ وَالْقَبُولِ عَلَی مَا تَرْضاہُ وَیَرْضاہُ الرَّسُولُ،
اے معبود! میرے اس ماہ کے روزوں کو پسندیدہ اور قبول کیئے ہوئے قرار دے اس صورت میں جس کو تو اور تیرارسول پسند فرماتا ہے کہ اس
مُحْکَمَہً فُرُوعُہُ بِالْاُصُولِ، بِحَقِّ سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعالَمِینَ ۔
کے فروع اس کے اصول سے پختہ تعلق رکھتے ہوں بواسطہ ہمارے سردار حضرت محمد اور ان کی پاکیزہ آل (ع) کے اور حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کارب ہے
۔( رمضان اسپیشل کی تحریر کے لیئے کئی اسلامی کتابوں اور انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد لی گئی )