
لکھنو:شیعہ مسلمانوں کے پہلے امام حضرت علی کی شہادت کی تاریخ کے موقع پر آج سے پرانے لکھنو میںمجالس کاسلسلہ شروع ہوگیا۔پرانے شہر کی زیادہ ترمساجداورامام باڑوں میں حضرت علی کی یادمیں مجالس منعقد کی گئیں اورخواتین نے گھروں میں بھی ماتم کرکے حضرت علی کاغم منایا۔
آج سے شروع ہوا مجالس کاسلسلہ سنیچر تک جاری رہے گا اور کل صبح کاظمین واقع مسجد کوفہ سے گلیم کے تابوت کا جلوس نکالاجائے گا جو پاٹا نالہ واقع مولانا میثم زیدی کی رہائش گاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ حضرت علی کی یاد میں پرانے شہر کی گلیوں میں شام سے ہی مجالس اور ماتم کی صدائیں گونجنے لگیں۔خواتین نے جہاں گھروں پر ماتم کرکے حضرت علی کاغم منایا وہیں درگاہ،شبیہ نجف سمیت دیگر روضوں پرپوری شب مجالس کاسلسلہ جاری رہا۔
رستم نگر واقع شبیہ نجف میں شب میں ہوئی مجلس کو مولانا میثم زیدی نے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی کی شہادت کامنظر بیان کیا جسے سن کر عزا داروں کی آوازیں بلند ہوگئیں۔یہاں پوری شب مجالس کا سلسلہ جاری رہا۔انجمن شمشیر حیدری وخدام حسینی کی جانب سے کل شام ساڑھے سات بجے روضہ فاطمین کے حضرت قاسم ہال میں منعقد مجلس کو مولانا میثم کاظم جرولی خطاب کریں گے۔ادارہ غلامان حیدر کرار کی جانب سے وکٹوریہ اسٹریٹ واقع شیعہ پی جی کالج میں شب آٹھ بجے ہونے والی مجلس کو مولانا میثم زیدی خطاب کریں گے۔
میثم تمارفاﺅنڈیشن کی جانب سے گیارہ ستمبر کو دن میں ایک بجے حضرت گنج واقع امام باڑہ شاہ نجف میں منعقد مجلس کو مولانا یعسوب عباس خطاب کریں گے۔اسی سلسلہ میں تحسین گنج واقع امام باڑہ سجادیہ میں انیس سے اکیس رمضان تک شب نوبجے مجلس ہوگی جسے مولانا امیر حیدر خطاب کریں گے۔
ثانی زہرہ کمیٹی کی جانب سے سعادت گنج واقع کربلا دیانت الدولہ میں خیمہ گاہ جناب زینب میں گیارہ رمضان(۲۱ستمبر)کو ’بیٹی کے گھر میں باپ کا پرسہ‘کے عنوان سے مجلس ہوگی اس کے علاوہ تعزیہ دار سیوک سنگھ کے ہندو تعزیہ دار بھی حضرت علی کی شہادت کی تاریخ پر انیس سے اکیس رمضان تک بشیرت گنج واقع امام باڑہ کشنو خلیفہ میں غم منائیں گے اور حضرت علی کے تابوت میں شرکت کریں گے۔اس کے علاوہ بھی دیگر محلوں میں مجلس وماتم کرتے ہوئے حضرت علی کا غم منایاگیا۔
بشکریہ۔ڈیلی آگ ڈاٹ آئی این