15.10.2026, 11:05pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دیس پردیس میں ماہ رمضان کے شب و روز ۔از : ڈاکٹر نگہت نسیم
09.07.2014, 12:20am , بدھ (GMT+1)

نگہت نسیم۔سڈنی

پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہر اس ملک میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں وہاں پر رمضان المبارک کا آغاز انتہائی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ شروع ہوا اور اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔

 اس سلسلے میں عالمی اخبار نے کئی  آسٹریلیا کے شہر سڈنی ، برطانیہ کے شہر لندن ، پاکستان کا شہر لاہور ، کراچی اور بھارت کے شہر دہلی میں رمضان کیسے منائے جاتے ہیں ان پر تفصیل سےخصوصی رپورٹس لگائی ۔۔ اب میں یہ سوچ رہی ہوں کہ جن دوستو نے عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں آکر بتایا کہ وہ سب  اپنے شہروں اور گھروں میں رمضان کیسے گزارتے ہیں تو وہ بھی خصوصی رپورٹ کا حصہ ہونا چاھیئے ۔ سو آپ سب کی خدمت میں اپنے دوستو کے تاثرات بھی تاریخ کاحصہ بنا رہی ہوں ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہ تحریر یادگار لگے گی ۔

بابا ( جناب صفدر ھمٰدانی )  نے لندن سے لکھا :

پاکستان میں رمضان کیسے منایا جاتا تھا اور اب برطانیہ میں کیسے منایا جاتا ہے یہ دونوں الگ الگ قصے ہیں۔ اسی دوران ہم نے 89 سے 92 تک جاپان میں بھی رمضان کی رحمتوں کا لطف اٹھایا سو یہ ایک تیسرا رخ ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ توجہ برطانیہ پر مرکوز رکھتے ہیں کہ اب یہی اپنا وطنِ ثانی ہے۔

ویسے یہ ضرور کہوں گا کہ ساری دنیا میں چاند کے حوالے مسلمانوں کی تقریبات اور تہواروں کا حال ایک سا ہے اور اس رخ سے کبھی پاکستان کی کمی محسوس نہیں ہوتی اور وہ ہے کہ ”چاند ہوا یا نہیں” یہاں بھی ہر چاند پر اور خاص طور پر رمضان اور عید کے چاند پر یہی تنازعہ رہتا ہے کہ چاند ہوا یا نہیں۔ برطانیہ میں عجب صورت حال ہے کہ چاند کا اعلان مساجد اور امام بارگاہیں کرتی ہیں اور اب تو ان میں ”مسلکی” ٹیلی ویژن بھی شامل ہو گئے ہیں جس سے اس سال معاملہ اور الجھ گیا ہے۔

 کچھ مساجد برطانیہ میں ہونے کے باوجود سعودی عرب کے فیصلے پر چلتی ہیں جبکہ کچھ مساجد اور امام بارگاہیں لندن کو نہیں بلکہ ایران اور عراق کے فیصلے کی منتظر ہوتی ہیں۔ ان تمام صورت حال میں پستا بس عام مسلمان ہے کہ وہ روزہ رکھے یا پھر عید کرے یا نہ کرے۔ اب اس معاملے کا علاج شاید اب قدرت کے پاس بھی نہیں اس لیئے میرا خاموش رہنا ہی بہتر ہے اور یقین ہے کہ کئی گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی جیسے دو آغاز رمضان ہوئے ہیں عیدیں بھی دو ہی ہوں گی۔

برطانیہ میں چونکہ متعدد اسلامی ٹی وی ہیں اس لیئے سماں کم از کم ٹی وی پر پاکستان جیسا ہی رہتا ہے۔وقت افطار،وقت سحر،اذان،روزہ کھولنے کی دعا۔نعتیں۔قرآت کلام پاک وغیرہ۔ برطانیہ بھر میں مساجد کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اس لیئے مساجد بھی خوب آباد رہتی ہیں۔
گھروں میں زیادہ تر اپنے اپنے آبائی ملکوں کے حساب سے رمضان اور عید منائی جاتی ہے اور اکثر احباب بچوں کو اسلامی اقدار اور شعائر سے روشناس کروانے میں خاصی محنت بھی کرتے ہیں۔

یہاں بازاروں میں کچھ ریستوران ایسے بھی ہیں جو افطار اور سحر پر خاص طور پہ کھلتے ہیں اور سستے کھانے مہیا کرتے ہیں۔
عام لوگ گھروں میں سحر اور افطار کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔بازار کھجور اور پکوڑوں کے خریداروں کے لیئے بھرے ہوتے ہیں۔ گرم ممالک کے برعکس یہاں روزہ کھولنے کے لیئے ٹھنڈے مشروبات کا اہتمام بالخصوص نہیں ہوتا۔ ایک وقت تو ایسا بھی آتا ہے کہ یہاں روزہ رات دس بجے کھلتا ہے اور صبح ساڑھے تین بجے سحر کا وقت ہوتا ہے۔

کھانے وہی پاکستانی اور اپنے اپنے ملکوں کے،رواج بھی وہی،رسومات بھی وہی اور عادات بھی وہی۔ کچھ بھی تو مختلف نہیں سوائے ملک کے۔
پاکستان میں تو افطاری اور سحر والدہ مرحومہ اور بہنیں تیار کرتی تھیں لیکن یہاں تو ہر کنواں خود کھودنا پڑتا ہے ہاں اتنا فائدہ ضرور ہے کہ بازار میں زیادہ تر اشیا نصف یا مکمل تیار شدہ بھی مل جاتی ہیں۔ ہمارے تو بس اسی طرح ہے رمضان ۔ ہاں دفاتر کا کام مکمل کرنا پڑتا ہے۔
وطن عزیز کی طرح نہیں کہ بقول مرحوم ضمیر جعفری کے۔۔۔۔
مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

اے مری بیوی مرے رستے سے کچھ کترا کے چل
اے مرے بچو ذرا ہوشیار، میں روزے سے ہوں

شام کو بہرِ زیارت آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کرلیں دوست رشتہ دار، میں روزے سے ہوں

تو یہ کہتا ہے لحنِ تر ہو کوئی تازہ غزل
میں یہ کہتا ہوں کہ برخوردار، میں روزے سے ہوں


ماریہ علی نے ڈنمارک سے لکھا ۔۔۔۔

السلام علیکم آپا‌!

حقیقت ہے ہم لوگ جو کے پاکستان ۔ ہندوستان سے الگ یورپ میں رہتے ہیں یہاں پر رمضان کی وہ رونقیں نہیں جو کے انڈیا پاکستان میں ہوتی ہیں پھر بھی ھماری تربیت اسی ماحول کی ہے تو ہم یہاں رہ کر بھی وہی اہتمام سے سب کچھ کرتے ہیں )
مجھے رمضان کے چاند کا بہت انتظار تھا کیونکہ میں کم از کم ہر ولادت۔ شہادت تہوار اور رمضان یہاں بھی اسی طرح کرتی ہوں جیسے کے پاکستان میں ہوتا ہے ۔

میری والدہ جب تک حیات تھیں تو وہ یہ سب بھرپور عقیدت سے کرتی تھیں ۔مگر قسمت نے انکا ساتھ نا دیا اور میری عمر اس وقت 14 سال تھی تو انکا انتقال ہو گیا ۔اسکے بعد میرے والد مجھے ہر ہر قدم پر ہر اچھی بری چیز کی تربیت دیتے رہے ۔اسکے بعد جب میری تعلیم مکمل ہوئی تو میرا رشتہ ایک ایسے گھرانے میں طے پایا جہاں اس سب کا رجہان بے انتہا تھا تو اور ذیادہ ہر ہر چیز کا خیال رکھنا سیکھا میں نے ۔

آج بھی میں یہی کہتی ہوں کے میں اپنے دین و مذہب سے بہت دور ہوں مگر پھر بھی بھرپور کوشش کرتی ہوں کے ہر موقع پر میں ہر ہر شرعی و اسلامی عمل سر انجام دوں ۔ کل تیسرا روزہ ہے اور میں بھرپور طریقہ سے نئی نئی چیزیں بنا بنا کر تجربہ کر رہی ہوں ( وہ بات الگ ہے کے اسکے بنانے کا طریقہ میں اپنے شوہر سے فون پرساتھ کے ساتھ سیکھتی ہوں  ) اگر اچھا بن جائے تو میری تعریف اور اگر برا بنا یا کچھ کم ذیادہ ہو گیا تو پھر علی کی خیر نہیں ہوتی ) میں تو کم از کم رمضان بھرپور طریقہ سے منا رہی ہوں اور دعا کر رہی ہوں کے جلد سےجلد 15 رمضان آئے اور میں پاکستان جاوں کیونکہ کافی سالوں سے رمضان اور عید میں نے پاکستان میں نہیں کی تو اس دفعہ اپنے سسرال والوں کے ساتھ آدھا رمضان اور عید انشااللہ پاکستان میں ہی کرونگی۔

کتنا اچھا لگتا ہے نا آپا اپنوں کے ساتھ اس طرح کے تہوار منانا ؟:)

حقیقت میں سوچ کر ہی بہت خوشی ہوتی ہے۔

اپنوں کی قدر ایسے وقت میں بہت ذیادہ ہوتی ہے۔ میں تو دل سے سب کے لئیے یہی دعا کرتی ہوں کے پروردگار اس رمضان کے با برکت مہینے میں اپنی رحمتوں سےہم سب کو نوازے اور ہم بھی اس رمضان میں اپنے مسلمان ہونے کا بھرپور حق ادا کریں آمین۔

سیدہ ثناء فاطمہ شاہ نے برمنگھم سے لکھا ۔۔

جی سلام نگہت جی اور سب اھل بلاگ کو

سب سے پہلے معزرت دیر سے لکھنے کی، پر سب بلاگ بلا ناغہ پڑھتی ھوں ۔

سب کو رمضان کی بہت بہت مبارک اور یہ میرا پسندیدہ مہینہ ھے  پر یہاں کا روزہ 17 گھنٹے کا  مشکل ھے بہت اور بھر 3 بجے سحری کے لیے اٹھنا ۔۔۔ پر خدا کا شکر ھے رحمتوں کا مہینہ ھے شکر ھے خدا کا !

جی اور پاکستان کی بہت یاد اتی ھے اور بہت سی چیزیں مس بھی کرتی ھوں جیسے وہ سحری افطار میں ازانوں کی آوازیں، بھر وہ روڈز پے چہل پہل اور افطار کے وقت وہ گولے کی آواز اور وہ سایرن کا بجنا ۔ ۔ ۔اور سحری میں آوازیں دینا سایکل پے چوکیدار کا اٹھانے کو ۔ ۔ ۔
اور یہاں ھم رمضان بھی ویسا ھی کرتے ہیں پر یہ ھے کی وہ ماحول نہیں ھے ، سحری کو 3 بجے اٹھ کر سحری کرتے ہیں پھر نماز پڑھ کے قرآن پڑھ کے سو جاتے ہیں اور سحری میں پراٹھہ چائے اور ساتھ اگر دل کرے تو انڈا یا سالن اور پانی پی کے بند ۔ ۔

اور پھر افطار کا ٹایم نعتوں کا چینل چلتا ھے ساتھ افطاری بنتی ھے جس میں معمولا کھجوریں ، پکوڑے، فروٹ چاٹ ،اور جو بھی اور دل کرے ،پھر سب ٹیبل پے آتے ہیں، مغرب کی نماز پڑھ کے افطار کرتے ہیں پھر اس کے بعد کھانا کھا ک عشاء کی نماز پڑھتے ہیں ۔
باقی سحری اور افطاری میں کچھ مخصوص دعاہیں ہیں جو امی پڑھتی ہیں ھم سب سنتے ہیں ھر روز اور پھر سورت القدر انا انزلنا اب پڑھتے ہیں اور ٹیبل پے دعا ھوتی ھے پھر روزہ کھلتا ھے ۔ اور میری ڈیوتی ھے روز فروٹ چاٹ بنانے کی اب میں اس مین expert ھو گی ھوں !!

سائرہ بتول نے لندن سے لکھا :

ارے واہ بہت اچھا بلاگ چل رہا ہے ۔

جی ہاں صفدر بھائی اور نگہت آپی یہ میں ہی ہوں۔ ڈانٹیےء گا مت اتنے عرصے غائب رہنے پر
یقین کیجیےء

گو میں رہا رہینِ ستم ہاےء روز گار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

میں دن میں چار سے پانچ مرتبہ عالمی اخبار ضرور پڑھتی ہوں۔بس کچھ لکھنے کے نام پر
کاہلی اور سستی جیسے امراضِ دیرینہ کا شکار ہو جاتی ہوں۔

معاف کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کچھ ذکر رمضان المبارک کا

تو مجھے جہاں رمضان کی چہل پہل اور رونقیں وطنِ عزیز کی یاد دلاتی ہیں وہیں اپنے والد کی عبادتیں جو پورے گھرمیں ایک نورانی سماں باندھ دیتی ہیں بہت یاد آتی ہیں اللہ ان کو اپنے حبیبِ پاک (ص) اور ان کی پاک آل کے صدقےمیں سلامت رکھے ان کی عادت ہے کے وہ دعائیں بلند آواز سے پڑھتے ہیں تاکہ ہم ان کے ساتھ شریک ہو جائیں ویسے تو سب دعائیں ہی مجھے یاد آتی ہیں لیکن دعاےء سحر
خاص طور پر یاد آتی ہے اور میں اپنی اس خاندانی روایت کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔

لندن میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ رمضان کا اھتمام ہو میرے بیٹے کے سوال وہی معصومانہ سوال ہوتے ہیں کہ آپ نے روزہ کہاں رکھا؟ وغیرہ وغیرہ جہاں تک کھانے پینے کا ذکر ہے تو فروٹ چاٹ دیکھتے ہے رمضان کے علاوہ بھی میرا بیٹا پوچھتا ہے روزہ ہے کیا؟؟؟؟؟
کوئی بتلاوء کہ ہم بتلائیں کیا ؟؟
دعاوءں میں یاد رکھیےء
اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم فرماےء۔
(آمین)

نزہت نسیم نے لندن سے لکھا :

بہت ہی مزیدار بلاگ ہے آج کا میرا سارا بجپن آنکھوں کے سامنے آگیا ۔۔

توبہ باجی !آپ کتنا تنگ کرتی تھیں ہم معصوم بے چارے کچھ بھی نہیں کہتے تھے کے باجی کی عزت کے آگے ہمیشہ خاموشی اختیار کی ہوتی تھی ،دلشاد باجی ساری رات جاگ جاگ کے اپنے افسانوں کو پاےتکمیل کرتی تھیں اور پھر سحری کے وقت پراٹھے بناتی تھیں،پھر دونوں بڑے بھائیوں کا تیسری منزل پی سونا اور ان کو اٹھانا میرا کام ہوتا تھا اف مات پوچھے آج تک جب بھی رمضان ہے ہیں مجھے ہمیشہ بھائیوں پی پانی ڈال ڈال کے اٹھانا بہت اچھے سے یاد ہے اور اب بھی جب بھی ساتھ ہوتے ہیں اس وقت کو ضرور یاد کرتے ہیں ۔

اور دلشاد نسیم باجی کی ماش کی دال جو ہماری باتوں میں ہمیشہ جل جاتی تھی ۔۔۔۔۔

باجی یاد ہے قرآن پاک کو پڑھنے کا مقابلہ ،کے کس کا سب سے پہلے ختم ہوگا اور پھر آخری عشرے میں نوافل کی ترتیب اور آپ کی نمازیں اتنی لمبی ہوتی تھی کے کیا کہنا آپ کی تسبحی نماز وہ تو میں کبھی نہیں بھول سکتی ۔

مرے گھر میں آج تک اسی جوش و خروش سے اس مہ رمضان کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ہمے اپنے بچوں کو اس مہ رمضان کی فضیلت اس برکتوں والا مہینہ کے بارے میں ضرور بتاتے رہنا چاہے ۔

ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلہ اللہ وسلم نے فرمایا ہے
اس ماہ رمضان میں ان چار کاموں کو کثرت سے کیا کرو
* لا الہ الہ اللہ کا وردرکھنا
* خداے پاک سے مغفرت طلب کرتے رہنا
* جنت کا سوال کرنا
* دوزخ سے پناھ مانگنا
اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میںرکھے اور ہمارا ایمان قائم و دائم رہے (آمین)

محمداحمد ترازی نے کراچی سے لکھا :
 
نگہت باجی آداب

سب سے پہلے بلاگ میں دیر سے شامل ہونے کی معزرت اور اتنے خوبصورت عنوان جس میں ہر مسلمان کی بچپن،جوانی اور حال کی خوبصورت یادیں منسلک ہیں کو شروع کرنے پر دلی مبارکباد ،یہ وہ مہینہ ہے جس کا ایک مسلمان پورے سال اتنتظار کرتا ہے کہ رمضان آئے اور وہ اس ماہ مبارکہ کی مبارک و محترم ساعتوں میں اللہ رب العزت کے انوار و تجلیات کے خزانے لوٹ سکے ،افسوس کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مبارک کی رحمتوں،مغفرتوں اور جہنم سے خلاصی کے مواقوں کو ضائع کردیتے ہیں،بچپن میں تو ہمیں ان باتوں کا اتنا شعور نہیں‌تھا اس وقت تو سحری و افطار میں یگ برنگی چیزوں سے لطف اندوز ہونا ،صبح جلدی جلدی سحری کرکے مسجد جانا اور پھر لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کرناکہ”یہ جامع مسجد صدیقیہ کی آواز ہے اس وقت پانچ بج رہے اور سحری کے ختم ہونے آدھا گھنٹہ باقی ہے آپ لوگ جلد از جلد سحری سے فارغ ہوجائیں ۔

 اور پھر فجر کی اذان تک نعتیں پرھنا کتنا اچھا لگتا تھا ،پھر فجر کی نماز کے بعد تمام دوستوں کے ساتھ مل کر کرکٹ کھیلنا،نمازوں کے اوقات میں‌مسجد جانا اور ایک دوسرے سے معلوم کرنا یار تمہارا روزہ ہے ،اسی قسم کے معمولات مشغلہ تھے لیکن آج شعور نے جہاں زندگی کے دیگر معمولات میں سنجیدگی بخشی وہاں عبادات میں متانت اور بردباری عطا کردی ہے آج یہ حال ہے کسی حال میں بھی روزے کو چھوڑنے کا تصور نہیں ہے ،بچپن کی عادتوں کے برعکس اب سحر و افطار اس نیت سے کی جاتی ہے کہ یہ سنت مبارکہ ہے اگر سحر و افطار میں کوئی خاص اہتمام نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا ،ہاں افطاری میں ایک کھجور کا ہونا اور سحر ی میں ایک کپ چائے اگر مل جائے تو مزا آجاتا ہے ۔

اس وقت کراچی میں‌تقریبا 14گھنٹے سے زیادہ کا روزہ ہے لیکن موسم اس قدر اچھا ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ دن کیسے گذر جاتا ہے بس نمازوں تراویح ،تلاوت ،مطالعہ اور زکر و ازکار میں وقت گزر جاتا ہے اور یہی دعا رہتی ہے کہ اللہ کریم سب کو اسی طرح روزہ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ،حقیقت یہ ہے کہ کل کی طرح آج بھی سب کچھ وہی ہے وہی سحری کا اہتمام افطاری کی میں کھجوریں ، پکوڑے، فروٹ چاٹ اور انواع و اقسام کی چیزوں کا بننا ،روزانہ افطاری کا مسجد بھیجنا،اور سب کے ساتھ مل کر سحر و افطار کرنا ،کچھ بھی نہیں بدلا سب کچھ وہی ہے سوائے عمر کہ جو اب بچپن سے جوانی اور بڑھاپے کی طرف گامزن ہے ۔

اجازت چاہتا ہوں اس دعا کے ساتھ
اللہ کریم سب کو اس ماہ مبارک کی رحمتوں برکتوں‌ اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مرحمت فرمائے اور سب کو
اپنی عنایتوں اور شفقتوں کے سائے میں رکھے بالخصوص نگہت باجی ، بابا جی اور تمام وابستگان عالمی اخبار کو

ڈاکٹر خواجہ اکرام نے دہلی سے لکھا  :

تمام قارئین کو سلام اور رمضان کی ڈھیر ساری مبارکبادیاں!

خد اکرے ہم سب کو رمضان کی برکتیں، رحمتیں‌ نصیب ہوں۔ میں‌ اس بلاگ میں‌شامل بہنوں کی طرح افظار و سحر کی تیاریوں کا ذکر تو نہیں‌کر سکتا البتہ وقت سے آدھے گھنٹے پہلے دستر خوان پہ آ دھمکنے کی عادت اب بھی وہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ پکی ہوئی روٹٰٰیوں‌کو سمیٹنا اچھا بھی لگتا ہے ، اور وہ اس لیے کہ محنت کرنے والوں کو ذر اچھٰیڑ کر ان کے روزوں کا کے جلا ل کا سامنا کرنا ۔

 لیکن یہ تو بیتے ہوئے بچپن کی باتیں‌ہیں‌۔ اتفاق یہ ہےکہ میں‌ہبت ہی کم عمری سے ہوسٹلوب‌میں‌رہا ہوں اس لیے اکثر آخری عشرہ ہی گھر پہ گزارا ہے ۔ لیکن ہوسٹل لائف کے تجربے شاید نئے ہوں اس لیے سب تو نہیں‌لیکن جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے تجربے کو شئیر کرنا چاہتا ہوں ۔

میں بہ حیثیت طالبعلم اس اس ادارے میں‌1988 میں‌آیا ، یہ ہندستان کا واحد ایسا ادراہ ہے جسے انتہائی سیکولر کہا جاتا ہے ، لیکن یہ سیکولرزم مجھے اب تک سمجھ میں‌نہیں‌آیا کینوکہ جب ہم لوگ اپنے مسلم اساتذہ کوسلاام کرتے تھے تو وہ غصہ ہوتے تھے ۔ سلام کی جگہ آداب کہنا انھیں‌پسند تھا ، جی ہاں‌یہ تو صرف رویے کا ذکر ہے تاکہ سیاق کو سمجھا جاسکے ۔ لیکن الحمد للہ اسی ماحول میں ہم کئی ساتھیوں‌نے مل کر یہاں‌رمضان کا اہتمما شروع کیا ۔

آج یہاں‌تقریبا` بیس ہوسٹل ہیں‌اور کم از کم دس س میں‌اس کا انتظام ہوتا ہے ،ہر جگہ کم و بیش تیس سے چالیس طلبہ ہوتے ہیں افطار کے وقت موجود دیگر مذاہب کے طلبہ کو مدعو کیا جاتا ہے ، یہ ہر روز عید جیسی تقریب ہوتی ہے۔لڑکے لڑکیاں اس میں شامل ہوتے ہیں اور ۔اللہ خوب برکتوں‌سے نوازتا ہے ۔ دراصل ایسے ماحول میں اس طرح کا انتظام اپنے آپ میں‌ایک مثال ہے ۔

دیگر مذہاب کے لوگ اس طرح کے اہتمام کو نہ صرف حیرت سے دیکھتے ہیں‌بلکہ اس پر رشک کرتے ہیں‌۔اس کیمپس میں نہ تو کوئی مندر ہے اور نہ کوئی مسجد لیکن خد ا کا کرم ہے کہ اسپیشل پرمیشن کے ساتھ یہاں‌کئی جگہوں‌پر کھلے آسمان کے نیچے تراویح کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔خدا اس سلسلے کو برقرار رکھے ۔

لیکن بلاگ کے خاتمے سے پہلے اس حسرت کا بھی ذکر کروں کہ اب اس تقریب میں‌شامل ہونےکا موقع نہیں‌ملتا کینکہ انھیں‌ہوسٹلوں‌میں سے کسی ایک کا میں‌وارڈن ہوں‌۔ اور وارڈن ہاوس میں‌ بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہوں‌، بڑا سناٹا رہتا ہے صرف چار افراد دسترخوان پہ ہوتے ہیں‌،بہت کم لوگ ایسے ہیں‌جنھیں روزے کی سعادت حاصل ہے۔اس کیمپس میںً کوئی ایسامذہبی ماحول ہی نہیں‌۔ اکثر کوشش کرتا ہوں‌کہ ہر روز کوئی نہ کوئی دوست ہمارے دسرخوان کی زینت بڑھائے ۔

آپ سبھی قارئین کو مدعو کرتا ہوں‌۔خدا کرے کو ئی سبیل نکل آئے

سایئں رحمت ناتھن نے سویڈن سے لکھا ۔۔

ماریہ اور باجی رمضان کے حوالے سے دل تو بہت کچھ کہنے اور لکھنے کو چاہتا ہے مگر کیا کروں اگر اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھاتا ہو ں تو خود ہی ننگا ہوتا ہوں- دل خون کے آنسو رو رہا ہے-
ہمیشہ خوش رہیں

زرقا مفتی نے لاہور سے لکھا

اب چھت پر جا کر چاند دیکھنے کا رواج نہیں رہا ۔ ٹی وی پر اعلان سُن لیتے ہیں اور فون پر مبارکباد دیتے اور وصول کرتے ہیں۔ ہم سبھی باقاعدگی سے روزے رکھتے ہیں ۔ مسجد گھر کے سامنے ہے اس لیےمیرے دونوں بیٹے بھی پانچ وقت کی نماز مسجد میں ہی ادا کرتے ہیں۔ اب سحری خود ہی بنانا ہوتی ہے اس لیے رات کو گھڑی پر الارم لگا کر سوتی ہوں ۔

 شہر کی نئی آبادیوں میں سحری کے وقت جگانے والے نہیں آتے نہ جانے پرانے محلوں میں آتے ہیں یا نہیں۔ کہنے کو ہم چار فرد ہیں لیکن ہر ایک کی پسند الگ ہے۔ سو کسی نےپراٹھا کھانا ہے تو کسی نے سلائس ۔ ایک بچے کو سالن پسند نہیں تو اُس کے لیے آملیٹ بنے گا۔ سحری بناتے بناتے بچوں کو اُٹھاتی ہوں۔ مفتی صاحب باقاعدہ تہجد گزار ہیں سو سب سے آخر میں سحری کھانے بیٹھتے ہیں۔ نماز کے بعد سبھی قرآن پڑھتے ہیں بچوں کو سکول جانا ہو تو تیاری کرتے ہیں ورنہ سو جاتے ہیں۔

نمازِ عصر کے بعد افطاری بنانا شروع کرتی ہوں۔بازار سے افطاری کے لیے کچھ منگوانےکا رواج نہیں ہے ۔ افطاری پر بچوں کی خاطر اہتمام کرنا ہوتا ہے اور بچوں کے ساتھ ساتھ ہم بھی خوش خوراک ہو جاتے ہیں غیر صحت بخش پکوان کھانے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے خود کو روزہ رکھنے کا انعام دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ روزہ تزکیہ نفس کا نام ہے لیکن خوراک کے معاملے میں ہمارے ہاں رمضان میں سادگی نام کو بھی نہیں رہتی ۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور ہمارے روزے قبول کرے۔

محترم بھائی شمس جیلانی نے وینکور (کینیڈا) سے لکھا :

صفدر بھائی کی فر مائش تھی ہی ،اب بہن نگہت کی بھی فر مائش آگئی اور ہمارے یہاں روایات یہ ہیں کہ بھائی کی بات کوتو ایک وقت ٹالدیتے ہیں۔ مگر بہنوں کا مان نہیں توڑتے۔ لہذا قلم اٹھانا پڑا۔

چونکہ ہم جہاں رہے اسی سر زمین کے ہوکے رہے لہذا اب یہاں بھی وہی حالت ہے اب مسجد ہو یا کوئی اور جگہ غیریت محسوس نہیں ہوتی ۔رمضان بھرافظاری کی دعوتیں اتنی ہو تی ہیں کہ ہماراسارا نظام گڑ بر ہو جاتا ہے۔

اس لیئے کہ ہم شوگر زدہ ہیں۔ اور ہر کہیں پانچ چھ میٹھوں اور بیس پچیس ڈشوں سے کم کھانا نہیں ہو تا۔ جبکہ ہم جیسا آدمی کسی ایک ہی ڈش پر اکتفا کرسکتا ہے۔ مگر اس میں بھی چکنائی اتنی ہو تی ہے کہ شوگر کا مطلوبہ لیول بر قرار رکھنا مشکل ہو جاتاہےا۔ یہ وہی قوم ہے کہ جس کو قر آن نے کہا کہ ہے کھا ؤ پیو مگر اصراف ِ بیجا مت کرو، اور دوسری جگہ ارشاد ہوا ” اصراف ِ بیجا کر نے والے شیطان کے بھائی ہیں ” مگر ہم الحمد للہ خود کو ابھی تک تمام نا فرمانیوں کے با وجود مسلمان ہی کہتے اور سمجھتے ہیں

سارہ عاصم لندن سے لکھتی ہیں

تما م بہنو ں اور بھایئوں  کو سلامِ رمضا ن ۔

 آج نگہت باجی سے با ت کر کے میں پھر نگہت با جی کی با توں کے جا دوئی حصار میں پھنس کےرہ گئ جسکا نتیجہ ے نکلا کے ڈھیر سا رے دنوں کے بعد اخبار اور احباب کی اتنی شدت سے یاد ستائی کے فو ر اً اخبار کھولا اور سرورق سے ھوتی ھوئی ،جب یہاں پہنچی تو اک منٹ تو کیا اک سکینڈ بعد میں ایسے جیسے کسی نے گود میں لے کے  گھر کے اس اُس دریچے میں چھوڑ دیا،جسکا حوالہ سب ھی دے رھے ھیں۔

 پڑھ کے بہت اچھا لگا سب کے بارے میں ،باجی بلکہ باجیوں کی یاداشوں نے تو واقعی تازہ دم کردیا حلا نکہ آخری آخری روزوں میں شکل کچھ ایو یں سی ھو جا تی لیکن نہیں جنا ب آ ج تو رونق ھی کچھ اور ھے ھنسی ھے آ ئے جا رھی  ھے۔لیکن اپنی نا اہلی پہ افسو س بھی ھورھا کہ کیوں اتنا عرصہ اخبار سے دور رھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،

 واقعی باجی نگہت کتنے خوبصورت رمضا ن گزارے ھیں ہم سب نے اکٹھے، مجھے آج بھی یاد ہے رمضا ن کا چا ند جسے دیکھنے کےلیے سارا دن اچھا گزارنا تاکہ امی ھمہیں شام ھو نے سے پہلےہما ری پیا ری تائی جی (نگہت باجی کی امی جی جو میری تائی جی ، میری ماں پہلے ہیں اور میری ساس بعد میں )   کے گھر لے جانے دیں ۔ حلا نکہ امی جو آج ھم میں مو جو دنہیں (ا للہ اُنکی مغفرت فرماے آمین )،خود تائی جی کے بغیر چاند دیکھنے کا تصور نہیں کرسکتی تھیں۔ امی جی اور تائی جی کی محبت بےمثال تھیں ۔

تائی جی جو امی ابواورھم سب کےلئےایسا سایہ دار شجر ھیں جسکی چھا ؤ ں میں مجھے یقین ھے ھما ری ا نشا اللہ اگلی نسلیں بھی اپنے ا قتد ار اور روایات نہ بھو ل پا ئیں گی ۔تا ئی جی سے میری یہ لگن اللہ کو بھی اتنی بھائی  کے آج ما شا اللہ سے وہ میر ے بچو ں کی داد ی جا ن ھیں ،اللہ انکا ٹھنڈا اور میٹھا سا یہ ھم پر ھمیشہ قا ءم رکھے ۔آ میں

آیئں  اس با بر کت مہینے میں ھم سب دلوں کی کدورتوں کو بھلا کر سارے روٹھے ھوؤں کومنا لیں ۔اسکا ا جر انشااللہ اس جہا ن میں تو ملے گا ھی مگر فکر تو اصل جہا ن کی ھے اور وہ ہے آخرت کا سامان ۔ ا للہ تعا لیٰ نے وعدہ فرمایا کہ یہ مہینہ تو برکتیں  لو ٹنے کا ھے ،خزانے توکھلے پڑے ھیں ، ھم پہ ھے کہ ھم کیا لے پا تے ھیں اور  کیا نہیں!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعاؤں کی طا لب ۔سارا عاصم

ہمارے بہت ہی محترم بھائی منظور قاضی نے جرمنی سے لکھا :

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
گفتا ر میں کردار میں اللہ کی برہان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقیت میں ہے قرآن

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

فطرت کا سرودِ ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفتِ سورہ ء رحمٰن !

بھائی امین ترمذی ( امریکہ ،ڈلس ) تلمیذ فاطمہ (ڈلس)  سید  مصباح حسین  بھائی ( سڈنی ) ، بھائی عبدالمناف (برلن) ، بھائی ابو ظفر (دہلی) ۔ محترم آغاسید عبدالحسین بڈگامی صاحب (کشمیر) ، بھائی عارف کسانہ (سویڈن ) ، بھائی سید انور ظہیر (برلن ) اور ان کی اہلیہ عشرت معین سیما ، بھائی فیاض امر (سندھ) ، بھائی امتیاز لغاری (حیدرآباد) ۔ بھائی حسین افسر (ممبئی)  ، بھائی خاور چوھدری (لاہور) ، بھائی اصغر انصاری (ممبئی) ، بھائی آصف جیلانی (لندن ) ،، محترم عارف نقوی بھائی (برلن) سید اقبال حیدر (جرمنی) ، بھائی عباس ملک (سیکسر خوشاب ) ، بھائی ارمان نجمی(ممبئی) ، بھائی امجد شیخ (سویڈن ) ، آپا ڈاکٹر پنہاں (امریکہ) ، بھائی ظفر جعفری (امریکہ)‌،بھائی امجد مرزا (لندن) ‌، فریدہ لاکھانی (سڈنی)‌،
بھائی سلیمان جاذب (دوبئی)‌ ,اشرف حماد بھائی (سرینگر)  ۔محمد عظیم  اعظم  (کراچی) ، بھائی ڈاکٹر شبیر احمد خورشید( کراچی) ، بھائی عامر کیانی (سویڈن ) ,سیمیں برلاس (لندن) ، بھائی عالم نقوی (ممبئی) ، بھائی ظہور احمد سولنگی (اسلام آباد) اور روبینہ فیصل (کینیڈا)  نے  خاص طور پر نیک خواہشات اور دعاؤں کے تحفے بھیجے ۔۔ بہت بہت شکریہ
۔۔

آپ سب سلامت رھیں کہ آپ سب عالمی اخبار کا اثاثہ ہیں ۔۔ آپ سب کے دم سے عالمی اخبار ہے ۔۔ 

دوستو میں بھی آپ سب کو بتاتی چلوں کہ ھمارے گھروں میں رمضان کیسے منایا جاتا ہے ۔۔۔  جب میری شادی نہیں ہوئی تھی تو ھم بہنوں  کے کام بٹے ھوتے تھے ۔ میں چونکہ صبح اٹھنے کی چور ھوتی تھی سو سحری کازمہ ھمیشہ میری بہن دلشاد نسیم اور نزہت نسیم کا ھوتا تھا ۔ میری ماشاللہ 5 بھائی اور ھر ایک ماشاللہ خوش خوراک ۔۔۔ سو اکثر تو ھم لوگ سویا ھی نہیں کرتے تھے ۔۔ سحری ھمیشہ پراٹھوں کے ساتھ دھی کی ھوتی تھی ۔۔ مرد حضرات نماز فجر مسجد میں ادا کرتے تھے اور ھم سب گھر پر ۔۔ پھر اس کے بعد بھایئوں کا اپنے دوستوں سے کرکٹ میچ بعد از فجر شروع ھوتا ۔۔ جسے دیکھنا یوں تو ضروری نہیں تھا لیکن اس ھنگامے میں سونا معجزہ لگتا تھا ۔۔

امی ابا جی اور بی بی جی کی طرف سے ایک ھی تلقین ھوتی تھی کہ روزہ صرف کھانے پینے کا نہیں بلکہ نظر اور زبان کا بھی ھے ۔۔ سو قران اور نعت شریف کے بعد صرف خبرنامہ دیکھا کرتے تھے ۔۔ حتی کے ایک دوسرے سے لڑائی اور بحث بھی نہیں کرتے تھے ۔۔

جب میڈیکل کالج میں تھی تو تقریبا سارے روزے ھوسٹل میں رکھے ۔۔ اس وقت اکثر ڈیوٹی کی وجہ میری نمازوں کی بے ترتیبی اور قران پاک تسلسل سے نہ پڑھنے پر میری بی بی جی (دادی جی) کو بڑی آرزدگی رہتی تھی ۔۔ انہوں نے مجھے تلقین کی کہ کوشش کر کے ھر وقت باوضو رھا کروں ۔۔۔ نماز اور قران کی ھدایت تمہیں اللہ پاک ضرور دے دیں گے ۔۔ اس دن سے لے کر آج تک میری یہی خواہش ھوتی ھے کہ میں زیادہ تر با وضو رہوں ۔۔ آپ سب سے التماس دعا ہے کہ اللہ پاک مجھے یہ توفیق عطا کردے ۔۔۔آمین 

شادی کے بعد جب تک پاکستان میں رہی سارے رمضان سسرال میں ہی گزرے ۔۔ میری ساس جو میری ماں بھی ھیں بہت ھی دیندار اور نیک اور صابر ہیں ۔۔ ان کو میں نے کسی کی برائی ، چغلی اور غیبت کرتے نہیں سنا اور نہ ھی وہ ہیمیں کرنے دیتی ہیں ۔۔ ان کی ساری زندگی کاروٹین رہا ھے کہ ایک سپارہ روزانہ پڑھتی ہیں ۔۔ اللہ پاک ھمارے سروں پر انہیں سایہ داررکھے ۔۔ وہ خاموش مبلغ ہیں ۔۔ انہیں دیکھ کر ان جیسا ہونے کا دل کرتا ھے ۔۔ اور الحمدوللہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ۔۔

جب سے سڈنی آئی ھوں تو رمضان کا بہت دھیان رکھتی ہوں تاکہ بچوں کو یاد رہے کہ رمضان کا مہینہ کتنا اہم اور  برکتوں والا ہے ۔  مجھے افطاری پر اہتمام بہت اچھالگتا ھے ۔۔ میرے تینوں بچے ماشاللہ روزہ رکھتے ھیں ۔۔ اسکول اور دفتروں کی روٹین کی وجہ سے نماز جب جب میسر ھو اد اکرتےھیں ۔ لیکن مغرب کی نماز بعد از افطار ھم سالوں سے اکٹھے ھی  پڑھتے ھیں ۔ میری کوشش ھوتی ھے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ دین کی باتیں سیکھاؤں اور انہیں ڈارنے کی بجائے اپنے رب سے محبت کرناسیکھاؤں ۔۔

 ابھی بھی آپ سب کی طرح  بہت ساری باتیں ہیں جو رمضان کے ساتھ یاد گری کے طور پر جڑی ھیں ۔۔ ھمیشہ کہ طرح اس رمضان میں بھی یاد آرھی ھیں ۔۔ جیسے اپنے بہن بھایئوں کے لیئے چپکے چپکے عید کے تحفے اور دوستوں کے لیئے عید کارڈ خریدنا ۔۔
 
دوستو آپ کو یاد ہے نا کہ  ھم سب نے اس کوشش کا وعدہ کیا تھا کہ  اس رمضان میں اپنے رب سے صرف محبت کرنی سیکھنی ھے ۔۔ سچی اور بے لوث محبت ۔۔ کہ محبت ہی دافع بلا ھے ۔۔ ھر کامیابی کی کنجی ھے ۔۔ ھر دشوا راستے سے گزرنے کا حوصلہ ھے ۔۔

محبت ھی یہ یقین عطا کرتی ھے کہ جو کچھ بھی ھو رھا ھے وہ اسی کی ایما پر ھو رھا ھے اور پھر محبت میں ھی اتنی طاقت ھے کہ وہ اپنے رب سے اپنی بات منوا لیتی ہے ۔۔کہ ۔۔ جو تکلیف اس پر گزر رہی ھے وہ اس سے دور کر دے ۔۔

میرے مالک ، میرے پروردگار ھم سب کو اپنی عنایتوں اور شفقتوں کی بارشوں میں رکھنا ۔۔ آمین


:دیگر مضامین
(04.07.2014) بھارت کے شہروں میں ماہ رمضان کے شب و روز۔ازابوظفر عادل اعظمی
(30.06.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار48ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(29.06.2014) دبِستانِ دِہلی کے نُمائِندہ اور صاحِبِ طرز سوزخوان، آفتابِ سوزخوانی، سیّد آفتاب علی کاظمی
(27.06.2014) رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ اللہ کی رحمت ہے
(25.06.2014) شدید کمزور نظر والوں کے لیے اسمارٹ چشمے بنانے میں کامیابی
(23.06.2014)  جون 22 نامور کمپیئر، دانش ور اور ادیب عبید اللہ بیگ کی دوسری برسی ہے ۔
(22.06.2014) مادام تساؤ میں وکٹوریا اور بیکہم کے نئے مومی مجسمے لگیں گے
(16.06.2014) عدل و انصاف کی قدروں کو سماج میں صحیح مقام دلانا ہو گا :تنظیم علی کانگریس
(15.06.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار47ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(12.06.2014) عارف نقوی اور خالد علوی کی کتابوں کی برلن میں رسمِ اجرا
(12.06.2014) جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جشنِ کرشن چندر، خواجہ احمد عباس اور احسان دانش
(11.06.2014)  سید عاشور کاظمی مرحوم ۔معروف شاعر، محقق، نثرنگار ، نقاد، مرثیہ نگار، کی چوتھی برسی
(08.06.2014) فن لینڈ کا ایک نہایت قدیم چرچ تومیو کرکو جو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے
(30.05.2014) استقبال رمضان المبارک کے سلسلے میں مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی روح پرور تقریب
(29.05.2014) روزنامہ اردو نیوز کی 20ویں سالگرہ ،پاکستان بزنس کمیونٹی کی تقریب
(28.05.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار46ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(26.05.2014) میرا جی کی برسی اور جنم دن آتا اور خاموشی سے گزر جاتا ہے
(18.05.2014) لندن کی ایک عبادت گاہ میں ہونے والے جشن تکلیف نے عوام کو حیرت زدہ کر دیا
(16.05.2014) دو مرتے جوان بچوں کے علاج کا بندوبست نہیں ہو سکتا
(14.05.2014) سفیر خدا، نفس رسول ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔از نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں