|
حضرت علی کبھی باطل طاقتوں کے سامنے نہیں جھکے
11.09.2009, 01:01am , جمہ (GMT+1)
عون نقوی ۔لکھنو
لکھنو۔ تنظیم علی کانگریس کے زیر اہتمام شہادت امیرالموئمنین کے موقع پر ایک تعزیتی جلسہ منعقد ہوا۔جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مقررین نے جانشین پیغمر اسلام حضرت علی علیہ السلام کی عظیم روحانی شخصیت اور انکے اوصاف جمیلہ اور عدل و انصاف پر مبنی نظام پر بھرپور روشنی ڈالی۔
دنیا سے بے رغبتی ، جاہ و حشم سے دوری و یہودی تک کے باغ میں مزدوری، غرباءپروری، جذبہءجہاد، شجاعت اور صبر و استقلال جو مثالی نمونے آپ نے پیش فرمائے وہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں، لیکن افسوس کہ آج خود کو دین مبین کا مبلغ اور شریعت کا پاسدار ٹھہرانے والا طبقہ خود سیرت علی کی پیروی نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ اس طبقہ نے دین کو دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ بجائے محنت و مشقت کے چور دروازے سے دینی و دنیاوی رقومات اینٹھ کر عیش کوشی کر رہا ہے۔
حکام کی چاپلوسی اور ارباب اقتدار کی خوش آمد سیرت امیر المومنین کے مطلق برعکس ہے۔حضرت قنبر جیسے غلام اور جناب فضہ جیسی کنیز کے ساتھ مساوی سلوک کرنے والے امیر المومنین کا خود کو معاذ اللہ جانیشن بتانے والا طبقہ اپنے آپ کو عام مسلمانوں سے بلند و افضل تصورکر رہا ہے۔جناب امیر فرماتے تھے کہ اس سے پہلے کہ میں دنیا سے رخصت ہوجاوں ، مجھ سے جو کچھ پوچھنا ہے دریافت کر لو۔ مگر افسوس کہ دور حاضر میں انکی نیابت کے دعوے داران علم سے دور اور اسلام کی بنیادی معلومات سے بھی نا آشنا ہیں۔ محراب و منبر سے محبت علی کے جو دعوے کئے جا رہے ہیں ۔ وہ قطعی کھوکھلے ہیں اورمحراب و منبر سے مسلسل جھوٹ و بہتان تراشی کی جا رہی ہے جو مولائے کائنات کے دشمنوں کی سیرت رہی ہے۔
حضرت علی کبھی باطل طاقتوں کے سامنے نہیں جھکے اور نہ ہی حکام کی جی حضوری کی۔ لیکن آج انکے نام پر دینی رقومات اینٹھنے والے افراد اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے ظالم اور باطل طاقتوں سے ہاتھ ملانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں ۔
مقررین نے نوجوانان ملت سے اپیل کی کہ وہ قرآن فہمی کا جذبہ پیدا کریں اور صاحب ذوالفقار، حیدر کرار کی پیروی کرتے ہوئے حقوق غصب کرنے والوں کے خلاف جد و جہد کریں اور سرمایہ داروں اور بر سر اقتدار طبقے نیز حکام کی چاپلوسی کرنے والے خود ساختہ قائدین ملت کی شاطرانہ چالوں سے ہوشیار رہیں اور قوم کو استعمال نہ ہونے دیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے احکامات و سیرت کے مطابق عمل کیا جائے۔
شخصیتوں کو حق کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اورمفاد پرست قائدین اور انکے ارد گرد رہنے والے خوشامدی افراد جنہوں نے قوم و ملت کے لئے کبھی کچھ نہیں کیا اور تمام بیدین،بدکار،فریبی،ڈھونگی،بدچلن،مطلبی،زانی،شرابی،جواری،شاطر،بداخلاق،بیہودہ،ظالم،سرکش،زرپرست،حاسداور وقف خورافراد سے بھی کھل کر اپنی بے زاری کا اظہار کریںتاکہ امیرالموئمنین کی تعلیمات پر عمل کیا جا سکے۔مقررین نے کہا کہ محبت علی کا تقاضہ ہے کہ ۔غریبوں،محتاجوں،بیواو ¾ں،یتیموں،بے سہاراوکمزور افرادکی مکمل حمائت کی جائے اور ایسے افراد پر طاقت آزمائی اور سرکشی کرنے والوں نیز امت مسلمہ میں انتشار و افتراق پھیلانے والے استعماری، صہیونی، فسطائی اور طاغوتی طاقتوں کے ایجنٹوں سے بھی ہوشیار رہیں۔
علی کانگریس کے نائب صدر الحاج مرزا ارشاد حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں قوم کو حالات حاضرہ سے با خبر کرتے ہوئے کہا کہ قوم اب کسی بھی شخصیت کی ’ بندھوا مزدور‘ نہیں رہی ہے۔بحمد اللہ قوم میں حق و باطل کو پرکھنے کا شعور پیدا ہو تا جا رہا ہے۔مومن کو ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جا سکتا، لہٰذا وہ افراد جو اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے مسلسل قوم کا استحصال کرتے ہیں انکو اب کسی بھی حال میں پنپنے نہیں دیا جائےگا۔
|