مترجم
وہ اولڈ ہاﺅس کی دیواروں سے کیا باتیں کرتا تھا یہ جاننے کے لئے وہاں کی نرسیں بہت بے چین ہوا کرتی تھیں مجھے اس اولڈ ہاﺅس میں کام کرتے ہوئے چند ماہ کا عرصہ ہوا تھا نرسیں بہت خوش تھیں کہ وہ میرا ہم زبان ہے اب وہ جو کچھ بھی اپنی زبان میں بد بداتا ہے وہ اس کے اسرار تک پہنچ سکیں گی ۔ میں صرف پانچ جماعتیں پاس ہوں اور وہ بوڑھا شاید پچاس سال پہلے ہی کالج کی سرحدیں پار کرکے یہاں پہونچا تھا ۔
پہلی بار جب میں اس سے ملا تو بظاہر وہ مجھے بالکل جرمنوں جیسا لگا بہت نفیس انداز اور سرخ و سفید رنگت پر چہرے کی جھریوں اور اسکے سفید بالوں نے اسکی پاکستانی ہونے کی نشانی بھی چھپا ڈالی تھی ۔ اسکا اردو لہجہ بہت صاف تھا اس نے میرا نام اور شہر پوچھا اپنے بارے میں صرف اتنا بتایا کہ وہ گذشتہ تقریباً پچاس سالوں سے جرمنی میں ہے اور کچھ ہی عرصہ قبل اس اولڈ ہاﺅس میں وہ آیا ہے ۔ شاید وہ بالکل اکیلا تھا ۔ میں نے کبھی بھی اسکو کہیں جاتے یا کسی کو اس سے ملنے آتے نہیں دیکھا تھا ۔ وہ جب بھی اولڈ ہاﺅس کی راہداریوں میں یا اسکے کمرے میں کہیں مجھ سے ٹکرا جاتا تو ہر بار ایک ہی سوال کرتا کہ کیا تم نے پر دیس کا سفر کرنے سے قبل اپنی منزل کا تعین کرلیا تھا ؟ وہ ہر بار کہتا کہ منزل کا تعین ہو جائے تو سفر آسان ہوجاتا ہے ورنہ زندگی بے معنی ہوجاتی ہے۔ مجھے اس کی فلسفیانہ باتیں کبھی سمجھ نہیں آتیں تھیں میں جواباً مسکراتے ہوئے اور جلدی جلدی صفائی کا ہاتھ مارتے ہوئے بچ کر نکل جایا کرتا تھا ۔ اکثر نرسیں مجھ سے پوچھا کرتی تھیں کہ وہ اپنی زبان میں مجھ سے کیا کہہ رہا ہے ؟ میں گول مول جواب دے جاتا اگر کچھ میرے پلّے پڑا ہو تو میں آگے سمجھاﺅں پھر زبان کا بھی مسئلہ تھا میں ٹوٹی پھوٹی جرمن میں میں انکو کچھ نہ کچھ سمجھا کر تسلی دلا دیتا تھا ۔
اس روز اسے کوئی دورہ پڑا تھا ساری نرسوں کے ساتھ ڈاکٹرز بھی وہاں آئے ہوئے تھے اور ایک مترجم بھی وہاں موجود تھا۔ یہ تو وہی مترجم تھا جس نے سیاسی کیس کے دوران میری ترجمانی کی تھی اور بعد میں میری ایک جرمن عورت سے کاغذی شادی کے وقت بھی سرکاری محکمے کی جانب سے موجود تھا ۔مگر بڑے صاحب تو بہت اچھی جرمن اور اردو بولتے ہیں پھر یہ ترجمان یہاں کیوں آیا ہے ؟ میں بھی متجسس ہوا اور کسی بہانے کمرے کے اندر جھانکی ماری وہ بوڑھا اردو میں کچھ ٬٬ حاضر ٬٬ اور ٬٬ غائب ٬٬ پر زور زور سے کچھ بول رہا تھا ، عجیب بے ربط سے جملے تھے جیسا کہ ہر حاضر ،، ٬٬ غائب ٬٬ سے ہی وجود پاتا ہے میں نے غیب کو نہیں پہچانا اب مجھے حاضر کو بھگتنا ہے ( یہ حاضر اور غیب کون ہیں ؟ مجھے نہیں معلوم میں نے اس بوڑھے کو ہمیشہ اکیلے ہی دیکھا تھا) اور دوسرا تکراری جملہ یہ تھا کہ ،، منزل کا تعین کئے بنا ہی میں نے سفر شروع کیا تھا ۔۔۔۔۔۔اب جو بویا تھا وہی کاٹ رہا ہوں ۔ ۔۔۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔۔۔۔۔یہ میرے نصیب کے دن رات میرے ہی منتخب کردہ ہیں ۔۔۔۔۔۔مجھے تنہا چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔مجھے تنہا چھوڑ دو۔
مترجم اپنی رندھی ہوئی آواز میں ترجمہ کئے جارہا تھا۔ اتنی آسان باتوں کا ترجمہ کرنے کے لئے اس سالے کو اتنی دقت ہو رہی تھی کہ وہ بار بار پانی کا گلاس اٹھا کر گہرے گھونٹ بھرتا ،، جو بوگے وہی کاٹو گے،، میری ماں بھی دن رات یہی جملہ بولا کرتی تھی ۔ اتنی آسان سی باتوں کا ترجمہ کرنے کے لئے مترجم کی ضرورت ہے ۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا آدھے گھنٹے زبان ہلا کر سالا کتنے پیسے کمالیتا ان باتوں کو تو کسی نہ کسی طرح میں جرمن بتا سکتا تھا کم بخت زرا سی زبان ہلا کر ڈھیروں یورو اکٹھا کرلے گا میں دل ہی دل میں مترجم کو کوستا ہوا آگے بڑھ گیا۔ سارا دن بوڑھے کی طبیعت نا ساز رہی ۔ رات کسی وقت وہ لقمہ اجل بن گیا ۔
آج جمعہ کا دن تھا میں باقاعدگی سے جمعہ کی نماز ادا کرنے مسجد جایا کرتا تھا ۔ آج کسی پاکستانی کی غائبانہ نمازِ جنازہ تھی کیونکہ اصل وارث نہ ملنے کے باعث ایک پاکستانی مسلم کو جلا کر سپردِ خاک کیا گیا تھا کمیونٹی کے چند افراد نے اس پاکستانی کے لئے نہ صرف غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا تھا بلکہ بعد ازاں سفارتخانے کے سامنے احتجاجی جلسہ بھی منعقد کیا تھا۔ میں بھی اس نماز میں شامل ہو گیا ۔ نماز کے بعد اس مترجم کو میں نے وہاں نہایت نہایت دکھی حالت میں دیکھا وہ بہت رو رہا تھا شاید مرنے والا اسکا عزیز تھا۔