15.10.2026, 10:07pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
عالمی اخبار ادبیات
 

مترجم۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ عشرت معین سیما
15.03.2016, 03:20am , منگل (GMT+1)

عشرت معین سیما

مترجم

وہ اولڈ ہاﺅس کی دیواروں سے کیا باتیں کرتا تھا یہ جاننے کے لئے وہاں کی نرسیں بہت بے چین ہوا کرتی تھیں مجھے اس اولڈ ہاﺅس میں کام کرتے ہوئے چند ماہ کا عرصہ ہوا تھا نرسیں بہت خوش تھیں کہ وہ میرا ہم زبان ہے اب وہ جو کچھ بھی اپنی زبان میں بد بداتا ہے وہ اس کے اسرار تک پہنچ سکیں گی ۔ میں صرف پانچ جماعتیں پاس ہوں اور وہ بوڑھا شاید پچاس سال پہلے ہی کالج کی سرحدیں پار کرکے یہاں پہونچا تھا ۔
پہلی بار جب میں اس سے ملا تو بظاہر وہ مجھے بالکل جرمنوں جیسا لگا بہت نفیس انداز اور سرخ و سفید رنگت پر چہرے کی جھریوں اور اسکے سفید بالوں نے اسکی پاکستانی ہونے کی نشانی بھی چھپا ڈالی تھی ۔ اسکا اردو لہجہ بہت صاف تھا اس نے میرا نام اور شہر پوچھا اپنے بارے میں صرف اتنا بتایا کہ وہ گذشتہ تقریباً پچاس سالوں سے جرمنی میں ہے اور کچھ ہی عرصہ قبل اس اولڈ ہاﺅس میں وہ آیا ہے ۔ شاید وہ بالکل اکیلا تھا ۔ میں نے کبھی بھی اسکو کہیں جاتے یا کسی کو اس سے ملنے آتے نہیں دیکھا تھا ۔ وہ جب بھی اولڈ ہاﺅس کی راہداریوں میں یا اسکے کمرے میں کہیں مجھ سے ٹکرا جاتا تو ہر بار ایک ہی سوال کرتا کہ کیا تم نے پر دیس کا سفر کرنے سے قبل اپنی منزل کا تعین کرلیا تھا ؟ وہ ہر بار کہتا کہ منزل کا تعین ہو جائے تو سفر آسان ہوجاتا ہے ورنہ زندگی بے معنی ہوجاتی ہے۔ مجھے اس کی فلسفیانہ باتیں کبھی سمجھ نہیں آتیں تھیں میں جواباً مسکراتے ہوئے اور جلدی جلدی صفائی کا ہاتھ مارتے ہوئے بچ کر نکل جایا کرتا تھا ۔ اکثر نرسیں مجھ سے پوچھا کرتی تھیں کہ وہ اپنی زبان میں مجھ سے کیا کہہ رہا ہے ؟ میں گول مول جواب دے جاتا اگر کچھ میرے پلّے پڑا ہو تو میں آگے سمجھاﺅں پھر زبان کا بھی مسئلہ تھا میں ٹوٹی پھوٹی جرمن میں میں انکو کچھ نہ کچھ سمجھا کر تسلی دلا دیتا تھا ۔
اس روز اسے کوئی دورہ پڑا تھا ساری نرسوں کے ساتھ ڈاکٹرز بھی وہاں آئے ہوئے تھے اور ایک مترجم بھی وہاں موجود تھا۔ یہ تو وہی مترجم تھا جس نے سیاسی کیس کے دوران میری ترجمانی کی تھی اور بعد میں میری ایک جرمن عورت سے کاغذی شادی کے وقت بھی سرکاری محکمے کی جانب سے موجود تھا ۔مگر بڑے صاحب تو بہت اچھی جرمن اور اردو بولتے ہیں پھر یہ ترجمان یہاں کیوں آیا ہے ؟ میں بھی متجسس ہوا اور کسی بہانے کمرے کے اندر جھانکی ماری وہ بوڑھا اردو میں کچھ ٬٬ حاضر ٬٬ اور ٬٬ غائب ٬٬ پر زور زور سے کچھ بول رہا تھا ، عجیب بے ربط سے جملے تھے جیسا کہ ہر حاضر ،، ٬٬ غائب ٬٬ سے ہی وجود پاتا ہے میں نے غیب کو نہیں پہچانا اب مجھے حاضر کو بھگتنا ہے ( یہ حاضر اور غیب کون ہیں ؟ مجھے نہیں معلوم میں نے اس بوڑھے کو ہمیشہ اکیلے ہی دیکھا تھا) اور دوسرا تکراری جملہ یہ تھا کہ ،، منزل کا تعین کئے بنا ہی میں نے سفر شروع کیا تھا ۔۔۔۔۔۔اب جو بویا تھا وہی کاٹ رہا ہوں ۔ ۔۔۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔۔۔۔۔یہ میرے نصیب کے دن رات میرے ہی منتخب کردہ ہیں ۔۔۔۔۔۔مجھے تنہا چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔مجھے تنہا چھوڑ دو۔
مترجم اپنی رندھی ہوئی آواز میں ترجمہ کئے جارہا تھا۔ اتنی آسان باتوں کا ترجمہ کرنے کے لئے اس سالے کو اتنی دقت ہو رہی تھی کہ وہ بار بار پانی کا گلاس اٹھا کر گہرے گھونٹ بھرتا ،، جو بوگے وہی کاٹو گے،، میری ماں بھی دن رات یہی جملہ بولا کرتی تھی ۔ اتنی آسان سی باتوں کا ترجمہ کرنے کے لئے مترجم کی ضرورت ہے ۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا آدھے گھنٹے زبان ہلا کر سالا کتنے پیسے کمالیتا ان باتوں کو تو کسی نہ کسی طرح میں جرمن بتا سکتا تھا کم بخت زرا سی زبان ہلا کر ڈھیروں یورو اکٹھا کرلے گا میں دل ہی دل میں مترجم کو کوستا ہوا آگے بڑھ گیا۔ سارا دن بوڑھے کی طبیعت نا ساز رہی ۔ رات کسی وقت وہ لقمہ اجل بن گیا ۔
آج جمعہ کا دن تھا میں باقاعدگی سے جمعہ کی نماز ادا کرنے مسجد جایا کرتا تھا ۔ آج کسی پاکستانی کی غائبانہ نمازِ جنازہ تھی کیونکہ اصل وارث نہ ملنے کے باعث ایک پاکستانی مسلم کو جلا کر سپردِ خاک کیا گیا تھا کمیونٹی کے چند افراد نے اس پاکستانی کے لئے نہ صرف غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا تھا بلکہ بعد ازاں سفارتخانے کے سامنے احتجاجی جلسہ بھی منعقد کیا تھا۔ میں بھی اس نماز میں شامل ہو گیا ۔ نماز کے بعد اس مترجم کو میں نے وہاں نہایت نہایت دکھی حالت میں دیکھا وہ بہت رو رہا تھا شاید مرنے والا اسکا عزیز تھا۔



:دیگر مضامین
(13.03.2016) گہوارہ ء تہذیب کی معمار ہے عورت از احمد علی برقی
(10.03.2016) ٹیلی پیتھی ۔۔۔ از۔۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(09.03.2016) چار دیواری کو زنداں بنا کر رکھا از سدرہ سحر عمران
(07.03.2016) چاہتیں ہیں فقط فسانوں میں از زرقا مفتی
(05.03.2016) اور مجھے اب اس دنیا کی ہر شے سے ڈر لگتا ہے۔از۔صدف مرزا
(04.03.2016) سرکار ﷺ کے روضے کو ترستی ہیں یہ آنکھیں از محمداعظم عظیم اعظم
(03.03.2016) دھواں تھا چار سو اتنا کہ ہم بے انتہا روئے از ذوالفقار نقوی
(02.03.2016) ’پڑھے لکھے‘‘ لوگ یا جاہلیت کے علمبردار۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ عزیز بلگامی
(02.03.2016) ﺩﻫﻮﺍﮞ ﺗﻬﺎ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺭﻭﺋﮯ۔۔۔ از ۔۔۔۔ ذوالفقار نقوی
(01.03.2016) درد کی ٹیس اُٹھی ہے دل میں از صفدر ھمدانی
(27.02.2016) وہیل چیرز پہ چلتے ہوئے مکان از سدرہ سحر عمران
(26.02.2016) نعت رسول مقبول(ﷺ) از سہیل احمد صدیقی
(24.02.2016) آگ جلتی ہے از زائرہ عابدی
(23.02.2016) فکر کی آنکھ سے اوجھل تھا سخن کا پہلو. از. عزیز بلگامی
(23.02.2016) ہجرت۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.02.2016) عالمی یوم مادری زبان پر منظوم تاثرات از احمد علی برقی
(20.02.2016) نجات ..... از ..... سیمیں برلاس
(19.02.2016) سب طنابیں کاٹ دے، پھیلے ہوئے اس دم کی ۔از۔ ذوالفقار نقوی
(18.02.2016) میں چُن رہی تھی اُداسی کہ اس نے آ کے مجھے
(16.02.2016) ایک ہی نشست میں لکھی فرخندہ رضوی کی تین غزلیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں