خوشی منانا انسان کا طبعی تقاضا اور فطری ضرورتوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔ اللہ پاک نے اسلام دین فطرت پر اتارا ہے ۔بھلا اس فطری تقاضے کو کیسے نظر انداز کر دیتا ۔ سو اللہ تبارک و تعالی نے کچھ مفید حدود و شرائط کے ساتھ ان ضروروتوں کوپورا کرنے کاخاص اہتمام فرمایا ہے ۔
دین اسلام اس بات کو ہر گز پسند نہیں کرتا کہ ہم مصنوعی وقار ، غیر مطلوب سنجیدگی اور ہر وقت کی اداسی اور مردہ دلی سے کردار کی کشش کو کھو دیں ۔ سو اسی لیئے ہمارا دین اسلام ہمیں خوش ہونے کے تمام جائز مواقع پر خوشیاں منانے کا پورا پورا حق دیتا ہے ۔اور یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ مسلمان کیسے ہمیشہ بلند حوصلے ، تازہ جوش و ولولے اور نئی امنگوں اور تمناؤں کے ساتھ خوشیاں منا سکتے ہیں ۔
خوشیاںاگر کسی جائز نام اور حوالوں سے وابسطہ ہوں تو اسلام نہ صرف اسے منانے کی اجازت دیتا ہے بلکہ اسے عین دین داری قرار دیتا ہے ۔
انہی خوشیوں میں سے ایک خوشی عید سے بھی وابسطہ ہے جسے منانا مسلمانوں کی دین داری میں شامل ہے ۔ عید الفطر مسلمانوں کے احساسات سے گندھی ہوئی ہے ۔یہ دینی تہوار خوشی اور فرحت کو جمع کرنے کا نام ہے ۔
رب کائنات نے رمضان المبارک میں ہمیں روزہ جیسی عظیم فرضیت کو ادا کرنے کی توفیق بخشی اور رحمت بھی دیا، مغفرت بھی دیا اور جہنم سے آزادی بھی عطا کیا، جیسا کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک ہے، رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ (بیہقی)
رب تعالٰی کے اس عظیم انعام و اکرام اور فضل و کرم پر خوشی منانے کیلئے ہمیں عیدالفطر کا دن عطا کیا گیا جس دن ہم مسرت و شادمانی کا اظہار کرتے ہیں اور شکرانے کے طور پر دو رکعت واجب نماز ادا کرتے ہیں اور اس نماز میں چھ زائد تکبیریں واجب کی گئیں تاکہ فرحت و سرور کا اظہار بھی ہو اور فرمان باری تعالٰی پر عمل بھی ہو۔
ارشاد باری تعالٰی ہے۔
ولتکملوا العدۃ ولتکبروا اللہ علی ما ھداکم (پ2، ع7) اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی۔
رب تعالٰی نے اپنے فضل و کرم اور رحمت و بخشش پر ہمیں خوشی منانے کا حکم صادر فرمایا ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا (پ11ع11)
فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئیے کہ خوشی کریں۔
سرکار اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی عید مبارک
عید کی نماز پہلی ہجری میں واجب ہوئی (فتاوٰی رضویہ جلد سوم) لیکن آپ نے پہلی نماز عیدالفطر 6ھ میں ادا فرمائی۔ (مکاشفۃ القلوب)
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے نماز عید ہمیشہ عیدگاہ میں ادا فرمائی صرف ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے مسجد نبوی شریف میں ادا فرمائی، آپ کی عیدگاہ مسجد نبوی شریف سے ہزار گز کے فاصلہ پر ہے، عید کے دن خوبصورت اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے، آپ کا ایک عمدہ لباس تھا جو شعائر اسلام کی عزت و شان کے اظہار کیلئے عید و جمعہ کے موقع پر پہنا کرتے تھے، حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم عیدگاہ جانے سے قبل چند کھجوریں کھا لیا کرتے تھے، جن کی لاتعداد طاق ہوتی تھی کیونکہ روزہ سے نگاہ کمزور ہوتی ہے تو کھجور کھا لیتے تھے، اس لئے کہ میٹھی چیزیں نگاہوں کو تقویت دیتی ہیں اور طاق کی رعایت سب چیزوں میں فرماتے اس لئے کہ بیشک اللہ اکیلا ہے اور وہ طاق کو پسند فرماتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نماز عیدالفطر میں تاخیر فرماتے اور نماز عیدالاضحٰی کو جلد پڑھتے، غالباً عیدالفطر میں اس تاخیر کی حکمت یہ ہوگی کہ صدقہ فطر بھی ادا کر چکے ہوتے اور کچھ طعام بھی تناول فرما چکے ہوتے اور کوئی اہم معاملہ درپیش نہ ہوتا اس لئے اجتماع کی زیادتی کی خاطر تاخیر فرماتے ہوں گے، بخلاف عیدالاضحٰی کے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ پاک میں عیدگاہ کے اندر منبر نہ تھا، سب سے پہلے مروان بن حکم نے عیدگاہ میں منبر کا رواج ڈالا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ منبر کی بنیاد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ پاک میں پڑی۔
اور آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ایک راہ سے عیدگاہ تشریف لے جاتے اور دوسری راہ سے واپس آتے، علماء نے اس تبدیلی راہ کی بہت ساری وجوہات بیان کی ہیں جن میں سے بعض یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
علماء فرماتے ہیں تبدیلی راہ اس بنا پر تھی تاکہ مقامات مختلفہ اور وہاں کے رہنے والے انسان و جنات اور فرشتے طاعات و نیکیوں پر گواہ بن جائیں یا اس بنا پر تھی تاکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی برکتیں دونوں راستوں اور وہاں کے رہنے والوں کو حاصل ہو سکیں، یا اس بنا پر تھی تاکہ دونوں راستوں میں شعائر و شرائع اسلام کا ظہور حاصل ہو، یا اس بنا پر تھی کہ آپ عیدگاہ داہنی جانب سے تشریف لے جاتے تو اگر واپسی بھی اسی راستے سے ہوتی تو یہ بائیں جانب ہوتا۔ اس لئے واپسی میں دوسرا راستہ اختیار فرماتے، تاکہ وہ بھی دہنی جانب سے ہو۔ (مدارج النبوۃ)‘
دوسری روایت میں ہے کہ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی فرشتوں کو زمین پر بھیجتا ہے جو گلی کوچوں اور راستوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور بلند آ واز سے پکارتے ہیں جسے جن و انس کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے کہ اے محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی امت اپنے رب کریم کی طرف آؤ، تمہیں بہت کچھ دو گا اور تمہارے کبیرہ گناہوں کو بخش دے گا۔
اور جب لوگ عیدگاہ میں آ جاتے ہیں تو اللہ تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے جن مزدور نے اپنا پورا کام کیا ہو اس کی مزدوری کیا ہے! فرشتے عرض کرتے ہیں اس کی مزدوری یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے، تب اللہ تعالٰی فرماتا ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ جن لوگوں نے روزے رکھے اور نمازیں پڑھیں ان کے عوض میں، میں نے انہیں مغفرت سے نواز دیا۔
پھر رب تعالٰی مسلمانوں سے فرماتا ہے اے میرے بندو ! مانگو کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کیلئے مانگو گے میں تمہیں عطا کروں گا اور جو کچھ دنیا کیلئے سوال کرو گے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا۔ (یعنی دنیا کی چیزوں میں خیر و شر دونوں ہوتے ہیں اور آدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کو شر، اور شر کو خیر سمجھ لیتا ہے اور تمہارے حق میں کیا اچھا ہے کیا بُرا ہے وہ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ لٰہذا دنیا کیلئے جو کچھ مانگو گے اس میں بکمال رحمت نظر فرمائی جائے گی، اگر وہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطا ہوگی ورنہ اس کے مطابق بلا دفع کریں گے یا یہ دعاء روز قیامت کیلئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے۔)
مجھے اپنی عزت کی قسم ! جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطاؤں پر پردہ پوشی فرماتا رہوں گا، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! میں تمہیں اہل کبائر میں رسوا نہ کروں گا، اپنے گھروں کی طرف مغفرت یافتہ لوٹ جاؤ، بیشک تم نے مجھے راضی کیا اور میں بھی تم سے راضی ہوگیا۔ (فتاوٰی رضویہ سوم، غنیۃ الطالبین)
اور جہاں عید سعید کے دن روزہ دار خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں وہیں شیطان لعین روزہ داروں پر رب تعالٰی کی رحمتوں بخششوں اور بے انتہا کرم نوازیوں کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جل جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ جب بھی عید آتی ہے شیطان چلا چلا کر روتا ہے اس کی بدحواسی اور اضطرابی کیفیت دیکھ کر تمام شیاطین اس کے پاس جمع ہو کر پوچھتے ہیں، اے آقا آپ کیوں غضبناک اور اداس ہیں ؟ شیطان بولتا ہے، ہائے افسوس ! اللہ تعالٰی نے آج کے دن امت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بخش دیا ہے، لٰہذا تم انہیں لذتوں اور خواہشات نفسانی میں مشغول کرو۔ (مکاشفۃ القلوب)
جناب حضرت سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے عید الفطر کے دن جنت کو پیدا فرمایا اور درخت طوبٰی عیدالفطر کے دن بویا، جبریل کا وحی کیلئے عیدالفطر کے دن انتخاب کیا اور فرعون کے جادوگروں کی توبہ بھی اللہ تعالٰے نے عیدالفطر کے دن قبول فرمائی۔
فرمانِ نبوی ہے کہ جس نے عید کی رات طلبِ ثواب کیلئے قیام کیا، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا جس دن تمام دل مر جائیں گے۔
مولائے کایئانات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بارگاہ ناز میں ایک شخص عید کے دن حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ سوکھی روٹی کھا رہے ہیں۔ اس نے عرض کیا حضور ! آج عید کا دن ہے، اور آپ سوکھی روٹی تناول فرما رہے ہیں، تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا آج ان کیلئے عید ہے جن کے روزے قبول ہوئے اور جن کی کوششیں نتیجہ لانے والی ثابت ہوئیں اور جن کے گناہ بخش دئیے گئے۔ مگر ہماری آج بھی وہی عید ہے جو کل ہوگی، یعنی جس دن آدمی گناہ نہ کرے وہ اس کیلئے عید کا دن ہے۔ (غنیۃ الطالبین)
حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں عید سے ایک دن قبل آپ کی بچّیاں حاضر ہوئیں اور عرض کیا، بابا جان! کل عید کے دن ہم کون سے کپڑے پہنیں گے ؟ فرمایا یہ کپڑے جو تم نے پہن رکھے ہیں، اسے ہی دھو کر صاف کرلو اور کل پہن لینا لیکن بچیاں اپنے مطالبے پر ضد کرنے لگیں تو آپ نے فرمایا میری بچیوں عید کا دن اللہ کی عبادت کرنے اور اس کا کر بجا لانے کا دن ہے۔
نئے کپڑے پہننا ضروری تو نہیں ، بچیوں نے کہا باباجان آپ کا فرمانا بیشک صحیح ہے، لیکن ہماری سہیلیاں اور دوسری لڑکیاں ہمیں طعنے دیں گی کہ تم امیر المومنین کی بیٹیاں ہو کر وہی کپڑے پہن رکھی ہو، یہ بولتے ہوئے بچیوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، بچیوں کی باتیں سن کرامیر المومنین کا دل بھر آیا، آپ نے خزانچی کو بلا کر فرمایا مجھے ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی لادو ! خزانچی نے عرض کیا، حضور ! کیا آپ کو یقین ہے کہ ایک ماہ تک آپ زندہ رہیں گے، آپ نے فرمایا جزاک اللہ ! تونے بیشک عُمدہ اور صحیح بات کہی، خزانچی چلا گیا تود آپ نے اپن بچیوں سے فرمایاا پیاری بیٹیو ! اللہ و رسول کی رضا پر اپنی خواہشات کو قربان کردو، کوئی شخص اس وقت تک جنت کا مستحق نہیں بن سکتا جب تک وہ کچھ قربانی نہ دے۔ (معدن اخلاق)
غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی ایک رباعی میں ارشاد فرمایا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ کل عید ہے، کل عید ہے، اور سب خوش ہیں لیکن میں تو جس دن اس دنیا سے اپنا ایمان محفوظ لے کر گیا، میرے لئے تو وہی دن عید کا دن ہوگا۔
اور عیدالفطر کے اس پرکیف موقع پر بھی سرکار کائنات نے غریبوں اور مفلسوں کو یاد رکھا ہے اور اغنیاء کو حکم دیا ہے کہ تم صدقہء فطر ادا کیا کرو، تاکہ تمہارے غریب بھائی جو اپنی ناداری کی وجہ سے عید کی خوشی نہیں منا سکتے وہ بھی عیدالفطر کی اس خوشی میں تمہارے شریک ہو جائیں اور صدقہ فطر کی ادائیگی میں یہ فائدہ مضمر ہیں کہ اگر رمضان شریف کے روزوں میں فضول اور بیکار باتیں ہو جائیں یعنی لغو، فحش، جھوٹ، غیبت سے نقصان پیدا ہو جائے تو یہ صدقہ اس کا بدلہ ہے جو روزے کو پاک و صاف کر دیتا ہے اور صدقہ فطر میں غرباء و مساکین کے خورد و نوش کا بھی انتظام ہے تاکہ وہ بھی خوشیاں منا سکیں، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو جہاں نے صدقہء فطر اس لئے مقرر فرمایا تاکہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اور دوسری طرف مساکین کیلئے خوراک ہو جائے۔ (ابو داؤد)
اور عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہء فطر واجب ہو جاتا ہے۔ لٰہذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے ہی مر گیا یا غنی تھا فقیر ہو گیا، یا صبح صادق طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا، یا بچہ پیدا ہوا، یا فقیر تھا غنی ہو گیا تو واجب نہ ہوا۔ اور اگر صبح صادق طلوع ہونے کے بعد مرا، یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا، یا بچہ پیدا ہوا، یا فقیر تھا غنی (مالک نصاب) ہو گیا تو واجب ہے۔ (بہار شریعت)
عید کے آداب :
غسل کرنا :
نماز عید کے لیے نکلنے سے قبل غسل کرنا عید کے آداب میں شامل ہے ، امام مالک رحمہ اللہ تعالی نے موطا میں بیان کیا ہے کہ : عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہ عیدالفطر کے دن عید گاہ جانے سے قبل غسل کیا کرتے تھے ۔ دیکھیں الموطا حدیث نمبر ( 428 ) ۔
اورسعیدبن جبیر رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا ( عید کی تین سنتیں ہیں پیدل چلنا ، غسل کرنا ، اور نکلنے سے قبل کھانا ) یہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی کلام ہے ہوسکتا ہے انہوں نے بعض صحابہ کرام سے اخذ کی ہو ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے نماز عید کے لیے غسل کرنے پر علماء کرام کا اتفاق ذکر کیا ہے ۔
اور جس سبب کی بناپر جمعہ اوردوسرے اجتماعات کے لیے غسل کرنا مستحب ہے وہ سبب عید میں بھی موجود ہے اور ہوسکتا ہے کہ عید میں زيادہ واضح ہو ۔
عید کے لیے نکلنے سے قبل کھانا :
یہ بھی آداب میں شامل ہے کہ نماز عیدالفطر کے لیے نکلنے سے قبل کچھ کھجوریں کھالی جائيں ،کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہما سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نماز کے لیے کچھ کھجوریں کھانے سے قبل نہيں نکلتے تھے ، آپ طاق کھجوریں کھاتے تھے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 953 ) ۔
نماز عید سے قبل کھانا اس دن میں روزے رکھنے کی نہی مبالغہ کے لیے مستحب کیا گيا ہے اوراس میں افطار کرنے اورانتہائے صیام کی علامت ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے یہ علت بیان کی ہے کہ یہ روزے میں زيادتی کا سد ذریعہ کے لیے ہے ، اوراس میں اللہ تعالی کے حکم پر عمل بھی ہے ۔ دیکھیں فتح الباری ( 2 / 446 )
اورجو شخص کھجوریں نہ پائے تو اسے کوئي بھی مباح چيز کھالینی چاہیے ۔
لیکن عیدالاضحی میں مستحب اورسنت یہ ہےکہ وہ نماز عید سے قبل کچھ نہ کھائے بلکہ قربانی کرکے اس میں سے کچھ کھائے ۔
عید کے دن تکبیریں کہنا :
عید والے دن تکبیریں کہنا ایک عظيم سنت ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{ اورتاکہ تم گنتی مکمل کرو اوراللہ تعالی کی دی ہوئي ھدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اوراس کا شکر ادا کرو } ۔
تکبیر کے الفاظ اورطریقہ :
مصنف ابن ابی شیبہ میں ابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہما سے صحیح سند کے ساتھ وارد ہے کہ :
ابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہماایام تشریق میں تکبریں کہا کرتے تھے اور کہتے :
اللہ اكبر اللہ اكبر لا الہ الا اللہ والل٠ اكبر اللہ اكبر وللہ الحمد
اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے علاوہ کوئي معبود برحق نہيں ، اللہ بہت بڑا ہے اللہ ہی کی حمد وثنا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اپنی عیدوں کو تکبیروں سے مزین کرو کیونکہ آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جس نے عید کے دن تین سو مرتبہ سبحٰن اللہ بحمدہ پڑھا اور مسلمان مُردوں کی روحوں کو اس کا ثواب ہدیہ کیا تو ہر مسلمان کی قبر میں ایک ہزار انوار داخل ہوتے ہیں ! اور جب وہ مرے گا تو اللہ تعالٰی اس کی قبر میں ایک ہزار انوار داخل فرمائے گا۔ (مکاشفۃ القلوب)
عیدکی مبارکباد :
عید کے آداب میں مبارکباد بھی شامل ہے ، اورلوگ آپس میں ایک دوسرے کو اس کی مبارکباد دیتے ہیں اس کے الفاظ جو بھی ہوں مثلاکچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں اللہ ہمارے اورآپ کے اعمال قبول فرمائے ، یا کچھ عیدمبارک کے الفاظ بولتے ہیں ، اوراس طرح کے دوسرے الفاظ جو مبارکباد کے لیے مباح ہوں بولے جاسکتے ہیں ۔
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تو ایک دوسرے سے کہتے اللہ تعالی ہمارے اورآپ کے اعمال قبول فرمائے ۔ اس کی سند حسن ہے دیکھیں فتح الباری ( 2 / 446 )
لھذا صحابہ کرام کے ہاں مبارکبادی معروف تھی اوراہل علم نے بھی اس کی اجازت دی ہے اس میں امام احمد وغیرہ بھی شامل ہیں ، اورروایات ایسی بھی ہیں جوتہواروں پرمبارکبادی کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں اورصحابہ کرام کاخوشی کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا بھی وارد ہے مثلا کسی کی توبہ قبول ہوتی توصحابہ کرام اسے مبارکباد دیتے تھے ۔
اس میں کوئي شک وشبہ نہيں کہ مبارکباد دینا مکارم اخلاق اورمسلمانوں کے مابین اجتماعی محاسن کی مظہر ہے ۔
اور مبارکباد کے موضوع میں کم از کم یہ ہے کہ جوآپ کو عید کی مبارکباد دے اسے آپ بھی مبارک دیں یعنی جوعید مبارک کہے آپ بھی اسے عیدمبارک کہیں ، اوراگر وہ خاموشی اختیار کرتا ہے تو آپ بھی خاموش رہیں جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہيں : اگرمجھے کوئي مبارکباد دے تومیں اسے جواب میں مبارکباد دوں گا اوراگر نہ دے تو میں خود اس کی ابتداء نہيں کرونگا ۔
عید کا خطبہ سننے کا حکم :
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " الکافی " میں کہا ہے :
جب نماز عید سے سلام پھیرے تو خطبہ جمعہ کی طرح دو خطبے دے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ، اورخطبہ جمعہ میں چاراشیاء کا فرق ہے ۔۔۔ پھر کہا کہ :
چوتھا : یہ دونوں ( یعنی عید کے خطبے ) سنت ہیں ان کا سننا واجب نہيں اورنہ ہی ان میں خاموشی شرط ہے ، اس لیے کہ عبداللہ بن سائب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز مکمل کرلی تو فرمانے لگے :
ہم خطبہ دینے لگے ہيں جو سنناچاہے وہ بیٹھ جائے اورجوجانا چاہتا ہے وہ چلا جائے ۔ دیکھیں : الکافی صفحہ نمبر ( 234 ) ۔
عیدین کےلیے خوبصورتی اورتزیین کرنا :
عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمررضي اللہ تعالی عنہ نے بازار میں ایک ریشمی جبہ بکتا دیکھا تو اسے لیکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورکہنے لگے : اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرید لیں اورعید اوروفود کی ملاقات کے وقت پہنا کریں ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا یہ اس کا لباس ہے جس کاکوئي حصہ نہ ہو ۔۔۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 948 ) ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوبصورتی اورتجمل اختیار کرنے کو کا اقرار کیا لیکن انکار صرف اس جبہ کو خریدنے پر کیا تھا اس لیے کہ یہ ریشمی تھا ۔
اورجابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جبہ تھا آپ وہ جبہ عیدین اورجمعہ کے دن زيب تن کیا کرتے تھے ۔ دیکھیں صحیح ابن خزیمۃ حدیث نمبر ( 1765 ) ۔
اورامام بیہقی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہماعید کے لیے سب سے زيادہ خوبصورت لباس زيب تن کیا کرتے تھے ۔
اس لیے انسان کو چاہیے کہ عید کے موقع پر اپنے پاس موجود سب سے خوبصورت لباس زيب تن کرے ۔لیکن عورتوں کو اپنے پردے کا خاص اہتمام رکھناچاھیئے ۔
دوستو عید کا مقصد صرف عمدہ اور نیا لباس پہن لینا یا لذیذ کھانا کھا لینا نہیں ہے بلکہ عید کا صحیح مقصد تو ہے کہ اطاعت و عبادت کی کثرت کرکے رب تعالٰی کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کیا جائے اور گناہوں سے توبہ کی جائے، لیکن افسوس کہ ہم دنیاوی لذتوں اور خواہشات میں اس قدر ڈوبے ہوتے ہیں کہ ماہ رمضان کی ریاضت کے بعد عید کا بھی صحیح مقصد فراموش کر جاتے ہیں ۔
دوستو خوشی کے اس موقع پر سب کو اپنی خوشی میں شامل کیجیئے ۔۔۔ اللہ پاک ہمیں عید کی سچی خوشیاں نصیب فرمائے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا کرے ۔
آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم